ملک کیسے تباہ ہوتے ہیں؟ ۔۔۔ میاں منظور حسین

جہاں بولنے
تنقید کرنے
آزادی رائے کا اظہار

کی آزادی نہ ہو وہاں تعمیری سوچ نہیں پنپتی۔ جہاں تعمیری سوچ نہ وہ معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے۔ مسلسل تبدیل ہوتے رہنا زندگی کی علامت ہے ٹھہراؤ جمود موت کی نشانی ہے۔

ملک معاشرے اس لئے تباہ نہیں ہوتے کہ وہاں مضبوط فوج نہیں تھی بلکہ اس لئے تباہ ہوتے ہیں کہ وہاں تعمیری سوچ نہیں پنپنے دی جاتی۔

مثال کے طور

قیصر و کسرٰی کی  4 لاکھ فوج والے تباہ ہوگئے۔

عراق کے پاس مضبوط فوج تھی پھر بھی تباہ ہوگیا۔

مصر کے پاس فوج تھی پھر بھی تباہ ہوگیا۔

اگر نہیں تھی تو آزادی رائے کا اظہار تنقید اور کھل کر بولنے کی آزادی نہیں تھی۔

مصر عراق میں جو میڈیا کو آرڈر تھا دکھا دیتا تھا۔ جتنی اجازت تھی بول دیتا تھا۔ جتنا بولنے دکھانے کی آزادی تھی اس سے آگے قوم کو اندھیرے میں رکھاجاتا۔ آج دونوں تباہ ہیں۔

آج یہی حال ہمارا ہے۔ بولنے، تنقید کرنے، اپنے نظریات کی پرچار کی آزادی نہیں۔ جو آزادی کا حق استعمال کرکے بولتا ہے اسے اٹھا لیا جاتا ہے چاہے وہ سیاسی لیڈر ہو یا سیاسی کارکن یا سوشل وکر میڈیا ورکر یا عام پاکستانی۔

اگر ملک کو مضبوط کرنا ہے تو بولنے کی آزادی ہونی چاہئے تنقید کرنے کی کھل کر سننے کی برداشت بھی ہونی چاہئے۔

جب قوم کا مورال بلند نہ ہو اور معاشرے کو لگے کہ ہمیں دبایا جارہا ہے تو وہاں اندر ہی اندر ایک آتش فشاں سلگ رہا ہوتا ہے اور کسی وقت کا منتظر ہوتا ہے جب پھٹ سکے۔ اور جب ایسا ہوجائے تو پھر فوج حکومت کچھ نہیں کرسکتی۔

معاشرے اور ملک کو مضبوط کرنا ہے تو بولنے دو۔ تنقید کرنے دو۔ اس سے آپ ہی کی اصلاح ہوگی۔ کامیاب وہی ہوتا ہے جو خود پر ہوانے والی تنقید برداشت کر پاتا ہے۔

لہذا سب کو بولنے دو، آزادی کے ساتھ بولنے دو۔
پاکستان کو کامیاب ہونے دو۔ خدارا رحم کرو پاکستان پر۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *