کالی چادر – عامر حسینی

وہ صبح سویرے پانچ بجے اپنے شہر کے بس  اسٹینڈ سے راوی بس سروس کی بس میں سوار ہوا تھا اور ڈہائی گھنٹے میں ڈھائی سو روپے دیکر بہاولپور بس اسٹینڈ پہ اترگیا تھا۔ وہاں سے اس نے کوٹ مٹھن جانے والی بس پکڑی اور چار سو روپے کرایہ دیکر ساڑھے تین گھنٹے میں وہ کوٹ مٹھن پہنچا اور وہاں سے اس نے کسی سے دربار خواجہ فرید جانے کا پتا ایک آدمی سے پوچھا تو وہ آدمی اس کے لیے رحمت کا فرشتہ ثابت ہوا۔ کہنے لگا

سئیں، اساں وی خواجہ سئیں کول ویندے پئے ہاں، اساڈے چک توں ہک ٹرالی آون آلی اے، تساں وی اساڈے نال جلھو۔۔۔(سائیں ہم بھی خواجہ سائیں کے پاس جارہے ہیں، ہمارے چک سے ایک ٹرالی آرہی ہے آپ بھی چلے چلنا ہمارے ساتھ)۔

اس آدمی نے گلے میں سرخ ڈبیوں والا ایک رومال ڈال رکھا تھا جبکہ سر پہ ایک سفید ٹوپی پہنی ہوئی تھی جو بہت میلی لگ رہی تھی۔ واشن وئیر کا سستی شلوار قمیص پہنے ہوئے تھا جبکہ پاؤں میں کھیڑی چپل ڈالی ہوئی تھی اور اس کہ چہرہ اور ہاتھوں کا کھلا حصّہ سیاہی مائل تھا جو لگتا تھا دھوپ میں جھلسا ہے جبکہ کھلے گریبان سے جھانکتا بالوں بھرے سینے کا رنگ زرا صاف اور کہیں کہیں سرخی مائل تھا۔ وہ طول قامت تھا اور اس کے ہاتھ اور پاؤں کافی لمبے اور چوڑے تھے جبکہ سر کے بال شانوں تک آرہے تھے جو زلفوں کی شکل اختیار کرگئے تھے۔ آنکھوں سے بے پناہ نرمی جھلک رہی تھی اور وہ اسے کافی ہمدردی سے دیکھ رہا تھا۔

سئیں کتھوں تشریف گھن آئے ہو؟ (سائیں کہاں سے آئے ہو؟)

چیچہ وطنی سے آرہا ہوں۔

ماشاءاللہ سئیں فریدی ہوندے ہن؟

وہ کیا ہوتا ہے؟

میرا آکھن دا مطبل ہئی۔۔۔۔ آپ خواجہ سئیں کوریجہ ہوریں دے مرید ہو؟

(میرے کہنے کا مطلب یہ آپ خواجہ معین الدین کورجہ سائیں کے مرید ہیں)

(ہنستے ہوئے) نہیں نہیں میں تو مادیت پرست ہوں،بس ایسے ہی جارہا ہوں۔

(کچھ نہ سمجھتے ہوئے) سئیں لکھیاں پڑھیاں گالھیں اساکوں نئیں وے آنیدن۔۔ خواجہ سئیں دے مہمان ہو، تہاڈی گلاں خواجہ سئیں جاندے ہن یا تساں۔۔۔( لکھی پڑھی باتیں ہمیں نہیں آتیں۔۔۔خواجہ سائیں کے مہمان ہو ، آپ کی باتیں خواجہ سئیں جانیں یا آپ)

اس کے بعد دونوں طرف سے خاموشی چھاگئی اور کچھ دیر بعد خانپور کی سائیڈ سے مردوں،عورتوں اور بچوں سے بھری ایک ٹریکٹر ٹرالی ان کے پاس آکر رک گئی۔

جام عاشقا! ایہہ باؤ جی خواجہ سئیں ہوری دے مہمان ہن، جگہ بناؤ انہاکوں اساں دربار لے ونجنا ہے( جام عاشق!  یہ بابو جی خواجہ سائیں کے مہمان ہیں، جگہ بناؤ، ان کو دربار تک لیجانا ہے)

جسے جام عاشق کہہ کر پکارا گیا تھا وہ 20 سال کا نوجوان تھا۔ اس نے اس کا ہاتھ پکڑا اور ساتھ ہی کمر کو سہارا دیکر اسے ٹرالی میں بمشکل چڑھایا۔ ٹرالی میں مرد،عورت اور بچے ایک دوسرے سے گھلے ملے تھے۔ اس کے لیے ایک کونے میں جگہ بنادی گئی۔ وہ جینیز کی پینٹ اور چیک شرٹ اور نیچے بوٹ پہنے اور آنکھوں پہ چشمہ لگائے ان سب سے الگ لگ رہا تھا اور ٹرالی ميں موجود سارے مرد،عورتیں اور بچے اسے بے باکی سے اور پوری آنکھیں کھولے دیکھ رہے تھے۔ اس کی شیو کئی مہینوں سے بڑھی ہوئی تھی جبکہ سر کے بال بھی کافی بڑھے ہوئے تھے اور ان میں سفید بالوں کی بہتات تھی۔ اسے لگا جیسے وہ کوئی تماشا بن گیا ہے۔

پیچھے موٹر وے کے ساتھ ساتھ اندر جی روڈ بھی کافی ٹھیک تھے لیکن کوٹ مٹھن سارا ٹوٹا پھوٹا ہوا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ایک لمبا پل گزرا اور اس سے ٹرالی ہوتے ہوئے بائیں طرف ایک انتہائی کچے راستے پہ اترگئی اور یہ سارا راستا سخت ناہموار تھا اور لوگ ایک دوسرے کو سنبھال رہے تھے جبکہ اس نے ٹرالی میں پیر جمائے رکھنے کی کوشش کی لیکن لگنے والے جھٹکوں نے اسے لڑھکا سا دیا اور وہ جاکر ایک عورت میں لگا جس کی بے اختیار ہنسی چھٹ گئی۔ جس آدمی نے اسے ٹرالی میں جانے کی دعوت دی تھی، اس کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ آئی مگر فوری غائب ہوگئی۔ اور اس نے اشارے سے عورت کو تنبیہ کی اور بس اتنا کہا،’خواجہ سئیں دا مہمان اے، کملی نا تھی ہوش رکھ’۔۔۔ عورت کے چہرے پہ فوری مسکراہٹ غائب ہوگئی۔ اس سے اس عورت کی نظر ملی تو عورت کی نظروں میں اسے اپنے لیے بے پناہ ہمدردی سی دکھائی دی۔

تھوڑی دیر بعد دو قبرستانوں کے پاس سے گزرتی ٹوٹی پھوٹی سڑک سے گزرتی ہوئی ایک کشادہ چوک میں داخل ہوگئی اور سامنے ‘دربار خواجہ فرید۔۔۔’ لکھا تھا۔ اس نے دیکھا کہ ٹرالی میں بیٹھے سب مردوں اور عورتوں یہاں تک کہ بچوں نے ہاتھوں کو جوڑا اور ‘سلام یا خواجہ فرید سئیں ،،،،حق یا فرید ‘ کی صدا دی اور نیچے اترنے لگے۔

اتنے میں اس کے موبائل فون کی بیل بجنے لگی۔ اس نے فون اٹھایا تو دوسری طرف اس کا دوست معظم جتوئی تھا۔ اس نے کہا سئیں پہنچ گئے وے؟ (سائین پہنچ گئے ہو)

ہاں۔

وت میں تساڈے موبائل تے ہک نمبر سینڈ کیتا ہے۔ یاسر غوری دا نمبر ھئی، تساکوں ہلے او وی فون کریسی

(میں نے آپ کے موبائل پہ ایک نمبر بھیجا ہے۔ یاسر غوری کا نمبر ہے، وہ آپ بھی ابھی فون کرتا ہے اور ملتا بھی ہے۔)

فون بند ہوا تو ساتھ ہی دوسری کال آنا شروع ہوگی۔ اس نے یس کا آپشن دبایا تو دوسری طرف سے آواز آئی ۔۔۔ سئیں! یاسر غوری پیا بلیندا آں۔۔۔ حضور کتھاں پہنچے وے۔۔۔۔(یاسر غوری بول رہا ہوں۔ حضور کہاں پہنچے)

میں دربار کے سامنے کھڑا ہوں۔

سئیں اوتھاں ای کھلو ونجوں۔۔۔ میں آندا پیاں ہاں۔۔۔۔

اتنے میں کالے رنگ کی شلوار قمیص میں ملبوس سرخ و سپید رنگ کا مالک نوجوان اس کی طرف بڑھا۔ آتے ہی دونوں ہاتھوں سے اس کا ہاتھ پکڑا اور ساتھ ہی گلے لگ گیا۔اور ایک ہاتھ اس کے گھٹنے پہ لگایا۔ اسے بڑی شرمندگی محسوس ہورہی تھی۔

آؤو سئیں آؤو۔۔۔ تہاڈے آون نال جھوک ولا آباد تھی وے سی

آئیں آئیں جناب،،،،آپ کے آنے سے ہماری جھوک پھر آباد ہوجائے گی۔

اس نے یاسر غوری سے مخاطب ہوکر کہا

خواجہ فرید سائیں واقعی پہنچے ہوئے بزرگ لگتے ہیں۔ جو غوری غور افغانستان سے اس دھرتی پہ قبضہ کرنے آئے اور لوگوں کو غلام بنانا چاہتے تھے وہ خود اب خواجہ کے غلام بنکر اس دھرتی کی بولی بولتے ہیں۔

یاسر غوری یہ بات سنکر ہنسنے لگا۔

وہ یاسر غوری کے ساتھ چلتا ہوا سیڑھیاں چڑھ کر ایک صحن میں داخل ہوا وہاں سے ایک دروازے سے اندر داخل ہوا تو سامنے مسجد جیسی عمارت تھی جس کے اندر لکڑی کے بڑے بڑے شتہیر اور بالے لگئے تھے جن پہ چھت ٹکی ہوئی تھی۔ اس مسجد سے آگے ایک دروازے سے گزر کر وہ دربار کے اندر آگئے جہاں پہ انتہائی دائیں طرف خواجا فرید ‎سئیں کی قبر کا کتبہ لگا ہوا تھا۔ ان کے ساتھ سئیں ان کے مرشد اور بھائی بزرگ خواجہ فخر سئییں کی قبر تھی۔ ساتھ ہی ان کے خواجہ عاقل سئیں کی قبر تھی اور پھر ساتھ ہی ان کے صاحبزادے خواجہ نازک کی قبر تھی۔

تھوڑی دیر وہ وہاں خالی الذہن بیٹھا رہا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کہے اور کیا پیش کرے۔ اس نے اپنے اندر جھانکا جہاں گھپ اندھیرا تھا۔ وہ وہاں سے اٹھ کر باہر صحن آکر مغربی سمت ایک کونے میں آکر بیٹھ گیا۔ کیا دیکھتا کہ تھوڑے سے فاصلے سے وہی عورت اسے تکے جارہی تھی۔سرخ رنگ کی شلوار اور قمیض میں ملبوس اس عورت نے سر پہ کالے رنگ کی چادر لے رکھی تھی جس نے اس کے جسم کو چھپایا ہوا تھا۔ پہلے وہ دربار میں قبروں کی سمت بیٹھ کر آنکھیں بند کرکے ہاتھ اٹھائے ہوئی تھی اور اس کے لب جن پہ ایسے لگتا تھا جیسے اسکن کلر کی لپ اسٹک لگی ہو ہل رہے تھے جیسے وہ کچھ پڑھ رہی ہو۔

اس کے بعد اس عورت نے آنکھیں کھول دیں اور پھر زرا گردن کو خم دیکھ کر اسے دیکھا۔ ہلکا سا تبسم اس کے لبوں پہ سمٹ آیا اور آنکھوں میں آشنائی کی جھلک صاف دکھنے لگی۔ اور پھر اس عورت نے تھوڑی بلند آواز ترنم کے ساتھ پڑھنا شروع کردیا

کیا حال سناواں دل دا

کوئی محرم راز نہ مِلدا​

منہ دھوڑ مٹی سر پائم

سارا ننگ نمود ونجائم

کوئی پچھن نہ ویڑھے آئم

ہتھوں الٹا عالم کھلدا​

منہ پر دھول،سر پہ مٹی ہے

عزت آبرو برباد ہے

میرا حال پوچھنے آنگن میں کوئی نہیں آتا

اُلٹا سب میری ہنسی اُڑا رہے ہیں​

گیا بار برہوں سر باری

لگی ہو ہو شہر خواری

روندی عمر گزاری ساری

نہ پائم ڈس منزل دا​

عشق کا بھاری بوجھ سر پر اُٹھایا ہے

گلی گلی خوار و رسوا ہو رہا ہوں

روتے روتے عمر گزار دی ہے

لیکن منزل کا پتا ابھی تک نہیں چلا​

دل یار کیتے کُر لاوے

تڑ پھاوے تے غم کھاوے

ڈکھ پاوے سول نبھاوے

ایہو طور تیڈے بیدل دا​

دل محبوب کے لئے فریاد کرتا ہے

تڑپتا ہے اور غمگین کرتا ہے

دکھ اور مصبتیں برداشت کرتا ہے

تیرے عاشق کا یہی طور طریقہ ہے​

دل پریم نگر ڈوں تانگھے

جتھاں پیندے سخت اڑانگے

نہ راہ فرید نہ لانگھے

ہے پندھ بہوں مشکل دا​

دل پریم نگر کی طرف کھنچا جارہا ہے

جہاں پر دشوار گزار راستے ہیں

فرید نہ راستہ ہے نہ پڑاؤ ہے​

بڑا ہی مشکل سفر ہے​

وہ اس آواز میں اور الفاظ میں کہیں کھوسکا گیا تھا اور اس نے چشم تصور سے خواجہ فرید سئیں کے سامنے ہوتاں کو خواجہ فرید کا یہی کلام سناتے دیکھا۔ جب وہ عورت خاموش ہوئی تو اس نے دیکھا کہ اس عورت کے چہرے میں درد اور اداسی کے سائے کہیں گہرے ہوگئے تھے اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے جو اس نے اپنی کالی چادر سے پونچھ ڈالے۔

عورت نے اسے اپنی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ لیا تھا اوراس کے چہرے پہ ایک دم سے شوخی کی شفق کھیلنے لگی تھی اور اس نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

جہیڑا خواجہ سئیں دے دربار حاضر تھی ونجے اوہ چھیتا عاشق بن ویندا اے۔۔۔۔ تینڈا بل ہلے وی گئیا نئیں فرید کوں چھڈ کے چھیل کپٹ اتے اکھ رکھی کھڑا ایں

( جو خواجہ سئیں کے دربار پہ حاضر ہو جائے بس وہ ایک دم سیدھا عاشق بن جاتا ہے۔ تمہارا بل ابھی تک گیا نہیں حقیقت (فرید) کو چھوڑ کر  فریب پہ نظر رکھے ہوئے ہے)

اتنے میں یاسر غوری آگیا اور اس نے اسے کہا کہ ‘سائیں! لنگر تیار ہے۔ آئیں کھاتے ہیں۔’

وہ وہاں سے اٹھ کر یاسر غوری کے ساتھ لنگر خانے میں چلا آیا۔ وہاں پہ لنگر کھاتے ہوئے یاسر غوری اسے بتارہا تھا کہ سات سو چار مربعے اس مزار کے ساتھ وقف ہے مگر محکمہ اوقاف اس دربار کے راستے کو پختہ نہیں کرسکتا۔ نجانے کیا کچھ لیکن وہ سرخ شلوار قمیص، کالی چادر اور اس کے اندر موجود سراپے میں گم تھا۔ اس کو دو بڑی بڑی آنکھوں نے جکڑ رکھا تھا اور اسے کچھ پتا نہیں چلا کب وہ وہاں سے چلا آیا۔

عامر حسینی
عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *