امریکہ ایران کشیدگی اور ممکنہ نقصانات۔۔۔ذوالقرنین ہندل

یوں تو امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعات برسوں سے چلے آ رہے ہیں۔جس کی دیگر وجوہات میں سے ایک وجہ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب بھی ہے۔سعودی عرب اور ایران کے خراب تعلقات سے کون واقف نہیں۔اسی چیز کو بنیاد بنا کر امریکہ اپنا مفاداتی کھیل،کھیلنے کی تگ و دو میں ہے۔تاہم گزشتہ چند دنوں سے کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ گزشتہ دنوں خلیج عمان میں عربوں کے آئل سے بھرے بحری ٹینکروں پرزیر زمین بارودی سرنگوں سے حملہ کیا گیا۔ امریکہ اور سعودی عرب نے براہ راست ایران پر حملوں کا الزام عائد کیا۔لیکن اس کے برعکس ایران ایسا ماننے سے انکاری ہے۔اسی کشمکش میں،گزشتہ روز ایران کی جانب سے امریکی جاسوس ڈرون گرانے کی خبر ملی۔امریکہ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ ان کا ڈرون بین الاقوامی حدود میں گرایا گیا۔تاہم ایران نے اپنے جواب میں کہا کہ امریکی ڈرون ایرانی حدود میں داخل ہوا جو ہماری دفاعی پالیسی کی مخالفت ہے، اور ہم اپنے دفاع کا پورا حق محفوظ رکھتے ہیں۔اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹویٹ میں کہا گیا کہ، امریکی افواج نے ایران کے مختلف فوجی اڈوں کا نشانہ لیا ہوا تھا، عین حملے کے وقت انسانی جانوں کے ضیاع سے بچنے کے لئے ارادہ ترک کیا گیا۔لیکن امریکی اخباروں کے مطابق جب امریکی صدر نے ایران پر فضائی حملے سے روکا،اس کے بعد جمعرات کے دن امریکہ نے ایران کے ہتھیاروں کے نظام پر سائبر حملہ کیا۔امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق سائبر حملے سے ایران کے راکٹ لانچر کے نظام کو روکا گیا۔ یوں کشیدگی کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔

ایران امریکہ جنگ نہیں ہوگی, کیوں؟ — بلال شوکت آزاد

بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ کشیدگی کسی بھی وقت خطے کو جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔میرے نزدیک جنگ کے امکانات بہت کم ہیں۔تاہم چھوٹی سی غلطی کچھ بھی کروا سکتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ ایک بہت بڑی دفاعی طاقت ہے۔اس کی افواج دنیا بھر میں نمبر ون ہے۔لیکن امریکہ پہلے ہی اتنے محاذوں پر الجھا ہوا ہے کہ، نیا محاظ اس کے لئے درد سر بن سکتا ہے۔اس کے علاوہ امریکہ کے پاس سویت یونین کی مثال بھی موجود ہے۔ایران کے ساتھ جنگ کی صورت میں امریکہ کا خطے میں کردار بدل جائے گا۔خدانخواستہ اگر دونوں ملک جنگ کی طرف گئے تو اس سے پورے خطے کا نقصان ہوگا۔
ایران ماضی میں بیان دے چکا ہے کہ، جنگ کی صورت میں آبنائے ہرمز کا راستہ بند کر دیا جائے گا۔آبنائے ہرمزمشرق وسطہ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ایشیاء، یورپ اور شمالی امریکہ سے ملاتی ہے۔آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ہے۔جس کے ایک طرف امریکی اتحادی متحدہ عرب امارات، عمان،قطر،سعودی عرب وغیرہ ہیں۔جبکہ دوسری طرف ایران ہے۔اور یہ صرف خلیج فارس کی طرف سے سمندر میں راہداری فراہم کرتا ہے،جو دنیا کا تیل کے لحاظ سے اہم ترین آبی گزرگاہ ہے۔آبنائے ہرمز سے دنیا کا بیس فیصد کے قریب تیل گزرتا ہے۔ماضی میں ایران۔عراق جنگ کے دوران بھی آبنائے ہرمز تصادم کا شکار رہا تھا۔اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو ایران آبنائے ہرمز پر دوبارہ تصادم برپا کرسکتا ہے۔جس سے نہ صرف تیل کی ترسیل بند ہوگی بلکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ معیشت بھی غیر مستحکم ہوگی۔جو خطے میں بے یقینی اور افراتفری کو فروغ دینے کے لئے کافی ہوگا۔
امریکہ نے ایران پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ایران کئی برسوں سے امریکی پابندیوں کا شکار رہاہے۔تاہم 2015ء میں امریکہ اور سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے ایران سے ایٹمی معاہدہ کیا۔جس کے تحت ایران نے اپنی ایٹمی سرگرمیاں ترک کیں۔اس کے بدلے ایران پر عائد تجارتی پابندیوں کو نرم کیا گیا۔اور ایران نے تیل کی آزادانہ فروخت شروع کی،جو ایران کی معیشت کے لئے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔امریکہ نے گزشتہ برس خود کو اس معاہدے سے یہ کہہ کر علیحدہ کر لیا کہ، ایران پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔جس کے جواب میں ایران نے بھی خود کو معاہدے سے بالاتر سمجھ کر اپنی ایٹمی سرگرمیوں کو بڑھانے کا عندیہ دیا۔جس کے بعد سے کشیدگی بڑھتی چلی گئی۔

تیل عرب سے نکل رہا ہے،قیمت امریکہ ادا کررہا ہے۔۔۔اسد مفتی
امریکہ ایران پر سخت پابندیاں عائد کرنا چاہتا ہے، جس کے ضمن میں امریکہ نے بھارت پر ایرانی تیل کی خرید ترک کرنے کا دباؤ ڈالا ہے۔چائنہ کے بعد بھارت ایران کے تیل کا دوسرا بڑا خریدار ہے۔اور بھارت کے لئے یہ تیل سستا ترین ہے۔ بھارت کے ایران کے ساتھ مراسم کافی اچھے ہیں۔اس کے علاوہ بھارت چاہ بہار بندرگاہ بھی چلانا چاہتا ہے۔بھارت کی امریکہ کو ٹال مٹول کی بدولت صدر ٹرمپ نے بھارت کا جی ایس پی کا درجہ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بھارت امریکہ تجارتی تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔
پاکستان کو ایسے حالات میں غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔پاکستان سے لاکھوں شیعہ زیارتوں کے لئے ہر سال ایران جاتے ہیں۔ہماری طرف سے کسی بھی قسم کی کوتاہی اندرونی و بیرونی انتشار کا باعث بن سکتی ہے۔ایران امریکہ جنگ میں افغان طالبان کا کیا کردار ہوگا؟ پاکستان کا جنگ کی صورت میں کیا مؤقف ہونا چاہیے؟ کیا افغان مہاجرین کی طرح ایران کے پناہ گزین بھی پاکستان کا رخ کریں گے؟ ایسے مزید سوالات کے حل بھی پاکستان انتظامیہ کے ذہنوں میں ہونے چاہئیں۔جنگ کا خطرہ بظاہر تو نظر نہیں آرہا۔ دونوں فریقین امن چاہتے ہیں۔تاہم اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔جنگ کی تلوار پورے خطے کے سر پر لٹک رہی ہے۔بڑی ریاستوں کو حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے امن کی خاطر معاملات کو حل کرنا ہوگا۔

ذوالقرنین ہندل
ذوالقرنین ہندل
چوہدری ذوالقرنین ہندل گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں،مکینیکل انجینیئر، اور وائس آف سوسائٹی کے سی ای او ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *