موبائل، موبائل فوٹوگرافی اور سیاحت۔۔۔علی عمر عمیر

یہ کل کی بات ہے۔ میں بہن اور بھانجیوں کو لے کر لیک ویو پارک گیا تو موبائل کو گھر چارجنگ پہ لگا چھوڑ گیا۔ مجھے نہیں چھوڑ نا چاہیے تھا کیوں کہ چھوٹی بھانجیوں نے وہاں برڈ پارک سر پہ اٹھا لیا، “ماموں! موبائل کیوں نہیں لے کر آئے؟ ہماری تصویریں کیسے بنیں گی؟۔” اور میں چپ چاپ بے مزہ سا ہو کے پھرتا رہا۔

لگتا ہے کہ تفریح اب تصاویر کے بغیر کچھ رہ ہی نہیں گئی۔ اس کی کچھ اہم وجوہات ہیں۔ یہ آپ کی اندرونی حالت کے ساتھ ساتھ بیرونی ماحول کا اثر بھی ہے۔ مثلاً نوجوان نسل کا موبائل کا عادی ہونا اول تو اس وجہ سے زیادہ ہے کہ موبائل ان کی داخلی ضرورت بن چکا ہے لیکن دوسری بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جب کسی مخصوص ماحول میں دوسرے لوگوں کے ہاتھوں میں موبائل نظر آتے ہیں اور دوسرے لوگ موبائل پر مصروف نظر آتے ہیں تو ایسے میں ایسا نوجوان جس کے پاس موبائل موجود نہ ہو، اس مخصوص ماحول میں ایک طرح کے احساسِ محرومی یا احساسِ کمتری کا شکار ہونے لگتا ہے۔

سو کل ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، ہمارے اردگرد گھومنے پھرنے والے تمام لوگوں کے پاس موبائل اور کیمرے موجود تھے اور وہ مزے سے تصاویر بنا رہے تھے تو ایسے میں چھوٹی چھوٹی بچیاں بھی اور خود میں بھی اس طرح تفریح نہیں کر سکے جس طرح ہونی چاہیے تھی۔ میں سچ کہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے اس تفریحی مقام پر آنا بے مقصد ہی تھا۔

کل سے اب تک سوچ یہی رہا ہوں کہ اب ہم موجود کو مستقبل کے لیے سمیٹنے کے درپے ہوئے   ہیں۔ موجود کو محسوس کرنا پرانا قصہ ہو چکا، ہاں اب محسوس کرنے کی بجائے محفوظ کر لیا جاتا ہے تاکہ بعد میں کبھی محسوس کیا جائے۔ تو بھئی موجود کو موجودہ وقت میں ہی محسوس کیوں نہیں کر رہے ہم؟ کیا ضروری ہے کہ ہم اچھا خاصا کھانا بنا کر کھانے کی بجائے محفوظ کر کے رکھ دیں؟

پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ تصاویر، جنہیں بنانے کے لیے ہم اپنی زندگی کے خوبصورت ترین لمحات موبائل  سکرین کی نذر کر دیتے ہیں، دو چار ماہ بعد ڈیلیٹ کر کے پرے مارتے ہیں اور قصہ ختم۔ سو کیا ہمیں تفریح کے بارے میں اپنا رویہ تبدیل کر لینا چاہیے یا نہیں؟؟

ہمیں تفریحی مقام پر تفریح کرنی چاہیے نا کہ فوٹوگرافی۔ ہاں یادگار رکھنے کے لیے مناسب حد تک فوٹوگرافی بہتر ہے، لیکن اگر آپ صرف فوٹوگرافی ہی کو انجوائےمنٹ سمجھ رہے ہیں اور فطرت آپ کو موبائل کی سکرین سے نکلنے پر مجبور نہیں کر پا رہی  تو یہ قابلِ افسوس بات ہے۔ اگر موبائل ہی استعمال کرتے رہنا ہے تو آپ کا بیڈ روم زیادہ مناسب جگہ ہے۔

میں نے تو طے کیا ہے کہ کسی تفریحی مقام پر جا کر انٹرنیٹ تو مکمل طور پر بند رکھنا ہی ہے، موبائل بھی صرف ضرورت کے تحت نکالنا ہے اور یوں اپنی روٹین سے فرار کا تھوڑا سا وقت بڑے مزے میں گزارنا ہے۔ کیا آپ بھی ایسا ہی سوچتے ہیں؟؟؟

Avatar
علی عمر عمیر
اردو شاعر، نثر نگار، تجزیہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *