صبح عید مجھے بدتر از چاک گریباں ہے۔۔۔ راشد احمد

ابوالانبیاء جناب ابراہیم علیہ السلام کی عظیم الشان قربانی کی یاد میں چند دنوں تک امت مسلمہ لاکھوں جانور خدا کی راہ میں ذبح کرنے جارہی ہے.قربانی کی روح مرورزمانہ کے ساتھ کہیں مفقود ہوکر رہ گئی ہے. اس قربانی کے جملہ مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی تھا کہ ان غریبوں, مسکینوں کے گھروں میں بھی گوشت کی خوشبو پھیلے جو سارا سال اس کے ذائقے سے محروم رہتے ہیں۔
وہ غریب جسے عید پر بھی نئے کپڑے نصیب نہیں ہوتے اور پیوند بھی اتنے کہ شاعر جسے مفلس کی قبا کہتا ہے۔ جس کے پائوں میں پڑی چیز کو جوتا کہا جائے تو یہ جوتے کے ساتھ زیادتی ہے۔ کاغذ کو کپڑے کی لیروں کے ساتھ باندھ کر یہ صحرا کی انگارہ بنی ریت سے اپنے پائوں بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ غریب، وہ غریب کہ جس کےبچے سارا سال مرچیں کوٹ کر اس میں پانی ڈال کر روٹی کھاتے ہیں۔ عیدالاضحیٰ جیسے بڑے اور بابرکت موقع پر بھی اس کا حال یہ ہے کہ وہ در در کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے کہ کوئی اسے دو بوٹیاں دے دے۔ لیکن اس دن بھی کچھ دروازوں سے اسے جھڑکیں اور محنت کی عظمت پر لیکچر سننے کو ملتے ہیں۔ ایک دوسرے کے مقابلے میں مہنگا جانور خریدنے والے اور اس پر اترانے والے انہی گھروں میں گوشت بھیج بھیج کر خوش ہوتے ہیں جنہوں نے خود بھی قربانی کی ہوتی ہے۔ سارا سال گوشت کا ذائقہ تک نہ چکھنے والے در در سوال کرتے پھررہے ہیں اور ان کے نام پر قربانیاں کرنے والے اپنے فریج بھر رہے ہوتے ہیں۔ فریج کا پیٹ بھرجاتا ہے مگر ان کے ہوس زدہ پیٹ نہیں بھرتے۔
بچپن اور لڑکپن کی جس بے رحم یاد کا اب بھی دل پر اثر ہے، وہ یہ کہ جب بھی بڑی عید کا دن ہوتا، آس پاس کے اچھوت سمجھے جانے والے ہندو اقوام کی بچے اور خواتین صبح صبح ٹولیوں کی شکل میں مسلمانوں کے گھروں کے سامنے ڈیرہ ڈال لیتے، جہان ان کا استقبال گالیوں گھرکیوں اور دھتکار سے ہوتا۔ بعد میں آنے کا کہہ کر انہیں کسی اور دروازے کا سوالی بنا دیا جاتا۔ یہ فاقہ مست اور سال بعد گوشت کا ذائقہ چکھنے کی آس میں گالیاں سہتے مسکین لوگ ایک ایک کرکے تمام دروازے ناپ جاتے اور آخر کار اسی دروازے پر پہنچ جاتے جہاں سے انہوں نے آغاز کیا ہوتا۔ اب یہاں انہیں دروازے سے باہر دھوپ میں بٹھادیا جاتا اور جب دل کرتا ایک ایک دو دو بوٹیاں ان کے دامن میں پھینک دی جاتیں۔ پورے گائوں کا چکر لگانے کے بعدبھی ان ’’رسوائے زمانہ‘‘لوگوں کے دامن میں اتنا گوشت بھی نہ ہوتا کہ گھر والے سیر ہوکر کھانا کھا سکیں۔ خدا کی خاطر قربانیاں کرنےکا دعویٰ کرنے والے ایک کے بعد ایک جانور کا سر زمین سے لگا دیتے اور خون سے گلیاں گلنار ہوجاتیں لیکن وہ غریب جو سارا سال اس آس پر دن گزارتے کہ مسلمانوں کے بڑے دن پر گوشت کے ذائقہ سے لطف اندوز ہوں گے وہ بیچارے بس یونہی رال ٹپکاتے رہ جاتے۔ کوئی زیادہ فیاضی دکھاتا تو اوجھڑی بھی انہیں عطا کردیتا کہ جا بیٹا کیا یاد کرے گا کس سخی سے پالا پڑا تھا۔

مشتاق یوسفی کے قول کہ ’’ہم نے عالم اسلام میں کسی حلال جانور کو طبعی موت مرتے نہیں دیکھا ‘‘ کی عملی تفسیر بنے یہ فرزندان توحید جو سارا سال بھی گوشت پر ہاتھ صاف کرتے ہیں، عید والے دن بھی اپنے لئے یا اپنے دوسرے بھائیوں کے لئے ہی گوشت کا سامان کرتے نظرآتے۔غریبوں مسکینوں اور بے کسوں کے لئے ان کے پاس سوائے ایک آدھ بوٹی یا جھڑکیوں کے کچھ نہیں ہوتا حالانکہ انہیں تعلیم یہ ملی تھی کہ اس دن ان بے کسوں کو سوال سے بے نیاز کردو یعنی ان کے سوال کرنے سے قبل ہی انہیں غذا مہیا کرو۔

ہمارے ہاں قربانی اب بجائے قربانی کے گلیمر بن گیا ہے۔ ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی جانور وغیرہ خریدنے کا چلن تو عام تھا ہی، اب اس معاملہ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا پورا مقابلہ ہوتا ہے۔ ٹی وی چینلز نے اس بیماری کو وبا کی صورت دے دی ہے۔ ایک مقدس مذہبی فریضہ قریباً قریباً مذاق بن کررہ گیا ہے۔ قربانی کی اصل روح مفقود ہے۔ بہتیرے گھرانے ایسے ہیں جہاں عید والے دن بھی دال پکتی ہے۔ بندہ مزدور کے حالات تلخ تو تھے ہی اب ناگفتہ بہ ہوگئے ہیں۔ ضرورت ہے تو اس امر کی کہ قربانی کی اصل روح پر عمل کرتے ہوئے غریبوں بے کسوں اور سوال نہ کرسکنے والوں کی امداد کی جائے اور انہیں بھی اپنی خوشیوں میں شامل کیاجائے۔ کسی کی خوشی میں شامل ہونا یا کسی کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنا ایسے جذبے ہیں جن کا لطف کڑاہیوں اور کبابوں سے کہیں لذیذ ہے۔

Avatar
راشداحمد
صحرا نشیں فقیر۔ محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”صبح عید مجھے بدتر از چاک گریباں ہے۔۔۔ راشد احمد

  1. ماشاءﷲ راشد صاحب کیا ہی خوب لکھا ہے حقیقت میں آپ نے معاشرہ کی موجودہ صورتحال کی عکاسی کی ہے۔اللہ ہماری قوم کو اس قربانی کی حقیقت اور فلسفہ سمجھنے کی تو فیق عطا کرے۔
    آمین

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *