• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • گوچڑ موچڑ۔۔۔رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت” کا اقتباس

گوچڑ موچڑ۔۔۔رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت” کا اقتباس

آج بہت عرصے بعد میں نے خود کو سنوارا ۔۔تمہارا دیدار جب سے میسر نہیں ۔۔تمہارا خیال رکھنا بھی چھوڑ بیٹھی ہوں۔۔تم ہی تو کہتے تھے۔میں خود کو سنواروں تو تم سنور جاتے ہو۔۔میرا رنگ درحقیقت تمہارے حسن کو عروج بخشتا تھا۔۔اب جو تم ہی نہیں تو میں میرا حُسن بِگاڑ کر تمہیں بھی بد صورت بنا رہی تھی۔تمہیں بدصورت بنا دیا تو عشق بھی بدصورت کہلائے گا نا۔عشق بد صورت ہو گیا تو زمانہ مجھے الزام دے گا۔۔۔لہذا خود کو سنوار کر تمہارے حسن کو چار چاند لگا دیئے۔۔پھر عشق بھی نکھر کر روشن سا ہو گیا۔
آئینہ دیکھنا چاہا کہ دیکھو تم اتنے طویل عرصے کی گَرد اُترنے کے بعد کتنے حسین لگتے ہوں۔آئینہ تمہارا عکس دکھا ہی نہیں پایا۔ خود کو چُھو کر دیکھا تو تم تھے۔مگر آئینہ دیکھا تو کوئی اور وجود نظر آیا جس کوبھی ناگوار گزر رہا تھا۔۔آئینے پر بار بار ہاتھ پھیرا ۔۔چاہا کہ  یہ بے جان وجود نظر سے اوجھل ہو جائے اور صرف تمہارا چہرہ رونما ہو جائے۔تم نہیں تھے۔کوئی بھی نہیں تھا وہ بے رنگ ذرد وجود بھی پھر دھندلا ہونا شروع ہو گیا۔آنکھیں بھیگ جائیں تو سب دھندلا ہی تو جاتا ہے۔۔ہے نا۔۔۔مجھے لگا کہ کوئی آسیب ہے مجھ پر۔ورنہ تم کو سنوار کر بھی تم نظر نہ آؤ کیسے ممکن ہے؟آسیب ہی تو تھا۔۔۔جہاں اجنبیت کسی حد تک قائم رہ جائے۔وہاں محبت کی عمر لمبی ہو جاتی ہے۔ہجر کا مقام دور ہو جاتا ہے۔مگر جہاں اجنبیت ختم ہو جائے۔۔۔ “میں” سے ہوتے ہوئے انسان “ہم” ہونے کی بجائے “تم “ہو جائے۔۔۔تو ہجر کا مقام قریب ہو جاتا ہے۔۔۔ وصال ممکن نہیں رہتا۔دیدار کی راہیں مشکل ہو جاتی ہیں۔ یاد کا سمندر گہرا ہوتا جاتا ہے۔ہجر ایک آسیب زدہ حویلی ہی تو ہے۔اجنبیت ختم ہو کر “تم” ہونے کے بعد ہجر کی حویلی کے چھوٹے بڑے آسیب مجھ پر حملہ آور ہو چکے۔”میں” جب سے “تم” ہوئی ہوں۔۔یہ ہجر میرا رفیق بنتا جا رہا ہے۔ہجر کی حویلی کے چھوٹے بڑے آسیب حملہ آور ہوتے جا رہے ہیں۔کبھی یاد بن کر, کبھی لوگوں کے تیز و تند لہجے بن کر , کبھی الزام بن کر, کبھی گناہ بن کر۔۔۔اب تو خاک ہوتی جا رہی ہوں۔مگر یہ آسیب حملہ آور ہونا بند ہی نہیں کرتے۔۔۔اسی لئے تو آئینہ بھی آسیب زدہ ہو گیا کہ تمہارا دیدار تک نہیں کرواتا۔۔
جیسے دیمک زدہ کوئی لکڑی
یوں ترا ہجر کھائے جاتا ہے۔۔۔
قلم آنسوؤں کے بوجھ سے لڑکھڑا رہا ہے۔۔اب بھلا میں اس پر گرفت بناؤں کہ  اپنی آہ و بکا کو روکوں کہ  محبت کا بھرم رہ جائے۔۔محبت رسوائی سے بچ جائے۔۔
تمہیں یاد ہے چائے کا کپ میرے ہاتھ سے لے کر تم نے اسی جگہ انگلی پھیر کے نشان مٹایا تھا جہاں میرے ہونٹوں کی لکریں لالی لئے بیٹھی تھیں۔۔ تم نے کہا تھا تم ہر جگہ اپنا نشان نہ  چھوڑو تمہارے نشان تمہارا لمس بن کر میری روح کو گھیرے ہوئے ہیں۔۔۔اب کیوں چاہتی ہو کہ  کوئی اور بھی انکا اَسیر ہو جائے۔۔
کیا اب میرے نشاں تمہاری روح سے مٹ گئے؟کیا اب تم میری اسیری سے آزاد ہو گئے؟ مگر میں تو خود تمہاری اسیری کی غلامی میں مبتلا ہوں۔۔۔یہ قید جو میں نے خود اپنے وجود کے لئے منتخب کر کے اپنے آپ پر مسلط کی ہوئی ہے۔۔اس سے نجات کیسے مل سکے گی؟۔کہ آئینہ اب نہ تمہیں دکھاتا ہے نہ مجھےمیرا وجود ۔نہ مجھ پر میرا رنگ رہا باقی نہ تمہارا رنگ میسر ہے۔۔

اس بے قراری نے میری سانسیں بوجھ بنا دی ہیں۔ اس ہجر نے وجود کا ذرہ ذرہ بھی مزید پاش پاش کر کے بکھیرنا شروع کردیا ہے۔۔وجود سے یاد آیا تمہیں یاد ہے جب تم نے ڈاکٹر صابر شاکر کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈاکٹر صاحب نے لکھا ہے کہ  اکثر وجود کسی کے اثر میں ہو تو روح الجھ جاتی ہے۔۔ کسی سفید کاغذ کو گوچڑ موچڑ کر کے دیکھو تو اکثر لوگ بھی ایسا ہی گوچڑ موچڑ وجود رکھتے ہیں۔۔پھر اسکے بعد کی سٹیج میں اذیت انتہا پر ہوتی ہے پھر اس گوچڑ موچڑ کاغد کو پھاڑنا بھی شروع کردیا جاتا ہے۔۔ تم تو یہ اُس وقت طے نہ کر پائے تھے کہ تم اور میں کونسی سٹیج پر ہیں؟ کیا تم گوچڑ موچڑ ہو رہے تھے یا میں ؟۔۔یا تم اس گوچڑ موچڑ کو اذیت کی انتہا سے کبھی پھاڑ دو گے یا میں؟۔بہت سے سوال بغیر پوچھے تم بہت سے جواب وجود میں آنے سے پہلے ہی چل دیے۔۔ تمہیں معلوم نہیں اب میری روح اس گوچڑ موچڑ کی سٹیج سے آگے آ نکلی ہے۔۔میں اس کو پھاڑ بھی چکی ہوں۔۔ تمہاری سوچ صرف یہاں تک ہی تھی نا۔۔ تمہارا اذیت کو بیان کرنا صرف اتنا ہی تھا نا۔۔
مگر میں جو اذیت جی رہی ہوں اسکی سٹیج بھی میں خود ہی تخلیق کرو گی۔۔اور میں صرف تخلیق نہیں کروں گی بلکہ اسکو جی کر دریافت کر کے ہی بیان کر رہی ہوں۔۔میں نے میری روح کو گوچڑ موچڑ کر دیا تھا تمہاری موجودگی میں ہی, تمہاری الفت کے سائے تلے, جہاں صرف محبتوں کی باتیں تھی ,الفتوں کے سائے اور وصال کی ٹھنڈی ہوائیں۔۔
تمہارے جاتے ہی اس گوچڑ موچڑ وجود کو پھاڑ چکی ہوں۔۔ اس اذیت میں کہ  میں رونے کا حق بھی نہیں رکھتی تھی کہ  آنسو بدنامی بن جائیں گے۔۔کسی کے سوالوں کے جواب نہ تھے کہ  جوابات نہ  ہونا بھی رسوائی ہی تو ہے۔۔دنیا تو ظاہری حالت نہیں سمجھ سکتی روح کا گوچڑ موچڑ ہونا اور ختم ہونا کیسے سمجھتی۔۔
جانتے ہو آج میں کہاں ہوں۔؟
گوچڑ موچڑ کی دونوں سٹیج پار کر کے میں آگے نکل چکی ہوں۔۔اب اس پھاڑے ہوئے وجود کو میں آگ لگا چکی ہوں۔۔ راکھ بنا چکی ہو۔۔۔تم اس وجود کے ٹکڑے ہونے پر بھی آ جاتے تو تم مجھے سنبھال سکتے تھے۔۔ہر ٹکڑا تم کو تمہی سے ملوا دیتا۔۔۔ہر ٹکڑا تم کو تمہارا ہی پتہ دیتا۔۔۔ہر ٹکڑا میری ذات کا تم کو تم ہی سے محبت پر مجبور کر دیتا۔۔۔ہر ٹکڑا میرے ارمانوں کا تم کو تمہاری بے رخی کی اذیت بتاتا۔۔۔ہر ٹکڑا میرے خواب کا تم کو تمہارے نہ  ہونے سے کانچ بن کر آنکھوں میں چُبھ کر آنکھ سے بہتا لہو دکھاتا۔۔مگر پھر بھی تم سمیٹ سکتے تھے۔۔ پھر بھی تمہارے ہاتھ کا ان ٹکڑوں کی طرف بڑھنا محبت کی کشش دکھاتا اور میرا ہر ٹکڑا تمہاری طرف تمہارے قدموں میں لپک پڑتا۔۔جو قدرت کی میرے حصے کی کسی “کُن” کا نتیجہ ہو جاتا۔۔
مگر اے جانِ جاں۔۔
اب جو تم آؤ تو سمیٹ نہ سکو گے کہ  اب میں راکھ ہو چکی ہوں۔۔ خود کو آگ لگا چکی ہوں۔۔آؤ۔۔سمیٹو  کیسے سمیٹو  گے؟۔ذرہ ذرہ بنی یہ راکھ اب تمہیں تمہارا پتہ نہ دے گی۔۔تمہیں تمہارا عکس نہ دکھائے گی۔لو بھلا راکھ بھی کبھی کوئی شکل رکھا کرتی ہے۔۔راکھ صرف اذیت ہوا کرتی ہے۔۔راکھ صرف راکھ بن جانے والوں کی تڑپ کی نشانی ہے جو اب نہ  تم کو تم سے ملائے گی , نہ تم کو مجھ سے اور نہ  ہی مجھ کو کبھی تم سے۔۔۔
لو آؤ۔۔۔ہاتھ بڑھاؤ چھو لو یہ راکھ کہ  چھو کر لمحہ بھر میں پھر اڑا دو۔۔
تمہارے عشق کی راکھ ہوں۔۔مجھے اب ہوا میں بکھیر کر آزاد کردو۔۔یا پانی میں بہا دو۔مگر مجھے راکھ رہنے دو۔۔مجھے دنیاوی رنگوں میں نہ  رنگا جائے۔۔محبت کی زباں میں اب پکارا نہ جائے۔۔۔
میرا وجود راکھ ہے ایسا ہی رہنے دیا جائے۔۔نہ اپنا رنگ اب بھرو تم نہ میرے راکھ ہونے پر اعتراض کرو۔۔نہ  میری راکھ کو کمتر سمجھو نہ میری راکھ کو کسی سے ملاؤ۔۔مجھے راکھ ہی رہنے دیا جائے۔
اڑاؤ میری راکھ تماشا بننے سے پہلے۔۔اس وقت تک اڑاؤکہ  میں کسی خاک کے مسکن کو چُن کر اسکو ٹھکانہ  بنا لوں۔۔مگر مجھے اب محبت کی بناوٹی شکل اور بناوٹی رنگ میں نہ  رنگا جائے۔۔
بہاریں اس گلستاں میں اگر آئیں میرا پوچھیں
ذرا سی خاک لینا اور ہواؤں میں اڑا دینا.۔۔۔۔۔

دیکھو۔یہ راکھ پھر بھیگ گئی۔پھر سے وہی ہوا نہ  سب کچھ مٹ گیا ۔۔ہمیشہ کی طرح یہ یادیں کافی سسکیوں کو روک کر, آواز کا گلا گھونٹ کر لکھی تھیں اور اب ان کو آنسووں سے بھیگو کر تم نے مٹا دیا۔۔تم یونہی کرتے ہو کہ  میری تکلیف کا کوئی الزام تم پر نہ  آ جائے اس لیے آنسو بن کر میرے لفظ مٹا جاتے ہو۔۔مگر جانتے ہو آنسوؤں سے گوچڑ موچڑ ہوا میری ڈائری کا ہر صفحہ بھی چیخ چیخ کر تمہیں تمہارا پتہ دے گا۔۔۔یہ آنسو جس لفظ کی موت بن کر نازل ہوتے ہیں وہی لفظ ان کو جذب کر کے سیاہی پھیلا کر ان آنسوؤں کے نشاں بھی وہیں ٹھہرا دیتے ہیں۔۔۔اذیت بھرا ہر صفحہ نا صرف تمہاری طرف اشارہ کرے گا بلکہ ان آنسوؤں کی بے رخی اور ظلم کی بھی داستاں بیاں کرے گا۔۔لو اب تمہارے نام پر قلم پھیرتی میں اس گوچڑ موچڑ صفحے پر پھر گوچڑ موچڑ وجود کو آگ لگانے والی ہوں۔۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”گوچڑ موچڑ۔۔۔رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت” کا اقتباس

  1. Ramsha Tabassam بہت خوبصور لکھا دوست۔۔۔ پہلے بھی کہا تھا احساسات اور جزبات کو قلم کی نظر کر کے تیرے لفظوں میں آگ لگانے والی تحریر لکھنا یوں لگتا تیرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔۔۔۔۔۔

    یہ جو کھنڈر۔۔۔۔آسیب۔۔۔ ہجر کی تکون بنی ہے نا تو نے یہ تکون ایسی تکون ہے جس کے ہر کونے پر مادیت ہار جاتی ہے۔۔۔ جہاں جزبات کے طلاطم انگیز بحر تھم کر کسی ایک رو رینگتا رہتا ہے۔۔۔۔ جب ہجر اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو وجود کھنڈر ہو جاتا ہے اور اس کھنڈر ہوتے وجود میں پھر آسیب کے سائے کا بسیر ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔

    پتہ نہیں کیوں ہم مادیت پرست جب بھی ہجر کے مارے آسیب کھنڈرات سے گزرتے ہیں تو ہم ان کی طرف توجہ نہیں دیتے۔۔۔۔۔

    حالانکہ اس دنیا کا تمام تر اسباق ان آسیب زدہ کھنڈراتوں میں پڑھے جا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

    پتہ نہیں ہم رشتوں یا تعلقات کا روح میں سرایت کر جانے کو کیسے لیتے ہیں۔۔۔۔ روح میں سرایت کر جانے والے تعلقات تو کا ایک الگ انداز میں احتساب ہوتا ہے پتہ نہیں کیوں مجھے لگتا روح کے تعلقات خودکلامی سے بھی اوپر کی چیز ہے۔۔۔۔ بلکہ ایسے تعلقات کی ہجروں بھری پوٹلی کو کھولنا بھی لمحاتی موت ہوتی یے۔۔۔ پتہ نہیں کیسے اتنی لمبی خودکلامی کر لی تم نے۔نے۔۔۔ شاید اس لیے کہ تم بہادر ہو میری نسبت بہت بہادر۔۔۔ جیو دوستم اور یوں ہی لکھتی رہو 😍

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *