فلم “کتکشا “یا ابو علیحہ کا پاگل پن۔۔۔۔۔عارف خٹک

پاکستان جیسے ملک میں،جہاں کوئی فلم گنڈاسے، کلاشنکوف، حُب الوطنی اور چُوماچاٹی کے بغیر بنانا تو دُور کی بات،آپ کسی پروڈیوسر کو اپنا سکرپٹ دکھا دیں صرف،تو بھی مان جاؤں۔ کیوں کہ پروڈیوسر کو معلوم ہے،کہ عوام کو 44 انچ فِگر کی ہیروئن کا سلو موشن میں دوڑتے ہوئے دائیں بائیں اوپر نیچے لہراتا ہوا سینہ چاہیے۔ تیز میک اپ، چیختی چنگھاڑتی موسیقی میں ایک IBA سے فارغ التحصیل سٹوڈنٹ کو ٹرک اڈے پر پشتون ڈرائیوروں کے سامنے ناچتی ہیروئن کا آئٹم نمبر چاہیےہوتا ہے۔

آپ ہیرو ہیروئن کو کراچی سے براستہ سکھر لاہور بھیجیں ۔مگر دورانِ سفر آپ مری کے سرسبزو شاداب نظارے دکھائیں۔تو آپ کا قاری آپ سے قطعاً سوال نہیں پوچھے گا۔ کیوں کہ اس کی نظر بھی وہاں بھٹک رہی ہوتی ہے،جہاں آپ کی مرکوز ہوتی ہے۔ اس لئے اُس کے بعد مزید زرخیزیوں کی کوئی وقعت نہیں رہ پاتی۔
اگر آپ انجمن، مسرت شاہین کے کولہوں کے شوقین ہیں۔ اگر آپ کو صائمہ کا اُبھرا ہوا سینہ دیکھنا ہے۔ نقلی مونچھوں کےساتھ بڑکیں سُننے کے شوقین ہیں۔تو یہ فلم آپ کے کسی کام کی نہیں ہے۔پھر آپ ہماری طرف تشریف لے آئیے۔کیوں کہ آپ کی واحد منزلِ مُراد ہماری وال ہے۔

“کتکشا” ایک نان کمرشل فلم ہے۔اور نان کمرشل فلم پاکستان میں بنانا ایک پاگل پن ہے۔ پاکستان تو چھوڑ ہندوستان جیسے بڑے سرکٹ میں بھی کوئی کلاسِک فلم بنانے کا نہیں سوچ سکتا ۔کیوں کہ پیسہ کمانا ہر انسان کا حق ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں کتکشا جیسی ہارر فلم بنانے کا سوچنا بھی نِری دیوانگی ہے۔ ایسا ملک جہاں گنتی کےچند مخصوص سنیماگھر ہیں۔ وہاں انسانی نفسیات پر بنی ایک ایسی فلم جن میں ہیروئن ہیرو کی بانہوں میں نہیں سماتی،جہاں گانے اور بے ہودہ ادائیں نہیں ہیں۔وہاں سو منٹ تک ناظرین کو ایک جگہ بٹھانا اور وہ بھی بنا سانس روکے،بذات خود ایک آرٹ ہی تو ہے۔
مُبین گبول کی بہترین ڈائیلاگ ڈیلیوری، سلیم معراج کے بے ساختہ مکالموں سمیت اداکاروں کےخود کو کردار میں ڈھال لینے والی خوبیاں جہاں آپ کو اپنی سیٹ سے ہلنے نہیں دیتی ۔وہاں بیک گراؤنڈ میوزک آپ کی سانسیں روک لینے کےلئے کافی ہے۔ بلکہ بقول ظفر جی کہ “ریح بادی” کے مریض کو پھکی کھانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔

پُوری فلم میں سنیماٹوگرافی اور لائٹنگ کمال کی ہے۔ بس ابو علیحہ نے نمرہ خان کو کاسٹ کرکے بلاشُبہ ہم جیسے پشتونوں پر ظُلم کیا ہے۔ کیوں کہ نمرہ خان جتنا وزن اور فِگر تو ہمارے سولہ سالہ لختئی کا ہوتا ہے۔ ایک سین میں ہیروئن بھاگتی ہے۔ جنید خان نے فل فوکس سینے پر کیا ہوا ہے۔ مگر چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگتی ہیروئن کا سینہ ہلنا تو درکنار،حرکت تک نہیں کرتا۔ ظفر جی کہتے ہیں کہ سینے میں دل ہوگا تو حرکت کرےگا ناں۔
دوسری جگہ ہیروئن کو تنگ پاجامے میں یوگا کی ورزش کرائی جارہی ہے۔ ہیروئن جیسے ہی اُلٹی ہوکر کولہے اُٹھانے لگتی ہے۔ پینٹ کی پچھلی جیبیں اُٹھ جاتی ہیں مگر کولہے ندارد۔ تو ہمیں کوئٹہ کا مولانا سید محمد سمیع یاد آگئے۔ اس ہیروئن سے اچھے فگر کا مالک تو وہ ہے۔
ابوعلیحہ کو معلوم بھی تھا کہ اس کی فلم پشاور اور کراچی کے پٹھان بھی دیکھیں گے۔کم از کم یہاں اسپیشل ایفیکٹس کا چارا نہ تھا۔ تو ہیروئن کی پتلون میں دو کُشن ہی رکھوا دیتے۔
گلہ تو بس یہی ہے کہ ابو علیحہ نے فلم بناتے وقت ہم پٹھانوں کے جذبات و احساسات کا قطعاً خیال نہیں رکھا۔
حیرت کی بات یہ کہ پوری فلم ایک نان سینما کیمرہ Blackmagic Mini USRA پر ریکارڈ کی گئی ہے۔ نوجوان کیمرہ مین جنید محمود جنہوں نے فلم “عارفہ” کو شُوٹ کیا۔اُس کے پاس کوئی تجربہ نہیں تھا۔مگر جس مہارت سے پوری فلم کو شوٹ کیا گیا ہے۔ہم کتکشا کی سنیماٹوگرافی کا مقابلہ کسی بھی ہالی ووڈ فلم سے کرسکتے ہیں۔ لائٹننگ کسی بھی فلم کےلئے سب سے ضروری ہُنر تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں آپ کو کسی بھی اینگل سے یہ نہیں لگتا۔کہ رات تین بجے کٹاس راج مندر میں شُوٹ کیے گئے کسی بھی سین میں مصنوعی لائٹ دی گئی ہے۔ بلاشُبہ فلم کے لائٹ مین اللہ دتہ صاحب جس نے ری میک فلم “مولا جٹ” کے دوسرے ورژن میں اپنی بے مثال مہارت دکھائی ہے،اپنا سارا تجربہ یہاں استعمال کیا ہے۔
فلم کی خوبصورتی ابوعلیحہ کے بے ساختہ مکالمے جو اس کا خاصہ ہے،آپ کو بے ساختہ قہقہے لگانے پر مجبور کردیتا ہے۔
فلم کم بجٹ کی ہے،اس لئے سپیشل ایفیکٹس کی کمی محسوس کی گئی۔مگر پوری فلم میں دیکھنے والے کو دلچسپ کہانی،پرفیکٹ مکالموں اور خوبصورت سینز کی وجہ سے اس اینگل پر سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔
پاکستان میں جہاں آج تک ہالی ووڈ کی کسی کامیاب ترین ہارر مووی نے اڑتالیس لاکھ سے اُوپر تک کا بزنس نہیں کیا۔ وہاں ایک کروڑ بجٹ کی فلم بناکر ریلیز کرنا بڑا ہی دل گُردے کا کام ہے۔ ابو علیحہ کےلئے کیا یہ کم اعزاز ہے؟کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کوئی فلم دنیا کی ہارر موویز پلیٹ فارم Frist Fest London 2019 میں نمائش کےلئے پیش کی جارہی ہے۔
“کتکشا” محض ایک فلم نہیں بلکہ ابوعلیحہ کا برسوں پہلے  دیکھا گیا خواب ہے۔ جس کی تعبیر پانے کےلئے ابوعلیحہ پر جو بیتی ہوگی۔وہ نہ آپ سمجھ سکتے ہیں نہ  ہی میں محسوس کر سکتا ہوں۔ کیونکہ آخر میں پُر اسرار ولن “مودی” ایک بات کرکے فلم کا خاتمہ کردیتا ہےکہ۔۔۔
“کوئی کسی کو نہیں مار سکتا۔اس کے اندر کا خوف اسے مار دیتا ہے”۔ شاید یہ مکالمہ آپ کےلئے صرف ایک مکالمہ ہو۔مگر میرے لئے ابوعلیحہ کی پوری زندگی کا نچوڑ ہے۔ ابو علیحہ کا پاگل پن دیکھنا ہو تو فلم ضرور دیکھ لیجیئےگا۔
میں اس سے زیادہ اور کیا کہوں؟کہ جہاں ایک بندے نے ایک اسائلم کےلئے اپنی بیوی کی ننگی تصاویر لگا کر محض ایک کاغذ کا ٹکڑا حاصل کیا۔ وہاں ہمارے بیچ موجود ایک افسانوی کردار،جس کو اُس کے دوستوں نے اکیلا چھوڑا۔اور نو ماہ وہ قید کے اذیت ناک اندھیروں میں گُم رہنے کے بعد باہر نکلا۔ بنا کسی شکایت اور طعنوں کے اس نے 100 منٹ کی فلم میں کسی خاتون کو ننگا کیے بغیر پوری فلم بنا ڈالی۔ اس بندے کے حوصلے اور عظمت کے بارے میں اور کیا لکھوں۔
فلم دیکھنے کے بعد میری شدت سے خواہش ہے کہ اب “عارفہ” ریلیز ہو۔ میں نے “عارفہ” کا سکرپٹ دیکھا ہے۔ وہ کراچی کے معاشرے کے اندر موجود ایک سُلگتی چنگاری ہے۔ جو آپ کو ضرور رُلائے گی۔

میرے لئے اس فلم کی خاص بات یہی تھی۔کہ ابوعلیحہ کے ذومعنی مکالمے سن کر جہاں میں اپنے بارہ سالہ بیٹے سے نظریں چرا رہا تھا۔وہاں میرے پیچھے بیٹھی خواتین تالیاں بجا رہی تھیں،سیٹیاں مار رہی تھیں اور قہقہے لگارہی تھیں۔ فلم دیکھنے کے بعد میں بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوا ہوں۔کہ میرا “خٹک نامہ” جس کو فحش زبان کی وجہ سے آج تک چھاپنے کی جرات نہیں کرسکا۔ اب چھاپوں گا اور سرورق پر صاف صاف لکھوں گا۔کہ “یہ کتاب مولویوں اور خواتین کے علاوہ کسی اور مخلوق کو بیچنا قانوناً جُرم ہے”۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *