ہمارا دسمبر

ہماری ہوسٹل لائف بھی کیا تماشہ ہے۔ گرمیوں میں کمرے سے انواع و اقسام کے حشرات برآمد ہوتے ہیں اور سردیوں میں چوہے وبال جان ہیں۔ صاحب کیا بتائیں آپکو، پورے ہفتے سے ایک چوہیا نے جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ آپ کہتے ہوں گے کہ بھئی تم نے جنس کا تعین کیسے کرلیا۔؟کل سے دو بار ظالم ہمار کنوارہ ا بدن ٹٹول چکی ہے۔ رضائی میں گرم پہلو سے دو بار لپٹنے اور ایک بار اپنے پیار کی نشانی چھوڑنے کی کوشش کر چکی ہے، اور ہاں اگر آپ امریکہ کے چوہے ، سوری امریکہ کے رہائشی ہیں تو بھائی یہ اسلامی جمہوریہ الباکستان ہے۔بتقاضائے شریعت ایسے کام یہاں ممنوع ہیں۔
سارا سارادن کمرے میں گھومنا، چیزیں ٹٹولنا اور ذرا خود بتائیے ،نامحرم مردوں کی موجودگی میں یوں بے پردہ نکلنا کہاں شریفوں کا شیوہ ہے؟اب آپ کہیں گے ہم صنف نازک کا استحصال چاہتے ہیں۔توبہ توبہ کیجئے صاحب، ہماری تو دوستی کی فہرست سب زن مریدوں سے بھری پڑی ہے۔
صنف نازک کو آزادی ہونا چاہیے پر اتنی بھی کیا آزادی کے کسی کے بستر پر ہی چڑھ دوڑو۔ میرے تو من میں آیا، کہ کہہ دوں بی بی تیرے گھر میں مرد نہی ہیں کچھ تو خیال کر۔ پھر خیال آیا سوشل میڈیا کا دور ہے، ایک پوسٹ ہوئی نہیں اور میری عزت کا فالودہ، عزت کے فالودے سے یاد آیا کہ اسکے گھر گھروندے میں اگر کوئی صحافی ہوا تو؟ دوست کا مشورہ ہے امرود پر کچھ مصالحہ جات لگا کر اسکی خوش آمد کروں اور اسے ڈائیلاگ کی دعوت دوں۔ پر اس میں بھی مسئلہ ہے، جدید دور ہے اگر وہ ڈائٹنگ پہ ہوئی تو؟ ایک دن تنگ آ کر اقبال کا شاہین بننے کا ارادہ کیا اور اسکےگرد گھیرہ تنگ کردیا لیکن وہ تو شاہینہ نکلی،
(نوٹ: یاد رہے یہ شاہینہ صنف کا تعین ہے)
جھپٹنا ، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
کے مصداق جس پھرتی کا مظاہرہ محترمہ نے کیا ہم تو عش عش کرکے رہ گئے۔
مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولنے کی وجہ سے ہمیں ہمیشہ ہی اختلاط مرد و زن سے عار رہی ہے(یاد رہیے یہ مزاح نگاری کی کوشش ہے)۔ یہی عذر ہے کہ ہم کسی طور بھی اسکی، کمرے میں موجودگی برداشت نہیں کرسکتے۔ لیکن محترمہ تو حد درجہ بے شرم واقع ہوئی ہیں، دھیان اپنی طرف کھینچنا تو کوئی ان سے سیکھے، ہر دو منٹ بعد کمرے کے کسی کونے سے نسوانی آواز برآمد ہوتی ہے۔ جسے سن کر میرے کان کسی تابعدار شوہر کی طرح کھڑے ہوجاتے ہیں۔جائے وقوعہ پر پہنچتے ہی علم ہوتا ہے کہ محترمہ اس کونے میں اظہار برہمی کرنے کے بعد کہیں اور نکل گئی ہیں۔ اتنی تند ، تیز او ر نک چڑھی ہیں کہ جس کونے میں دیکھو کچھ نہ کچھ کتر کر چھوڑ جاتی ہیں۔
آپ ہی بتائیے ہم کیا کریں؟ بھلا سر عام لوگوں کی موجودگی میں کسی کے پہلو میں بوس وکنار مغربی لوگوں کا شیوہ تو ہوسکتا ہے مشرقی مرد تو عفت و حیا کا پیکر ہوتا ہے۔ دعا کیجئے عفت اور حیانہ پڑھ لیں۔ خیر کسی نے سچ کہا تھا کہ پیا ر میں درد ہوتا ہے، سچی کہہ رہا ہوں ظالم کے لبوں کی کاٹ اتنی تیز ہے۔ تیسرا دن ہے ابھی تک محسوس ہو رہا ہے ۔
یہ ہے ہمارا دسمبر، آپ اپنی سنائیے؟
(نوٹ: یہ با لکل سچی کہانی ہے ۔تشبیہات سمجھ کر اپنا مطلب مت نکالیں۔ )
مزاح نگاری کبھی نہ کرسکا، یہ تو انگلی کٹوا کر شہیدوں میں شامل ہورہا ہوں۔امید ہے مزاح نگاروں کی طبعیت پر گراں نہ گذرے گی۔

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *