سویز کے اُس طرف اور اِس طرف۔۔۔۔محمد اظہار الحق

ظلم کی ایک داستان نے سویز کے اُس طرف‘ نیل کے کنارے جنم لیا۔مرسی شہید کر دیے گئے۔ مصر نے اپنی روایت برقرار رکھی۔ حسن البنا۔ پھر سید قطب۔ ان کے بھائی محمد قطب۔ ان کی بہن حمیدہ قطب! مصر کے فرعونوں نے سب دیواریں گرا دیں۔ اپنا راستہ صاف کر دیا۔ مگر تقدیر ہنس رہی ہے۔ راستہ صاف نہیں کیا۔ کانٹوں سے بھر دیا! ظلم کی ایک داستان‘ سویز کے اِس طرف بھی رقم ہو رہی ہے۔ دریائے سندھ کے مشرق میں!دریائے جہلم کے مغرب میں! راوی کے بازئوں میں! نواز شریف اور آصف زرداری زنداں میں ڈال دیے گئے۔تاریخ مزاحمت کا نیا باب لکھ رہی ہے۔ جنوبی ایشیا کے مسلمان مصر کے مسلمانوں کے مقابلے میں کم خوش قسمت نہیں! اُنہیں آج مرسی جیسا شہید ملا ہے۔ تو ہمارے پاس زرداری اور نواز شریف جیسے مجاہد موجود ہیں! فقیری کا‘ بے غرضی کا‘ بے لوث قیادت کا یہ سلسلہ بہت پرانا ہے! کیا تھا حسرت موہانی کے پاس؟ کپڑے کی دھجی سے عینک کی ٹوٹی کمانی باندھی ہوئی۔ ایک بستر۔ کیا تھا محمد علی جوہر کے پاس؟ ایک پریس اور دو رسالے۔ کامریڈ اور ہمدرد! چالیس گھنٹے کمرے میں بند رہے۔ اداریہ لکھاChoice of Turksانگریزحکومت کے چھکے چھڑا دیے۔ خالقدینا ہال کراچی میں عدالت قائم ہوئی۔ انگریز جج نے انہیں غنڈہ کہا۔ جواب دیا‘ ہاں! میں غنڈہ ہوں! مگر ملکہ برطانیہ کا غنڈا نہیں‘ اپنے پروردگار کا غنڈہ ہوں۔ کراچی جیل میں رہے اور دوسری جیلوں میں بھی! کیا ہے زرداری اور نواز شریف کے پاس؟ چند آبائی کمرے! کچی دیواریں‘ فرش پر چٹائیاں! ایک وزیر رہا۔ پھر صدر! دوسرا وزیر اعلیٰ ۔پھر تین بار وزیر اعظم؟مگر جن دو پرانے اٹیچی کیسوں کے ساتھ قصرِ صدارت اور ایوان وزارت میں آئے‘ انہیں کے ساتھ باہر نکلے۔ کوئی کارخانہ بنا نہ جائیداد!فقیری سی فقیری! آنکھ اٹھا کر بھی دنیا کے مال و زر کو نہ دیکھا۔ فارغ وقت تسبیح و ذکر میں اور تصنیف و تالیف میں گزارا۔ برصغیر میں شاید ہی کسی کی ذاتی لائبریری اتنی عظیم الشان اور قابلِ رشک ہو‘ جتنی جناب زرداری اور جناب نواز شریف کی ہیں! میاں صاحب کے چاہنے والوں نے ضمانت کی درخواست عدالت میں دی۔ جو پرسوں نامنظور ہوئی! یہ اُن کے شیدائیوں کا اصرار تھا۔میاں صاحب نے‘ استقامت اور عزیمت کے اس پہاڑ نے‘ ضمانت کی درخواست دینے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ زنداں ان کے لئے ایک باغ سے کم نہیں! کب انہوں نے زنداں کی آواز پر قوم کے لئے لبیک نہیں کہا؟ جنرل مشرف کی آمریت کو جیل کے اندر سے للکارا یہاں تک کہ آمریت لرزنے لگی۔ آمر لرزہ براندام ہو گیا۔ دشمنوں نے ڈِس انفارمیشن پھیلائی کہ میاں صاحب معاہدہ کر کے جدہ چلے گئے۔ جھوٹ! افترا! تہمت! الزام! آمر نے ان کا ایک ہم شکل ڈھونڈا اور اسے جدہ بھیجا۔ جمہوریت کی جدوجہد کو بدنام کرنے کے لئے عوام کے جذبۂ حریت کو سرد کرنے کے لئے۔ پھردروغ گوئی کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔ یہ کہ میاں صاحب جدہ کے عالی شان محل میں قیام پذیر ہیں۔ یہ کہ اتنے باورچی ساتھ لے کر گئے۔ یہ کہ باقر خانیاں بنانے والا باورچی الگ ساتھ تھا۔ یہ کہ اتنے سو صندوق سامان کے جہاز میں لدے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ آمر کے سارے عہدِ سیاہ میں میاں صاحب جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہے۔ وہیں سے تحریک چلائی۔ وہیں سے کامیاب ہو کر باہر نکلے۔ باہر جانے کی تمام پیش کشوں کو پائوں کی ٹھوکر پررکھا! جناب زرداری اور جناب نواز شریف کیوں زنداں کو ترجیح دے رہے ہیں؟ ذاتی دولت بچانے کے لئے؟ اپنی جائیدادوں اورکارخانوں کو بچانے کے لئے؟ اپنے محلات کے لئے!نہیں! حاشا کلاّ نہیں! ان کی ملکیت میں سوائے عوام کی محبت کے کچھ بھی تو نہیں! یہ جائیدادیں‘ یہ محلات‘ یہ کارخانے‘ یہ لندن اور دبئی کی باتیں‘ یہ سب دشمنوں کا پروپیگنڈہ ہے! دونوں رہنما جانتے ہیں کہ یہ چند روزہ زندگی ہے۔ اس کے لئے لمبی چوڑی دولت کی کیا ضرورت ہے؟ آخر کون سا انہوں نے ہزار ہزار برس زندہ رہنا ہے! مریم اور بلاول اس وقت میدان میں ہیں!کتنے خوش بخت ہیں پاکستانی عوام جنہیں ایسے نوجوان لیڈر ملے۔ ان کے ہم عمر گلیوں میں گولیاں کھیل رہے ہیں اور یہ دونوں نوجوان۔ بلاول اور مریم عوامی حکمرانی کی کھوئی ہوئی منزل دوبارہ پانے کیلئے‘ جدوجہد کر رہے ہیں‘آج یہاں تو کل وہاں! کبھی کھانا کھاتے ہیں‘ کبھی فاقہ! مسلسل جدوجہد! سفر! آخر کیوں؟ عمران خان کی خاندانی آمریت کو گرانے کے لئے! مریم اور بلاول کا موقف یہ ہے کہ جمہوریت میں وراثت کا کوئی تصور نہیں! عمران خان کے والد‘ اس کے نانا‘ اس کے دادا‘ میں سے کوئی صدر مملکت رہا تو کوئی ملک کا وزیر اعظم بنا۔ عمران خان کی سیاسی جماعت پر اس کے خاندان کا قبضہ ہے! باپ دادا اور نانا کے بعد اب عمران خان نے اقتدار کی گدّی سنبھال لی ہے! آج کی جمہوری قدروں میں اس موروثی بادشاہت کا کوئی تصّور ہے نہ گنجائش۔ مریم اور بلاول پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ یہ خاک نشینوں کا حق ہے تخت نشینوں کا نہیں! کیا تھا عمران خان کے خاندان کے پاس؟ اقتدار میں آنے سے پہلے؟؟کچھ بھی نہیں! باپ دادا حکومت میں آئے تو دولت میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔ فیکٹریوں کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی۔ سرے محل خرید لیا۔ پیرس کے نواح میں کئی سالہ قدیم ‘ نوابّانہ محل ملکیت میں آ گیا۔ نیو یارک کا پینٹ ہائوس‘ جس کے بارے میں انجم نیاز نے اپنا مشہور مضمون لکھا تھا اور بتایا تھا کہ یہ محل منحوس مشہور تھا۔ جو خریدتا‘ دنیا سے رخصت ہوتا۔ خریدا عمران نے خود اور مشہور یہ کر دیا کہ بے نظیر بھٹو نے خریدا اور پھر مشہور چینی توہم پرستی فنگ شوئی کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کے درودیوار تبدیل کئے۔ یہی نہیں ‘ عمران خان کے خاندان نے لندن کے بہترین محل وقوع میں گراں بہا فلیٹ خریدے۔ جدہ اور یو اے ای میں کارخانے لگائے۔دبئی میں عالی شان‘ جگمگاتا ‘ ستاروں اور کہکشائوں کو شرماتا‘ محل خریدا۔ جناب زرداری ‘ جناب نواز شریف‘ اور ان کے لخت ہائے جگر‘ اس لوٹی ہوئی دولت کا حساب چاہتے ہیں! بخدا اور کچھ نہیں! ان کا واحد مطالبہ یہ ہے کہ ملک سے باہر پڑی ہوئی ملک کی دولت واپس آئے اور سرکاری خزانے میں جمع ہو! عمران خان کے خاندان سے جان چھوٹے۔ تین عشرے ہو گئے اس خاندان کو عوام کی گردنوں پر مسلط ہوئے۔ خدا کی پناہ! کیا یہ ملک عمران خان کے باپ دادا کی جاگیر ہے؟ کبھی پھوپھو مقتدر ہیں‘ کبھی بھائی‘ کبھی بیٹی کبھی بھتیجا! اور کیا اس ملک کی تاریخ میں عمران خان جیسا بُدھو حکمران آیا ہے؟ کسی غیر ملکی لیڈر سے بات نہیں کر سکتا!پرچی والی سرکار! پانچ برس ایوانِ صدر میں رہا۔ خودکش دھماکوں سے عوام لہولہان ہوئے۔ فوجی شہید ہوتے گئے۔ صدر صاحب کبھی کسی جنازے میں شریک ہوئے‘ نہ کبھی مورچوں کا دورہ کیا! ظلم کی انتہا یہ ہے کہ عمران خان ہر عید لندن جا کر مناتا رہا! جیسے آبائی گھر‘ پاکستان میں نہ ہو انگلستان میں ہو!! جناب نواز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد ہو گئی۔ انہیں معلوم تھا ایسا ہی ہو گا۔ اسی لئے انہوں نے انکار کیا تھا۔ مگر شیدائیوں نے ان کی طرف سے زبردستی درخواست دائر کر دی! عزیمت اور جدوجہد کی تیسری علامت مولانا صاحب ہیںْ ہر حکومت کی ڈٹ کر مخالفت کی! قیدو بند کی اذیتیں برداشت کیں۔ کسی بھائی کو ایم این اے یا سینیٹر بننے کی اجازت دی نہ بیٹے کو۔ اقتدار اور اقتدار کی مراعات سے کوسوں دور رہے۔ مصر کے پاس حسن البنا‘ سید قطب اور مرسی ہیں تو ہمارے پاس آصف زرداری‘ نواز شریف اور حضرت مولانا ہیں! اُس پروردگار کی سوگند جو دریائوں کو روانی بخشتا ہے۔ نیل اگر سربلند ہے تو راوی اور سندھ کے دریا بھی ہمارا سر فخر سے اونچا کر رہے ہیں!!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply