• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • یہ بدنصیب ہر غلط بات کا دفاع کیوں کررہے ہیں ؟۔۔۔سید عارف مصطفی

یہ بدنصیب ہر غلط بات کا دفاع کیوں کررہے ہیں ؟۔۔۔سید عارف مصطفی

حماقت غلطی کرنے سے نہیں اس پہ اصرار کرنے سے جنم لیتی ہے اور جو کوئی لوگ ایسی ہٹ دھرمی کا دفاع کرنے میں حاضر ہوجائیں تو انکےاس عمل کو منافقت ، خوشامد اور بدنصیبی کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا ، بدقسمتی سے عمران خان کی ہر ہر غلط بات اور عمل کا دفاع کرنے میں بیقرار لوگ یہی کچھ کرتے جارہے ہیں اور موصوف کی ہر غلط بیانی ، ہر قلابازی اور بیہودگی کا دفاع کرنے میں پہلے سے بھی بڑھ چڑھ کے سرگرم ہوجاتے ہیں ۔۔۔ گزشہ چند روز قبل عمران خان صاحب نے بجٹ کی رات 12 بجے کے لگ بھگ قوم سے جو خطاب فرمایا تھا تو اس میں موصوف نے غزوہء بدر کا حوالہ دیتے ہوئے نہایت گستاخی کرتے ہوئے چند صحابہ کو ڈر کے بھاگنے والا قرار دے ڈالا تھا جس پہ دیندار حلقوں میں بڑی لے دے ہوئی تھی حتیٰ کہ پاکستان ہی نہیں سارے عالم اسلام میں ایک نہایت معتبر و صائب الرائے سمجھے جانے والے ایک عالیمقام و نامور عالم دین مفتی تقی عثمانی صاحب نے بھی پریس کو جاری کردہ اپنے ایک واضح بیان میں عمران خان کی اس طرز گفتار کو بڑی بے ادبی قرار دیا تھا اور اس ضمن میں کچھ وضاحت بھی بیان کی تھی ۔۔۔

لیکن کج فہموں کا بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ بحراکاہل کے مقابل لیاری ندی کی شان بڑھاتے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے دلائل کے ڈونگوں سے اس کی حیثیت کو وسیع تر کردکھانے میں لگے رہتے ہیں ۔۔۔ عمران خان کی اس تقریر میں ہوئی گستاخیوں کی بابت بھی انکا رویہ ایسا ہی ہے کیونکہ اکثر نے جیسا کہ کؤیت میں بیٹھے ارشد نعیم چودہری نے انکے اس بیان کے دفاع میں ایک مبینہ نوجوان عالم انجینیئر محمد علی مرزا کے ایک ویڈیو کلپ کا سہارا لینے اور اسے سوشل میڈیا میں پھیلانے میں بڑی مستعدی دکھائی ہے ۔۔۔ گویا یہ حضرت جی مفتی تقی عثمانی سے کہیں زیادہ فہم دین اور شرعی بصیرت کے حامل ہیں اور جو بات مفتی صاحب بھی نہ سسمجھ سکے اسے ان محمد علی مرزا نے زیادہ بہتر طور پہ سمجھ لیا ہے اور یوں ساری عمر شریعت کے رموز کی آگہی میں صرف کردینے والے مفتی تقی عثمانی کی ساری دینی بصیرت کو محض ایک ایسے لاابالی سیاسی لیڈر کی چوکھٹ پہ قربان کردیا ہے کہ جسے نہ اپنے اعمال پہ قابو ہے اور نہ اظہار و گفتار پہ ۔۔ چند افراد البتہ ایسے بھی ہیں کہ جنہوں نے قرآن کی مختلف تفاسیر کے‌حوالے بھی دیئے ہیں لیکن ان میں یہ معاملہ اس طور دکھائی نہیں دیتا ۔۔۔ کیونکہ اکثر میں غزوہء بدر کے وقت دو گروہوں کے نامردی دکھانے کے معاملے کو اللہ کی طرف سے سنبھالنے کی بات بیان کی گئی ہے ۔۔ تاہم اس معاملے میں جبتک حقیقت کو پوری طرح جاننے کی سمجھنے کی کوشش نہ کی جائے تب تک متعلقہ آیت کا ترجمہ و تفسیرکی تفہیم بھی ممکن نہیں اور اس سے محض ‘ کاتا اور لے دوڑی ‘ جیسی صورتحال ہی سامنے آسکتی ہے

جو لوگ اس غزوے کے تاریخی حقائق سے واقف ہیں انہیں بخوبی معلوم ہے کہ اس غزوے کے وقت لڑائی کے لیئے بالکل بے سروسامانی کا عالم تھا لیکن جس قدر جوش اور جذبے سے یہ غزوہ لڑا گیا تھا اسکی مثال ملنی مشکل ہے اور دشمن کے کئی گنا بڑے لشکر کے 70 نامور جنگجوؤں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا کہ جس میں سالار لشکر ابوجہل بھی شامل تھا جبکہ شہید ہونے والے مسلمانوں کی تعداد محض 14 تھی ۔ دشمن کے ہلاک شدگان کی تعداد 70 سے بہت زیادہ ہوسکتی تھی جو اگر بہت سے حملہ آوروں نے ہتھیارڈال کے گفتار ہوجانے کو ترجیح نہ دی ہوتی ۔۔ اسی ضمن میں یہ بات بھی سمجھنے کے لیئے اہم ہے کہ اس لڑائی میں مدینے کا ہر صاحب ایمان شامل ہوا تھا لیکن ایک استثناء حضرت عثمان کو دیا گیا تھا کہ جنکی زوجہ حضرت رقیہ شدید علیل تھیں اوران دنوں بستر مرگ پہ تھیں ۔۔ یہ بات بھی سمجھنے کے لیئے اہم ہے کہ نبیء کریم معاملے میں مشاورت کو ترجیح دیا کرتے تھے اور اسی لیئے جب کسی اہم معاملے پہ صحابہ سے انکی رائے طلب کی جاتی تھیں تو معاملے کے مختلف پہلوؤں پرمختلف طرح کی آراء سامنے آنا عام فہم سی بات تھی ۔۔ اور ان سب پہ غور وخوص کرکے ہی نبی مکرم کسی حکمت عملی کو طے کرلیا کرتے تھے اسی طرح غزوہء بدر میں بھی ہوا اور اگر اس موقع پہ چند احاب نے جنگ کو ٹالنے کی رائے دی تو وہ معاذاللہ کسی بزدلی یا ڈر کے سبب ہرگز نہ تھی بلکہ وہ ایک نوزائیدہ و بے وسیلہ ریاست پہ بڑے لشکر کی چڑھائی کا خاطر خواہ جواب دینے کے لیئے زیادہ تیاری اور اسباب جنگ اکٹھا کرلینے کے خوایاں تھے ۔۔۔ تاہم جب وسیع مشاورت سے یہ طے پاگیا کہ حملہ آور کا بہر صورت مقابلہ کرنا ہے تو ان میں سے کوئی واپس نہ گیا اور لڑائی کو ٹالنے کا مشورہ دینے والوں نے بھی سرتسلیم خم کردیا اور لشکر اسلام کا حصہ بن کے غنیم سے بڑی بے جگری سے لڑے

اس غزوہ کے محض سال بھر کے بعد ہی لڑے جانے والے غزوہء احد میں بھی مسلمانوں کے جوش جذبے کا یہ عالم تھا کہ گو مدینہ سے لڑائی کے لیئے تقریباً ایک ہزار افراد احد کی جانب روانہ ہوئے تھے لیکن رستے میں ہی عبداللہ بین ابی اسلول نامی منافق جسے تاریخ میں سردار المنافقین بھی کہاجاتا ہے اور جو کہ اس وقت مدینہ میں بہت اثر و رسوخ کا حامل نامور فرد تھا ، کسی بے بنیاد اختلاف کی آڑ میں اپنے سات سو حامیوں کو لے کر لڑائی سے منحرف ہوکر واپس چلا گیا تھا یوں یہ وہ گروہ ہے جو قطعی بزدل تھا اور چونکہ منافقین پہ مشتمل تھا چنانچہ اسکو صحابہ میں شمار کرنا تو نہایت گھناؤنی بات اور بڑی گستاخی ہوگی ۔۔ اتنی واضح تاریخی حقیقتوں کے باوجود اگر کوئی بدقسمت ایسا ہے کہ جو اپنی ناسمجھی کی وجہ سے دوران مشاورت ایسی مصلحت پہ مبنی رائے کے اظہار کو صحابہ کے ڈرجانے سے تعبیر کرتا ہے تو یہ طرز گفتار ان عظیم ہستیوں کی نسبت بے ادبی و گستاخی نہیں تو اور کیا ہے اور مفتی تقی عثمانی و بیشمار علماء کی بھاری اکثریت اگر اسے گستاخی یا بے ادبی باور کرنے پہ مجبور ہے تو ہم کون ہوتے ہیں کہ جو انکی اس رائے کو صرف ایک رہنماء کی محبت میں یوں ہوا میں اڑادیں ۔۔۔

بلاشبہ ایسے خوشامدی لوگوں کو عمران خان کو یہ کہتے تو موت پڑتی ہے کہ وہ ان مقدس و عظیم ہستیوں کے بارے میں لب کشائی سے قبل سینکڑوں بار سوچیں اور احتیاط کو شعار بناتے ہوئے علمائے کرام سے بھی رائے لے لیا کریں تو آخر اس میں حرج ہی کیا ہے ۔۔ لیکن میرے مطابق جبتک وہ ایسا نہیں کرتے ، انہیں بار بار اسی طرح کی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہی رہے گا اورانکے حامیوں کو انکے دفاع کے لیئے مزید جھوٹ اور منافقت کا سہارا لینے پہ مجبور ہونا پڑے گا ۔۔۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ لوگ نہ بھولیں کہ اس حوالے سے نیلی چھتری والے کی پکڑ بڑی سخت اور شدید ہے اور وہ کسی دنیاوی رہنماء کے لیئے اپنی عاقبت کو یوں برباد نہ کریں ہرگز نہ کریں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *