نیلم ملک کی نیلی آنچ (دیباچہ) از جناب شہزاد نیر

عہد حاضر کے شعری منظر نامے پر اردو غزل اپنی بھرپور توانائی کے ساتھ نمایاں نظر آ رہی ہے۔ نو وارددانِ اقلیمِ سخن کی ایک بڑی تعداد غزل ہی کو تخلیقی اظہار کا ذریعہ بنا رہی ہے۔ اگر چہ جدید اردو غزل نظم گہری تخلیقی سنجیدگی کے ساتھ عہد کو ادب کرنے میں مصروف ہے اور نظم نگاروں کی ایک معقول تعداد کارِ سخن میں مشغول، پھر بھی نئے سخن نوازوں کا غالب رجحان غزل کی طرف ہے۔
نظم کے جدید تر لہجے کے مانند غزل کا لہجہ بھی تیزی کے ساتھ مختلف اور نیا ہوتا جا رہا ہے۔
پچھلی صدی کا غزلیہ ڈکشن خاطر خواہ تبدیلی سے گزر کر اکیسویں صدی میں داخل ہوا ہے۔
ممکن ہے پاکستان میں تخلیق ہونے والی اردو غزل کے لہجے اور لفظیات کی تبدیلی کے پیچھے خارجی عوامل (سیاسی، سماجی، اطلاعاتی) بھی کارفرما ہوں لیکن مجھے لگتا ہے اس میں غزل گو شعراء کی شعوری کوشش کو بھی عمل دخل ہے۔
یعنی شاعر اپنی غزل کو نیا کرنے کی باقاعدہ کوشش کر رہے ہیں۔ جدت پسندی کی یہ کوشش ظاہر ہے مستحسن ہے اور انہی کوششوں کے نتیجے میں غزل کے گونا گوں لہجے وجود میں آئے ہیں تاہم کہیں کہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کوشش محض اوپری سطح تک محدود ہے یعنی مواد، صورتحال، شعری پیکر، محاکات اور شعری فضا کو تبدیل کیے بغیر محض دو چار اجنبی اور غیر متوقع الفاظ کی مدد سے غزل کو نیا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔
ایسے میں بے جوڑ، بے ربط الفاظ کا استعمال بھی عام ہے۔ اب یوں ہے کہ تبدیلی دوسری سمت سے بھی آ سکتی ہے یعنی شعری مواد، مشاہدہ، معروضی حالات اور طرزِ احساس کی تبدیل شدہ صورت حال اگر اس تبدیلی کا اصل محرک بن جائے۔ مواد اگر طاقت ور ہو تو اپنا اسلوب ساتھ لے کر آتا ہے۔ نئے طرزِ احساس کی مطابعت میں آنے والا نیا ڈکشن اور نیا اسلوب غزل کو تغزّل سے محروم نہیں کرتا۔ اگر لفظی قلا بازیوں، لسانی شعبدہ گریوں اور بے ربط الفاظ کے انبار کی مدد سے غزل کو جدت آشنا کرنے کی کوشش کی جائے تو غزل تاثیرِ سخن سے ضرور محروم ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر یہی دیکھنے میں آرہا ہے کہ نئے تلازمے بنانے کے شوق میں شعر کے دو مصرعوں کا ارتباط ہی ختم ہو رہا ہے۔ کہیں کہیں نظم کی طرح غزل میں بھی آزاد ملازمے کی اصطلاح سنائی دے جاتی ہے مگر گلے سے اوپر اوپر کی بے جذبہ شاعری ہی نظر سے گزرتی ہے جو دل تک پہنچتی ہی نہیں۔
بعض صورتوں میں تو شعر مضحکہ خیز ہو جاتا ہے اور بزعمِ شاعر سنجیدہ شعر ہوتے ہوئے بھی قاری کو مزاحیہ لگتا ہے۔ کئی اشعار پڑھ کر قاری خود سے پوچھتا ہے “کیا یہ شعر ہے؟ یہ کیا شعر ہوا”۔ میرے خیال میں شعر کو سب سے پہلے تو شعر ہونا چاہیے۔ یعنی شعر اپنے آپ ہونے کا جواز ہو۔ اس میں خیال کی لَو، جذبے کی آنچ، فکر کی حدّت، تخیل کی چمک، احساس کی تابش ہو۔ شعر کسی شعری واردات کا زائدہ ہو نہ کہ لفظوں کی ورزش کا مظہر۔ مجھے کچھ یوں محسوس ہورہا ہے کہ اب تخلیقی تفکّر، شعر میں زیادہ بار نہیں پا رہا۔
ترقی پسندی اور جدیدیت کی پرانی بحثوں سے قطع نظر، شعر اگر کسی مربوط خیال کی ترسیل نہیں کرتا تو وہ لفظوں کا خالی چوکھٹا ہے۔ شعر تو وہ ہے جو مروج شعری وسائل کا خلاقانہ استعمال کر کے خیال کو نقش اور پیکر بنا دے۔ جتنی بار پڑھیں، اچھا لگے۔
ان دنوں ایسی شاعری بھی پڑھنے کو مل رہی ہے جسے میں “ڈسپوزیبل شاعری” کہتا ہوں۔ ایک بار پڑھو اور ٹشو پیپر کی طرح ناکارہ۔ ایسی شاعری سوشل میڈیا پر ٹنوں کے حساب سے دستیاب ہے۔
کچھ شعروں میں تو صرف ایک آدھ انوکھا لفظ استعمال کر کے جدت پیدا کی گئی ہوتی ہے چاہے بات کچھ بھی نہ ہو اور شعر نہ بھی بنا ہو۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ من جملہ دیگر وظائف، شاعری کا وظیفہ یہ بھی ہے کہ وہ زبان کو نکھارتی، سجاتی، سنوارتی ہے اور اس کے لیے شاعر زبان پر تفکر بھی کرتا ہے لیکن محض زبان پر کچا پکا تفکر ہی شعری تفکر نہیں ہے۔ شاعر کا تخلیقی تفکر تاریخ، سماجیات، ثقافت، دانش، حالات حاضرہ اور روایت سب کو محیط کرتا ہے۔
اس کے بعد اگر وہ شعری مواد کی داخلی طاقت کے سبب زبان کو نیا کرتا ہے تو وہ بالکل قدرتی انداز میں نئی ہو گی اور وسعت پائے گی۔ ایجاز غزل کا اعجاز ہے۔ دریافت غزل کا حسن ہے۔ تخلیقیت غزل کی جان ہے۔
ہمیں تو ایسے شعراء بھی نظر آرہے ہیں جو تصوف ایسے ہزار پہلو موضوع کو بھی سطحی اور اکہرا بنا کر پیش کر رہے ہیں۔
تمہید کچھ لمبی ہو گئی لیکن یہ تمہید اس لیے بھی ضروری تھی کہ نیلم ملک کی غزل پڑھتے ہوئے موجودہ غزلیہ منظر نامے کا ایک حصہ قاری کے پیشِ نظر رہے اور دوسرا حصہ وہ ہے جس میں معیاری، نفیس، گہری، تازہ اور پرتاثیر غزل پوری یکسوئی اور تخلیقی انہماک کے ساتھ کہی جا رہی ہے۔ حسین مجروح، اکبر معصوم، عباس تابش، شاہین عباس، اختر عثمان، سعود عثمانی، لیاقت علی عاصم، عرفان ستار، جلیل عالی، شناور اسحاق، رحمان حفیظ، شاہد ماکلی، ذوالفقار عادل، صباحت عاصم واسطی ایسے ہی غزل نگاروں میں شامل ہیں۔ ظاہر ہے یہ فہرست نامکمل ہے لیکن سنجیدہ عصری غزل کا ایک اشاریہ ضرور فراہم کرتی ہے۔
میں اسے نیلم ملک کی خوش بختی ہی کہوں گا کہ وزن کی ریاضت کے دوران میں اس نے متوازن اور معتدل راہ اختیار کی۔ مجھے لگتا ہے کہ اس کی سمت بھی درست ہے یعنی اس روایت سے تغزل اور عصرِ حاضر سے جدت لے کر شعر کہنا۔
اس نے اپنی ذات کے بطون سے ابھرنے والی شاعری پر بھروسہ کیا۔ چہار جانب گونجنے والی بھانت بھانت کی آوازوں میں رہ کر بھی اس کے کان اپنے وطن کی صدا پر لگے رہے۔ خارجی سطح پر بھی وہ احساس کی ندرت سے جدت کا سامان کرتی ہے۔

صحراؤں کی ریت سی تپتی پوریں اس صحرائی کی
اس کے چھو جانے سے نازک پھول کا زر کھل جاتا ہے
۔۔۔۔
سوکھے جھیل تو ایک مکان بنانا ہے
پربت ہٹے تو اک دروازہ کھولوں میں
۔۔۔

tripako tours pakistan

نیلم ملک کی شاعری میں جابجا نسائی طرزِ احساس کے نشانات ملتے ہیں۔ بطور ایک طرزِ فکر، نسائیت اور نسوانیت مسلسل اپنی اہمیت منواتے چلے جاتے ہیں۔
رجالی بیانیوں کی یلغار کے باوجود نسائی نکتہ نظر کی اہمیت سے انکار ناممکن ہو چکا ہے۔ شاعری میں نسائیت کی ایک سمجھی اہمیت بھی ہے۔ نیلم ملک نے توانا شیریں اظہار کے ذریعے اپنے نسائی اور نسوانی زاویے کا اثبات کیا ہے۔

چشمِ تر لے کے اگر گھر سے نکل جاؤں میں
سب بدل جائے جو منظر سے نکل جاؤں میں
۔۔۔
میرا کمرا مثالِ دشتِ وحشت
جہاں رم خوردہ ہِرنی کھو گئی ہے
۔۔۔
مجھ پہ سایا نہ ڈالیے اپنا
مجھ کو رہنا ہے سائباں سے پرے
۔۔۔
باہر سے جب کھولتے ہیں تو کھلتا ہے بس دروازہ
اندر سے کھل جائے اگر تو سارا گھر کھل جاتا ہے

۔۔۔۔۔۔

اکیسویں صدی سوالات کی صدی ہے م۔ پچھلی کئی صدیوں کے سوالات اس صدی میں جمع ہو گئے ہیں۔ کچھ اس صدی کے اپنے بھی ہیں۔ جوابات سے بےنیاز سوالات۔ بعض سوالات اپنی ذات میں اتنے مکمل، خود مکتفی اور مہتمم بالشان ہوتے ہیں کہ انہیں جوابات کی حاجت ہی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات جواب دینے سے سوال کی شان گھٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ سبزہ و گل کہاں سے آتے ہیں؟ ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے؟ ایک سوال اسٹیفن ہاکنگ نے اپنی کتاب “وقت کی مختصر تاریخ” میں بھی اٹھایا ہے۔ کیا خدا ایک ایسا پتھر بنانے پر قادر ہے جسے وہ خود بھی نہ اٹھا سکے؟ جراتِ اظہار کسی شاعر کا بڑا اثاثہ ہوتی ہے۔
نیلم ملک نے اپنے کئی شعروں میں جراتِ فکر و اظہار سے کام لیا ہے۔
آپ میں سے کچھ احباب نے کیرن آرم سٹرانگ کی کتاب “History of God” پڑھی ہو گی بھی جس کا برا بھلا ترجمہ “خدا کی تاریخ” کے عنوان سے ہوا ہے۔ اب یہ شعر پڑھیے

مجھ کو محسوس ہونے لگا ہے خدا پہلے جیسا نہیں
یہ نہیں میرے کہنے کا مطلب ہے کہ جیسا ہے اچھا نہیں
۔۔۔

نیلم ملک کے ہاں پُر تفکر سوالات بھی ہیں اور بےباک بیانیے بھی۔ اس کے بعض اشعار میں ہنر مندی سے گہری فکر کو شاعری میں سمویا گیا ہے۔

سوچ کی ڈور سلجھی بھی کیا
اس کا اگلا سِرا ہی نہیں
۔۔۔
اپنے اندر کے کسی خوف میں جکڑے ہوئے لوگ
دوسروں کو بھی بغاوت نہیں کرنے دیتے
۔۔۔
چپ رہنے میں ہے نادانی بول پڑیں
وقت نے اور ہم نے اب ٹھانی بول پڑیں
۔۔۔
کھل گیا رات کا در، ذات کا باقی ہے ابھی
کچھ سفر اور بھی ظلمات کا باقی ہے

۔۔۔

نیلم ملک کے کئی اشعار خوئے ناراض کے مالک ہیں۔
ایسے اشعار میں لہجے کی تلخی سی پائی جاتی ہے۔
یہ نالاں لہجہ اس کی غزل کا قابلِ ذکر پہلو بن کر سامنے آیا ہے۔ جون ایلیا کا ناراض Nihilism اس عہد کو مرغوب ہوا ہے۔ ایسے اشعار نیلم ملک کی نیلی آنچ ہیں۔
نیلی آنچ جو پیلی آنچ سے زیادہ حرارت رکھتی ہے۔ نیلی آنچ جو دیکھنے میں خوبصورت لیکن جلانے کھولانے اور ابالنے میں زیادہ سرگرم ہوتی ہے۔ نیلم کی شاعری میں نیلی آج کی تپش جابجا محسوس ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے اس نے زندگی کو چشمِ نالاں سے دیکھا ہے۔

ذرّہ ذرّہ بکھر کر بھی آخر تجھے ختم ہونا تو ہے
کیوں نہ یک دم ہوا میں اڑاؤں تجھے مختصر زندگی
۔۔۔
ہم تو چلتے رہے رہگزر کی طرح
سنگِ رہ کی طرح زندگی تھم گئی
۔۔۔
جو چاہیں سو بولیں میرے بارے میں
آپ نے ہے بے پر کی اڑانی! بول پڑیں
۔۔۔
طلب اپنی بس اک ذرّہ ہے لیکن
وہ ذرّہ دشت میں کھویا ہوا ہے

نیلم کے ہاں غزل گوئی کا اچھا قرینہ سامنے آیا ہے۔ اس نے بہت سی نادر اور اچھوتی ردیفیں استعمال کی ہیں۔ تازگی اور تاثیر کا بیک وقت اہتمام کرنا اس کی غزل کا اہم وصف ہے۔
اس کے مضامین اس کے احساس کی دین ہیں۔ اس نے غزل کی خاطر خواہ ریاضت کی ہے۔ فنی امور میں اچھی خاصی دستگاہ پیدا کی۔ اس نے اپنی تفہیم پر بھروسہ رکھا اور ہمہ سیکھنے پر کمر بستہ رہی۔ اس کے ہر مصرعے میں وہ خود موجود ہے۔ یہ اخلاصِ فن بڑی بات ہے۔ نثر میں ہی اس نے قابل توجہ کام کیا ہے جو سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر نظر آتا رہتا ہے۔ اخبارات و رسائل میں بھی اس کی تخلیقات شائع ہوتی رہتی ہیں۔
“نیلی آنچ” اس کی پہلی کتاب ہے۔ کسی بھی شاعر کی پہلی کتاب اس کے آگے کے سفر کا تعین کرتی ہے۔ اس نے پہلا قدم مضبوطی سے جما لیا ہے۔ لگن، ریاضت، مطالعے اور مشاہدے کے بل پر دور تک جائے گی۔

ہم آسماں کے سفر پر رات بھر دونوں
ہوئی سحر تو ملے اپنے اپنے گھر دونوں
۔۔۔
ایک سائل کو ضرورت ہے مرے دل کی مگر
ہائے گھر والے سخاوت نہیں کرنے دیتے
۔۔۔
ہم مقابل نہ آ سکے خود کے
تیرے پیچھے چھپا لیا خود کو
۔۔۔
ولعصر زمانہ مرے مطلب کا نہیں ہے
یہ آئینہ خانہ مرے مطلب کا نہیں ہے

سنجیدہ ادب میراتھن ریس کی طرح ہوتا ہے۔ لمبے سانس اور چھوٹے قدم کی دوڑ۔ سو میٹر کی دوڑ دوڑنے والے بعد میں کہیں نظر نہیں آتے۔
نیلم ملک نے خود کو اس سے جلد بازی سے محفوظ رکھا ہے جو ہمیں اس عہد میں نظر آتی ہے۔ وہ یونہی استقامت سے چلتی رہی تو کئی سنگِ میل عبور کر لے گی۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *