تم اک گورکھ دھندہ ہو

ایک چارپائی، چارپائی کے متوازی رکھا سال خوردہ ٹانگوں والا ٹیبل اس ٹیبل پر بکھرے ہوئے کاغذات اور کچھ دوایئاں ٹیبل کے کونے پر نہایت احترام سے رکھی گئی اماں جی کی تصویر،جن شفیق آنکھوں میں ان کے لیے محبت نظر آتی ہے ۔ ایک کونے میں سٹول پر رکھا ایک چھوٹا سا کول ان کی غربت سے بھی پرانا ایک پیڈسٹل فین ، ایک اگالدان اور کمرے کے ایک کونے میں ہر چیز سے بلندی پر آویزاں احسان دانش مرحوم کی تصویر ،یہ ہے کل کائنات اس درویش کی ،یہ ہے کٹیا اس گم نام فقیر کی جس نے " تم اک گورکھ دھندہ ہو " جیسی شہرہ آفاق قوالی تخلیق کر کے علم و عرفان کے بند دروازوں کوکھولنے کی کوشش کی ۔۔ یہ مرقد ہے اس تخلیق کار کی حسرتوں کا جس کے تخلیق کردہ کلام کو گا کر لوگوں نے داد بھی سمیٹی اور دولت بھی، لیکن اس کا اپنا دامن ان دونوں نعمتوں سے تہی رہا۔
اس کا کلام ہر خاص و عام تک پہنچا لیکن کسی کا دست شفقت ،، سوائے عطاء الحق قاسمی کے،اس تک نہ پہنچ سکا۔ یہ کتھا ہے ایک کھنڈر نما گھر میں رہنے والے ایک پر شکوہ انسان کی ۔ اپنوں اور بے گانوں کی بے اعتنائی کے بوجھ تلے دبی دبی سسکیاں لیتا یہ شخص جب محفلوں میں جلوہ گر ہوتا تو لوگوں میں قہقے اور خوشیاں بانٹتا۔
پوچھتے کیا ہو دنیا ہم درویشوں کی
ایک ہے کمبل، ایک پیالہ ، ایک دیا
دل کے ہوتے ناز نہیں ہے کوئی کمی
یار خدا نے لاکھوں جیسا ایک دیا
جی ہاں وہ شخص جب اپنے گاوں سے نکلا تو محمد صدیق تھا ۔ احسان دانش کی گوہر شناس نگاہوں میں جچا تو ناز خیالوی ہوا اور اہل بیت کی غلامی کا خرقہ پہن کر ناز قلندر صابری ہو گیا۔ان کا اصل نام محمد صدیق تھا اور وہ اپنے ماں باپ کی آخری اولاد تھے اور ماں کے بہت زیادہ لاڈلے تھے ۔ باپ کی وفات کے بعد بڑےبھائی ان کے رحجانات کے موافق نہ ہو سکے اور اسی وجہ سے ان کو گھر بدر ہونا پڑا۔ پھر کیا تھا کبھی اس نگر کبھی اس نگر ، کبھی اس گلی کبھی اس گلی۔ اور یوں ناز صاحب کا بچپن ہی حوادث زمانہ کی نذر ہو گیا۔
آوارہ ہی دیکھا ہے تجھے شام سویرے 
اے ناز کہیں تیرا بھی گھر ہے کہ نہیں ہے 
 اسی کی دہائی میں وہ لاہور آ گئے جہاں پر احسان دانش رحمتہ اللہ علیہ کے دامن میں پناہ گیر ہوے اور انہیں کے سامنے شاعری میں زانوے تلمذ طے کیا۔پھر ناز صاحب کے افکار نکھرتے چلے گئے اور یہ فنکار اپنے اندر کی تلخی کو کاغذ پر منتقل کرنے لگا۔ چند سال لاہور میں قیام کے بعد اپنے آبائی شہر تاندلیانوالہ لوٹ آئے۔ اسی دوران انہیں ریڈیو پاکستان فیصل آباد پر ایک  پروگرام " ساندل دھرتی " کے نام سے پیش کرنے کا موقع ملا اور پھر راتوں کی تنہایوں میں اپنی ذات کی گھٹن کا شکار فنکار لوگوں میں ریڈیو کے ذریعے مسکراہٹیں بکھیرنے لگا۔ 
نصرت فتح علی خان سے ملاقات ہوئی تو نصرت نے ایک قوالی لکھنے کو کہا ،اور قوالی لکھنے کے دوران ان کے نان و نفقہ کا ذمہ اٹھایا۔ یوں یہ فنکار اپنے اردگرد پھیلے ماحول اور اپنے اندر کی جستجو کو لہو کا تڑکا لگا کر شعروں میں منتقل کرنے لگا اور کچھ عرصے کے بعد جب قوالی نصرت فتح علی خان کے حوالے کی تو نصرت مرحوم نے" کمال ظرف اور سخاوت "کا مظاہرہ کرتے ہوئےپانچ ہزار روپے اس فنکار کے حوالے کیے ان روپوں کو اس فنکار نے اس لیے قبول کر لیا کہ چلو چند دن کی بھوک تو مٹے گی ۔ اس کے بعد نصرت نے تو جو کمایا آپ کے سامنے ہے لیکن ناز خیالوی گمنامی کے اندھیروں اور غربت کی دلدل سے نہ نکل سکے اور اپنے آخری ایام میں جب بیماری کی حالت میں ریڈیو نے بھی کام سے فارغ کر دیا تو کسمپرسی کا وہ دور شروع ہوا جس کا کوئی آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ یوں یہ فنکار اپنوں ، بیگانوں ، فن شناس بہروں اور خود غرض ادیبوں کی بے مہری کا داغ لیے دنیا سے رخصت ہو گیا

فنکار کو مارا گیا بے دردی سے پہلے 
پھر کتنی عقیدت سے منای گئی برسی
ناز خیالوی کی شاعری
ناز خیالوی کی شاعری پر تبصرہ پیش کرتے ہوے مجھے اپنی علمی اور قلمی کم مایئگی کا اعتراف ہے ناز خیالوی کی شاعری کی انگلی پکڑ کر میں نے الفاظ و معانی کی دھرتی پر چلنا سیکھا ہے تو میں ان کی شاعری پر کیا تبصرہ پیش کروں گا۔یہ تو آنے والے وقتوں کا قاری اور نقاد ہی فیصلہ کرے گا کہ ناز خیالوی کی شاعری اردو ادب میں کس مقام پر جلوہ گر ہے ۔ ناز خیالوی کی شاعری کو جہاں تک میں نے پڑھا ہے اور سمجھ پایا ہوں تو میں انہیں تشبہیہ کا شاعر کہنے میں اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتا ہو۔نت نئی تشبیہات اور استعارے ان کی شاعری کا جزو لا ینفک ہیں ۔ دم توڑ چکی انسانی قدروں پر ناز خیالوی کا یہ شعر پیش کرتا ہوں
آدمیت کی لاش پر تنہا
میں ہوں برسوں سے نوحہ گر تنہا
خود نمائی کی وہ وباء پھیلی
پھر رہا ہے بشر بشر تنہا
ایک اور شعر
شہر کے ماحول میں بھی سانپ سو قسموں کے ہیں جوگیو۔
پھیرا ادھر بھی ایک ویرانے کے بعد
اگر ذکر ہو قدرت کی رعنایئوں کا تو ناز صاحب قدرت کی ان رعنائیوں کو اپنے تشبیہات سے مرصع شہر میں یوں پیش کرتے ہیں
پھیل جاتے ہیں بسنتی سے اجالے کھیت میں
چیت میں جب راگنی گاتے ہیں سرسوں کے چراغ اسی غزل کےایک شعر میں پھولوں کے لیے ایک اچھوتی تشبیہہ کا انتخاب دیکھیے
موسم گل کی اتاری جا رہی تھی آرتی
ٹہنی ٹہنی نے اٹھا رکھے تھے پھولوں کے چراغ
پاوں میں چھالوں کا ذکر اردو شاعری کی ہر صنف میں ملتا ہے لیکں ناز صاحب چھالوں کو میٹا فزیکلی اس طرح پیش کرتے ہیں
جو چھین کے کھائےتھے نوالے نکل آئے
غاصب کی ہر اک سانس پہ چھالے نکل آئے
یعنی پاوں میں چھالوں سے حرکت انسانی بہت مشکل ہو جاتی ہے اور غاصب پر اللہ کے عتاب کے نازل ہونے پر سانس رکنے کی کیفیت کو اس سے خوبصورت انداز میں کیا بیان کیا جائے۔
کربلا اور شہداء کربلا سے ناز صاحب کو ایک عقیدت اور نسبت تھی ۔ اپنے ایک شعر میں تلمیح اور اور کنایے کا نہایت دلگداز انداز ملاحظہ کیجیے
نقیب حق کا ہوں میں عصر نو کے کوفے میں
یزید وقت کا لشکر میری تلاش میں ہے
فطری مناظر کے موتیوں کو اشعار کی مالا میں پرونے کا استادانہ انداز ملاحظہ ہو
برف کہسار کی چوٹی سے ہےیوں لپٹی ہوئی
جیسے مٹیار جڑی بیٹھی ہو مٹیار کے ساتھ
الغرض میرا یہ دعویٰ بے جا نہ ہو گا کہ ان کے ہر شعر میں ایک تشبیہہ یا ایک استعارہ موجودہے ان کے بارے اظہار خیال کرتے ہوئے میں جتنا بھی لکھتا جاوں میرے مضمون کی ایک ایک سطر مجھے پکارے گی کہ ۔۔ شاہد خیالوی ۔۔ ابھی تشنگی باقی ہے

Avatar
شاہد خیالوی
شاہد خیالوی ایک ادبی گھرا نے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ معروف شاعر اورتم اک گورکھ دھندہ ہو قوالی کے خالق ناز خیالوی سے خون کا بھی رشتہ ہے اور قلم کا بھی۔ انسان اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اور خالق کا شاہکار ہے لہذا اسے ہر مخلوق سے زیادہ اہمیت دی جائے اس پیغام کو لوگوں تک پہنچا لیا تو قلم کوآسودگی نصیب ہو گی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *