اج آکھاں وارث شاہ نوں۔۔۔۔۔احمد رضوان

امرتا پریتم نے یہ شہرہ آفاق نظم تقسیم پاک و ہند کے تناظر میں اس اندوہناک قتلِ عام کے بارے لکھی تھی جب انسان وحشی بن گیا تھا، خون پانی سے بھی سستا ہوگیا تھا اور پنجاب کی اس دھی کا دل لہو ہو گیا تھا، اپنے جیسی دوسری ہزاروں عورتوں پر ٹوٹنے والے مظالم دیکھ کر اور اس نے روتے کرلاتے وارث شاہ کو آواز دی تھی۔ میں سوچ رہا ہوں آج میں کس کو آواز دوں ؟ امرتا پریتم کو یا گلزار صاحب کو یا ستیہ پال آنند کو کہ اپنی ماں بولی کا جنازہ اس دھرتی سے اٹھا کر لے جاؤ اپنے ساتھ،  ہمیں اب اس کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ایک بار تو قبروں میں بابا فرید ، بلہے شاہ اور وارث شاہ کی روحیں تڑپی تو ضرور ہوں گی اپنی ماں بولی کے ساتھ یہ سلوک دیکھ کر کہ یہ دن بھی آنے تھے جب اس دھرتی پر رہنے والےکچھ کاٹھے انگریز اسے فاؤل زبان کہہ کر مخاطب کریں گے اور اسے بولنے میں شرم محسوس کریں گے ۔

پنجابی زبان اپنے مختلف لہجوں اور الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ اس وقت برصغیر میں بولی جانے والی بڑی زبانو ں میں سے ایک ہے ۔یہ اس زبان کی عظمت کا ثبوت ہے کہ ہر چند کلومیٹر کے فاصلے پر آپ کو ایک مختلف لہجہ اور الفاظ ملیں گے ۔چنیوٹ کا فیصل آباد سے صرف ۲۵ کلومیٹر کا فاصلہ ہے مگر دونوں جگہ پر دو مختلف لہجوں کی پنجابی بولی جاتی ہے ۔اسی طرح کابلی ،ہندکو، پوٹھوہاری، ماجھے ،مالوے ،ملتانی ،ریاستی اور بے شمار دوسرے لہجے اس خطے میں صدیوں سے رائج ہیں اور رابطے کا ایک اہم ذریعہ رہے ہیں اگر چہ باہر سے حملہ آوروں نے فارسی، انگریزی زبان تھوپنے کی پوری کوشش کی مگرکوئی خاص کامیابی حاصل نہ کرسکے اور عام بول چال کی زبان پنجابی ہی رہی۔

بچپن کا ایک واقعہ یاد آگیا ،سرکاری مڈل سکول میں آٹھویں جماعت کا طالبعلم تھا جب اردو کے ایک نئے استاد جھنگ سے تبادلہ ہوکر آئے اور اپنے جانگلی لہجے میں ہمیں اردو پڑھانے پر معمور ہوئے ۔ہاتھ میں مولا بخش اور قد کاٹھ کی وجہ سے سب ان کو دیکھ کر کنی کترا جاتے ۔ایک دن میری قسمت خراب ایک مضمون لکھنے کے لئے دیا انہوں نے جس میں،میں نےغلطی سے لفظ کڑوا کو کوڑا لکھ دیا تو پیشانی پر بل پڑگئے اور مرغا بننے کا نادر شاہی حکم صادر ہوگیااور ساتھ ہی یہ طعنہ بھی سننے کو ملا کہ پتہ نہیں پنجابیوں کو اردو کب لکھنی اور پڑھنی آئے گی ؟ بڑی شرم محسوس ہوئی کہ کلاس میں پڑھاکو سمجھے جاتے تھے اور ہماری ہی اردو پر گرفت نہیں ،اس کا بدلہ یوں لیا کہ لائبریری میں موجود کوئی قابل ذکر کتاب ہماری دسترس سے محفوظ نہ رہی۔ مگر اب یاد آتا ہے کہ کوئی کتاب بھی پنجابی زبان میں نہیں تھی سوائے ہیر وارث شاہ کے جو تب پلے نہیں پڑتی تھی۔ گھر پر البتہ اللہ کا خاص کرم رہا کہ کوئی بھی اس کمپلکس کا مارا نہیں تھا کہ پنجابی پینڈو بولتے ہیں۔ والد اور والدہ کے ساتھ ساری زندگی رابطے کی زبان پنجابی ہی رہی اور ہے الحمد للہ اور اس ماں بولی سے رشتہ استوار ہی رہا۔

ایک دہائی سے کچھ اوپر ہوگیا کینیڈا کو اپنا دوسرا گھر بنائے ہوئے مگر اپنی دھرتی ماں اور اس پر بولی جانے والی زبان سے ہر وقت جڑے رہنے کی سعی کرنا دریا کے بہاؤ کے مخالف سمت تیرنے کے مترادف ہے مگر ہم نے بھی ٹراؤٹ مچھلی کی طرح قسم کھا رکھی ہے کہ سیدھے رخ تو سب ہی تیر لیتے ہیں مزا تو الٹ سمت میں تیرنے کا ہے ۔

پردیس میں رہتے ہوئے جو سب سے بڑا امتحان ہے وہ آپ کی اولاد ہے جس کو ہر وقت اپنے دین اور اپنی دھرتی سے جوڑے رکھنا آپ کے اوپر فرض بھی ہے اور قرض بھی ۔میرے گھر میں انگلش بولنے پر سختی سے پابندی عائد ہے ،ہم بچوں کے ساتھ صرف اردو میں بات کرتے ہیں یہی وجہ ہے میرے تینوں بچے ماشاء اللہ پوری روانی سے اردو بولتے ہیں، گرچہ میرا دل اگلے مرحلے میں پنجابی بولنے تک جانے کا ہے ۔میری چھ سالہ بیٹی ایک دن تھکی ماندی سکول سے واپس آئی تو ہاتھ کھڑا کرکے سوال پوچھنے کی اجازت مانگی ،میری ہاں پر بولی بابا میں کتنی زبانیں اور سیکھوں گی ؟ کیوں کیا ہوا میں نے پوچھا ۔کہنے لگی گھر میں ہم اردو بولتے ہیں ،سکول میں مس انگریزی میں پڑھاتی ہیں اب ایک نئی ٹیچر فرنچ پڑھائیں گی ،حافظ صاحب سے میں عربی قاعدہ پڑھتی ہوں ۔اس کے اس معصوم سوال نے میرا دل دہلا دیا ،اسے مطمئن کرنے کے لئے کہا بیٹا زبانیں آپ جتنی زیادہ سیکھیں گی اتنا آپ دنیا میں گھوم پھر کر ہر جگہ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے بات کرسکو گی اور جہاں چاہو رہ سکو گی ۔میرے جواب سے مطمئن تو نہ ہوئی مگر خاموش ہوگئی اور میں دل میں سوچ رہا تھا ابھی تو اسے پنجابی بھی سکھانی ہے ۔

کینیڈین گورنمنٹ ہر سال دنیا سے آئے لاکھوں امیگرنٹس کو خوش آمدید کہتی ہے۔ یہ ملک صحیح معنوں میں امیگرینٹس کا ملک ہے ،ہر زبان ،نسل ،رنگ ،مذہب کے لوگ یہاں عشروں سے آباد ہیں اور حکومت گارنٹی کرتی ہے آپ کو اپنی ثقافتی، تہذیبی،لسانی اور مادری زبان میں ہر ممکن مدد فراہم کرے۔لوگوں کی آسانی کے لئے ان کی مادری زبان میں معلوماتی کتابچے اور پمفلٹ سرکاری سطح پر شائع کئے جاتے ہیں اور آپ کے بیک گراؤنڈ کی نسبت سے فنڈز جاری کئے جاتے ہیں۔ ،نئے نئے آئے تو ہم نے بھی فارم میں ماں بولی کے خانہ میں پنجابی لکھ دینا ،بہت بعد میں جا کر پتہ چلا یہاں پنجابی سے مراد انڈین پنجابی یعنی گورمکھی لی جاتی ہے اس کے بعد ہم نے فارمز پر اردو لکھنا شروع کردیا اور اردو زبان بھی ہر پمفلٹ پر نظر آنے لگی دیگر زبانوں کے ساتھ ۔میں جس علاقے میں رہائش پذیر ہوں وہاں ساؤتھ ایشیا سے آنے والے لوگ کافی بڑی تعداد میں آباد ہیں اگرچہ مشرقی پنجاب سے آئے لوگ کافی زیادہ ہیں مگر پاکستانی بھی کافی ہیں ،ایک فرق جو دونوں ملکوں سے آئے لوگوں کے درمیان محسوس کیا وہ اپنی زبان اور کلچر کا فخریہ اظہار ہے۔ ہمارے لوگ شرمندہ شرمندہ پاکستانی لباس میں باہر جانا پسند کریں گے مگر انڈینز فخریہ اپنے تہواروں اور میلوں میں روایتی لباس میں گھومتے نظر آئیں گے ۔جب کبھی میں اپنے مشرقی پنجاب سے تعلق رکھنے والے کولیگز یا دوستوں کے ساتھ پنجابی بولتا ہوں تو ایک فقرہ ضرور سننے کو ملتا ہے بھاجی تسی پنجابی بڑی کینٹھ بولدے او ۔ مجھے ان کا لہجا منفرد لگتا ہے انھیں ہمارا ۔

اور یہ کوڑا سچ بھی سنتے جائیے کہ پنجابی زبان کی جتنی خدمت مشرقی پنجاب میں رہنے اور تعلق رکھنے والے کر رہے ہیں اس کا عشر عشیر بھی اگرمغربی پنجاب میں رہنے والے کر لیتے تو آج ہم سب کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ۔ بابا فرید ،سلطان باہو ،وارث شاہ، بلہے شاہ ،میاں محمد بخش ،شاہ حسین کا سارا کلام شاہ مکھی اور گورمکھی میں تحریری دستیاب ہے اور لوگ اس انمول کلام کو پڑھ کر پنجابی زبان کے گن گا رہے ہیں اور جس جگہ کی یہ زبان ہے وہاں سے اسے دیس نکالا دیا جا رہا ہے ۔قصوروار ہم سب ہیں ،کاٹھے انگریز بننے کے شوقین جو یہ نہیں جانتے جڑوں کے بغیر منی پلانٹ کسی شیشے کے مرتبان میں کسی حد تک تو پھیل پھول سکتا ہے مگر تناور درخت بننے کے لئے زمین کے اندر اپنی جڑیں گاڑ کر رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے ۔

 چل بلہیا چل اوتھے چلیے، جتھے سارے انّے نہ کوئی ساڈی ذات پچھانے، نہ کوئی سانوں منّے.

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”اج آکھاں وارث شاہ نوں۔۔۔۔۔احمد رضوان

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *