لیاقت علی خاں اور آئین سازی کا عمل۔۔۔داؤد ظفر ندیم/قسط6

جناب لیاقت علی خاں آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ تھے۔ وہ اس وقت مسلم برصغیر کی سیاست میں مشہور ہوئے جب لیاقت علی خاں نومبر 1936ءمیں آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے اور ایک مختصر مدت کے سوا قیام پاکستان تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اس کے بعد 1940ءمیں انہیں مرکزی اسمبلی میں مسلم لیگ پارٹی کاڈپٹی لیڈر چن لیا گیا۔ محمد علی جناح لیگ گروپ کے لیڈر تھے جبکہ 1940ءکے بعد‘ اپنی بے پناہ مصروفیت کی وجہ سے وہ اسمبلی کے اجلاس میں کم شرکت کرتے تھے۔ اس لئے عملی طور پر لیاقت ہی اپنے گروپ کے قائد تھے۔

قیام پاکستان سے پہلے لیاقت علی خاں نے دو اہم کاموں میں حصہ لیا، جنوری 1945ءکے آخر میں ہندوستان کے تقریباً ایک مہینے کے دورے کے بعد قائداعظم علیل ہوگئے اور ڈاکٹروں نے انہیں سختی سے ہدایت کی کہ وہ آرام کریں۔ ان ہی دنوں مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری اور مرکزی اسمبلی میں پارٹی کے ڈپٹی لیڈر لیاقت علی خاں اور مرکزی اسمبلی کانگریس پارٹی کے لیڈر بھولا بھائی ڈیسائی میں ہندوستان کی سیاسی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ جس میں دونوں حضرات اس نتیجے پر پہنچے کہ  متحدہ ہندوستان میں مرکزی عبوری حکومت بنے جس میں کانگریس اور مسلم لیگ میں سے ہر ایک کو 40 فیصد نمائندگی ملے۔ بقایا 20 فیصدی سیٹیں سکھوں اور اچھوتوں کو ملیں۔ کمانڈر انچیف بھی حکومت میں شامل ہو۔ یہ متحدہ ہندوستان کی ایک اہم کوشش تھی مگر اس کوشش کو کانگریس نے مسترد کردیا جس کے بعد مسلم لیگ نے بھی ان تجاویز کو مسترد کر دیا۔

فوجی مداخلت اور قائداعظم۔۔۔۔۔داؤد ظفر ندیم/قسط5۔حصہ چہارم

  قیام پاکستان سے پہلے لیاقت علی خاں کا دوسرا اہم کام ان کا بجٹ تھا۔
26 اکتوبر 1946ءکو مسلم لیگ کے نامزد کردہ پانچ ارکان نے ہندوستان کی عبوری حکومت کے لئے حلف اٹھایا تو لیاقت علی خاں فنانس ممبر مقرر ہوئے۔ 28 فروری 1947ءکو عبوری حکومت نے فنانس ممبر لیاقت علی خاں نے چودھری محمد علی کے صلاح و مشورہ سے اپریل 1947ءتک کے مالی سال کے لئے بھار ی ٹیکس کا بجٹ پیش کیا جو ”غریب آدمی کا بجٹ“ کے نام سے معروف ہے۔ اس میں نمک ٹیکس کے خاتمے سے خسارے کو پورا کرنے کے لئے ایک لاکھ سے زائد کاروباری سالانہ آمدنی پر پچیس فیصد کے حساب سے انکم ٹیکس عائد کیا گیا ،اور ٹیکسوں کی ادائیگی سے گریز کرنے والوں کےلئے ایک بااختیار ٹربیونل تجویز کیا گیا۔ اس سے ہندو صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کو بڑی پریشانی ہوئی۔
12 اگست 1947ءکو لیاقت علی خاں کی تجویز پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے یہ طے کیا کہ 15 اگست سے محمد علی جناح کو تمام سرکاری کاغذات میں قائداعظم محمد علی جناح لکھا جائے۔

پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کا دورِ حکومت چار سال اور دو ماہ کی مدت پر محیط ہے۔ انہوں نے 15 اگست 1947 کو وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا اور 16 اگست 1951 تک وہ اسی منصب پر فائز رہے۔

چار سال کی یہ مدت ایک انتہائی مشکل حالات میں گزری، جس میں تقسیمِ ہند کے بعد ایک نئے ملک کے مسائل کا سامنا کرنا تھا۔ یہ ایک بہت مشکل دور تھا لیاقت علی خاں نے جس طریقے سے ان مشکلات کا سامنا کیا اس کے بارے میں بہت کم لکھا گیا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد جن حالات کا سامنا کرنا پڑا، مسلم لیگی قیادت نے نہ کبھی اس بارے سوچا تھا اور نہ اس کے متوقع نتائج کے بارے میں کوئی ہوم ورک کیا تھا۔ مسلم لیگ کی قیادت کے ذہن میں اس بارے میں کوئی تیاری نہیں تھی۔
لیاقت علی خان وزیر اعظم کے طور پر قائداعظم کا انتخاب تھے ایک مہاجر راہنما کو مقامی راہنماؤں پر ترجیح دی گئی تھی۔
سیاست کی دنیا میں کسی بھی فیصلے کے حوالے سے دو آراء ہوسکتی ہیں، مثلاً آج یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر پاکستان کے پہلے وزیراعظم کے طور پر سہروردی کا انتخاب کیا جاتا تو شاید یہ ملک کے مستقبل کے نقطۂ نظر سے بہتر فیصلہ ہوتا۔

قیامِ پاکستان کے بعد کے  13 ماہ میں، جب کہ قائداعظم حیات تھے، اُس وقت تک ظاہر ہے کہ لیاقت علی خان کا کردار محض ثانوی نوعیت کا تھا۔ یہی نہیں بلکہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 اور قانونِ آزادیٔ ہند نے گورنر جنرل کو جو غیرمعمولی اختیارات دے رکھے تھے، اُن کی موجودگی میں ایک نام زد کردہ وزیراعظم، جس کا انتخاب بھی معروف پارلیمانی طریقے سے نہ ہوا ہو، ویسے بھی بے اختیار ہی ہوسکتا تھا۔ تاہم جیسا کہ محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی تحریروں میں لکھا ہے قائد اعظم اور جناب لیاقت علی خاں میں اختیارات کے مسئلے پر کشیدگی پیدا ہو چکی تھی۔
لیاقت علی خان کا سیاسی قد کاٹھ اُس وقت نکلا جب قائداعظم کی وفات کے بعد خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل کے منصب پر فائز ہوئے۔ ناظم الدین پارلیمانی نظام کے حمایت تھے اس لئے انہوں نے گورنر جنرل کے اختیارات کو صرف واجبی طور پر ہی استعمال کیا۔ اس کے علاوہ وہ محلاتی سازشوں کے سخت خلاف تھے یوں لیاقت علی خان کو زیادہ وسیع دائرۂ عمل میسر آگیا۔
لیاقت علی خان کے دور کا جائزہ لیں تو جو نمایاں ترین حقائق ہمارے سامنے آتے ہیں، اُن میں سرفہرست تقسیم ہند کے بعد کی بحرانی صورتِ حال تھی، جس سے انہیں عہدہ برا ہونا پڑا۔ تقسیم کے وقت کے فسادات، لاکھوں افراد کی نقل آبادی اور ہندوستان کے ساتھ اثاثوں کی تقسیم کے معاملات بہت زیادہ اعصابی قوت اور سیاسی سمجھ بوجھ کا تقاضا کرتے تھے۔ لیاقت علی خان کی حکومت اس بحران سے کسی نہ کسی طور پر نکلنے میں کام یاب ہوگئی۔ اس ضمن میں نہرو سے اُن کی ملاقاتیں اہمیت کی حامل تھیں، جن میں تقسیم کے بعد کے بعض پیچیدہ مسئلوں کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا گیا۔ بھارت کے ساتھ ایک ہموار اور مستقل تعلقات استوار کرنے اور مسئلہ کشمیر کا قابل قبول حل تلاش کرنے کے لئے جناب لیاقت علی خاں سنجیدہ کوششیں کر رہے تھے ان کے بعد ان مسائل کو کبھی بھی حل نہیں کیا جا سکتا۔
ملک میں انتظامی ڈھانچے کی تعمیر، پاکستان کے بیرونی ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کا قیام اور ملک میں بنیادی اقتصادی اداروں کا قیام اُن کی حکومت کے چند ایک ایسے کام تھے، جن کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیاقت علی خان کو ایک اور بڑا مسئلہ کشمیر کی جنگ کی صورت میں درپیش ہوا۔
لیاقت علی خان ماضی میں جس حلقے سے منتخب ہوتے رہے تھے، وہ ہندوستان میں رہ گیا تھا اور پاکستان میں اُن کی سیاسی بنیاد ہمہ گیر نوعیت کی نہیں تھی۔
چنانچہ ایک طرف انہیں بیوروکریسی پر انحصار میں اضافہ کرنا پڑا، دوسری طرف مختلف صوبوں میں باہم دست بہ گریباں مسلم لیگی گروپوں میں سے ایک نہ ایک گروپ کی حمایت حاصل کرنی پڑی۔ بنگال میں انہوں نے نورالامین کی پشت پناہی کی، سرحد میں خان قیوم خان کی اور پنجاب میں افتخار حسین ممدوٹ کے مقابلے میں ممتاز دولتانہ کی۔
اس طرح انہوں نے پارٹی میں اپنے حمایتیوں کو سپورٹ کیا اور آگے بڑھایا۔
قیامِ پاکستان کے بعد مسلم لیگ کی اس سوچ نے کہ، کیوںکہ اُس نے ملک بنایا ہے، لہٰذا صرف اُسی کو حکومت کرنے کا اختیار حاصل ہے، آغاز کار ہی میں ہمارے ہاں ایک ایسے رجحان کی داغ بیل ڈال دی جو ملک میں جمہوریت کے قیام اور فروغ کے نقطۂ نظر سے بہت نقصان دہ تھا۔ بدقسمتی سے لیاقت علی خان بھی مسلم لیگ کی اس سوچ سے خود کو جدا اور بلند نہیں رکھ سکے اور حزبِ اختلاف کی طرف خود اُن کا رویہ بھی کوئی مثالی جمہوری رویہ نہیں تھا۔
لیاقت علی خان کے دور کا ایک اہم واقعہ راولپنڈی سازش کیس ہے، اس واقعے کا ایک پہلو جو بالعموم زیربحث نہیں آتا وہ یہ ہے ایک گروہ اس ساری سازش کو ہی بے بنیاد سمجھتا ہے اور یہ بعض سینئر فوجی افسروں سے پیچھا چھڑانے کی ایک کامیاب کوشش تھی جس میں مبینہ طور پر جناب سکندر مرزا اور ایوب خاں کے نام لئے جاتے ہیں۔ ایوب خان اپنی کتاب ’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘ میں لکھ چکے ہیں کہ ان کے پیش رو جنرل گریسی نے فوج کا منصبِ قیادت ان کے سپرد کرتے وقت انہیں بتا دیا تھا کہ فوج میں موجود چند ’ینگ ٹرکس‘ کسی مہم جوئی کے مرتکب ہوسکتے ہیں۔
امریکی خفیہ دستاویزات سے یہ بات بھی منظرعام پر آئی ہے کہ سیکریٹری دفاع اسکندر مرزا امریکی سفارت خانے کے افسران کو بہت پہلے اس بات کا عندیہ دے چکے تھے کہ فوج میں بعض عناصر لیاقت حکومت کی بعض پالیسیوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ نہ ہی اسکندر مرزا نے اور نا ہی ایوب خان نے وزیراعظم کو ان حقائق سے آگاہ کیا۔
راولپنڈی سازش کا انکشاف ایک سویلین ادارے یعنی پولیس کے ذریعے ہوا اور جب لیاقت علی خان نے اسکندر مرزا اور ایوب خان کو طلب کرکے اس کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے یہ تاثر دیا کہ جیسے ان کے لیے بھی یہ ایک انکشاف ہے اور یہ کہ وہ تحقیق کرکے کارروائی کریں گے۔

لیاقت علی خاں نے آئین سازی کے ضمن میں قرارداد مقاصد منظور کروائی لیاقت علی خان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ قرارداد مقاصد کی منظوری سے مذہبی جماعتوں کا اثر تو محدود نہ ہوا الٹا پاکستان میں ان کو اپنے نظریات نافذ کرنے کا ایک آئینی جواز مل گیا۔ اسی قراردادِ مقاصد کو بعدِ ازاں جنرل ضیاء نے آئین کا حصہ بنا دیا۔”
میں امریکی صدر ٹرومین نے ہندوستانی وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو امریکا کے دورے پر مدعو کیا۔ پاکستانی وزیرِ اعظم لیاقت علی خان، جو اپنی مغرب نواز پالیسوں کے حوالے سے خاصے معروف تھے، کو اپنی سُبکی کا احساس ہوا۔ وجہ یہ تھی کہ مغرب دوست وہ تھے لیکن نہرو جنہیں ایک سوشلسٹ اور کمیونسٹ سمجھا جاتا تھا، امریکا کے دورے کے لیے مدعو کیا گیا۔ ایک سینئر مسلم لیگی رہنما راجہ غضنفر نے جو اس وقت تہران میں پاکستان کے سفیر تھے نکالا۔ ان کے ایران میں روسی سفارت کار سے بہت اچھے تعلقات تھے انہوں نے ایک عشائیے کا بندوبست کیا جس میں روسی سفارت کار علی علوی اور لیاقت علی خان کی ملاقات ہوئی۔ لیاقت علی خان نے اس موقع پر اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ روس کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔ 2 جون 1949 کو اُن کو روس کے دورے کی دعوت موصول ہوگئی اور اس کے ٹھیک 5 دن بعد لیاقت علی خان نے روس کی دعوت قبول کر لی۔
یہ بات پاکستان کی برطانوی تربیت یافتہ نوکر شاہی پر گراں گزری، ۔ کراچی میں برطانوی ہائی کمشنر سر لارینس گرافٹی اسمتھ نے سر ظفر اللہ خان کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ امریکی اور برطانوی شہریوں کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا کرے گا۔
ڈینس ککس اپنی کتاب کے صفحہ نمبر 33 پر لکھتے ہیں کہ ”پاکستان نے ابتدائی طور پر یہ تجویز کیا تھا کہ لیاقت علی خان 20 اگست 1949 کو ماسکو پہنچیں گے جبکہ روسیوں کی رائے تھی کہ وہ 15 اگست کو ماسکو پہنچیں۔ پاکستان کا مؤقف یہ تھا کہ یہ ممکن نہیں کیونکہ 14 اگست کو وزیرِ اعظم یوم آزادی کی تقریبات میں مصروف ہوں گے۔
اکتوبر 1949 میں پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اکرام اللہ نے برطانوی ہائی کمشنر گرافٹی اسمتھ کو بتایا کہ روسی حکام وزیر اعظم پاکستان کے دورے کے حوالے سے ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں، اسی سبب وزیراعظم کا پاسپورٹ گذشتہ 3 ہفتوں سے نئی دہلی میں روسی سفارت خانے میں پڑا ہوا ہے۔ تقسیم ہند کے بعد روس کی ہمدردیاں تو ویسے ہندوستان کے ساتھ تھیں۔ روسی سیاستدانوں کو بخوبی اس بات کا اندازہ تھا کہ انڈیا ہی ان کا قدرتی اتحادی ہوگا اس لئے انھوں نے لیاقت علی خاں کے دورے میں دلچسپی نہیں لی اور آخر کار دورہ ختم ہوگیا۔
لیاقت علی خان کے پورے دور حکومت میں آئین نہ بن سکا۔ انہیں اپنے ہم عصر سیاستدانوں خصوصاً حسین شہید سہروردی کی عوامی مقبولیت کا بھی اچھی طرح اندازہ تھا۔ ان کی پوری کوشش تھی کہ ان کے دفتری عملے میں کوئی ایسا فرد نہ ہو جو انڈیا اور پاکستان کی دہری شہریت رکھتا ہو۔ نعیم احمد کی مرتب کردہ کتاب ”پاکستان کے پہلے سات وزرائے اعظم“ کے صفحہ نمبر 40-39 پر لکھا ہے:
“وزیرِ اعظم عملے کے انتخاب میں نہایت محتاط تھے۔ جب کام ذرا زیادہ بڑھا تو اپنے ذاتی عملے میں ایک اور افسر کا اضافہ کیا، یعنی آپ نے ایک ڈپٹی پرائیویٹ سیکریٹری کی تعیناتی کا فیصلہ کیا۔
“وزیر اعظم کو تین آدمیوں کا پینل پیش کیا گیا جس میں سے انہوں نے میاں منظور احمد کو چنا۔ ایم ایم احمد کا انتخاب اس بناء پر کیا گیا تھا کہ اس کا تعلق مشرقی پنجاب سے تھا، جبکہ دوسرے دو کا تعلق اتر پردیش وغیرہ سے تھا اور ان کے رشتے دار اتر پردیش میں موجود تھے۔”
لیاقت علی خان بطور وزیر اعظم کسی بھی ایسے اردو بولنے والے پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہ تھے جن کے تقسیم کے بعد بھی انڈیا میں رشتے دار بستے ہوں۔ لیاقت علی خان اس حوالے سے بھی محتاط تھے کہ ان کے عملے میں کوئی ایسا شخص نہ ہو جس کی کسی مذہبی تنظیم سے جذباتی وابستگی ہو۔:

لیاقت علی خاں پارلیمانی جمہوریت کے حمایتی تھے اس لئے انہوں نے قائد اعظم کے بعد بھی اپنے لئے وزارت عظمی کا انتخاب کیا۔ وہ وفاقی نظام اور صوبائی تعلقات کے حمایتی تھے انہوں نے پانچوں صوبوں میں اپنے حمایتی تلاش کئے اور اپنی ایک موثر سیاسی حیثیث بنانے کی کوشش کی۔
لیاقت علی خاں مذہبی عناصر کو غیرموثر کرنا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے قرارداد مقاصد کو منظور کیا۔ مگر اس سے ان عناصر کو مزید تقویت ملی۔
لیاقت علی خاں اپوزیشن کو پسند نہیں کرتے تھے ان کے دور میں محترمہ فاطمہ جناح کی تقریر کو سنسر کیا گیا۔ قائداعظم کے ساتھ ان کی ہلکی ہلکی سردمہری شروع ہو چکی تھی

اپنے آخری دور میں لیاقت علی خان فوج اور افسرشاہی کے سامنے بے یارومددگار ہوچکے تھے۔ گویا پاکستان اپنے پہلے وزیراعظم کے دور ہی میں اُس رجحان کا شکار ہوگیا تھا جو آج تک برقرار ہے، یعنی ملک کی سول اور ملٹری بیوروکریسی کے مقابل سیاسی حکومتوں کی بے وقعتی اور غیر مؤثری کا رجحان
مگر ان سب باتوں کے باوجود لیاقت علی خاں ایک موثر راہنما تھے اور ملک کے آئین اور سیاست دانوں کے خلاف سازش کرنے والوں کی راہ میں رکاوٹ تھے۔ اس لئے ان کو باقاعدہ سازش کرکے قتل کیا گیا۔
ایک بات تو طے ہے کہ لیاقت علی خان کا قاتل سید اکبر اسٹیج کے بالکل سامنے اس قطار میں بیٹھا تھا جہاں سی آئی ڈی والوں کے لیے جگہ مخصوص تھی۔ اپنی نشست سے وہ لیاقت علی خان کو باآسانی نشانہ بنا سکتا تھا اور اس نے ایسا ہی کیا اور اس میں کامیاب بھی ہوا۔
قتل کے فوراً بعد پولیس نے اُسے گرفتار کرنے کے بجائے جان سے مارنے میں عافیت جانی۔ ان میں کم از کم ایک گولی ایک پولیس افسر نے چلائی تھی جس نے بعدِ ازاں یہ شہادت دی کہ گولی چلانے کا حکم ایک اعلیٰ افسر نے دیا تھا۔

لیاقت علی خان کے قتل کی تحقیق کرنے والے افسر اور اس حوالے سے تمام دستاویزات ایک ہوائی حادثے میں انجام کو پہنچ گئیں۔
“نوابزادہ اعتزاز الدین جو اس مقدمے کی تفتیش کے متعلق اہم کاغذات ساتھ لے کر وزیرِ اعظم خواجہ ناظم الدین کی طلبی پر ان سے گفتگو کرنے کے لیے ہوائی جہاز سے جا رہے تھے۔ ہوائی جہاز کے حادثے میں ہلاک ہوگئے۔ ہوائی جہاز کو یہ حادثہ جہلم کے قریب پیش آیا جہاں کسی اندرونی خرابی کی وجہ سے جہاز کو آگ لگ گئی اور مسافر اور ان کا سامان (اور لیاقت علی خان کے قتل کے مقدمے کے متعلق اہم کاغذات) نذر آتش ہو گئے۔

اس کے بعد 1958 میں ایک عجیب انکشاف ہوا۔ فروری 1958 میں جب ہتکِ عزت کا مشہور مقدمہ گورمانی بنام زیڈ اے سلہری لاہور میں ہائی کورٹ کے ایک جج کے روبرو زیرِ سماعت تھا تو ایک نکتے کی تصدیق کے لیے عدالت نے لیاقت علی خان کے قتل کے متعلق پولیس کی تفتیشی کارروائیوں کی فائل کا ملاحظہ کرنا چاہا اور اٹارنی جنرل پاکستان سے جو عدالت میں موجود تھے، دریافت کیا کہ کیا اس تفتیش کے متعلق سرکاری فائل عدالت کو مہیا کی جاسکتی ہے؟
اٹارنی جنرل نے 25 فروری 1958 تک ضروری معلومات مہیا کرنے کا وعدہ کیا۔ یکم مارچ 1958 کو صوبائی حکومت کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کے سامنے پیش ہو کر بیان کیا کہ متعلقہ فائل گم ہے۔ 8 مارچ کو سی آئی ڈی کے ایک افسر نے عدالت کو مطلع کیا کہ تلاش کے باوجود اس فائل کا کوئی پتہ نہیں چل سکا لہٰذا حکومت اسے پیش کرنے سے معذور ہے۔

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
برداشت اور محبت میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *