عصمت ۔۔۔ معاذ بن محمود

اسے اچانک محبت کے ان مراسلوں کی یاد ستانے لگی۔ انتہائی شدت کے ساتھ۔ وہ خط جو اس نے ماضی میں اسے لکھے تھے۔ وہ خط جس میں اس نے محبت کے اس احساس کو بارہا بیان کیا تھا۔ وہ محبت جو تلاطم کے انتہاء کے باوجود پاک تھی۔ وہ محبت جس کا اظہار وہ آج تک اس کے ساتھ بیٹھ کر نہ کر پائی تھی۔ وہ اظہار جسے وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام کر کرنا چاہتی تھی۔ وہ اظہار جو محبت کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کے باوجود زبان سے عمل پذیر ہونے سے قاصر رہا۔

“کن سوچوں میں گم ہو؟” شوکت درانی نے کمرے میں داخل ہو کر اسے اس کے ناسٹیلجیا سے جیسے ایک جھٹکے سے باہر نکال دیا۔

“کچھ نہیں۔ کچھ بھی تو نہیں۔ بس ویسے ہی” اس نے جھینپ کر جواب دیا مگر اس کی آنکھیں تاثرات کے کٹہرے میں کھڑی اس کے چہرے کے خلاف گواہی دے رہی تھیں۔

شوکت درانی پچاس کی دہائی میں داخل ہوتا ایک کایاں شخص تھا۔ صنف نازک کے شباب کا نشہ اسے نیٹ سکاچ سے بڑھ کر لطف دیا کرتا۔ پہلی بار اسے دیکھتے ہی درانی نے اس میں چھپا شکار بھانپ لیا تھا۔ پہلی ملاقات کے بعد درانی فقط اس کی قیمت کا تعین کرنے میں لگا ہوا تھا۔ مگر وہ تھی کہ قیمت کا شائبہ تک نہ ہونے دیتی۔

وہ پہلی بار اپنے پاسپورٹ میں موجود ایک غلطی سدھارنے درانی کے دفتر پہنچی تھی۔ “تم جانا کہاں چاہتی ہو؟” درانی کا پہلا سوال یہی تھا۔ وہ چاہ کر بھی جواب نہ دے سکی تھی۔ ہندوستان کے ساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار تھے۔ ایک مدت کے بعد ہجرت کرنے والوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا تھا۔ جو ایک بار پاکستان پہنچ گیا اس کے لیے واپس جانا دونوں نومولود ریاستوں کی جانب سے سازگار نہ رہا تھا۔ مگر وہ واپس جانا چاہتی تھی۔ اسے ہر پل اپنا دہلی کا گھر یاد آتا تھا جہاں اس کا پہلا اور آخری عشق پہلی اور آخری بار خاموش تماشائی بنے ناکامی کے احساس کے ساتھ اسے ہجرت کرتا دیکھتا رہا۔

وہ صرف وطن کی نہیں، محبت کی بھی مہاجر تھی۔

درانی کے لیے اس کی مدد اور اس کی قربت دو الگ معاملات تھے۔ اس کے پاسپورٹ کی تصحیح میں کچھ تکنیکی مسائل تھے۔ اسلام آباد سے بھیجے جانے والے خاص بیوروکریٹ کی حیثیت سے مگر وہ کراچی میں بھی اچھا خاصہ اثر و رسوخ رکھتا تھا۔ پاسپورٹ ٹھیک ہونے میں وقت لگنا لامحالہ تھا۔ دوسری جانب اس کی جسمانی ساخت درانی کو اس میں دلچسپی لینے پر مجبور کیے رکھتی۔ عمر میں وہ درانی سے بیس سال کم تھی مگر کھاتے پیتے آسودہ گھرانے سے تعلق رکھنے کے باعث خوشحال ظاہر اس کے افسردہ باطن پر حاوی رہتا۔

وہ درانی کی متلاشی نظروں سے بخوبی واقف تھی مگر اس کے لیے پاسپورٹ کا مسئلہ حل ہونا نہایت اہم تھا۔ وہ اسی سلسلے میں پانچ ماہ ہر دوسرے روز درانی سے ملتی رہی۔ اس دوران وہ سرکاری غلام گردشوں کے افسانے، پرانی سے پرانی شرابوں کی خصوصیات، اور درانی کی زندگی پر مبنی داستانیں سنتی رہی۔

لیکن پھر ایک دن اس کی موت کی خبر آگئی۔

آج وہ دو ماہ کے توقف کے بعد ایک بار پھر درانی کے دفتر میں موجود تھی۔ آج وہ درانی کو سب کچھ کھل کر بتانا چاہتی تھی۔

“میں ہندوستان جانا چاہتی ہوں” اس نے آغاز کیا۔

درانی نے سپاٹ نظروں سے اس کے چہرے کو ٹٹولا۔

“کون ہے وہ؟” درانی کو جہاں دیدہ گھاگ ہونے کے باعث اس کا چہرہ پڑھنے میں کوئی خاص دقّت پیش نہ آئی۔

“ہے نہیں۔ تھا” اس نے اپنی زندگی کا نوحہ بس تین ہی الفاظ میں سنا ڈالا۔

اسے وہ خط چاہئے تھے۔ کسی بھی قیمت پر۔ اسے پہلا خط چاہئے تھا جس میں اس نے پہلی بار اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔ اسے وہ دوسرا خط بھی چاہئے تھا جس میں اس نے محبت کا جواب محبت کی شکل میں ملنے پر اپنی قسمت پر ناز کیا تھا۔ اسے تیسرا خط بھی چاہئے تھا جس میں اس نے اس سے محبت کے معنی کی بابت استفسار کیا تھا۔ اسے اپنا چوتھا خط بھی چاہئے تھا جس میں اس نے محبت کی پاکیزگی کا تصور پیش کیا تھا۔ اسے پانچواں خط بھی چاہیے تھا جس میں اس نے اپنی محبت کے عشق میں تبدیل ہوجانے کی خبر سنائی تھی۔ اسے چھٹا خط بھی چاہیے تھا جس میں اس نے گھر والوں کی پاکستان نقل مکانی کی خبر سنائی تھی۔ اسے اپنا ساتواں اور آخری خط بھی چاہیے تھا جس میں اس نے اس کے سارے خط جلانے کی خبر دیتے ہوئے اپنے ساتوں خط فنا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اسے اپنے عشق کے ارتقاء سے فنا ہوجانے تک کی یہ مختصر داستان اپنے ہاتھوں میں چاہئے تھی۔

“اس کے خط کہاں ہیں؟” درانی نے سگریٹ کا گہرا کش لیتے ہوئے اس سے سوال کیا۔

“ساتواں اور آخری خط لکھنے سے پہلے جلا دیے” اس کے لہجے میں کسی قسم کی پشیمانی نہ تھی۔

“اور تمہارے خط نہیں جلائے اس نے؟” درانی کی دلچسپی تیسرا پیگ حلق میں انڈیلتے ہوئے کافی حد تک بڑھ چکی تھی۔

“ایک رات پہلے ساتوں خط ہاتھ میں تھما گیا تھا کہ نہیں جلا پاؤں گا۔ عجیب شخص تھا۔ خط نہ جلا پایا مگر ایک برس کے اندر خود کو جلا بیٹھا” اس نے جھلاہٹ کے ساتھ جواب دیا۔

درانی اپنی کرسی سے کھڑا ہوچکا تھا۔ اب اسے تمام معاملہ سمجھ آچکا تھا تاہم ایک گتھی ابھی باقی تھی۔

“واپس جانا چاہتی ہو؟” درانی نے مایوسی بھری نگاہوں سے اسے سر تا پیر تک ٹٹولتے ہوئے پوچھا۔

“نہیں” اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔ “مجھے میرے خط واپس چائیے ہیں”۔

“عجیب ہو۔ اسے چھوڑ آئیں اور اب خط؟ ڈاک سے منگوا لو”۔ درانی نے خالصتاً مدد کی نیت سے مشورہ دیا۔

“ڈاک دونوں ممالک میں سینسر کی جاتی ہے۔ کھول کر پڑھی جاتی ہے۔ میں اپنے جذبات کو دنیا کے سامنے برہنہ نہیں کر سکتی”۔

“مجھ سے کیا چاہتی ہو؟” درانی کی آنکھوں میں چمک ابھری۔

“تم میرے لیے میرے سارے خط واپس لاؤ گے” اس نے تحکمانہ انداز میں جواب دیا۔

اب درانی کے ہونٹوں پہ شیطانی مسکراہٹ پھیل چکی تھی۔

“میں کوئی کام بلا معاوضہ نہیں کیا کرتا۔ کیا تم میری خدمات کی قیمت ادا کر سکتی ہو؟”

“کیا ہے تمہاری قیمت؟” اس نے درانی کی مخمور آنکھوں میں اپنی پتھرائی آنکھیں ڈال کر کسی بھی شک کو دور کرنے کی آخری کوشش کی۔

درانی کھڑا ہوا۔ سکاچ کا خالی گلاس میز پر رکھا۔ کوٹ اتار کر اپنی نشست پر لٹکایا اور سگریٹ کا آخری کش لگا کر اس کے قدموں کے قریب پھینکتے ہوئے اس کے عقب میں پہنچ گیا۔ اس نے جلتا ہوا سگریٹ اپنے چم چم کرتے جوتے کے تلوے سے مسلتے ہوئے دونوں ہاتھ اس کے شانوں پر رکھے اور اس کے بلاؤز میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اس کے کان میں سرگوشی کرتے پوچھا۔

“میری قیمت؟”

“ہاں تمہاری قیمت” اس نے خلاء میں گھورتے ہوئے احساس سے عاری جواب دیا۔

“میری نہیں، تمہارے جذبات کی عفت کی قیمت۔ ان جذبات کی قیمت جنہیں تم دنیا کے سامنے برہنہ نہیں کرنا چاہتیں۔ اور یہ قیمت تمہیں اپنے وجود کی عصمت سے چکانی ہو گی”۔

اس نے آنکھیں مینچ کر اپنے تمام خطوط کے مندرجات کی شکستہ یادیں ذہن میں لانا شروع کر دیں۔

درانی وعدے کا پکا تھا۔ ٹھیک ایک ماہ بعد زبان کی پاسداری کرتے ہوئے اس نے خود ہندوستان سے اس کے تمام خط لا کر اس کے ہاتھ میں رکھ دیے۔

اس کے بعد عفت جہاں کو کبھی کسی نے نہ دیکھا۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *