عمران کی سیاست کا ایک جائزہ۔۔۔۔ ظفر ندیم داود

 

بہت سے لوگوں کے خیال میں عمران خاں کی سیاست کا رخ ان کی مقبولیت میں کمی کا باعث بنا ہے۔ ان کی غلط حکمت عملی اور غلط لوگوں کے روابط ان کی پارٹی میں بھی گروپ بندی کا باعث بنی ہے اور ان کو ضمنی الیکشن میں پے در پے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مگر عمران خاں کی سیاست کا تجزیہ کرنے سے پہلے پاکستان میں اپوزیشن کی سیاست کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ پاکستان میں اپوزیشن کی سیاست کی سب سے بڑی مثال جناب نواز شریف کی سیاست ہے جو انہوں نے پیپلز پارٹی کی ادوار حکومت میں نوے کے عشرے میں قائم کی اور جس کی وجہ سے ان کے ووٹ بنک اور مقبولیت میں اضافہ ہوا اور ان کو بھٹو مخالف سیاست کا محور تسلیم کیا گیا۔ اس دور میں بھٹو مخالف سیاست دان مختلف ٹکڑوں میں بٹے تھے پہلے جونیجو کی سربراہی میں کام کیا گیا مگر وقت آنے پر نواز شریف نے اپنے تمام حلیفوں کو چھٹی کروادی اور خود کو بے نظیر کے واحد متبادل کے دور پر پیش کیا، نوے کے عشرے میں انھوں نے اپنی پوزیشن بنانے کے لئے حساس اداروں سے قریبی تعلق کو کبھی چھپانے کی کوشش نہیں کی اور بے نظیر کو سیکورٹی رسک اور آصف زرداری کو مسٹر ٹین پرسنٹ کا خطاب دیا۔

اسلامی جمہوری اتحاد، شریف فیملی اور رائٹ ونگ کے بیشتر لکھنے والوں نے اٹھاسی سے ننانوے تک کے گیارہ برسوں میں پیپلزپارٹی کے خلاف خاصا زہریلا پروپیگنڈاکیا۔ میاں نواز شریف محترمہ بے نظیر بھٹو کوسکیورٹی رسک کہتے رہے۔ مسلسل ایجی ٹیشن کے تحت پیپلز پارٹی کی کسی حکومت کو چین سے حکومت کرنے نہیں دی گئی۔ حتی کہ آخری دور حکومت میں میثاق جمہوریت کے باوجود پہلے چیف جٹسس کی بحالی کے لئے ایجی ٹیشن کیا گیا پھر سپریم کورٹ کے ذریعے یوسف رضا گیلانی کو برطرف کروانے میں بھی سرگرم کردار ادا کیا اور آخر میں میمو کیس میں بھی وکیل بن کر صدر کے خلاف چارج شیٹ لگائی۔ اس سے یہ مثال قائم ہوئی کہ پاکستان میں اپوزیشن سیاست صرف انھیں خطوط پر ممکن ہے جن خطوط پر میاں نواز شریف نے اپوزیشن سیاست کی۔ آج عمران خاں نے انھیں کی طرز پر اپوزیشن سیاست کو آگے بڑھایا ہے عمران خاں کے سامنے سب سے بڑا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ پنجاب میں نووا شریف کے مخالفین کے لئے واحد چوائس ہیں ان کے علاوہ کسی دوسرے کو ووٹ دینے کا مطلب نواز شریف کو ہی ووٹ دینا ہوگا۔

عمران خاں کا دوسرا مقصد اپنے سرگرم حامیوں اور کارکنوں کا اگلے انتخاب تک حوصلہ قائم رکھنا ہے۔ پاکستان میں مفاہمتی سیاست کا کوئی تصور نہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اسی وجہ سے پنجاب میں اپنے ووٹوں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے۔ عمران خاں کے سامنے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ نواز شریف کا مخالف ووٹ قائم بھی رہے اور اگلے انتخاب میں ووٹ ڈالنے بھی نکلے۔

اگرچہ نواز شریف کے حامی عمران خاں کے حساس اداروں سے مبینہ روابط کا ذکر کرتے ہیں اور سول حکومت کی بالادسی اور حمایت کا ذکر کرتے ہیں مگر یہ سچ ہے کہ پیپلز پارٹی اپنے ادوار حکومت میں یہ باتِیں کرتی رہی ہے اور آئی جے آئی کے معاملے میں سپریم کورٹ نے بھی ان روابط کو تسلیم کیا ہے مگر اس کے باوجود مسلم لیگ ن اس وقت ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ اس پر اپنے زمانے میں کالعدم جماعتوں اور جہادی جماعتوں سے تعلق کا بھی الزام لگتا رہا ہے مگر اس سے اس کی مقبولیت میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ اس لئے آج عمران خاں اسی راستے پر جا رہا ہے تو اس کے سیاسی مشیروں کا یہی خیال ہوگا کہ پاکستان میں سیاست کرنے کا ممکننہ راستہ صرف یہی ہے۔

اگرچہ یہاں حکومت اور حساس ادارے کے تازہ تنائو اور نئے آرمی چیف کی تقرری کے معاملے کا ذکر نہیں کیا گیا مگر عمران خاں نے ایجی ٹیشن کے لئے جن تاریخوں کا انتخاب کیا ہے وہ معنی خیز ہے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *