• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ہینڈسم، موریاں، تسبیح، چپیڑیں۔۔۔۔ہارون الرشید

ہینڈسم، موریاں، تسبیح، چپیڑیں۔۔۔۔ہارون الرشید

ارادہ تو یہ تھا کہ اپنے یوتهی دوستو  کو مشورہ دوں کہ سمیع ابراہیم، جس کی دن رات کی گئی خان صاحب کی جھوٹی سچی تعریفوں سے متاثر ہو کے وہ خان صاحب کو ووٹ دے کر آئے تھے اور جس کے بے سروپا تجزیے وہ دن رات شیئر کرتے تھے،اس کو فواد چودهری سے پڑنے والی چپیڑ سے سبق سیکهنے کا مشورہ دوں لیکن پھر خیال آیا کہ اُنہیں تو ویسے ہی خان صاحب روز چپیڑیں کرا رہے ہیں اور یہ بیچارے ایک گال پہ چپیڑ کهاتے ہیں اور دوسرا چپیڑ کھانے کے لیے آگے کر دیتے ہیں۔

ایک دن خان صاحب پٹرول کی قیمت بڑها کے چپیڑ مارتے ہیں، تو یہ کہتے ہیں کوئی بات نہیں ہمارا وزیراعظم تو جسٹن ٹروڈو سے بهی زیادہ ہینڈسم ہے۔
اگلے دن یہ دوسرا گال آگے کرتے ہیں، خان صاحب روپیہ گرا کے اور ڈالر کی قدر میں اضافہ کر کے ایسی چپیڑ لگاتے ہیں کہ گال لال ہو جاتا ہے تو یہ کہتے ہیں کوئی بات نہیں، وہ دیکهو ہمارے وزیراعظم کی قمیض میں دو موریاں۔۔نظر آئیں؟؟ کیا سادہ وزیر اعظم ہے ہمارا۔

اگلے دن پهر پہلا گال آگے کرتے ہیں، خان صاحب ایک طرف سے چند فیصد تنخواہ بڑها کے دوسری طرف آمدن پہ دگنا ٹیکس لگا کے کس کے ایک اور چپیڑ لگاتے ہیں۔یہ کہتے ہیں کوئی بات نہیں، دیکهو ہمارا وزیراعظم پرچی کے بغیر تقریر کرتا ہے۔

اگلے دن پهر دوسرا گال آگے کرتے ہیں، خان صاحب آٹا چینی دال کی قیمتیں بڑها کر اکٹهی دو تین ایسی چپیڑیں مارتے ہیں کہ کانوں سے دهواں نکلنے لگتا ہے، یہ بیچارے گال سہلا کر خان صاحب کی تصویر شیئر کر کے کہتے ہیں، چپیڑ مار رہے ہیں تو کیا ہوا، وہ دیکهو ہمارے سادگی کے پیکر خان صاحب میاں جی کے ڈهابے پہ بیٹھ کے دال کها رہے ہیں۔

پهر پہلا گال آگے کرتے ہیں، خان صاحب اپنی پیدا کی ہوئی غیر یقینی صورتحال کی بدولت سٹاک مارکیٹ کریش کروا کے سرمایہ کاروں کے اربوں ڈبو کے ایسی کاری چپیڑ مارتے ہیں اور یہ لال ٹماٹر گال پر ہاتھ رکھے کہتے ہیں کہ چپیڑ ماری ہے تو کیا ہوا، یہ بهی تو دیکهو ہمارے خان کے ہاتھ میں تسبیح، ماشااللہ کتنا اللہ والا ہے ہمارا وزیراعظم۔۔۔.

ابھی وہ یہ کہہ ہی رہے ہوتے ہیں کہ خان صاحب بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھا کے رکھ رکھ کے دو چپیڑیں دوسرے گال پہ مارتے ہیں، درد سے سی سی کرتے یہ پھر کہتے ہیں کوئی بات نہیں، ہم ابھی وہ تصویر شیئر کرتے ہیں جس میں ہمارا وزیراعظم کھلے آسمان کے نیچے بغیر بستر کے سو رہا ہے۔

پھر سے اپنا چپیڑوں سے لال گال آگے کرتے ہیں تو خان صاحب ماضی کے وزیراعظم کے مقابلے میں وزیراعظم ہاؤس کا بجٹ تیس کروڑ بڑھا کے ایک اور کراری چپیڑ مارتے ہیں، تو یہ پھر کہتے ہیں کہ چپیڑ کھانے کی تو ہمیں عادت ہو گئی ہے، تم بس ہمارے خان کی چال کی بےنیازی دیکھو۔

پھر سے تابعدار ہو کے گال آگے کرتے ہیں تو دوائیوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی صورت ایک اور چپیڑ پڑتی ہے تو یہ گال پہ ہاتھ ملتے ہوئے کہتے ہیں تو کیا ہوا، ہمارا خان تین کینسر ہسپتال بھی تو چلا رہا ہے۔

پھر خان صاحب مودی کی یاری کی چپیڑیں مارتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے تین بار مودی کو فون ملایا لیکن آگے سے جواب نہیں آیا تو یہ کہتے ہیں کوئی بات نہیں، ہم تو پیوٹن اور خان کی تصویریں دیکھ کر مزے لے رہے ہیں۔

ابهی گال پہ ان ساری چپیڑوں کی سرخی باقی ہوتی ہےکہ خان صاحب آؤ دیکهتے ہیں نہ تاؤ، ایمنسٹی سکیم لا کے چپیڑ مارتے ہیں تو کبهی تعلیم اور صحت کا بجٹ کم کر کے چپیڑیں مارتے ہیں۔۔۔. کبهی خودکشی کرنے کی بجائے آئی  ایم ایف کے پاس جا کے چپیڑ مارتے ہیں تو کبهی 37 لاکھ میں وزیراعظم ہاؤس کی بھینسیں بیچ کر ایوانِ صدر کے طوطوں کے لیے 28 لاکھ کے پنجرے کا ٹینڈر جاری کر کے چپیڑ مارتے ہیں۔۔۔کبھی آپا زہرا شاہد کے قاتلوں کو اپنی کابینہ کے نفیس ترین لوگ قرار دے کر چپیڑ لگاتے ہیں تو کبهی فردوس عاشق اعوان اور فواد چوهدری جیسوں کو گلے لگا کے چپیڑ لگاتے ہیں۔۔۔ کبهی پرویزالہی جیسے پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو کو سپیکر بنا کے چپیڑ مارتے ہیں تو کبھی بزدار کو وسیم اکرم کہہ کے چپیڑ مارتے ہیں۔۔۔ اور پھر ٹیکسوں پہ ٹیکس لگا کے یکے بعد دیگرے کئی چپیڑیں مارتے ہیں۔

یہ چپیڑیں کهاتے جاتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ خان صاحب چپیڑ مار رہے ہیں تو کیا ہوا، تقریر کے دوران یہ جو سٹائل خان صاحب نے بنایا نا بس پوری تقریر کا مزا اس سٹائل میں تها۔۔ چپیڑ کا کیا ہے، دیکهو ہمارا وزیراعظم صبح نو بجے دفتر پہنچ جاتا ہے۔۔. چپیڑوں کی خیر ہے، یہ بهی تو دیکهو ہمارا خان تو چهٹی بهی نہیں کرتا، رات بارہ بجے غیر ملکی دورے سے آ کے صبح سویرے پھر دفتر کی میز پہ آ موجود ہوتا ہے۔.

بیچارے نہ ہنس سکتے ہیں، نہ رو سکتے ہیں نہ گال ہی سہلا سکتے ہیں کہ تابڑ توڑ چپیڑوں سے خان صاحب گال سہلانے کا موقع ہی نہیں دیتے  اور یہ بیچارے کہتے رہ جاتے ہیں ہینڈسم، موریاں، سادگی، مانگے کی ویسٹ کوٹ، عالمی فورم پہ پشاوری چپل، ہاتھ میں تسبیح، سٹائل، ہمارے خان کی چال، ہمارے خان کی چال، سٹائل، ہاتھ میں تسبیح، عالمی فورم پہ پشاوری چپل، مانگے کی ویسٹ کوٹ، سادگی، موریاں، ہینڈسم اور پھر سے اُلٹی سیدھی گنتی کی طرح یہی گردان ۔۔۔۔ بیچارے کیا کریں، اِس کے علاوہ دکھانے اور بیچنے کو کچھ ہے بھی تو نہیں۔۔۔۔۔

ہارون الرشید
ہارون الرشید
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *