تلملاہٹ۔۔۔ لالہ صحرائی

انتساب : استاد محترم امجد علی بھٹی صاحب کے نام

انسان کے خدوخال سے اس کے مزاج اور قسمت کے متعلق اندازہ لگانا صدیوں پرانا فن ہے، قد کاٹھ، نین نقش، انگلیوں کی ساخت اور ناخنوں کی شیپ، آھُو چشم، بادامی، نیلی اور بھوری آنکھیں، صراحی دار گردن اور سلکی بالوں جیسے عناصر قیافہ شناسوں سے دل کھول کر باتیں کیا کرتے ہیں، قیافہ شناسی کوئی علم ہے یا نہیں اس سے قطع نظر، قیاس آرائی کیلئے، قیافہ شناس کا ویہلا ہونا شرطِ اول ہے، یہی خوبی ہاروسکوپ لکھنے والوں کی ہے، آپ کا یہ ہفتہ کیسا گزرے گا یہ بتانے کیلئے بیچارے پورا ہفتہ سوچتے ہیں کہ اگلے ہفتے ان نشئیوں کو کیا بتانا ہے اسی سوچ بچار میں ان کا اپنا ہفتہ اچھا گزر جاتا ہے۔

سنا تھا ترقی یافتہ ملکوں میں کوئی بیکار نہیں ہوتا، سب لوگ کام کرتے ہیں لیکن ایسی قیاس آرائیاں دیکھ کر پتا چلتا ہے کہ وہاں بھی ہماری طرز کے ویہلے بکثرت پائے جاتے ہیں، خدا جانے کتنے لوگوں کو تاڑنے کے بعد یہ اپنے نتائج اخذ کرتے ہوں گے، مطلب کہ نتائج سے عاری تانک جھانک تاڑنا کہلاتی ہے اور ایسی نتیجہ خیز کوشش کو ریسرچ کہتے ہیں۔

چینی ماہرین کی ایک ریسرچ کے مطابق، انسانی جسم پر تل کا ہونا کسی نہ کسی راز کا مظہر ہوتا ھے، چینی کسی چیز کی گارینٹی کوئی نہیں دیتے لہذا گارینٹی اس بات کی بھی کوئی نہیں کہ تل جس بات کا مظہر ہے وہ بات بھی تل کی طرح پائدار ہے کہ نہیں، چینیوں کے اس علم سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ باریک سے باریک چیز کو بھی باریک بینی سے دیکھتے ہیں لیکن یہ بتانے سے ابھی تک قاصر ہیں کہ تلوں کی طرح بذات خود یہ چینی سارے ایک جیسے کیوں دکھائی دیتے ہیں۔

کسی چیز کی ڈھٹائی دیکھنی ہو تو تل کی دیکھئے، یہ نامراد ایسی چیز ہے کہ جب کسی کالے چہرے پر نکل آئے تو بھی اتنا ہی واضع نظر آتا ہے جتنا گورے چہرے سے جھلکتا ہے، تل چھوٹا ہو یا بڑا یہ بذات خود جتنا کالا ہوتا ہے عموماً اتنے ہی زیادہ گورے چٹے چہرے پر بھی جا پہنچتا ہے اور اپنے تئیں سمجھتا ہے کہ اب گورا یا گوری اس کی وجہ سے زیادہ خوبصورت لگنے لگے ہیں، یہی خودپرستی سماج سیوک سیاستدانوں میں بھی پائی جاتی ہے، وہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ عوام کی بقا ان کے دمقدم سے ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے یعنی یہ دونوں “نگلّے” گورے رنگ اور عوام کی وجہ سے چمکتے ہیں۔

از نقش و نگارے در و دیوار شکستہ … آثار پدید است صنادید عجم را

تل والے کا منہ بیشک جتنا بھی گورا ہو تل کا منہ کالا ہی ہوتا ہے اور حد یہ ہے کہ خوبصورتی میں چارچاند لگانے کا ضامن بھی سمجھا جاتا ہے، سیاہ تل سے چارچاند لگنا بھی صنعت معکوس سے کم نہیں، کنول کا صاف ستھرا پھول کیچڑ کی نمائندہ جھیل میں کھل اٹھتا ہے اور سیاہی کا نمائندہ تل صاف ستھرے چہرے پر کھل اٹھتا ہے، یعنی دو متضاد الفطرت چیزیں ایکدوسرے کے ساتھ مل کر ایک تیسری قسم کا حسن پیدا کر لیتی ہیں، مجبوری کے عالم میں مخلوط حکومت بھی اسی طرح سے بنتی ہے۔

دومخالف نظریات بھی ایکدوسرے کے ساتھ مل کر کوئی نظریاتی حسنِ نظارہ پیش کرسکتے ہیں لیکن اس کی مثالیں صرف قدرتی انتظام میں ہی مل سکتی ہیں، رات کے سیاہ ماتھے پہ روشن ستاروں کا ہجوم اور روشن چہرے پر سیاہ تلوں کا ہونا بھی یہی ثابت کرتا ہے کہ دو مخالف چیزیں ایکدوسرے کے ساتھ مل کر زیادہ اچھی طرح سے پنپ سکتی ہیں لیکن اس بات کے انوسار انسان کو اپنے مخالف سے دور ہی رہنا چاہئے تاکہ وہ پنپ نہ سکے۔

تل ہمیشہ شرارتی ہوتے ہیں، یہ خوامخواہ ایسی جگہ کو ہائی لائیٹ کر دیتے ہیں جہاں عام حالات میں دھیان نہیں جاتا، بیشتر لوگوں کے ای۔این۔ٹی سسٹم کا گھیراؤ کرتے ہیں یعنی ناک، کان اور گلے پر جا بیٹھتے ہیں اور بعض کے ہونٹ، گال یا ماتھا صرف ان کی بدولت سب سے زیادہ دیکھی جانے والی چیز بن جاتا ہے۔

جن تلوں میں تیل نہیں ہوتا وہ دراصل یہی تل ہیں لیکن دیکھنے والوں کا تیل ضرور نکال دیتے ہیں، شاعر کسی گورے چہرے پر تل دیکھ لے تو سمجھو گیا تیل لینے، ان تلوں نے اپنے بارے میں تیل۔لیس ہونے کا محاورہ نہیں سنا ہوگا اسی لئے اہم جگہوں پر ڈھٹائی کیساتھ بیٹھتے ہیں، مشیروں کی طرح، اور اپنی سیہ کاریوں پر شرمندہ ہو کر ٹس سے مس بھی نہیں ہوتے، وزیر تو پھر بھی اپنا منشور بدلے بغیر پارٹی بدل لیتے ہیں لیکن حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے سو بیٹھ گئے کے مصداق تل جہاں ایک بار نکل آئیں تو پھر وہ اپنی جگہ سے زرا سا بھی ادھر ادھر ہونے کو تیار نہیں ہوتے۔

چارسدہ کی طرف جائیں تو ٹھوڑی اور ماتھے پر چار تل ایک ساتھ بنانے کا رواج ہے، وہاں کے بندے جی دار بہت ہیں، ایک آدھ تل پہ مرتا کوئی نہیں اس لئے کمپاؤنڈ پریشر دینا پڑتا ہے، جہاں چار تل ہوں وہاں چار بار دیکھنے کو دل تو چاہتا ہے لیکن نظر کچھ نہیں آتا سوائے آنکھوں اور ماتھے کے، اس علاقے میں زیادہ دیکھنا خطرے سے خالی بھی نہیں ہوتا، جس کسی کے چہرے پر ایکساتھ اوپر نیچے دو اصلی تل ہوں اسے فوراً کسی فیس ریڈر سے اپنا چہرہ پڑھوانا چاھئے کیونکہ جہاں وقف تفضیلی یعنی کولن : کا نشان ہو اس کے آگے پیچھے کوئی نہ کوئی عبارت بھی ضرور لکھی ہوتی ہے۔

جن لڑکیوں کے چہرے پر تل ہوتا ہے وہ باقیوں سے زیادہ نخرے والی ہوتی ہیں، انہیں پتا ہوتا ہے کہ دیکھنے والا تو اب پاگل ہی ہو رہا ہوگا اس لئے ساتھ میں نخرے کا تڑکا بھی لگا دیتی ہیں، جس لڑکی کے گال یا ہونٹوں پر تل ہو اس کی شادی بھی جلدی ہو جاتی ہے، ایسی لڑکیوں کے شوہر عموماً شاعر نکلتے ہیں یا بعد میں شعراء کی کتابیں خرید کر تل کی ستائش کا سامان ڈھونڈتے ہیں، ایسے لوگ دس سال بعد خوداحتسابی کا شکار بھی نظر آتے ہیں کہ خوامخواہ ایک تل کی خاطر پوری لڑکی سے شادی کرلی ایسے لوگوں کو حوصلہ پکڑنے کیلئے ہوا سے بھرا چپس کا پیکٹ خریدنے کی مثال مدنظر رکھنی چاہئے۔

تنگ نظر طبقات کا اپنا بندہ جب قصور وار نکل آئے تو سب باجماعت اس کی پردہ داری کرتے ہیں، جب وہی قصور دوسرے طبقے میں نکل آئے تو سب باجماعت اس کی پردہ دری کرتے ہیں اور بیحد کرتے ہیں، شاعروں کا معاملہ الٹا ہے، یہ پردہ دری کرتے ہیں نہ پردہ داری بلکہ جب کسی لڑکی کے چہرے پر تل دیکھ لیں تو اسے عیب کی بجائے دولت حسن پہ دربان قرار دینے کیلئے زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں لیکن جب لڑکے کے چہرے پر تل دیکھ لیں تو کوئی آمد نہیں ہوتی بلکہ سب ردیف، قافیے، استعارے اور تشبیحات ساتھ چھوڑ جاتی ہیں، مردوں کے کیس میں تل کو شائد دولتِ گودام پہ دربان قرار دیتے ہوئے بندہ اچھا بھی نہیں لگتا، تعصب کی حد تو یہ ہے کہ صنف مخالف بھی لڑکوں کے چہرے پر تل کو درخوراعتناء نہیں سمجھتی ورنہ نسوانی ادب کے موہنجودڑو میں اس کا کوئی نہ کوئی سراغ تو ضرور ملتا۔

ماہرین قیافہ کہتے ہیں جس کی بھؤوں کے نیچے تل ہو وہ لوگ تخلیقی صلاحیتوں کے مالک اور ذہین ہوتے ہیں، یہ تو انہوں نے بلکل سچ کہا ہے، ہمارے علاقے کی ماسی بلقیس کی آنکھ کے اوپر تل ہے اور واقعی وہ تخلیقی ذہن کی مالک ہے، علاقے کی بہت سی لوسٹوریاں اس کی اپنی ہی تخلیق کردہ ہیں اور بہت سی گالیاں بھی اسی نے ایجاد کی ہیں، یہ تو ہمارے سامنے کی مثال ہے۔

علاّم کے مطابق سر کے دائیں جانب تل کا مطلب ہے آپ مالا مال ہوں گے، جن کے چیک بار بار ریٹرن ہوتے ہیں ان کے شائد بائیں طرف تل ہوتا ہے، ایسے بندے کو پکڑ کے لازمی چیک کرنا چاہئے اور ہوسکے تو اس کا علاج بھی کرا دینا چاہئے بیشک علاج کا خرچہ بھی اسی کے کھاتے میں ڈال دیں کیونکہ بعد از علاج اگر اس کے چیک ریٹرن ہونے سے افاقہ ہو گیا تو یہ پیسے بھی مل جانے کی امید کی جاسکتی ہے۔

جن کی ٹھوڑی پر تل ہو وہ خوبصورت سمجھے جاتے ہیں، باقی لوگ یہ مغالطہ اپنے دل سے نکال لیں تو بہتر ہے، کچھ لوگوں کی آنکھ میں تل ہوتا ہے جو آنکھ کے سفید حصے میں پایا جاتا ہے، ایسے لوگ باآسانی پیسہ کمالیتے ہیں، ایسے لوگوں کی آنکھ میں نہیں دیکھنا چاہئے ورنہ وہ آپ کی جیب سے بھی پیسے کما جائیں گے، اگر ایسے تل والے کو پیسہ کمانا نہ آتا ہو تو ممکن ہے وہ آنکھیں مارنے کا اچھا ماہر ہو، خواتین کے کیس میں آنکھیں جھپکنا پڑھا جائے۔

جن کی ناک پر تل ہو وہ غصے کے تیز ہوتے ہیں اور انہیں دھوکے باز بھی سمجھا جاتا ہے، خدا جانے چنگیز خان اور ہٹلر کے ناک پر کتنے تل تھے جس کی وجہ سے وہ اتنے شدید غصہ پدید تھے، خدا بخشے مارکس بروٹس کو اس کے ناک کا تل دیکھ کے ہی جولئیس قینچی نے کہا تھا یوٹوبروٹس؟ جبکہ قلوپطرہ نے دیکھتے کے ساتھ ہی چیخ ماری تھی، بروٹس نے چاقو بعد میں مارا تھا تاکہ وہ دوسری چیخ نہ مار دے ورنہ لوگ نہ جانے کیا سمجھتے، وہاں دوسری چیخ کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ لڑکی ابھی تک واقعی کنواری ہے۔

جس کے کان کی لو پر تل ہو وہ لوگ اپنی فیملی کیساتھ بہت مخلص ہوتے ہیں، مطلب کہ یہ والا تل بیگم کا ایجنٹ ہوتا ہے اور شوہر کے کان کھینچ کے رکھتا ہے ممکن ہے کان میں کچھ پھونکتا بھی ہو کہ بندہ بن کے رہنا بھیا، یہ تل دراصل بیگم کے جہیز کا سامان ہوتا ہے جو کئی سال پہلے آپ کے پاس اس لئے پہنچ جاتا ہے کہ بیگم کے آنے تک آپ کی تربیت مکمل کردے، جن خواتین کے کندھے پر تل ہو اور وہ ایک شولڈر کٹی ہوئی قمیض یا ساڑھی پہنتی ہوں تاکہ تل نظر آتا رہے تو بلاشبہ یہ خواتین لبرل مائینڈڈ ہوتی ہیں، دعا کرنی چاہئے کسی لبرل کو کندھے سے آگے کہیں تل نہ نکلے۔

جس کے دائیں گال پر تل ہو وہ لوگ حساس ہوتے ہیں، یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ جب ہر کوئی بار بار دیکھے گا تو بندہ خوامخواہ حساس ہو جائے گا، جس کے بائیں گال پر تل ہو وہ لوگ اپنی ہی دنیا میں مگن رہتے ہیں، یہ بات بھی ٹھیک ہے یعنی آئے روز کی تانکا جھانکی سے تنگ آکے لازمی طور پہ بندہ بےحس ہو جاتا ہے، جس کی گردن پر تل ہو وہ لوگ عملی ہوتے ہیں، کیونکہ تل انہیں گردن سے پکڑ کے کام میں لگائے رکھتا ہے، جس کے سینے پر تل ہو وہ آسائش کی زندگی کا خوگر ہوتا ہے کیونکہ تل اس کے سینے پر زور لگاتا ہے کہ پیو دیا پترا توں کوئی کم نہ کریں، اسی حساب سے کمر کا تل اچھا ہوتا ہوگا جو کام پر جانے کو دھکیلتا ہوگا، دائیں ہاتھ پر تل کا مطلب ہے کہ بندہ زیادہ کمانے والا ہے اور بائیں ہاتھ پر تل کا مطلب ہے کہ یہ بندہ زیادہ خرچ کرنے والا ہے، ایسے بندے کو چاہئے کہ بایاں ہاتھ دائیں پر ملا کرے تاکہ جو بھی خرچ ہو وہ اپنے اوپر ہی خرچ ہو۔

پاؤں پر تل کا مطلب سفر کرنے کا شوق ہے، ایسے بندے کو میڈیکل سپلائیز کا شعبہ چن لینا چاہئے، ورنہ سیاحت بہت خرچے والا کام ہے، اگر کسی کے پیٹ پر تل ہے تو وہ اپنا ذاتی ہوٹل کھول لے، اگر ناف کے پاس تل ہے تو قسمت سے تیل کا کنواں نصیب ہوگا، جس کے کولہے پر تل نکل آیا تو اسے بَیلی ڈانسر بننے سے کوئی نہیں روک سکتا، اگر کسی نے روکا تو وہ ضرور مدمقابل ہی ہوگا جو اسے فیلڈ سے باہر رکھنا چاہتا ہوگا، بازو پر تل کا مطلب ہے ایسا بندہ اچھے فیصلے کرنے والا ہوتا ہے، مطلب کہ اچھے فیصلے کرنے کیلئے اور کچھ ہو نا ہو بازو پر تل ضرور ہونا چاہئے، ایسے بندوں کو تلاش کرکے وزیر لگوا دینا چاہئے تاکہ ہمارے ہاں بھی کوئی اچھے فیصلے ہو سکیں۔

جو تل نظر آتے ہیں ان کا ظاہری مفہوم سچ ہے تو پھر جو تل اندر خانے ہوتے ہیں وہ ضرور کسی خفیہ منصوبہ بندی کے غماز ہوں گے، بعض لوگوں کے تل جسم کے اندر ہوتے ہیں، جس کی زبان پہ تل ہو وہ اینکر بن جاتا ہے اور جو اینکر کے شو میں تلملا رہے ہوتے ہیں ان کی ہتھیلیوں کے اندر تل ہوتے ہیں جبھی وہ لائیو شو میں اپنی ہتھیلیوں کے تل ایکدوسرے پر آزماتے ہیں اس عمل سے چند منٹ پہلے کے قصے کو تلملاہٹ بھی کہتے ہیں۔

جب ناک پر تل غصہ آور ہونے کی علامت اور گردن پر تل عملی ہونے کی علامت ہے تو اس حساب سے پھڈے بازوں کی ناک اور گردن دونوں جگہ پر تل تلاش کرنا چاہئے تاہم ساس بہو ان تکلفات کے بغیر بھی جھگڑا کرنے پر قادر ہوتی ہیں، چینی جسقدر کام میں جتے رہتے ہیں اس حساب سے ان کے بھی گردن اور کمر پر تلوں کا اتنا ہی جھمگٹا ہونا چاہئے جتنا دنیا بھر کے بازاروں میں ان کے سامان کا جھمگٹا لگا ہوا ہے، میرا ذاتی خیال ہے چینی اپنی گردنوں پر سرمے سے جعلی تل بنواتے ہوں گے جبھی انکی بنائی ہوئی چیزیں ناپائدار نکلتی ہیں، ادھر چینی نے نہایا ادھر اس کا بنایا ہوا کھلونا ٹوٹ گیا۔

اگر کسی کے جسم پر کہیں بھی کوئی تل نہیں تو سمجھیں وہ بیکار انسان ہے جو تلوں کی توانائیوں سے یکسر محروم ہے، کہتے ہیں بکرے کے گوشت کا جو حصہ کھایا جائے وہ انسان کے اسی حصے کو توانائی دیتا ہے، تلوں سے محروم بندے کو چاہئے کہ تلوں والے بکرے کا گوشت کھائے یا اصلی تل کھایا کرے تاکہ اسے تل نکلیں، تل کھا کے ساتھ میں دعا کرنا بھی ضروری ہے تاکہ اسی جگہ تل نکلے جہاں پسند ہو، اگر اتنی سی کوشش سے پسندیدہ مقام پر تل نکل آئے تو سمجھو لاکھوں پائے کیونکہ چینی علم کے مطابق تل انسانی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں تاہم چینیوں کے اس علم کا اپنا ثبوت کوئی نہیں، وجہ وہی ہے کہ چینی کسی چیز کی گارینٹی دیتے ہیں نہ اپنے پیچھے کوئی ثبوت چھوڑتے ہیں۔

گردن کا تل عملی بناتا ہے تو پھر اَملی بنانے والا تل بھی تلاش کرلینا چاہئے، جھوٹے بیانات دینے والے سیاستدانوں کا تل بھی ہنوز دریافت طلب ہے جبکہ سیاسی وارداتوں کی تردید کرنیوالوں کا تل ناممکن الدریافت قرار پایا ہے، کرپشن کے ثبوت کی طرح یہ تل خود کبھی منظر عام پر نہیں آسکتا لیکن اس کا نام بہرحال منظر عام پر آچکا ہے، شاستروں کے مطابق اس کا نام تلدید ہے

سِسی ٹائپ لڑکوں، ٹھرکیوں اور ڈک فیس سیلفی بنانے والوں کا تل دریافت کرنا قیافہ شناسوں کیلئے اس صدی کا سب بڑا چیلنج ہے لیکن مجھے قوی امید ہے کہ یہ اپنے ویہلے پن کی بدولت بہت جلد ان تلوں کو بھی تلاش کرلیں گے، جو لوگ تلوں کی وجہ سے تنگ ہوتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ زرا حوصلہ رکھیں ان کیلئے تلواش نامی بیوٹی ٹریٹمنٹ پلانٹ زیرتعمیر ہے

قصہ مختصر کہ جن لوگوں کے جسم یا چہرے پر تل ہوتا ہے ان کے بارے میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ان کے ہاں تل دھرنے کی جگہ باقی تھی، جن لوگوں کے ہاں تل نہیں ہوتا سمجھیں وہاں کوئی اور ہی جھگڑا چل رہا تھا جس کی وجہ سے ان کے ہاں تل دھرنے کو بھی جگہ باقی نہیں تھی یا پھر تلوں کا آپس میں جھگڑا چل رہا ہوگا اور یہ تلوں سے بچ کے نکل آئے۔

اگر آپ کے ہونٹوں پر اور ان کے گال پر تل ہے تو جیسے شاعروں کو زمین و آسمان کا قلابہ ملانے کی چھوٹ ہوتی ہے اسی طرح آپ کو آپس میں تل..ملانے کی اجازت ہے لیکن اس کیلئے نکاح ضروری ہے، اگر آپ کے ہاں کوئی تل نہیں پایا جاتا تو آپ کو مندرجہ بالا مضمون سے اس محرومی کی وجہ تلاش کرکے تلملانے کی اجازت ہے تاہم اس معمولی سی محرومی پر آہ و بکا قطعی ضروری نہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *