بڑبڑ ۔۔۔۔ عامر حسینی

کافی باتیں جمع ہوگئی ہیں  اور سینے کے اندر اس جمع بندی نے خاصی تنگی پیدا کر رکھی ہے اور میں سوچتا ہوں کہ ان میں سے کچھ باتیں اب کنوئیں پہ آکر کہہ دی جائیں تاکہ دل کا بوجھ ہلکا ہوجائے۔ پاکستانی میڈیا کا “جمہوری حصّہ ” شانت ہوگیا ہے کیونکہ سیرل المیڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے ہٹادیا گیا اور صحافت کی آزادی بچ گئی ہے۔ جمہوریت اور آزادی صحاقت کے بڑے بڑے نام اب دوبارہ اپنے گوشہ عافیت میں چلے گئے ہیں۔

حامد میر صاحب نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پہ سیرل المیڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے ہٹائے جانے تک جس لڑائی لڑنے کا اعلان کیا تھا ، اس نے اپنا ہدف حاصل کرلیا ہے اور اب ان کا صبح سویرے ٹوئٹ یہ تھا کہ ” بارمولا کشمیر کے باسی چین و پاکستان کے جھنڈوں کا بنا مشترکہ بینر اٹھاکر چینیوں سے مدد کی درخواست کررہے ہیں”-

یعنی اسلام آباد کے اشرافی لبرل صحافی کی آزادی کے تحفظ کی لڑائی سے وہ سیدھے کشمیر بارمولہ پہنچ گئے اور ان کو اپنے ملک کے اندر کراچی کے اندر آئے دن اپنے شاعر، لکھاری باپ واحد بلوچ کی رہائی کے لئے روتی ، پیٹتی ہانی بلوچ نظر نہیں آئی اور کیچ ڈسٹرکٹ سے جبری طور پہ اٹھائے گئے طالب علم رہنماء شبیر بلوچ کی بہنوں کی آہ و بکا بھی سنائی نہیں دی- کشمیر کی ماؤں ، بہنوں ، بھائیوں کی چیخ و پکار سنائی دیں اور نہ ان کے ٹوئٹ اکاؤنٹ پہ ان کے ٹوئٹس کے نیچے کمنٹس میں ان کو درخواستیں نظر نہیں آتی ہیں-

اختر مینگل ٹھیک ہی کہتا ہے کہ اسلام آباد والوں کو کشمیر قریب اور بلوچستان بہت دور نظرآتا ہے۔ نسیم زھرا نے جتنی دلجمعی سے سیرل المیڈا کے ایشو پہ ٹوئٹ کئے اور فیس بک سٹیٹس اپ ڈیٹ کیا ، اتنی دلچسپی انہوں نے ہانی بلوچ کے فون نمبر پہ اس سے رابطہ کرنے میں نہیں لی جو انہوں نے مری درخواست کے جواب میں مانگا تھا اور میں نے شکر منایا تھا کہ مین سٹریم میڈیا میں کوئی ایک اینکر تو ایسی ہے جس کے سینے میں دل دھڑکتا ہے اور اس نے ہانی کا فون نمبر لے لیا ہے۔

ڈیلی ڈان دوسرے اخبارات سے ذرا اس لئے بہتر ہے کہ اس نے کم از کم تواتر اور باقاعدگی سے واحد بلوچ رہائی کمپیئن اور سرگرمیوں کی خبریں لگانا شروع کی ہوئی ہیں۔ دی نیوز نے ایک اداریہ لکھ دیا ہے اور ڈیلی ٹائمز نے بھی۔ لیکن ہمارے مین سٹریم اردو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پہ انسانی حقوق ، جمہوریت اور لبرل ازم کی علمبردار صحافتی اشرافیہ کو ابھی تک یہ ایشو اس قابل نہیں لگا ہے کہ اس کو وہ باقاعدہ ایک مہم بنا کر اٹھائے اور ویسا ہی جوش نظر آئے جیسا ہم نے سیرل المیڈا کے معاملے میں دیکھا ہے۔ یہ لبرل اشرافی صحاقت چند لوگوں کی آزادی کی پرواہ کرتی ہے ، ایسا اب لوگوں کو بھی نظر آنے لگا ہے اور اس لئے اب اس پہ کم از کم بات شروع ہوگئی ہے۔

کیرول اینی گرے سین ایک بلاگر ہے اور اس کی ایک ڈاکومنٹری آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد بھی ہوئی تھی اور وہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پہ آواز بھی اٹھاتی ہے اور ایک امریکی صحافی ہونے کے باوجود وہ امریکہ کی سامراجی مداخلتوں پہ کھل کر لکھتی بھی ہے۔ اختر عباس نے مجھے ان سے متعارف کرایا اور میں نے بس ان کو ایک ٹوئٹ میسج کیا اور واحد بلوچ کے کیس کے حوالے سے تمام معلومات فراہم کی ، اس کے بعد انھوں نے خود اس پہ تحقیق کی اور دو بلاگ وہ لکھ چکی ہے اس کے بعد سے اور کئی ایک ٹوئٹ کرچکی ہے۔ اسے مجھے درخواست در درخواست نہیں کرنی پڑی ، اس نے جب یہ سمجھ لیا کہ یہ ایک حقیقی ایشو ہے اور اس پہ بات کرنے کی ضرورت ہے تو اس نے اس پہ سرگرمی کرنی شروع کردی-وہ بنیادی طور پہ ٹیچنگ کرتی ہے اور ان دنوں بیمار بھی ہے اور سرجری کے پروسس سے گزر رہی ہے لیکن اس کے باوجود اس نے یہ ذمہ داری محسوس کی اور اس موضوع پہ لکھا-

یہاں حال یہ ہے ڈان نیوز چینل پہ ٹاک شو “زرا ہٹ کے ” کے اینکر مشرف زیدی کے فیس بک انباکس میں میں نے پیغام بھیجا تھا کہ زرا واحد بلوچ کی بیٹی کو اپنے ٹاک شو میں بلائیں اور اس کی بات سنیں اور اس معاملے پہ آئی جی سندھ ، چیف سیکرٹری سندھ ، سی ایم سندھ مراد علی شاہ کو بھی لائن پہ لیں اور ان سے پوچھیں تو سہی کہ ہانی بلوچ کے خطوط پہ وہ کوئی جواب کیوں نہیں دیتے؟ اور سندھ ہآئیکورٹ کے جس جسٹس کے پاس واحد بلوچ کی جبری گمشدگی کی رٹ زیر سماعت ہے ، اس کے بار بار اس سماعت کو التواء میں ڈالنے اور کبھی غیر حاضر ہونے بارے سوال اٹھالیں اور یہ سوال کریں کہ یہ عدالت اتنی سرگرم کیوں نہیں ہے جتنی سرگرم یہ چیف جسٹس سندھ کے بیٹے کے معاملے پہ تھی اور روزانہ سماعت ہورہی تھی اور ڈیڈ لائن بھی دے دی گئی تھی-

 کیا واحد بلوچ کے لئے یہ سب کچھ نہیں ہوسکتا ؟ واحد بلوچ کی بیٹیاں اور شبیر بلوچ کی بہنیں سپیڈی انصاف کی مستحق نہیں ہیں کیا؟ میں سید خرم زکی کے قتل کیس کی فائل داخل دفتر کئے جانے پہ پہ کوئی بات کرنا نہیں چاہتا کیونکہ میں ایک بزدل آدمی ہوں۔ چاہتا ہوں کہ اس ملک کے مہان سماجی انصاف کے علمبرداروں میں مری پی آر بنی رہے اور وہ مجھے فرقہ پرست قرار نہ دے ڈالیں۔ میں نہیں چاہتا کہ اس کے قتل کیس کو کھولنے کا مطالبہ کروں یا تازہ تازہ نشانہ بنے منصور زیدی اور سید جواد کے قتل کی بات کروں اور آخر میں مجھے یہ وضاحت دینی پڑے کہ میں شیعہ نہیں ہوں ، ایک مارکسسٹ ہوں۔ میں یہ اس لئے بھی کہنا نہیں چاہتا کہ کوئی مری اس بات کو پڑھے اور نیچے کمنٹ میں لکھے کہ اس کے نام کا آخری حصّہ اس کی “مخصوص ” فکر کی نشاندہی کررہا ہے، اس لئے اس کی بات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

اس لئے میں اپنی بزدلی کا اعتراف کرتے ہوئے خرم زکی کے کیس کی فائل بند ہونے پہ کوئی بات کرنا نہیں چاہتا-میں خرم زکی کے کراچی کے دوستوں سے گالیاں کھانے کے موڈ میں نہیں ہوں کہ ان کو یہ نصحیت کروں کہ وہ ایک دوسرے میں کیڑے نکالنے کی بجائے بس کہیں مل کر بیٹھ جائیں اور ایک مشترکہ متفقہ کمیٹی بنائیں اور اس کا ایک ہی ہدف ہو کہ خرم زکی کے کیس کو اوپن کیا جائے اور اس کے لئے وہ کمیٹی متعلقہ حکام سے ملے ، لیف لٹ ، پمفلٹ ، شائع کرے ، سوشل میڈیا پہ کمپیئن بنائے اور اس حوالے سے پریس کانفرنسز ، پریس ریلیز ، میٹنگز ، اجلاس اور واک کرے۔ ایک دوسرے کو معاف کردیں، بھول جائیں کس نے کیا کہا اور کیا کیا ، میں کیوں بھلا ایسی تجاویز دوں ، میں ان کے غصّے کا نشانہ نہیں بننا چاہتا اور کھیل کے بارھویں کھلاڑی کا ویسے کام بھی نہیں بنتا ہے ایسے مشورے دینے کا۔

یہ ایک بڑبڑ ہے جو ایک بیماری ہوتی ہے اور میں اس سے بھی نجات پانے کی کوشش کرتا رہوں گا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *