تحریکی طوطے۔۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

SHOPPING

جس ملک کی چالیس فیصد آبادی کثیر الجہتی غربت کا سامنا کر رہی ہو، کیا اُس ملک کے صدر کو زیب دیتا ہے کہ وہ طوطے پالے؟
جس ملک میں سوا کروڑ کم عمر بچے ایسی فیکٹریوں میں مزدوری کرنے پہ مجبور ہیں جہاں کام کی جگہیں کئی قسم کے خطروں سے بھرپور ہیں۔ وہاں کا صدر بیس لاکھ روپے خرچ کر کے اپنے پالتو پرندے کے لیے پنجرہ بنواتا ہے، کیا اُس صدر کی عزت کرنا ہمارا ‘آئنی فرض’ باقی رہ جاتا ہے؟
جس ملک کی ساٹھ فیصد آبادی صرف پیٹ بھر کر کھانے کے لیے روزی کی جدوجہد میں روز و شب مصروف ہو، اُس ملک کے صدر کے پاس ہی اتنا وقت ہو گا کہ وہ پالتو پرندے پالتا پھرے۔
آیا ایوان صدر کے سول ڈپٹی ڈائریکٹر جناب محمد فاروق اعظم صاحب جنہوں نے یہ ٹینڈر پاس کیا ہے کو بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ کچھ ہی عرصہ قبل وزیراعظم پاکستان نے پرائم منسٹر ہاؤس کی بھینسوں کو 28 لاکھ کے عوض بیچ دیا تاکہ عوام کا 28 لاکھ بھی ضائع نہ ہو، وہ تو کہتے ہیں کہ عوام کا ایک روپیہ بھی فضول ضائع نہ ہو، ایسے وزیراعظم کی موجودگی میں ڈپٹی ڈائریکٹر سول کی جرات ہی کیسے ہوئی کہ وہ بیس لاکھ کا طوطے کے لیے پنجرہ بنوائے۔۔۔۔۔جلدی جلدی اِس ٹینڈر کی واپسی کی جھوٹی موٹی خبر چلائی جائے ورنہ ہم نے تحریک انصاف کے دوستوں کو طوطا کہہ کہہ کر جگتیں مارنا شروع کر دینی ہیں۔

تحریک انصاف کے قائدین نے الیکشن سے قبل اور بعد میں اپنے اُن چالاک، پھرتیلے، سیانے انقلابیوں کو اپنے دفتروں شفتروں میں بُلا کر سوشل میڈیا پہ انقلاب کرنے کے عوض کوئی سرٹیفکیٹ شرٹیفیکیٹ دئیے تھے، ساتھ ہی ساتھ اُن کو اپنے ساتھ آرام سے فوٹو بھی بنوانے دیا تھا۔ اُن انقلابی دوستوں نے پھر تحریک انصاف کے POST MADINA STATE THEORY کے اُن کرتوتوں کا بھی دفاع شروع کر دیا جو اُن کی اپنی رگیں کاٹ رہا ہے۔ میرا خیال ہے رات کے سوا دو بجے وہ سرٹیفکیٹ ہولڈر تحریک انصاف کے انقلابی سو رہے ہوں گے۔ لہذا کل صبح تک اُن کے جاگنے کا انتظار کرتے ہیں کہ وہ ہمیں عمران نیازی کی مدینہ والی ریاست کے منصوبے میں بیس لاکھ کا طوطے والا پنجرہ بننا کیوں ضروری تھا؟

ویسے میں ابھی تک بہت کنفیوز ہوں۔ نوازشریف اور آصف زرداری کی باقیات ہی عمران خان کی نیازی حکومت کو کافی ہیں۔ ورنہ صدر عارف علوی بذات خود ایک اچھی طبیعت کے حامل لگتے ہیں، بلکہ صدر بننے کے بعد اُن کی ایک تصویر بنچ پہ سوتے ہوئے بطور اعلی مثال برائے سادگی سوشل میڈیا پہ وائرل ہوئی تھی، اب ایسا سادہ بندہ بیس لاکھ کا پنجرہ بنانے کا فیصلہ تو نہیں کر سکتا، لہذا یہ محمد فاروق اعظم نامی ڈپٹی ڈائریکٹر مجھے نواز شریف یا زرداری کا کوئی وفادار لگتا ہے جو تحریکی حکومت کو بدنام کرنا چاہتا ہے۔

تحریک انصاف کے سرٹیفکیٹ شرٹیفیکیٹ ہولڈر دوستوں سے گزارش ہے اِس پیراگراف کو نہ پڑھیں کیونکہ ہو سکتا اُن کو شرم آ جائے۔ ایک دن بال کٹوانے گیا تو وہاں نوائے وقت پڑا ہوا تھا۔ اُس پہ مولانا فضل الرحمن کا ایک بیان شائع تھا کہ “سیاست جھوٹ اور دھوکہ دہی کا نام بن گئی ہے”۔ جیسے ہی میں نے بیان پڑھا تو میرا قہقہہ نکل گیا۔ ایک دن ایک قول پڑھا کہ “مجھے علم ہے مجھے جیل بھیج دیا جائے گا، اپنے ملک میں جمہوریت کی بقا کی جدوجہد میں اس قربانی سے دریغ نہیں کروں گا”، جیسے ہی اس عظیم قول کے نیچے نواز شریف کا نام پڑھا تو متلی آنے لگ گئی۔ ایک دن آصف زرداری کا بیان پڑھا کہ “میں پاکستان اور بھارت کو امن کی راہ پہ گامزن کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کروں گا” تو مجھے اُس کے اعتماد پر  حیرانی نہیں ہوئی بلکہ غصہ آیا کہ کیا یہ لوگ عوام کو  اتنا  احمق سمجھتے ہیں؟ آج جب ایوان صدر کے ڈپٹی ڈائریکٹر سول کی طرف سے طوطے کے پنجرے کے لیے بیس لاکھ کا ٹیندر نوٹس جاری کیا گیا اس دن اگر عمران خان گلف نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہے کہ “عوام کا پیسہ برباد کرنے والوں کا لازمی احتساب ہو گا” تو یقیناً گالیاں دینے کو دل کرتا ہے۔

جب ہم نواز شریف کی نااہلیوں پہ تنقید کرتے تھے
جب ہم زرداری اینڈ کو ہدفِ تنقید بناتے تھے
تو تحریک انصاف کے لوگوں نے ہمارا ساتھ دیا، مجھے یاد ہے۔ انقلاب ایک ایسا لفظ ہے جو ہم مارکسی لیہ شہر کے چوک چوراہوں بیٹھکوں محلوں ہوٹلوں بازاروں تعلیمی درسگاہوں ہسپتالوں ڈسپنسریوں دریا سندھ کنارے درختوں کے جُھنڈ  کے ساتھ ٹوٹے ہوئے بنچوں اور دریوں پہ متواتر استعمال کرتے آ رہے تھے۔ حتی کہ شانی شاہ، وقاص اسلم، سرفراز، مرزا سمیت مارکسی دوستوں نے تحریک انصاف کی یوتھ میں انٹرازم کے لیے اُن کے ساتھ چار سے پانچ نشستوں کا اہتمام کیا۔ اُن لڑکوں میں سے دو تین پارس جان کی لیڈ آف میں شریک ہوئے اور پارس کے ساتھ خوب مکالمہ کیا تھا۔
یہ بتانے کے ساتھ آپ کو یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ وہ لڑکے تبدیلی کے خواب اور جنون میں بہت متحرک اور منتظر تھے۔ آنے والے خوبصورت کل کا خواب اُن کی آنکھوں میں سورج کی چمک بھر رہا تھا۔ بہتر تعلیم کی آس نے اُن کو عمران خان کے سحر میں مبتلا کر رکھا تھا۔ روزگار، سستا معیار زندگی اور مواقع تک یکساں رسائی جیسے بنیادی نعروں کے حامل وہ نوجوان مجھے آج بھی یاد ہیں۔ وہ انقلاب اور تبدیلی کے یوں متمنی تھے جیسے ماہیوال کے لیے سوہنی بےقرار تھی۔

SHOPPING

ایک لیڈ آف کے دوران اُن نوجوانوں کو یہ بتانے کی سعی کی تھی کہ امیر لوگ کبھی بھی کسی بھی صورت میں غریب کی بہتری نہیں سوچ سکتے۔ ایک غریب کا استحصال ایک امیر ہی کرتا ہے۔ ایک امیر حکمران غریب کو بہتر معیاردے ہی نہیں سکتی۔ کوئی بھی امیر شخص اپنی معاشی رگیں نہیں کاٹ سکتا۔
لیکن وہ نوجوانوں کا جتھہ عمران خان پہ مکمل اعتماد کرتے تھے کہ وہ ملک اور قوم کی حالت یکسر بدل دے گا، وہ انقلاب لے آئے گا۔ جب اُن نوجوانوں نے یہ خبر پڑھی ہو گی کہ بیس لاکھ روپے خرچ کرکے ایک طوطے کے لیے پنجرہ تیار کروایا گیا ہے تو اُن کے دل پہ کیا گزری ہو گی۔ کالج کی فیس میں اضافہ، بجلی، گیس، تیل، ادویات سمیت تمام اشیاء مہنگی۔۔۔۔ قوم کو مشکل حالات کا سامنا کرنے کے لیے صبر کا پیغام۔۔۔۔۔ لیکن جب وہ نوجوان بیس لاکھ کا طوطوی خرچہ دیکھتے ہوں گے اُن کے ارمانوں کی کرچیاں کتنی نسلوں تک اداسی بکھیرتی رہیں گی۔

SHOPPING

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *