بلاول بھٹو کے لیے چند مشورے ۔۔۔۔ محمود شفیع بھٹی

پاکستان پیپلز پارٹی جمہوری روایات اور اخلاقیات کی امین جماعت رہی ہے۔ اس جماعت کا نام عوام سے محبت اور عوامی سیاست سے تعلق کی وجہ سے پیپلزپارٹی رکھا گیا۔ لیکن یہ جماعت اپنے قیام کے چند سال بعد ہی عوامی ڈگر سے ہٹ گئی۔ قومیانے کے نام پر سیاسی انتقام شروع کردیا گیا جس کے اثرات آج بھی ہماری صنعت پر نمایاں ہیں۔ ذوالفقار بھٹو صاحب جو اپنے دوٹوک موقف کی وجہ مشہور تھے اور ان کا اصل ہتھیار ان کا طرز خطابت اور عوامی انداز تھا۔ ان کی قابلیت پر تو کوئی شک نہیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ سقوط ڈھاکہ میں کس کس نے حصہ ڈالا تھا۔ پیپلز پارٹی کی روح کی تو اس وقت موت ہوگئی تھی جب اس جماعت میں کثیر تعداد میں وڈیرے جمع ہوگیے تھے اور سیاسی فیصلے بھی ان کی منشاء کے مطابق ہونے لگے تھے۔

محترمہ بینظیر بھٹو نے اگرچہ اپنی جماعت کو بام عروج تک پہنجایا۔ لیکن بی بی بھی جاگیرداروں کی اجارہ داری اور ان کی ہٹ دھرمی سے مجبور تھیں۔ محترمہ کی شہادت کے بعد جہاں پارٹی کرپشن کا گڑھ بنی، وہاں غیر نظریاتی لوگوں کی بھی بھرمار ہوئی جس سے پارٹی کا وہ جیالا جس نے ضیاء دور میں کوڑے کھائے تھے متنفر ہوکر ساتھ چھوڑ گیا۔موجودہ پارٹی اور بھٹو کی پارٹی میں بہت فرق آچکا ہے۔ آج کے نظریات صرف جی حضوری پر قائم ہیں۔ اس جماعت کو ضیاء کی آمریت تو ختم نہ کرسکی لیکن زرداری نے اس کو ختم کردیا ۔ آج پنجاب میں جہاں پی پی کا امیدوار کھڑا ہوتا ہے، اس کی ضمانت ضبط ہو جاتی ہے۔ عوام نے اس جماعت سے کیا منہ موڑا کہ اس کی بنیادی حیثیت ہی ختم ہوگئی۔ آج یہ جماعت سیاسی طور پر ایک علامت کے سوا کچھ بھی نہیں۔

پیپلز پارٹی آج پنجاب میں سواۓ پریس کانفرنسوں کے کہیں کھڑی نظر نہیں آتی۔ پنجاب کے ووٹرز کا یہ خاصہ رہا ہے کہ وہ تیسری قوت کی طرف نہیں آجاتے۔ پنجاب میں آج صرف ن لیگ اور تحریک انصاف کےدرمیان مقابلہ ہے۔ بلاول بھٹو اگرچہ نوجوان، پڑھے لکھے اور سمجھدار بھی ہیں لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان کا نوجوان ووٹر ان کو اہمیت دے گا؟ بلاول کی سیاسی ملاقاتیں اور پریس کانفرنسز سے کیا یہ نوجوان مطمن ہوگا؟ آج عوام صرف ن لیگ اور عمران خان کی جانب دیکھ رہے ہیں اور بلاول جن سیاسی قائدین سے ملاقاتیں فرما رہے ہیں، کیا ان کو عوام پزیرائی دیتے ہیں؟ بلاول جن لوگوں کو انکل کہہ رہا ہے، انہیں بعض لوگ غدار وطن کہتے ہیں۔ اس ملک کا وہ نوجوان جو عمران خان کی وجہ سے شعور یافتہ ہوا کیا وہ اس طرح کے طرزعمل سے متاثر ہوگا؟

گزشتہ چند دنوں سے پیپلز پارٹی میں ٹھہراو آگیا تھا لیکن بلاول کی بچگانہ سیاست اور عمران خان کے دوٹوک موقف کی وجہ سے پی پی کا گراف پہلے سے زیادہ نیچے جا چکا ہے۔ پاکستان کا وہ نوجوان جسے موروثیت سے نفرت ہے، کرپشن کا خاتمہ چاہتا ہے، سیاست میں برابری چاہتا ہے اور لیڈر تک اپنا موقف پہچانا چاہتا ہے وہ کیسے محترم بلاول کی جماعت سے متاثر ہوگا جس جماعت میں اس کی دادا کی عمر کے لوگ اس کے پیچھے کھڑے ہوکر اس کی ہر غلط بات کو بھی سراہ رہے ہوں۔ کرپشن کو جمہوریت سے تشبیہ دے رہے ہوں اور ایک بچے کو اپنا لیڈر کہہ رہے ہوں۔ اس جماعت سے کس طرح نوجوان متاثر ہوگا؟

پاکستان کا نوجوان ووٹر آج بھی عمران خان کی جانب جھکاؤ رکھتا ہے کیونکہ یہاں انہیں امید ہے، تمنا ہے۔ بلاول اگر پارٹی کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں تو پہلے رضاکارانہ طور پر چئیرمین شپ سے استعفی دیں اور کسی نظریاتی شخص کو معاملات سونپیں۔ دوسری بات یہ کہ بلاول اپنا طرزعمل جمہوری کریں اور پارٹی الیکشن کروائیں۔ پارٹی کے نعروں سے جئے بھٹو وغیرہ ختم کریں کیونکہ نوجوان نسل کو بھٹو سے کیا لینا دینا؟ پارٹی کے تنظیمی معاملات میں دخل اندازی ختم کریں اور میرٹ کو بنیاد بنائیں۔ عمران خان کی طرز پر اپنے وزراء شرجیل میمن، ڈاکٹر عاصم اور دیگران بشمول زرداری صاحب کو احتساب کے عمل سے گزاریں تاکہ عوام کو پتہ چلے کہ پیپلز پارٹی بھی ایک سنجیدہ سیاسی جماعت ہے جو حقیقی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *