مفتی منیب الرحمن کا مکتوب ۔۔۔محمد اظہار الحق

محترم جناب اظہار الحق صاحب السلام علیکم و رحمتہ و برکاتہ! دعا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ صحت و سلامتی کے ساتھ اپنے حفظ و امان اور عافیت میں رکھے۔ میں آپ کا کالم باقاعدگی سے پڑھتا ہوں‘ آپ صاحبِ علم ہیں‘ آپ کی شخصیت کا تضاد یہ کہ آپ اپنا دینی و علمی پس منظر بھی بتاتے ہیں اور لبرل ازم بھی آپ کے مزاج کا حصہ ہے‘ علماء سے بھی آپ اکثر ناراض رہتے ہیں۔ رویتِ ہلال کے حوالے سے آپ کا موقف میں پڑھتا رہا ہوں‘ آپ نے اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ(ISNA) کے سائنسی کیلنڈر کا بھی حوالہ دیا ہے‘ یہ کم علم فقیر امریکہ جاتا رہتا ہے اور اس کیلنڈر کا بخوبی علم ہے۔ISNAنے جو کیلنڈر ترتیب دیا ہے‘ اس کا امکانِ رویت سے دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے اور اس کی وجہ سے ISNAتقسیم ہوئی اور اس کے بطن سے اسلامک کونسل آف نارتھ ISNA وجود میں آئی، اس کیلنڈر نے مسلمانوں کو مزید تقسیم کر دیا۔ اس سال بھی امریکہ میں تین عیدیں ہوئیں ایک منگل‘ ایک بدھ اور ایک جمعرات کو۔ ISNAوہی تنظیم ہے جس نے امریکی حکومت کو خوش کرنے کے لئے LGBTیعنی Lesbian,Gay,Bisexual, Transgender بل کی حمایت کی تھی۔ میں اس پر ماضی میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں۔ ہم آپ کے مقابلے میں کم علم سہی‘ لیکن ایک طالب علم کی حیثیت سے معاصر دنیا کی بہت سی چیزوں کا ہم بھی مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔ آپ نے گزشتہ کالم میں بھی چند باتیں کی تھیں۔ سلیم صافی صاحب کے تین کالموں کے جواب میں ،میں نے تین کالم لکھے ہیں‘ آخری ابھی چھپا نہیں ہے‘ وہ تینوں کالم آپ کو بھیج رہا ہوں۔ اگر آپ کم علموں کا موقف پڑھنے اور سمجھنے کے روادار ہوں ‘ تو ان کا مطالعہ فرما لیجیے‘ آپ کو بھیج رہا ہوں۔ نیز مسئلہ رویتِ ہلال پر میرے فتاویٰ پر مشتمل ایک مستقل رسالہ بھی موجود ہے۔ جس میں اس پر اٹھنے والے تمام سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں۔ رہا آپ کا یہ سوال کہ مفتی منیب الرحمن اور مفتی پوپلزئی میں سے کس کی بات مانی جائے تو نہایت ادب کے ساتھ گزارش ہے کہ اسلامی شریعت اور جدید مُتمدن دنیا میں بھی قضا ریاست تفویض کرتی ہے اور یہ ریاست کا دائرہ اختیار ہے‘ کوئی بھی شخص از خود جج یا قاضی نہیں بن سکتا۔ رویتِ ہلال کمیٹی کا منصب بھی رویت کی قضا ہے اور سلطنت عثمانیہ کے ضوابط قوانین پر مشتمل’’المجلۃ الاحکام العدلیہ‘‘ میں لکھا:’’عمومی قضا کے علاوہ کسی خاص شعبے کے لئے بھی الگ سے قاضی مقرر کیا جا سکتا ہے‘‘افتاء اور قضاء میں فرق ہے‘ افتاء کسی پیش آمدہ مسئلے پر فقہی رائے یعنیJuristic Opinionکا نام ہے اور اس کی تنفیذ کے لئے اس کی پشت پر ریاستی اتھارٹی نہیں ہوتی‘ جبکہ قضا فیصلہ کرنے کا نام ہے اور اس کے پیچھے ریاستی اتھارٹی ہوتی ہے۔ مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان کسی کو پسند ہو یا ناپسند‘ ریاست کی مقررہ ہے جبکہ عالی جناب مفتی پوپلزئی صاحب کو ریاست نے مقرر نہیں کیا‘ وہ خود ساختہ ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ان کے باپ دادا کی میراث ہے اور وہ اس سے دست بردار نہیں ہوں گے۔ رویت کے مسئلے میں مرکز یا وفاق سے ان کا اعتزال و انحراف قیامِ پاکستان سے چلا آ رہاہے‘ ثبوت کے طور پر 1958ء کے ایک قومی اخبار کی متعلقہ خبر کا عکس آپ کو بھیج رہا ہوں۔ آپ ہماری بیورو کریسی میں اعلیٰ ترین منصب پر فائز رہے ہیں‘ سو آپ کی طرف سے یہ سوال اٹھانے پر مجھے حیرت ہوئی اور قدرے افسوس بھی‘ بہرحال آپ مالک و مختار ہیں‘ ہم عاجز بندے ہیں۔ ایسا سوال اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص ریاست کے مقابل کھڑا ہو سکتا ہے اور اپنے احکام جاری کرسکتا ہے۔ ملا فضل اللہ اور صوفی محمد نے یہی کام تو کیا تھا‘ پھر ان کے خلاف ایکشن کا کیا جواز رہ جاتا ہے‘ کیونکہ وہ بھی شریعت کے نام پرگردنیں کاٹ رہے تھے اور سوات مالا کنڈ میں ریاست کی رِٹ کو مفلوج کر دیا تھا۔ لال مسجد کا سانحہ بھی اسی سے ملتا جلتا تھا۔ ریاست کے حساس ادارے کے اعلیٰ افسران نے پوچھا:’’اس مسئلے کا کوئی حل ہے؟ میں نے کہا:’’یقینا ہے۔ مفتی شہاب الدین پوپلزئی کو اعتزالی و انحرافی رویے سے روک دیا جائے۔‘ میں نے ان سے کہا:’’اگر دس سال پہلے کوئی دو کروڑ آبادی والے شہر کراچی کے کسی شہری سے پوچھتا کہ آیا کراچی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے‘ تو وہ فی البدیہ جواب دیتا:ہرگز نہیں‘ مگر آپ نے چاہا تو کر دیا‘ اسی طرح آپریشن راہ راست‘ ضرب عضب اور ردالفساد بھی کئے‘ مگر یہاں ہمارے ادارے ایک شخص کو کنٹرول نہیں کرنا چاہتے‘ تو نہیں ہو رہا‘‘ پختونخوا کے جید علماء کبھی بھی اس مسئلے میں فریق نہیں بنے‘ مفتی شہاب الدین پوپلزئی صاحب نے ایک Nuisance Valueحاصل کررکھی ہے‘ اسے مذہبی دہشت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے اور وہ اسے نہایت کامیابی سے استعمال کر رہے ہیں۔ پشاور(پچاس فیصد) مردان‘ چارسدہ‘ نوشہرہ‘ صوابی اور بنوں شہر(مضافات نہیں) کو انہوں نے اپنے حصار میں لے رکھا ہے اور ہمارا میڈیا اسے پورے صوبہ‘ خیبر پختونخوا سے تعبیر کرتا ہے۔ اس سال میڈیا نے قدرے بہتر رپورٹنگ کی اور بتایا کہ پشاور کے نصف شہر‘ ہزارہ ڈویژن کے سات اضلاع ‘ سوات مالا کنڈ ڈویژن‘ تیمر گرہ‘ بونیر ‘ دیرچترال ‘ کوہاٹ شہر‘ ڈی آئی خان ڈویژن اوربعض قبائلی علاقوں میں مرکز کے ساتھ عید منائی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ جناب محمود خان کے اپنے حلقے میں عید مرکز کے ساتھ بدھ کو ہوئی۔ سو لوگ مذہبی لوگوں کو ووٹ نہیں دیتے۔ لیکن تاحال مذہب کی باگ ڈور سیاستدانوں کو تفویض کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔ رہا یہ سوال کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان پشتونوں کی گواہی کو نہیں سنتی۔ یہ بہتان ہے الزام ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ زونل رویت ہلال کمیٹی ہر ضلع میں موجود ہوتی ہے‘ گواہ وہاں آئیں۔ وہ ہم سے رابطہ کرائیں گے ہم جرح و تعدیل اور تزکیۃ الشہود کریں گے‘ البتہ شہادت کا ردو قبول قاضی یا مجلس قضا کا شرعی اور قانونی اختیار ہے‘ شہادت علی الاطلاق کسی جرح اور تزکیہ کے بغیر روئے زمین کے کسی نظام میں حجت قطعیہ نہیں ہے۔ کیا پشاور کی ماتحت عدالتوں سے لے کر ہائی کورٹ تک انہی لوگوں کی شہادتیں رد نہیں ہوتیں۔ میرا آبائی تعلق صوبہ خیبر پختونخواہ سے ہے۔ اگرچہ اب میں کراچی میں قیام پذیر ہوں۔ اگر کسی کا ادعایہ ہو کہ وہ علاقے بلند ہیں‘ اس لئے چاند نظر آ جاتا ہے، ایسا نہیں ہے، بلند علاقے تو گلیاں‘ آزاد کشمیر ‘ کاغان اور ہزارہ ڈویژن کے دیگر پہاڑی علاقے اور گلگت بلتستان وغیرہ ہیں‘ ان علاقوں میں کبھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا، یہ صرف مخصوص علاقوں کا Mindestہے، ذہنی نہاد ہے۔ مرکز سے اعتزال و انحراف کا ایک رویہ ہے۔ ماضی میں بھی یہی کچھ ہوتا رہا اور پچاس فیصد وزرائے اعلیٰ پشاور ڈویژن ہی کے رہے ہیں۔ انہوں نے مقامی حالات کے تحت عید پڑھ لی۔ لیکن اسے قومی سطح پر مسئلہ نہیں بنایا۔نہ صوبائی حکومت کی طرف سے سرکاری طور پر عید کا اعلان کیا مگر آصف علی زرداری صاحب کے بقول یہ انڈر فورٹین کی حکومت ہے۔ سو انہوں نے اس سال یہ نمایاں کارنامہ انجام دے دیا اور خود اپنے ہی صوبے میں ان کے حصے میں رسوائی آئی اور میرے لئے یہ حیرت کا سبب ہے کہ صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی صاحب کے بقول انہوں نے جناب عمران خان صاحب کی منظوری سے یہ نمایاں کارنامہ انجام دیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ ستاون مسلم ممالک میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں درجنوں کالم نگار رویت ہلال پر طبع آزمائی کرتے ہیں‘ ٹاک شوز میں ہر فن مولا اینکر پرسنز شرعی مسئلے پرفتاویٰ صادر کرتے ہیں۔ یہ کسی اور مسلم ملک میں نہیں ہوتا۔ معلوم نہیںکہ یہ ہماری جمہوریت اور آزاد میڈیا کا مثبت استعمال ہے یا منفی یا ہمارے دوستوں کے پاس بوجوہ موضوعات کی قلت ہے۔ سارے مسئلے کا آغاز سعودی عرب سے ہوتا ہے۔ اگر وہ رویت حقیقی یا امکان رویت کی طرف آئیں تو عالمی سطح پر اسی نوے فیصد یہ مسئلہ خود ہی حل ہو جائے۔ اس سال بھی آسٹریلیا‘ جاپان‘ تھائی لینڈ‘ ملائشیا‘ بنگلہ دیش‘ انڈیا‘ پاکستان‘ ایران‘ عمان‘ ترکمانستان‘ ازبکستان‘ امریکہ‘ کینیڈا‘ برطانیہ اور ہالینڈ میں امکان روایت یا حقیقی رویت پر مدار رکھنے والوں نے ہمارے ساتھ بدھ ہی کو عید کی ہے اور پہلی مرتبہ مصر‘ لبنان‘ سوڈان اور صومالیہ نے بھی سعودی عرب سے انحراف کیا۔ سو مسئلے کی جڑ وہاں ہے۔ والسلام با احترمات فائقہ /منیب الرحمن

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *