رانے پہ دانے۔۔۔۔سلیم مرزا

چکن پاکس دو لفظوں کا مجموعہ ہے ۔چکن اور پاکس۔پاکس لکھیں تو خودبخود پاکستان لکھا جاتا ہے اور چکن کا مطلب بہرحال پاکستانی مرغ ہی ہے ۔امریکہ میں چکن لفظ کثیر المقاصد معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے کہ شرم آتی ہے ۔پنجابیوں کے پاس اس کے متبادل بے شرم لفظ موجود ہیں ۔امریکیوں کا کیا ہے انہوں نے تو بلی لفظ کو جہاں استعمال کیا ہے، گیلی گلی لگنے لگی ہے، بدتمیز لوگ ہیں ڈاکٹر کو بھی اتنا مختصر لکھتے ہیں کہ واوین کے فرق سے ڈاکٹر وہاں لکھا لگتا ہے جہاں پنجابی معیشت کو لکھتے ہیں۔

بات ہورہی تھی چکن کی تو چکن پاکس میں دیسی مرغا ہی استعمال ہوا ہے ۔جو اسے برائلر سمجھتا ہے، وہ پکا ن لیگیا ہے۔
برائلر کا تعلق چونکہ برگر فیملی سے ہے، لہذا عموماً  سست ہوتا ہے، اس کی پرورش بھی محدود علاقے میں ہوتی ہے، لہذا اسے تاریخ سے کوئی غرض نہیں ہوتی، یہ جہاں ہو گا ۔دھرنے میں ہی ہوگا۔
اس کے برعکس دیسی مرغا، اسمارٹ اور حالات کا بھیدی ہوتا ہے، اس کی پرورش لامحدو ایریا میں ہوتی ہے، اسے مذہب کی مکمل آگاہی ہوتی ہے لہذا مسجد اور مولوی سے دور رہتا ہے، محلے کے جغرافیے کا مکمل پتہ ہوتا ہے، لہذا عموماً کتوں سے بچا رہتا ہے، سائنس، آرٹ، کے علاوہ سیکس اس کے پسندیدہ مضامین ہیں، معاشرتی اور سماجی روابط کی وجہ سے اسکے معاشقوں کی تعداد ہمیشہ سے باعث حسد رہی ہے،اسے لڑانے، اور لڑائی کی تیاری دونوں مقاصد میں استعمال کیا جاتا ہے ۔

مولوی، حور اور دیسی مرغا مومنوں کے جذبات کو ہمیشہ سوا نیزے پہ رکھتے  ہیں۔
بدذوقی کی انتہا ،اور گوروں کی کمینگی ملاحظہ ہو ۔۔دیسی مرغے کو خسرے جیسی بیماری کے معنوں میں استعمال کیا ہے، اب خسرہ کوئی اچھا مرض تو نہیں ہے ۔چلوں بچوں کی حد تک تو ٹھیک ہے، کہ بندہ ڈاکٹر کو کھول کھول کر بتاتا ہے کہ کہاں کہاں دانے نکلے ہیں، لیکن اگر کسی بڑے کو چکن پاکس ہو تو کھسرا چھپائے کیا اور دکھائے کیا؟
سوری کھوتے والی “کھ” سے لکھا گیا ۔۔گرمی کی زیادتی کی وجہ سے کھر دماغی کی سی کیفیت ہے۔
خسرے کو ویسے کھوتے والی کھ سے لکھنے سے صوتی اثرات پہ اتنا اثر نہیں پڑتا جتنا کھوتے کی مردانگی پہ شبہ بڑھ جاتا ہے،
لہذا خسرے کو ہمیشہ خرگوش والی خ سے ہی لکھیں،
ایک بار میں نے کھسرے کو خصرہ لکھا تو لفظ میں وہی شان نظر آئی جو بڑی عید پہ خصی دنبے میں نظر آتی ہے۔
اکثر اطباء کی رائے میں بعض بیماریاں تذکیر وتانیث کا لحاظ نہیں رکھتیں، لہذا لیکوریا کسی کوبھی ہوسکتا ہے۔
شوگر خالصتاً  زنانہ مرض ہے جو مٹھاس کی زیادتی کی وجہ سے ہوتا ہے، اسی طرح بلڈ پریشر مردانہ بیماری ہے جو نمکین حسن کی وجہ سے ہوتی ہے۔
بات ہورہی تھی چکن پاکس کی یہ سب سے پہلے کے ایف سی والے بابے نے دریافت کیا،اسی لئے انہوں نے اسکی تصویر ہر دکان کے باہر یوں لگائی ہوتی ہے جیسے سوشل میڈیا پہ نئی جگت کی ایجاد کیساتھ فواد چوہدری کی فوٹو۔۔
اس کے بعد یہ بیماری اتنی مشہور ہوئی کہ گل نوخیز اختر کو بٹ کڑاھی والے نے بتایا کہ آئندہ کالی مرچ میں بنے دیسی مرغ کو چکن پاکس نہیں کہنا۔
لہذا ہم بھی اسے خسرہ ہی کہیں گے ۔خسرہ براہ راست رابطے اور ہوا میں موجود جراثیم سے پھیلتا ہے ۔مکالمے سے نہیں لہذا، انعام رانا صاحب کو ہونے والے خسرے سے معاذ بن محمود کو کوئی خطرہ نہیں ۔بس عیادت کرتے ہوئے موبائل پرے رکھیں اور اپنے اسپیکر آن رکھیں ۔
اور اس کھوج میں بالکل نہ پڑیں کہ رانا صاحب نے یہ خسرہ براہ راست لیا ہے ۔۔یا ہوا کے ذریعے؟
خسرے کے مرض میں جسم میں نمی برقرار رکھنے کی بہت ضرورت ہوتی ہے ۔لہذا مائع اشیا کا استعما ل زیادہ کریں ۔
میں انگلینڈ ہوتا تو کلینک کی بجائے بار میں ایڈمٹ ہوجاتا۔۔
رانا صاحب  اپنے حساب سے جوڑ توڑ کریں۔
باقی تمام مکالمہ ممبران اور پڑھنے والوں سے گذارش ہے کہ ان کی صحت کاملہ اور عاجلہ کی دعا کریں۔
اور انہیں نصیحت بھی کریں کہ آئندہ براہ راست میل ملاقاتوں سے گریز کریں ۔
آخر شادی شدہ ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *