گڈ بائی الطاف بھائی۔۔۔۔۔ذوالفقار زلفی

سیکولر قوم پرست مہاجر دانش ور سید اختر رضوی نے میز کے نیچے چھپے الطاف حسین کو باہر نکال کر مہاجروں کا لیڈر بنا دیا ـ بلوچ اور سندھی قوم پرستوں و دانش وروں کے دوست اختر رضوی ، سندھی مہاجر اتحاد کے پرجوش حامی تھے ـ

بلوچ قوم پرست دانش ور مرحوم یوسف نسکندی کے مطابق اختر رضوی کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ اردو بولنے والے مذہب فروش ملاؤں کے چُھنگل سے نکل کر سیکولر قوم پرستی کا دامن تھامیں ـ

الطاف حسین قوم پرست دانش ور کی میز کے نیچے سے نکلے اور ان کی فکری رہنمائی کے بل پر مہاجروں کے مسیحا بن گئے مگر ……

دور بیٹھے، راولپنڈی کے ڈائریکٹر و اسکرپٹ رائٹر بھی موقع شناس نکلے ـ پنڈی کے نظریہ دانوں نے الطاف حسین کو نظریاتی قوم پرستی چھوڑ کر فاشزم کی ترغیب دی ـ طاقت اور اسلحہ فراہم کیا، انہیں یقین دلایا :

ساڈے نال رہو گے تے عیش کرو گے ـ

الطاف حسین نے رخ بدلا ، سید اختر رضوی، قائد کے غدار اور موت کے حق دار بن گئے ـ

آئیے، جائیے، پہلے آپ اور آداب و تسلیمات سے مشہور قوم کا نعرہ بن گیا :

“ہم سے جو ٹکرائے گا ـــــ لال بتی جائے گا” ـ

سب سے پہلے پشتونوں کو لال بتی بھیجنے کی کوشش کی گئی ـ لال بتی یعنی ایمبولینس کی سرخ بتی ـ پھر لال بتی کا رخ پنجابی کی جانب موڑا گیا ـ پنڈی کے گھاگ نظریہ دانوں نے غلام سرور اعوان تراش کر “پنجابی پختون اتحاد” کا شوشہ چھوڑا ـ گھمسان کا رن پڑا ـ

“پنجابی پختون ـــــ بھائی بھائی” ـ

کراچی میں ایک اور نعرے کا اضافہ ہوا ـ نفاست کا پردہ چاک کرنے والی نوجوان اردو نسل نے جواباً کہا :

“مہاجر ان کا دولہا بھائی” ـ

“شہر بلوچ کا ہے اور بلوچ کی ہی کوئی عزت نہیں” لیاری سے انور بھائی جان کی آواز گونجی ـ

“کراچی پہلے بلوچوں کا پھر مہاجروں کا ـــ پنجابی پختون کاہے کا؟”

الطاف حسین اور انور بھائی جان بغل گیر ہوگئے ـ پنڈی اپنے مقصد میں بظاہر کامیاب ہوگیا، شہر خوف ناک تعصبات کی آگ میں جل رہا تھا اور وسائل ……. وسائل پنڈی منتقل ہوتے رہے ـ

اختر رضوی کی روح اس وقت گھائل ہوئی جب سندھی مہاجر محنت کش ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نظر آئے ـ سندھی ڈاکوؤں نے حیدرآباد کی مہاجر آبادی روند ڈالی اور کراچی میں سندھی اجرک پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہوگئی ـ

وقت بدلا ـ شاہی سید نے پختون تحفظ کے نعرے لگائے اور رحمان بلوچ نے خود کو بلوچ مسیحا بنا کر پیش کیا ـ پختون بلوچ ــــ “بھائی بھائی” بن گئے ـ کٹی پہاڑی اور لیاری نے مل کر مہاجر کی گردنیں کاٹنی شروع کر دیں ـ لندن میں بیٹھے الطاف حسین کے مقامی سیکٹر کمانڈروں نے شہر بھر میں بلوچ پشتون شکار کھیلنے کا آغاز کیا ــــ کراچی جلتا رہا ـ

الطاف حسین نے چھپنے کے لئے صرف میز بدلا تھا مگر وہ یہی سمجھتے رہے انہوں نے ہوٹل میں نئی میز لگا دی ہے ـ اس غلط فہمی کے باعث وہ پنڈی سے بھی الجھ بیٹھے ـ پنڈی کے ہدایت کاروں و اسکرپٹ رائٹروں نے فوراً کراچی نامی فلم سے ان کا کردار نکال دیا ـ

وہ فلم بین جو پنڈی کے ہدایت کاروں کی بجائے مرکزی کردار الطاف حسین کو پیر سمجھ رہے تھے ان کی سمجھ میں پہلے تو کچھ نہ آیا جب سمجھے تب تک مرکزی کردار مسلسل فلاپ فلمیں دینے کے الزام میں “سنی دیول” بن چکے تھے ـ

نتیجہ یہ آج الطاف حسین کی گرفتاری پر عزیز آباد بھی خاموش ہے اور مزاحمتی کردار کا حامل لالو کھیت بھی چپ ـ اعلان ہوچکا ہے:

“الطاف حسین اب سپر اسٹار نہ رہے” ـ

کراچی لیکن زندہ ہے ـ لیاری، لانڈھی، لالو کھیت، اورنگی ٹاؤن اور ملیر مل کر پنڈی کے ہدایت کاروں کے ہاتھوں سے اب بھی فلم چھین سکتے ہیں ـ شرط یہی ہے کسی کٹھ پتلی اداکار کے رنگین دھوکے میں نہ آئیں ـ

گڈ بائی الطاف بھائی ـ

Avatar
ذوالفقارزلفی
ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *