معرکہ کربلا تو ابھی تک جاری ہے ۔ ۔ ۔ محمود فیاض

ذاکروں کو چھوڑ دیجیے۔ اس ماتم کرتے ہجوم کو بھی جانے دیجیے۔ ممکن ہے یہ عقیدے اور عقیدتوں کے مارے ہوئے لوگ ہوں۔ کتابوں کا بھروسہ بھی مت کیجیے۔ کوئی عقیدے سے باہر نکل کر تھوڑا ہی لکھے گا؟ صرف دیکھنے والی آنکھ لے لیجیے۔ دھڑکنے والا دل سنبھا ل لیجیے۔ اور سمجھنے والا شعور ساتھ رکھیے۔ آپ کو اس دنیا میں دو گروہ ہی خیمہ زن نظر آئیں گے۔ اونچے کنگروں والے محلوں کے کروفر والے ، جاہ و حشمت کے پجاری، تخت و طاقت کے ساجد، ہر تاویل کے سوداگر اور ہر ترازو میں ہلکے ، آپ کو ایک طرف نظر آئیں گے۔ اور اہل ایمان و دل، خاک نشینوں کے ہمنشیں، اور وجہ فخر انسانیت دوسری طرف۔

آپ بحثوں میں پڑ جاتے ہیں۔ کس نے کس کو جنا تھا؟کس نے دیے کا ساتھ دیا تھا اور کس نے آندھی کا؟ کون برگزیدہ تھا اور کون بد بخت؟ حلق کس کا تھا اور تیر کس کا؟ ہاتھ کس کا تھا اور ردا کس کی ؟ آپ کو بحثوں میں الجھا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ تقسیم واضح ہے۔ وہ لکیر جو صدیوں پہلے کربلا کے میدان میں کھچی تھی، آج بھی ان دونوں گروہوں کے درمیان اتنی ہی گہری ہے کہ آپ پہچاننے میں غلطی کر ہی نہیں سکتے، الّا یہ کہ ربِ کائنات نے آپ کو بے نور و بے شعور پیدا کیا ہو۔

کل والی کربلا میں تو آپ موجود نہیں تھے۔ تب کی تفصیل میں کوتاہی ہو سکتی ہے۔ راوی خطا کر سکتا ہے۔ تاریخ کے دھندلکے کوئی نکتہ نظر سے اوجھل کر سکتے ہیں۔ مگر جو سامنے ہے، بیت رہا ہے، اس میں تو احتمال کی گنجائش باقی نہیں ہے۔ ایک طرف بلند محلوں میں رہنے والے ہیں۔ جن کے پاس دنیا کی دولت و طاقت ہے۔ جو مزید دنیا حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد کو جا سکتے ہیں۔ جن کے تیروں کی بوچھاڑ یں خاک نشینوں کے لیے ہیں۔ جو وقت کے فرات پر قابض ہیں۔ اور جو تاویل کے سوداگر ہیں کہ جب چاہیں دن کو رات قرار دے دیں اور بہتان کو حق۔ اور دوسری طرف ربِ کائنات کے وہ بندے ہیں، جو اس کی منشا پر ، اس کی دنیا میں جینے کا حق چاہتے ہیں۔

بس یہی دو گروہ ہیں ، جو کل بھی کربلا ؔ میں تھے، اور آج تک آمنے سامنے خیمہ زن ہیں۔ خود ہی جھانک لیجیے۔ امریکہ، سعودیہ، ایران، عراق، شام،یمن،  کشمیر، اور فلسطین، جن خیموں میں بے سروسامانی ہے، پیاسے حلق ہیں، اور ہر لمحہ بہتے لہو میں رب کائنات کو سجدہ شکر ہے، وہی لشکرِحسینؓ ہے، اور جہاں بے پناہ طاقت کے نشے میں ، تیغ و تیرو تفنگ کے انبار کے ساتھ ، فرعونی لہجوں کی غراہٹ ہے، وہی نسل ِیزیدؔ ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *