کربلا کا پیغام ۔۔۔۔ احسن سرفراز

 شھادت حسین ایک واقعہ جو تاریخ کے صفحات پر محض ایک داستان نہیں بلکہ ایک خونچکاں سبق ہے۔ جب خلافت کی قباء کو ملوکیت سے چاک کیا جا رہا تھا اور ملوکیت بھی ایسی جس میں موروثیت کا عنصر اپنی تمام تر بد نمائیوں کے ساتھ واضح تھا. آمرانہ طریقےسے ایک بدکردار ذات کو عامتہ المسلمین پر مسلط کیا جارہا تھا، اس وقت کلمہ حق کا فریضہ اپنے زمانے کے سب سے بہترین انسان نواسہ رسول نے نہ صرف ادا کیا بلکہ اس کے لیے اپنی جان سمیت اپنے پورے گھرانے کی قربانی دے دی.

اس واقعے سے جو اسباق ملتے ہیں وہ میری نظر میں یہ ہیں کہ دین کے نفاذ میں حکومت کی کس قدر اہمیت ہے اور اچھی حکومت کے لیے ایک اچھے حکمران کی کس قدر اہمیت ہے اور ایک اچھے حکمران کیلیے حکومت بدلنے کے اچھے نظام کی کس قدر اہمیت ہے اور ایک اچھے نظام کے حصول کیلیے حریت فکر کی کس قدر اہمیت ہے اور حریت فکر کیلیے کردار کی بلندی اور ہر قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرنے کی کس قدر اہمیت ہے.

کربلا میں نواسہ رسول اور انکے گھرانے کی قربانی تو بے مثل ہے ہی لیکن ایک اور کردار نے بھی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اور وہ کردار ہے جناب حُر کا۔ جناب حُر جو طاقتور اور جابر حکمران کے ہراول دستے میں تھے، اس دستے کی بظاہر دنیاوی پیمانے پر کامیابی کا 100فی صد امکان تھا اور دوسری طرف لشکر حسین کی شہادت نوشتہ دیوار تھی لیکن حُر نے دنیاوی پیمانے پر ہارے ہوئے لیکن اخروی پیمانے پر دائمی کامیاب لشکر کا انتخاب کیا اور عین جنگ کے آغاز سے قبل اپنے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور امام مظلوم کے دامن میں جگہ پائی۔ جہنم کے گڑھے کی گہرائی میں گرنے سے چند ساعتوں قبل ہی جنت کی خوشبو کو محسوس کیا اور ساری زندگی کیلیے اہل بیت کے دشمنوں کی بجائے انکے غلاموں میں اپنا نام لکھوا لیا.

آج کربلا کے پیغام کو مسلکوں میں بانٹ کر تعصب کی بھینٹ چڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہے۔ کسی نے محض سینہ کوبی اور آنسو بہانے کو ہی اہل بیت سے محبت کا پیمانہ بنا ڈالا ہے اور کوئی صرف مخالف مسلک کے بغض میں امام عالی مقام کی اس عظیم قربانی، جو خالصتاً دین میں ملوکیت اور موروثیت کی بدعت کو بھانپتے ہوئے اور اسکے اسلامی معاشرے پر مرتب ہونے والے اثرات کو جانتےہوئے دی گئی، کو اجتہادی غلطی اور حُب حکومت ثابت کرنے پر تلا بیٹھا ہے. ان ظالموں سے کہنا ہے کہ جن کے بارے میں میرے نبی کا ارشاد ہوکہ حسن وحسین جنت کےنوجوانوں کے سردار ہیں، ان شہزادوں میں سےایک جب اتنی بڑی قربانی دیتا ہے تو کیا اس کی یہ قربانی محض اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے؟

آج کے زمانے میں دین اور ریاست کو الگ کرنے کی بات کی جاتی ہے۔ کچھ محض چند مراسم عبودیت اور حقوق العباد کو ادا کرنے کا نام ہی دین سمجھتے ہیں اور حکومت کو دنیا داروں کا کام قرار دیکر ہر قسم کے سیاسی معاملات سے خود کو دور رکھتے ہیں۔ کچھ آمریت کو حل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتوں کی اکثریت جمہوریت کے نام پر خاندانی موروثیت کو ہی مسلط رکھنے پر تلی بیٹھی ہے۔ ہمارا حکمران طبقہ قانون کی حکمرانی سے مراد عام آدمی کا احتساب ، خود اور اپنے خاندان کو اس سے مبرا جاننا لیتا ہے. یہ سب یزید کے فکری جانشین ہیں، علاوہ ازیں آج کے یزیدوں کے لشکر میں شامل عوام پوری طرح انکی حمایت میں نعرہ زن رہتی ہے.

ہم اگر آج کے حسین نہیں بن سکتے یا آج کل کے دور میں حسین کی تلاش مشکل بنتی جا رہی ہے تو کم سے کم سطح کے حُر کا کردار تو ادا کر سکتے ہیں۔ اپنے مسلک اپنے گروہ، اپنی سیاسی جماعت کی غلط بات کو غلط کہہ کر ہم فکر حُر پر چلنے کا آغاز کر سکتے ہیں اور پھر وہ وقت دور نہیں جب اللہ ہمیں اپنے دور کے حسین کی پہچان بھی ادا کر دے گا.

دراصل یزید ظلم اور نا انصافی کا استعارہ ، حسین مظلومیت اور حق پرستی کی پہچان ہیں. آج کی دنیا میں شام، عراق، مصر، فلسطین، کشمیر، بنگلہ دیش اور یمن وغیرہ میں یزیدیت کی مخالفت اور حسینیت کیلیے آواز بلند کرنا بھی ہمارا فرض ہے لیکن یہاں تو مسلک اور مفادات ہمیں ایسا کرنے سے روکتے ہیں. پتہ نہیں ہمارے اندر کا انسان کب بیدار ہو گا.

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *