نذرِ حسین (ر)۔۔۔۔ سید طفیل ہاشمی

مرشدی سید طفیل ہاشمی استاد الاساتذہ ہیں۔ اسی لیے دو چار لائنوں میں کتاب کا علم بیان فرما دیتے ہیں۔ انکے قلم سے بکھرے کچھ موتی دیکھیے۔  

سچ تو یہ ہے کہ حسین(ر) نے یزید کے خلاف نہیں قیصریت کے خلاف جنگ کی اور اس کا راستہ روکنے کے لئے خانوادہ نبوت کی قربانی دے دی۔ بعد میں حسین (ر) کے نام لیوا اور قاتل دونوں قیصریت کو جاری رکھنے پر متفق ہو گئے، کیونکہ خلافت علی منہاج النبوۃ ان میں سے کسی کے مفاد میں نہیں تھی. حسین (ر) کی قربانی کا یہ فائدہ ہوا کہ اسلامی دنیا میں اگرچہ ہمیشہ خاندانی امامت یا خلافت کا چلن رہا لیکن حسین(ر) کے نانا (ص) کی امت نے کبھی اسے قبولیت سے نہیں نوازا.

——————

کیا آپ سیدہ فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیہا کی اولاد ہیں؟ یہ وہ خاتون ہیں جن کے بارے میں زبان نبوت کے الفاظ ہیں

“فاطمہ (ر) میرا جگر گوشہ ہے، جس نے اسے تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی.”

چلیں، حدیث لوگوں نے بعد میں بنالی ہوگی۔ قرآن تو اصلی ہے، قرآن نے آپ کو اتنا بڑا اعزاز دیا ہے کہ دونوں جہان کے بدلے بھی اس سے دست کش ہونا آسان نہیں. قرآن کہتا ہے

الحقنا بھم ذریتھم وماالتنا ھم من عملهم من شئ

ان کی اولاد کو ان سے ملا دیں گے۔  کیا جنت میں آپ کو وہ گھر نہیں چاہئیے جس میں صبح وشام نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد و رفت ہوگی؟ مانا کہ دربار شام کے دستر خوان کی لذتیں کھینچ کھینچ لیتی ہیں لیکن، ماں جی کا سامنا کیسے کرو گے، شاہ جی!

——————–

آل بیت سے محبت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خدا نخواستہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دل میں کسی بھی قسم کی تنگی کا کوئی شائبہ بھی ہو. ذاتی طور پر تو مجھے صحیح بخاری کی ان روایات میں راویوں کی کارستانی نظر آتی ہے جن میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی نامناسب تصویر کشی کی گئی ہے. کوئی محدث یا راوی اتنا مستند نہیں کہ اس کی اتھارٹی پر سبحنک ھذا بہتان عظیم میں تاویل کی جائے.

اس آیت میں سبحنک کا مطلب یہ ہے کہ عائشہ صدیقہ(ر) میں، جو خود اللہ کا انتخاب تھیں کسی قسم کی کوئی کجی ہوتی تو اس کا الزام اللہ پر آتا جب کہ وہ پاک اور بے عیب ہے.

——————-

یزید پارسا اور متقی تھا یا فاسق و فاجر ؟ یہ ساری بحث بعد الوقوع کی ہے. حسین (ر) کو اصل اعتراض قیصریت پر تھا؛ جو دونوں متحارب فرقوں میں مقدس قرار پائی.

—————–

اگر روش حسین (ر) خروج ہے تو ذرا ان علماء، فقہاء، مجتہدین اور ارباب دعوت وعزیمت کی ایک فہرست شائع کیجئے جنہوں نے اپنے اپنے وقت کے یزیدوں کے خلاف خروج نہیں کیا.

——————-

1965 کی بات ہے میں دارالعلوم کبیر والا میں موقوف علیہ (فراغت سے ایک سال قبل کا مرحلہ) میں پڑھتا تھا. معروف حنفی دیوبندی درسگاہ، شہر میں شیعہ کی تعداد بہت تھی بلکہ شاید محرم میں اکثریت ہو جاتی تھی. ہم طلبہ ان کی مجالس میں جاکر بیٹھتے، سنتے اور بھیگی آنکھیں لے کر اپنے مدرسے میں آجاتے. مدرسے کی طرف سے کوئی روک ٹوک تھی نہ شیعہ کمیونٹی میں کوئی حساسیت. تب حسین(ر) ہم سب کے تھے اور ہم سب حسین (ر) کے تھے. برا ہو ان کا جنہوں نے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگا کر قتل کی راہیں کھولیں.

——————

اجتہادی گنجائش کی ضرورت ان کے لیے ہے جنہیں امام حسن رضی اللہ عنہ اور امیر شام کے درمیان ہونے والے اس معاہدے سے ذہول ہو گیا کہ ان (امیر شام) کی وفات کے بعد حکمران کے انتخابات کا حق مسلمانوں کو واپس مل جائے گا اور وہ کسی کو جانشین نامزد نہیں کریں گے، اور انہوں نے نامعلوم وجوہ کی بنا پر مسلمانوں کا حق واپس لینے کی جدوجہد میں شرکت نہیں کی.

—————–

خانوادہ نبوت اور سیاست کانبوی منہاج:

ایک بھائ نے مصالحت کر کے تاریخ کے اوراق میں یہ ثبت کر دیا کہ خانوادہ نبوت کے جینز میں ہوس اقتدار کی کوئی علامت نہیں.

اور

دوسرے بھائ نے آل رسول (صلعم) کے خون سے خلافت وملوکیت کے درمیان ایک ایسی لکیر کھینچ دی جسے سات سمندروں کے پانی سے بھی نہیں مٹایا جاسکتا.

یہ سیاست سے بے خبری یا حکمت عملی کی نارسائی نہیں تھی بلکہ سیاسی دانش کا معراج کمال تھا کہ ہوس اقتدار اور جوع الأرض کے مقابلے میں یوں دست برداری لکھ دی کہ؛

ہوس گل کا تصور میں بھی کھٹکا نہ رہا .

نواسے نے نانا کی بات کا عملی ثبوت پیش کردیا کہ دنیا کی قیمت ہمارے ہاں مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے.

اور جب قیصریت نے نانا کے دئیے ہوئے دین کے سیاسی نظم میں بادشاہت کے منحوس پنجے گاڑنے چاہے تو تب بھی دین کی اساس کو بچانے کے لیے دوسرا نواسہ آگے بڑھا اور بقول فیض؛

مشکل ہیں اگر حالات وہاں، دل بیچ آئیں، جاں ہار آئیں

دل والو، کوچہ جاناں میں کیا ایسے بھی حالات نہیں

یہ اس”ناکام حکمت عملی “کا نتیجہ ہے کہ قیصریت چودہ سو سالہ زندگی پانے کے باوجود کبھی ایک دن کے لئے بھی اپنے سلسلہ نسب کا اسلامی جواز تسلیم نہیں کروا سکی.

———————-

جن کے اپنے نواسے ہوں وہی اس محبت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ پھر نواسے بھی عام نہیں، منتخب کائنات افتخار انسانیت۔ خیال رکھیں آپ کا کوئی لفظ ماں کے لئے باعث اذیت ہوا تو آپ ان(صل اللہ علیہ و سلم)کی اذیت کاباعث نہ بن جائیں جن کو اذیت دینے والوں پر قرآن نے لعنت کی ہے.

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *