لعنت بر ناصبیت۔۔۔ عامر ہاشم خاکوانی

“مکالمہ” اس تحریر اور معروف صحافی جناب عامر خاکوانی سے مکمل اتفاق کرتا ہے۔ 

سانحہ کربلا اور امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے حوالے سے کل ایک پوسٹ کی تو ایک دو دوستوں نے ان باکس میسج کر کے خبردار کیا کہ اب ناصبی آپ کی وال پر حملہ آور ہوں گے۔ میں اس وقت مسکرا کر ٹال گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ اندازہ نہیں تھا کہ ناصبیت کا چہرہ کس قدر گھناونا، منحوس اور بھیانک ہے۔ رات سے حسب توقع ناصبیوں کی یلغار جاری ہے۔ طرح طرح کے پینترے اور نت نئے دلائل۔ مقصد صرف یہ ہے کہ قاتلین حسینؓ کو بچایا جائے اور اس کوشش میں اگر اہل بیت کے مقام کو نیچے دکھایاجائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ آج دو چار ایسے دریدہ دہن اور خبث باطن والے لوگ کمنٹ کرنے آئے جنہوں نے براہ راست سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی پر حملہ کر دیا اور صاف الفاظ میں انہیں قاتلین سیدنا عثمانؓ کو بچانے اور دانستہ طور پر قصاص خلیفہ سوم نہ لینے کا الزام ہی دھر دیا۔ ایک تو ایسا بدبخت، شقی القلب تھا جس نے امام حسینؓ پر اقتدار کی جنگ کرنے کا الزام لگایا اور ساتھ ہی اپنی سیاہ زبان سے یہ بھی کہہ ڈالا کہ انہوں نے اپنی ذات کی خاطر کتنے بے گناہ لوگ مروائے۔ لعنت بر ناصبیت، لعنت بر دشمنان اہل بیت وصحابہ ۔

حیرت ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو ویسے صحابہ کی شان اور اس کے تحفظ کا نعرہ لگاتے ہیں، کیا سیدنا علیؓ کے بغیر صحابہ کی جماعت مکمل ہوسکتی ہے؟ کیا حسنین کریمینؓ کے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی جمعیت راضی ہوسکتی ہے؟ہرگز نہیں۔ تو پھر یہ لوگ چوتھے خلیفہ راشد کو نشانہ کیوں بنا رہے ہیں؟ کیا شیعت کی دشمنی نے ان کے سیاہ دلوں میں ایل بیت کے لئے نفرت اور بغض بھر دیا ہے۔ خدارا اپنے اپنے دل اور ایمان کا جائزہ لیں اور اہل بیت وصحابہ کے لئے پوشیدہ نفرت مٹا دیں۔ اس سے پہلے کہ رب تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت ختم ہوجائے ۔

  جن لوگوں کو ناصبیت یا ناصبی کی اصطلاح سے آگہی نہیں ، انہیں بتاتا چلوں کہ ایسے شقی القلب ، سیاہ دل جو اپنے گندے دہن سے اہل بیت رضوان اللہ اجمعین کے مقام کو نیچا کرنے، سیدنا علیؓ اور سیدنا حسنین خاص کر سیدنا حسینؓ کی ذات مبارکہ پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو یزید کے دفاع میں اس قدر اندھے ہوجاتے ہیں کہ کربلا جیسے عظیم سانحے کو بھی تاریخ کے اوراق سے مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔

  اہلسنت کا متفقہ عقیدہ اعتدال کا ہے۔ اہل سنت روافض اور ناصبیوں دونوں سے بیزاری ظاہر کرتے اور شدید ناپسند کرتے ہیں۔ صحابہ پر تبرا کرنے اور ان کی شان میں گستاخی کرنے والے کو ہم سخت ناپسند کرتےاور غلط سمجھتے ہیں، اسی طرح اہل بیت اطہار کی شان گھٹانے ، سیدنا علیؓ پر الزام لگانے یا سیدنا حسینؓ کی مظلومانہ شہادت کا اعتراف نہ کرنے، قاتلین حسین پر لعنت ہ بھیجنے والے ناصبیوں سے بھی اہل سنت کی ناپسندیدگی ، بیزاری اور نفرت واضح ہے ۔

  بعض دوستوں میں ایک عجیب بات دیکھی کہ جب قاتلین حسین پر لعنت بھیجنے کی بات کی تو ساتھ ہی شرط عائد کردیتے ہیں کہ پہلے قاتلین عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ پر بھی لعنت بھیجی جائے۔ میری طرف سے قاتلین عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ پر صد بارلعنت ۔ مگر یارو عاشورہ کے حوالے سے جس سانحہ اور شہید کا ذکر ہوگا، اسی پر تبصرہ ہوگا۔ دل بڑا کرو، جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مظلومانہ شہادت کی مذمت کرو، آپ کا ایمان گھٹ نہیں جائے گا۔ جس دن جس کی شہادت ہوگی، اس دن اس کا ذکر کرتا منطقی لگتا ہے۔ اہل بیت صرف اہل تشیع کے نہیں بلکہ اہل سنت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری آل پر اپنا زیادہ حق سمجھتے ہیں۔ اہل بیت سے محبت کئے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا، جس طرح صحابہ کا احترام کئے بغیر ایمان کی تکمیل ممکن نہیں۔

  ناصیبت کے ان حملوں نے مجھ میں نئی ہمت اور حوصلہ پیدا کیا ہے۔ ہر ناصبی کی دریدہ دہنی ان شااللہ مجھے ان کے دندان شکن جواب دینے پر اکسائے گی ۔ مرگ بر ناصبیت، لعنت بر ناصبیت۔ جہاں تک روافض کا تعلق ہے، ان کا اہل سنت سے تعلق ہی نہیں، اہل سنت اور سنیوں کے لئے اصل خطرہ یہی ناصبی ہیں، یہ ان مین سے کچھ کی گمراہی کا باعث بن رہے ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *