• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • ادبی محبت نامے۔۔احمد رضوان بنام ڈاکٹر خالد سہیل ۔۔ڈاکٹر خالدسہیل

ادبی محبت نامے۔۔احمد رضوان بنام ڈاکٹر خالد سہیل ۔۔ڈاکٹر خالدسہیل

خط نمبر اول (احمد رضوان)
اگر صد نامہ بنویسم حکایت بیش ازاں آید
محبی،محترمی ،مکرمی قبلہ ڈاکٹر صاحب آداب،
خلاصہ احوال آنکہ ہر طرح خیریت سے ہوں ۔ امید واثق ہے آپ کا مزاج بھی بخیر ہوگا 1٭
دوستوں کا خط ملاقات کے برابر ہوتا ہے بھلے آدھی ملاقات ہی سہی۔
ہر آں راحت کہ از دیدار باشد
بہ مکتوبے ہماں مقدار باشد
گوئٹے لکھتا ہے کہ ” Letters are among the most significant memorial a person can leave behind them”
مجھے گوئٹے سے کلی اتفاق ہے اگر میں بھی اس قول فیصل کو شعر کی نظر سے دیکھوں کہ
چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط
بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا *2
مجھے لگتا ہے اس طرح کا ترکہ، ترک مواخات ،ترک موالات، ترکِ تعلقات و متعلقات کے ساتھ ساتھ بعض اوقات” حوا کی لات” سے حوالات کی سیر تک کا سبب بن جایا کرتا ہے۔دور جدید میں اس طرح کا حشرسامان انباکس سے برآمد ہوتا ہے جسمیں ناقابل بیان تصاویر یا چیٹنگ کے اسکرین شاٹس محفوظ کرکے کراما کاتیبین والا کام کیا جاتا ہے اور آپ فرشتوں کے لکھے جانے سے قبل ہی ناحق پکڑے جاتے ہیں۔
تو قبلہ یوں ہے، آپ کا حکم ٹھیرا کہ ادبی محبت ناموں کا ڈول ڈالا جائے۔ مقطع میں یہ سخن گسترانہ بات آپڑی ہے کہ جن خطوط پر سوچ کر ہم پری چہروں ،مہ وشوں کے خدو خال ،نقوش اورجسمانی خطوط کی بابت لکھنا چاہتے تھے وہ سب تخیل سے باہر نکل کر حقیقت کی دنیا میں “خط کا مضمون بھانپ لیتے ہیں لفافہ دیکھ کر “کے برعکس قیس کی طرح تصور اور تصویر کے پردے میں بھی عیاں اور عریاں نہ ہوئے۔آخرش توبہ تلا کرکے پنڈ چھڑایا اور آپ کا حکم سر آنکھوں پر مان کر خط لکھنے بیٹھا تو مورا کامی آن براجا۔کہتا ہے
How wonderful it is to be able to write someone a letter like conveying your thoughts to a person ,to sit at your desk and pick up a pen to put your thoughts into words like this is truly marvelous.Haruki Murakami.
“خطوط لیلیٰ” سے لے کر “صحرا نورد کے خطوط” نگاہوں میں پھر گئے یا “عود ہندی” اور “اردوئے معلےٰ “کی مکتوب نگاری ۔مرزا جیسی شوخی اور ندرتِ تحریر مگر ہمارے ہاں تو عنقا ہے تو جو سمجھ آیا لکھے جارہا ہوں ۔ بچپن سے جوانی تک جوخط لکھنے کی روایت کا کچھ پالن کیا تو وہ اپنے ہی ایک عم ذاد جوہمزاد بھی تھا اور پہلی سے نویں تک ہم جماعت رہا اور بعد ازاں کسی دوسرے شہر ہجرت کرگیا تھا ،کے ساتھ خط بازی ہوتی تھی۔حسرت ہی رہی کہ کوئی حنائی دست، عطر بیز اور جذبات سے لبریز خط ہمیں بھیجتی اور جواباََ ہم اپنا کلیجہ نکال کر رکھ دیتے کاغذ پر ۔آپ اس بحر ذخار کے شناور لگتے ہیں کچھ ہمیں بھی سجھائیے۔اس اولیں محبت نامے کو “نویسندہ داند کہ در نامہ چیست” مراد اہل بصیرت پر چھوڑتا ہوں کہ وہ اس کو کیسے آنکتے ہیں ہم تو بس ادھر ادھر کی ہانکتے ہیں ۔آپ سنائیے سفر پاکستان کا احوال ،جو مضمون پڑھا تھا وہاں سیمینار میں” کیا لکھنا نہیں چاہئے؟” اس مضمون کی روشنی میں کیا ہم بھی بے پر کی اڑانے میں تو مصروف نہیں؟اگلے خط میں اصل مدعا کو الفاظ کا جامہ پہنا کر پیش کروں گا ۔
آج کے لئے فقط اتنا ہی۔
نیاز مند و نیاز کیش(Cash)
احمد رضوان
8 جون 2019
٭ پس نوشت: 1٭ مزاج بخیر صیغہ واحد میں پوچھا جاتا ہے ،مزاج کیسے ہیں غلط العام ہے۔
2٭ شنیدن ہے کہ مرزا کے اس شعر ” بعد مرنے کے مرے گھر سےیہ ساماں نکلا” کو بھی ان سے غلط منسوب کیا جاتا ہے ۔ہمارے ایک ممدوح ہیں عاصم کلیار ۔ان کے پاس کلامِ غالب کے جدید و قدیم باسٹھ نسخے ہیں جن میں سب سے قدیم “مطبع مفید خلائق 1863 کا طبع شدہ ہے۔ ان کے بقول مالک رام، کالی داس گپتا رضا،نول کشور، اسیر عابد کے مرتبہ نسخوں میں اس شعر کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ چند دوسرے غیر معیاری نسخوں میں متفرقات میں موجود ہے ۔” ریختہ” والے اسے “بزم اکبر آبادی” کا بتلاتے ہیں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
خط نمبر دوم(ڈاکٹر خالد سہیل)
قبلہ و کعبہ۔۔۔کسی کا شعر ہے۔۔ ؎ آپ تو اک بات کہہ کر چل دیے۔۔۔رات بھر بستر مرا جلتا ہے۔۔۔گھر آ کر آپ کا ادبی محبت نامہ پڑھ کر سو گیا تھا۔۔۔۔آدھی رات کو چار بجے جاگا اور یہ محبت نامہ لکھا۔۔۔۔انسپائر کرنے کا شکریہ،،،
ادیب کا معاشرے میں کردار
قبلہ و کعبہ و بادشاہی مسجد لاہور و جامعہ مسجد دہلی و چند دیگر مقدس مقامات جناب رضوان صاحب آداب !
سب سے پہلے تو میں آپ کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آج شام آپ نے اپنے دولت کدے پر اس پاپی درویش کو بلایا
بڑی محبت سے کھانا کھلایا
بڑی چاہت سے اپنا پہلا ادبی محبت نامہ سنایا
بڑی اپنائیت سے میرا نیم نفسیاتی نیم فلسفیانہ کالم سنا
اوربڑے خلوص سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔
جب سے میں نے آپ کی مزاحیہ تحریریں سنی ہیں ،میں سنجیدگی سے آپ کا فین بن گیا ہوں۔ یہ فین بیک وقت ایک مداح بھی ہے اور آپ کے من میں اردو ادب’ اردو زبان اور اردو مزاح کی محبت کی چنگاری دیکھ کر ایک پنکھا بھی ہے تا کہ آپ کے من کی وہ چنگاری ایک شعلہ بن سکے اور آپ چند فن پارے، چند شہہ پارے اور چند مزاح پارے تخلیق کر سکیں۔
خطوط نویسی کے بارے میں میرا یہ موقف ہے کہ اردو ادب میں جو پزیرائی غزل’نظم’ افسانے اور ناول کو ملی ہے وہ عزت اور توقیر خطوط کو نہیں ملی۔وہ اردو ادب کی روایت کے سوتیلے بچے ہیں۔اردو ادب میں جو خطوط چھپے ہیں وہ یکطرفہ ٹریفک تھے دو طرفہ نہیں۔ وہ مونولوگ تھے ڈائلاگ نہ تھے۔
‘درویشوں کے ڈیرے’ میں میں نے صرف ایک ادیبہ رابعہ الربا سے پچاس خطوط کا تبادلہ کیا تھا لیکن اگلی کتاب ‘ ادبی محبت نامے’ میں میں بہت سے ادیب دوستوں سے تبادلہِ خیال کرنا چاہتا ہوں تا کہ خطوط نویسی کے فورم کو حیاتِ نو ملے۔ادیب از سرِ نو انسپائر ہوں۔اور خطوط میں اپنے خیالات’ جذبات اور نظریات کا اظہار کریں۔ سوشل میڈیا اور ٹیکسٹنگ کے دور میں خطوط نویسی ادب کی ایک “ENDANGERED SPECIES” بن چکی ہے۔اس لیے مجھے بہت اچھا لگا جب آپ نے ڈنر کے بعد اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا خط مجھے تحفے کے طور پر دیا اور میں نے اسے تبرک کے طور پر اپنی زنبیل میں بڑی حفاظت سے رکھ لیا۔
آپ سے پچھلی ملاقات چند ماہ پیشتر جنوری ۲۰۱۹ میں ہوئی تھی جب میں پاکستان کے سفر کی تیاری کر رہا تھا اور میں نے آپ کو سیمینار میں پیش کرنے والا مقالہ۔۔۔۔ہم اپنا پورا سچ کیوں نہیں لکھ پاتے؟۔۔۔۔سنایا تھا۔
میرا فروری ۲۰۱۹ کا پاکستان کا دو ہفتے کا سفر کئی حوالوں سے حیران کن اور یادگار تھا۔مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ پاکستان میں اتنے زیادہ لوگ میرے کالم اتنے تواتر سے پڑھتے ہیں اور وہ بھی کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نوجوان۔ بلوچستان کے جرنلسٹ عابد میر نے جب یہ جملہ کہا
DR SOHAIL ! FOR OUR GENERATION YOU ARE AN INSPIRATION تو مجھے ایک خوشگوار حیرت ہوئی۔
پاکستان کے سفر سے پہلے مجھے ایک ماہرِ نفسیات کی حیثیت سے تو اندازہ تھا کہ میری پیشہ ورانہ کوششیں لوگوں کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی لا رہی ہیں لیکن بطورِ ادیب مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ میری تخلیقات کا قارئین کے ذہنوں پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔اب مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی وجہ سے میری تحریریں لوگوں کو نئے انداز سے سوچنے کی دعوت دے رہی ہیں۔ یہ جاننا میرے لیے ایک خوشگوار حیرت لیے ہوئے ہے کہ
MY WRITINGS ARE MAKING A DIFFERENCE IN THE WORLD
مجھے نجانے کتنے لوگوں نے بتایا کہ میری تخلیقات نے ان کی سوچ’ ان کی فکر اور ان کی طرزِ زندگی کو بدل دیا ہے۔
جب سے میں پاکستان کے سفر سے لوٹا ہوں میں ایک تخلیقی مسرت محسوس کر رہا ہوں جسے میں CREATIVE EUPHORIA کا نام دیتا ہوں۔ میری تخلیقیت میری CREATIVITY جو پہلے کبھی کبھار ایک بارش کی طرح برستی تھی آہستہ آہستہ ایک چشمے کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے جو اب میرے من کی گہرائیوں میں دن رات بہتا رہتا ہے’ میرے کالموں میں اپنا اظہار کرتا ہے اور میرے قارئین کے ذہنوں اور دلوں کو سیراب کرتا ہے۔
ایک ادیب ہونے کے ناطے میرے لیے یہ ایک دلچسپی کی بات ہے کہ میرے کالموں کی توانائی اس تخلیقی توانائی سے بہت مختلف ہے جو مجھ سے غزلیں’نظمیں اور افسانے لکھواتی تھی۔مجھے یوں لگتا جیسے زندگی کی شام میں میری ادبی شناخت بدل رہی ہے اور ماہرِ نفسیات کا کردار ایک شاعر اور افسانہ نگار کے کردار پر غالب آتا جا رہا ہے۔ یہ کوئی شعوری کوشش نہیں ہے۔ یہ سب لاشعوری طور پر ہو رہا ہے۔ میں تخلیقیت کے دریا میں بہتا جا رہا ہوں اور اس دریا کے بہائو سے محظوظ ہو رہا ہوں۔ میرا کاغذ قلم سے رشتہ محبت کا رشتہ ہے جس کے بارے میں خلیل جبران نے کہا تھا
DO NOT EVER THINK YOU CAN GUIDE LOVE. IF LOVE FINDS YOU WORTHY SHE WILL GUIDE YOU.
اسی لیے میں نے ادب ناموں کا نام بھی۔۔۔۔ادبی محبت نامے رکھا ہے۔۔۔
آج کل میں ادیب ’ادب اور معاشرے کے رشتے کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ آپ کی نگاہ میں ایک شاعر’ ادیب اور دانشور اپنے معاشرے کے ارتقا میں کیا کردار ادا کرتا ہے؟آپ کی نگاہ میں ادیب کی بنیادی کمٹمنٹ کس سے ہے۔۔۔اپنے سچ سے۔۔۔ادب سے۔۔۔یا معاشرے سے۔۔۔کیا آپ ادیب کی سماجی ذمہ داری کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں ؟
آپ کے اگلے ادبی محبت نامے کا انتظار رہے گا؟
آپ کا ادبی دوست۔۔
۔خالد سہیل۔۔
۔۔۸ جون ۲۰۱۹
آدھی رات یا علی الصبح ۴ بجے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 8 تبصرے برائے تحریر ”ادبی محبت نامے۔۔احمد رضوان بنام ڈاکٹر خالد سہیل ۔۔ڈاکٹر خالدسہیل

  1. کیا خوب انداز بیان ہے؛

    مجھے لگتا ہے اس طرح کا ترکہ، ترک مواخات ،ترک موالات، ترکِ تعلقات و متعلقات کے ساتھ ساتھ بعض اوقات” حوا کی لات” سے حوالات کی سیر تک کا سبب بن جایا کرتا ہے۔۔۔۔۔

    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

  2. بہت اعلیٰ محبت نامہ. آج کل کے دور میں بھی ایسے محبت نامے لکھنے والے موجود ہیں

  3. بہت دلچسپ۔ رضوان صاحب کی تحریر کی قلابازیاں اور چٹکیاں مجھے ہمیشہ محظوظ کرتی ہیں اور اس کے ساتھ غالبؔ کے شعر کا جو ذکر چھیڑا، اس پر اب چوکنّے رہنا پڑے گا۔ مزے کی بات یہ کہ ڈاکٹر صاحب کا جواب اسی اسلوب میں شروع ہوا، ’’قبلہ و کعبہ و بادشاہی مسجد لاہور و جامعہ مسجد دہلی و چند دیگر مقدس مقامات جناب رضوان صاحب‘‘ ۔ کیا کہنے۔

  4. جناب ڈاکٹر سہیل صاحب اور رضوان صاحب۔ آج پہلی بار اچانک اپ کے ادبی محبت نامے نظر سے گزرے۔ واللہ لطف آگیا۔ ایسی اردو تو کبھی بچپن میں کلاسک لٹریچر میں پڑھی تھی۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔
    ایک زمانہ تھا کہ مجھے بھی مقفع و مسجع خطوط لکھنے کا شوق تھا۔ مگر یہ تب کی بات ہے۔ اب تو خط ہی نہیں لکھتی۔ بلکہ لکھتی ہی نہیں۔
    اس سلسلہ کو جاری رکھئیے۔ ادب پر احسان عظیم ہوگا۔
    He came. He “wrote”. And he conquered.
    اسما وارثی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *