حرم کی داستاں۔۔۔۔ اطلس کریم کٹاریہ

دین حنیف کی تاریخ دیکھیں تو منی سے لیکر کربلا تک اور کربلا سے لیکر اسپین تک قربانیوں،المیوں اور حوادث کی ایک لمبی داستان ہے- دین کے ابلاغ،ترویج واشاعت کی ذمہ داری اٹھانے والوں اور اس کی بقا کی جنگ لڑنے والوں نے ایسی قربانیاں پیش کیں،ایسی داستانیں رقم کیں جو آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔

چار ہزار سال قبل جب پہاڑوں کے دامن میں تین نفوس پر مشتمل ایک قافلہ اترا تب حرم کی داستان کا آغاز ہوا-باپ کی عمر ننانوے سال ہے ،رب تعالٰی سے مانگ مانگ کر ایک فرزند لیا اور پیدائش کے ساتھ ہی حکم آتا ہے- بیٹے اور اسکی ماں کو ایسی وادی میں چھوڑ آؤ جہاں کوئی سبزہ نہ ہو ،جہاں کوئی ہمسایہ نہ ہو ،جہاں کوئی شجر سایہ دار اور شجر پهل دار ہو-حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی اور بیٹے اسماعیل کو وادی منی میں رب تعالٰی کے سپرد کر کے چلے جاتے ہیں- واپسی کے لیے شوہر پلٹتا ہے تو پاکباز بیوی کہنے لگی ہمیں کس کے پاس چھوڑے جا رہے ہو؟ ہمیں کس کےحوالے کئے جا رہے ہو؟ہمیں کس کے آسرے چھوڑے جا رہے ہو؟تو خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا میں تمہیں اس رب کے حوالے کئے جا رہا ہو جو سب کی حفاظت کرنے والا ہے -میں تمہیں اس رب کے آسرے چھوڑے جا رہا ہو جو سب کی مدد کرنے والا ہے میں تمہیں اس رب کے پاس چھوڑے جا رہا ہو جو سب کی کفالت کرنے والا ہے۔بیٹے کی عمر تیرہ سال ہوتی ہے رب تعالٰی کی طرف سے حکم آتا ہےاپنی سب سے پیاری چیز میرے واسطے قربان کرو- تیرہ سال کے بعد باپ اس وادی کی طرف جاتا ہے جہاں بیوی اور بیٹے کو چھوڑا تھا- بیٹے کو ساتھ لیا اور وادی منی پہنچے تو بیٹے کو آگاہ کیا “اے بیٹا میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں اب تو بتا تیری کیا رائے ہے- بیٹا کہتا ہے اے میرے باپ !ذبح کیا جو بھی حکم ہے وہ پورا کیجئے -فقط ذبح ہی نہیں میرے بدن کے سو ٹکڑے کرنے ہیں تو بھی اسماعیل حاضر ہے -مجھے آگ میں جلانا ہے تو بھی اسماعیل حاضر ہے ایک طرف ہم اولاد کا چہرہ دیکھ کر قلب و روح کی تسکین کا سامان کرتے ہیں اور ایک طرف وہ باپ ہے جو اپنے رب کے حکم پر اپنے اکلوتے بیٹے کی گردن پر چهری پھیرنے کو تیار ہے۔منی کی وادی ہے، پہاڑوں کا دامن ہے،باپ ذبح کرنےکو تیارہے،بیٹا ذبح ہونے کو تیار ہے،باپ نے بیٹے کی گردن پر چهری رکھی، کوہ ہمالیہ کا کلیجہ پھٹنے کو ہے، وادی منی تھرتھر کانپ رہی ہے ،دھرتی کا کلیجہ کانپنے لگا، حوروں کی چینحیں نکلنے لگیں۔عر ش معلی تھرتھرانے لگا، سورج بادلوں کی اوٹ میں چھپنے لگا،اے میرے مالک قیامت آنے والی ہے،باپ آنکھیں بند کرتا ہے، چھری چلتی ہے، باپ آنکھیں کھولتا ہے، دیکھتا ہے ذبح ہونے والا ایک دنبہ ہے اور بیٹا پاس کھڑا مسکرا رہا ہے۔اسماعیل کو باقی رکھ لیا گیا کیونکہ اس کے ماتھے میں نور مصطفٰے صلی اللہ علیک وسلم تھا-

وہاں سے یہ نور حضرت عبدالمطلب کی پشت میں منتقل ہوا-آپ نے منت مانگی اے میرے مالک!تو نے اگر مجھے دس بیٹے عطا کئے تو ایک تیری راه میں قربان کروں گا -اللہ نے دس بیٹے عطا کئے- آپ نے قرعہ ڈالا کہ کس بیٹے کو قربان کرنا ہے – قرعہ سب سے چھوٹے بیٹے عبداللہ کے نام نکلا-حرم کی کہانی ایک بار پھر دہرائی جا رہی تھی- کائنات پر پھر کہرام مچنے لگا فرشتے حیران تھےکہنے لگے اے میرے مالک تو نے اس کی پشت میں نور نبوت امانت رکھا ہے اور آج پھر اس کو قربان ہونا ہے۔ عبدالمطلب آستینیں چڑھا رہے ہیں -ہاتھ کے اندر چهری ہے مکے کے سردار دوڑے آئے منت سماجت کرنے لگے، اے سردار یہ رسم تو نہ ڈالو اس کا ادا کرنا مشکل ہو جائے گا – حجر کی کاہنہ کے پاس چلو اس کے پاس مسئلے کا حل ہو گا اور پھر حضرت عبداللہ کی جگہ سو اونٹ قربان کئے گئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکثر فرمایا کرتے تھے – “میں دو ذبیحوں کا بیٹا ہوں”۔

حضرت عبداللہ (ر) کی شادی کی گئ-شادی کےکچھ ماہ بعد آپ کا انتقال ہو گیا- حضور صلی اللہ علیہ وسلم شکم مادر میں ہیں -فرشتے کہنے لگے اے مالک تیرا نبی تو شکم مادر میں ہی یتیم ہو گیا۔ چھ سال کے ہوئے تو والدہ ماجدہ حضرت آمنہ (ر) نے آپ کو ساتھ لیا اور حضرت عبداللہ(ر) کی قبر پر حاضری کےلیے مدینہ آئیں – واپسی پر دوران سفر حضرت آمنہ(ر) کا انتقال ہو گیا -آقا کریم صلی اللہ علیک وسلم نے جیسے بھی ہوا ،ام ایمن کو ساتھ لیکر اپنی والدہ کو دفن کیا۔ پھر دادا عبدالمطلب اور چچا ابو طالب کی زیر کفالت رہے-

چالیس سال کی عمر میں جب اعلان نبوت کیا تو صادق وامین کے لقب سے پکارے جانے والے کی گلی کوچوں اور بازاروں کے اندر مخالفین پیدا ہو گئیں۔ نکتہ چینیوں،نا موافق حالات کے جھکڑ اور نفرتوں کی آندھیاں چلنے لگیں – حضرت بلال حبشی کے سینے پر پتھر رکھے گئے- حضرت زنیرا کے گلے کے اندر کوڑا ڈال کر تاؤ دیا گیا حتی کہ آپکی آنکھیں باہر آگئیں اور بینائی جاتی رہی- حضرت سمیہ کا خون مکے کے ریگزار میں گرا-حضور یاسر کو شہید کیا گیا- حضرت عمار ابن یاسر کو تختہ مشق ستم بنائے رکھا، کوڑوں سے پیٹا گیا- حضور صلی اللہ علیک وسلم کے راستے میں کبھی کانٹے بچھ رہے ہیں،کبھی گڑھے کھودے جا رہے ہیں،کبھی اوجھڑیاں ڈالی جا رہی ہیں، کبھی کوڑا کرکٹ پھینکا جا رہا ہے- عقبہ حضور کے گلے میں کپڑا ڈال کر اسے تاؤ دیتا- آپ نے فرمایا جتنے دکھ اس نے مجھے دیئے ہیں کسی نے نہیں دیئے- اذیتوں کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں-پھر شفیق چچا اور زوجہ حضرت خدیجہ الکبری (ر)  بھی انتقال کر جاتے ہیں -اس سال کا نام عام الحزن رکھا جاتا ہے- دکھوں کا سال ،مصیبتوں کا سال-

اہل طائف کو دعوت حق دینے جاتے ہیں تو ان میں سے ایک کہنے لگا”زمانے میں اور کوئی بندہ نہیں تھا ایک تو ہی تھا جسے نبوت ملی اور اوباش لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا-انہوں نے آپ کے قدموں پر پتھر مارے ایک پاؤں اٹھاتے تو دوسرے پر پتھر مارے جاتے ، جب شدت درد اور احساس قلب سے بیٹھ جاتے تو ان میں سے دو آگے بڑھتے اور آپ کو کندهوں سے پکڑ کر کھڑا کرتے اور پھر پتھر مارتے- حضور صلی اللہ علیک وسلم نے فرمایا “طائف کے بازاروں میں جب مجھے پتھر مارے گئے تو وہ دن میرے لئے احد کے دن سے بھی ذیادہ سخت تھا۔

پھر تاریخ کا وہ کیسا دردناک دن ہو گا جب حضرت حمزہ کو شہید کیا گیا ان کا پیٹ چاک کر دیا گیا ،ان کی ناک اور زبان کاٹ دی گئی ، آنکھوں میں نیزے چبوئے گئے،کلیجہ نکال کر چبایا گیا۔

پھر وہ وقت آیا جب مدینہ میں خوشیاں آئیں ،ہر طرف آسمان سے نور برسنے لگا – حضور کے صاحبزادے حضرت ابراہیم اور حضرت حسین (ر) آپ کے پاس بیٹھے ہیں- فرشتہ آتا ہے اور عرض کرتا ہے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں میں سے ایک کو رب تعالٰی کے پاس واپس لے جانے آیا ہوں – حضور حضرت حسین (ر) کو اپنے سینے سے لگاتے ہیں اور فرماتے ہیں اپنے اس بیٹے کو اس بیٹے پر قربان کرتا ہوں اور حضرت ابراہیم کا انتقال ہو جاتا ہے۔

لمحے بیتنے لگے اور پھر وہ جاں گدازلمحے بھی آئے جب صحابہ کی چیخیں نکل رہی ہیں ،جب مسجد نبوی اجڑ رہی ہے ،روحیں گداز ہو رہی ہیں،کلیجے پھٹ رہے ہیں اور اللہ کے محبوب اپنے رب سے ملنے کی تیاری کر رہے ہیں- کائنات اجڑ گئی جہاں میں ہر سمت اندھیرا ہی اندھیرا چھا گیاروشنی کے ٹمٹماتے ہوئے چراغ آج بھی روشن ہیں جن کو دیکھ کر مصطفی صلی اللہ علیک وسلم کی یاد آتی ہے، لوگ ان شہزادوں کو دیکھ لیتے ہیں اور حضور(ص)  کی یاد کو تازہ کر لیتے ہیں۔

پھر وہ وقت آیا جب خلیفہ دوم حضرت عُمر رضی اللہ عنہ فجر کی نماز کے لیے صفیں درست کروا کر امامت شروع کرتے ہیں تو ابو لولوفیروز نے دفعتہ گھات سے نکل کر چھ وار کئے اور آپ شہید ہو گئے۔

حرم کی داستان پھر بھی جاری رہتی ہے، اس کے پاسبان اپنی زندگیاں لٹا رہے ہیں ،35ھ کو خلیفہ سوئم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو ایک عظیم سازش ، جو کہ درحقیقت اسلامی تاریخ کی سب سے اول اور سب سے عظیم سازش تھی ،کے بعد اس عالم میں قتل کر دیا گیا کہ آپ قرآن کی تلاوت کر رہے تھے ، کئی دن کے روزے سے تھے ،اور اپنے گھر میں محصور تھے، مدینے کیلئے پانی کا بندوبست کرنے والے کا پانی چالیس دن تک بند رہا گو کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سمیت کئی صحابہ کرام آپ کے گھر کے دروازے پر پہرہ بھی دے رہے تھے لیکن اس کے باوجود بلوائی آپ کے گھر میں پیچھے کی سمت سے داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔اور عین تلاوت قرآن کی حالت میں خلیفہ وقت اور امیرالمومنین کو شہید کر دیا گیا۔

ایک دن آیا جب ابن ملجم صبح تاریکی میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ جب فجر کی نماز کے لیے مسجد کی طرف آ رہے تھے تو اس نے آپ پر زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے حملہ کر کے آپ کو شدید زخمی کر دیا اورزہر کی وجہ سے آپ وفات پا گئے۔

وقت گزرتا گیا پھر وہ لمحے بھی آئے جب حضرت امام حسن(ر) کو زہر دیا گیا اور آپ کا کلیجہ کٹ کٹ کے کئی سو حصوں میں باہر آیا- آپ سے آخری لمحے حضرت امام حسین(ر) نے پوچھا میرے بھائی کوئی وصیت کرنی ہے تو کر دو آپ نے فرمایا “کوفے والوں سے بچ کے رہنا، ان کے دغا سے بچ کے رہنا”-

لمحے بیت گئے 60ھ کو یزید تخت نشین ہوا-اس نے چاہا کہ حضرت امام حسین (ر) اس سے بیعت کریں۔کربلا کی تپتی ریگزار میں حضرت امام حسین (ر) نے جبر اور ظلم کے خلاف قوت سےکھڑے ہو کر عزیمت کی داستانیں رقم کیں- 10 محرم کا دن تھا جمعہ کا روز سفید تھا – کربلا کے میدان میں دوپہر کے وقت نبی (ص) کا خاندان اجڑ رہا تھا – ایک ایک کلی اس چمن کی کٹ رہی تھی -72 افراد 22000 کے لشکر جرار کے مقابلے میں کھڑے تھے ،وہ یزید جس نےاس کے علاوہ بھی بڑے جرم کئے- جس نے 1700 صحابہ کو مکہ المکرمہ میں شہید کیا۔ جس نے 700 حفاظ کرام کو شہید کیا، حضرت ابو سعید حزری کی داڑھی نوچ لی ،مسجد نبوی کے اندر گھوڑے باندھے، 3 دن تک مسجد نبوی کے اندر اذان نہ ہونے دی وہ یزید کربلا کے تپتے ریگزار کے اندر آل رسول کے ساتھ ظلم کی وہ داستان رقم کر رہا تھا کہ قیامت تک آنسو سسکیاں نہ تھمنے پائیں۔

 حسین (ر) کا نام آج بھی زندہ ہے، ان کا  پیغام آج بھی زندہ ہے کیونکہ ان کی قربانی دین و امت کیلئے تھی۔ حرم کی سادہ و رنگیں کہانی جس کی ابتدا اسماعیل علیہ سلام سے ہوئی اس کی انتہاء حسین علیہ سلام پر ہونے جا رہی تھی۔ خاندان مصطفی (ص) کا ایک ایک فرد اپنی قربانی دے رہا ہے ۔ بچے بھی قربان ہو رہے ہیں اور پھر یزیدی فوج نے آپ کو بھی شہید کر دیا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *