عیدی ۔ سائنس کی نگاہ سے۔۔۔۔وہاراامباکر

عید کا ایک مزا اور ایک روایت عیدی ہے۔ اس پر ملنے والے نئے اور کڑکتے نوٹ، جن کی اپنی ہی مہک اور آواز ہوتی ہے۔ اس کی خاص وجہ ان کا میٹیریل ہے جو کاغذ کی سب سے للچا دینے والی قسم ہے۔ دیوار میں بنے ایک سوراخ میں نصب مشین میں اپنا پِن کوڈ ڈال کر نکلنے والے خوبصورت خستہ نوٹوں کا ایک اپنا ہی احساس ہے۔ اگر مناسب مقدار میں ہوں تو اس دنیا میں کچھ بھی اور کہیں بھی کر لینے کا اجازت نامہ ہیں اور اس آزادی کا نشہ ہے۔ اس کو حاصل کرنے کیلئے ہر قسم کے طریقے استعمال کئے جاتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کاغذ کی تیاری کی سب سے خاص ترین شکل بھی ہیں۔ اور ایسا ہونا ضروری بھی ہے کیونکہ یہ پورے اقتصادی نظام پر بھروسے کا نشان بھی ہیں۔

ان کی نقل بننے سے روکنے کیلئے اس کاغذ کے ساتھ کئی قسم کے حربے استعمال کئے جاتے ہیں۔ ان میں سب سے پہلا تو یہ ہے کہ یہ کاغذ دوسرے کاغذوں کے برعکس سیلولوز سے نہیں بنایا جاتا بلکہ کپاس سے بنتا ہے۔ اس سے نہ صرف زیادہ مضبوطی ملتی ہے اور بارش میں اور واشنگ مشین میں دھل کر بھی سلامت رہ جاتا ہے بلکہ یہ اس کپاس کی وجہ سے اس کاغذ کی اپنی ایک خاص آواز ہے۔ کڑکتے کرنسی نوٹوں کی آواز ان کی ایک خاص نشانی ہے۔

اگر یہ لکڑی سے بنائے گئے کاغذ کے ہوتے تو ان کی نقل بنانا آسان تھا۔ اے ٹی ایم مشین بھی اس کاٹن کا خاص ٹیکسچر دیکھتی ہیں اور انسان بھی اس پر ہاتھ پھر کر پہچان سکتے ہیں۔ اگر کسی بینک نوٹ کے بارے میں شک ہو تو اس کا کیمیکل ٹیسٹ بھی آسان ہے اور کئی دکانوں پر کیا جاتا ہے۔ یہ آئیوڈین کے قلم کا ٹیسٹ ہے۔ جب اس قلم کو سیلولوز کے پیپر پر پھیرا جائے تو آئیوڈین سیلولوز کے سٹارچ سے ری ایکشن کرتی ہے اور ایک پگمنٹ بناتی ہے اور سیاہ ہو جاتی ہے۔ جب اسی قلم کو کرنسی نوٹ پر پھیرا جائے تو اس میں کوئی سٹارچ نہیں ہوتی جس کی وجہ سے کوئی نشان نہیں بنتا۔ اس کی وجہ سے دکاندار رنگین فوٹو کاپی کی مشین پر بنائے نوٹوں کی جعلسازی سے محفوظ رہتے ہیں۔

اس پیپر کے پاس ایک اور حربہ بھی ہے، جو واٹر مارکنگ ہے۔ اس پر بنا پیٹرن اور تصویر جو صرف اس وقت دیکھی جا سکتی ہے جب روشنی اس میں سے گزرے۔ یہ نشان کسی اِنک کا نہیں یا پانی کا داغ نہیں بلکہ اس کو انجینر کیا جاتا ہے۔ اس کا طریقہ اس کاٹن کی ڈینسیٹی میں میں کی گئی معمولی تبدیلیاں ہیں تا کہ ہلکے اور گاڑھے نشان مل کر ایک خاص پیٹرن بنا لیں۔ پاکستانی کرنسی کے نوٹوں پر ابھرنے والی قائدِ اعظیم کی شبیہہ اس کی مثال ہے۔

کاغذ کے کرنسی نوٹ خود اب خاتمے کی طرف جانے والی چیز ہیں۔ الیکٹرانک طریقوں سے پیسے کی ترسیل اب ان کی ضرورت کو کم کر رہی ہے اور کرنسی نوٹ کے ذریعے ہونے والے لین دین میں روز بروز کمی واقع ہو رہی ہے۔ چھوٹی ٹرانسیکشن میں انکا استعمال ابھی باقی ہے لیکن الیکٹرانک طریقے اب ان پر بھی حملہ آور ہو رہے ہیں۔ برِصغیر میں پہلی بار 1770 میں متعارف ہونے والے کرنسی نوٹوں کا معدومیت کی طرف سفر کا آغاز ہے۔

کرنسی نوٹوں کی صورت میں عیدی خود پرانی روایت نہیں۔ یہ مشرقی ایشیا میں تہواروں اور خاص مواقع پر دی جانے والے سرخ لفافے میں تحفے اور مشرقِ وسطیٰ سے آنے والی ہدیہ کی روایت کا امتزاج ہے۔ چین میں سرخ لفافے کی روایت اب ڈیجیٹل شکل میں منتقل ہونا شروع ہوئی ہے اور چین میں اس نئی مارکیٹ کی حاصل کرنے کے لئے اس وقت علی بابا اور ٹین سینٹ میں کانٹے دار مقابلہ ہو رہا ہے۔ کیا عیدی بھی مستقبل میں کبھی ان نئے نویلے کڑکتے نوٹوں کے معدوم ہو جانے کے بعد الیکٹران کی حرکت میں تبدیل ہو جائے گی؟ معلوم نہیں لیکن روایات بدلتی رہتی ہیں۔ جب تک کرنسی نوٹوں سے عیدی کی روایت باقی ہے، اس وقت تک اس عید پر ملنے والی عیدی کا لطف اٹھائیے۔

عید مبارک!!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *