دو ملاؤں میں عید حرام۔۔۔۔فراست محمود

اَلْعُلْمَاءُ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ وَالْأَنْبِيَاءُ قَدْ تَعَلَّمُوا مِنَ اﷲِ

{علماء، انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث ہیں اور انبیاء کرام علیہ السلام نے اﷲ تعاليٰ سے علم حاصل کیا
یقیناً متذکرہ بالا حدیث میں ایسے لوگ شامل نہیں ہوں گے جوفتنہ پرور ہوں گے اور نہ ہی ایسے نام نہاد مولوی شامل ہوں گے جو ذرا ذرا سے اختلاف کرنے پہ لوگوں کو نکاح اور جنازہ خودپڑھانے کے طعنے دیتے ہوں گے بلکہ انبیاء کے وارثوں کو یہ وراثت اس لئے عطا ہوئی تاکہ وہ معاشرے اور سماج کو حق و صداقت کی راہ دکھلائیں اور انسانیت میں عدل وانصاف,امن آشتی محبت و بھائی چارے کا نور بانٹتے پھریں اور ایسے علماء بے شک ہمارےسروں کا تاج ہیں. مگر اپنے معاشرے میں ایسے مولوی نما عالم پائےجاتے جو نہ صرف فتنہ وفساد پھیلاتے ہیں بلکہ اپنی انا کی تسکین کے لئے قتل کے فتوے بھی جاری کرتے ہیں.(یہ الگ بات کہ بعد میں مکر جاتے ہیں).
ممتاز مفتی صاحب ان کو ایسا طاقتور طبقہ قرار دے چکے ہیں جن کو” نہ ” سننے کی عادت ہی نہیں ہوتی. جن کا کہا حرف آخر ہوتا ہے اور خدانخواستہ کوئی شخص ان سے اختلاف کی جسارت کر بیٹھے اس کی دنیا وآخرت تو خراب ہو ہی جاتی ہے بلکہ بعض اوقات تو جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑتے ہیں. فواد چوہدری صاحب کی بد قسمتی کہ وہ دو بار اس طاقتور طبقے سے پنجہ آزمائی کر بیٹھے ہیں.پہلی مرتبہ جب ڈاکٹر عارف میاں کی بطور مشیر وزیر خزانہ تقرری ہوئی تو نہ صرف اس تقرری کو صحیح کہنے لگ گئے بلکہ بات ذرا اور آگے نکل گئی اور چوہدری صاحب انسانیت کے ناطے پوری قادیانی کمیونٹی کو تحفظ دینے کی بات کر بیٹھے اور اپنے ایمان کو اس طبقے کی نظر میں مشکوک کر دیا(مجھے ذاتی طور پہ اس دن چوہدری صاحب سے ہمدردی محسوس ہوئی)۔
اور ایک بار پھر رمضان شریف کے شروع میں جب دو علماء میں رمضان کا چاند پہ حسب  معمول اختلاف ہوا تو چوہدری صاحب اس سالانہ چخ چخ کو ختم کرنے کے لئے سائنسی بنیادوں پہ قمری کیلنڈر تیار کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے اور ایک بار پھر زیر عتاب آ گئے۔
پورا رمضان کا مہینہ یہ نوک جھوک بھی جاری رہی، فوادصاحب کامذاق بھی بنتا رہا اور روئیت ہلال پہ سوشل, الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پہ حاصل و لا حاصل بحث بھی جاری رہی مگر فواد صاحب بھی ضد کے پکے نکلے اور نہ صرف قمری کیلنڈر ایک عرصے کے لئے تیار کر لیا بلکہ وقت سے پہلے علوم فلکیات کی مدد سے قمری کیلنڈر کے مطابق پانچ جون کو یکم شوال یعنی عید الفطر کی خوشخبری بھی سنا ڈالی۔ جو ظاہر سی بات علماء کے غصے کو  دوچند  کر گئی اور آخر کار وہی ہوا جو اک عرصے سے ہو رہا ہے کہ فیصلہ بھی علماء کی مرضی سے ہوا اور عید بھی ان کی ضد کی وجہ سےپھیکی پڑ گئی۔پوپلزئی صاحب فواد صاحب کے کیلنڈر کو مشروط بنیادوں پہ تسلیم کرنے پہ راضی ہو گئے اگر اس کا اطلاق رمضان اور عید الفطر پہ نہ ہو۔ پوپلزئی صاحب نے اس بار نہ صرف مفتی منیب الرحمان صاحب کو شکست دینے کی ٹھانی بلکہ فواد چوہدری کے کیلنڈر کو غلط ثابت کرنے کے لئے پانچ جون کے بجائے چار جون کو روئیت بصری کی بنیاد پہ شہادتوں کے موصول ہونے پر عید الفطر کا اعلان کر دیا جبکہ ماہر علوم فلکیات کے مطابق اس روز چاند 3 ڈگری پر تھا جو کسی آنکھ تو کیا دوربین کی مدد سے بھی دیکھنا ناممکن تھا پتہ نہیں پوپلزئی صاحب کو شہادتیں کدھر سے اور کون کون دیتا رہا۔اور ظلم تو یہ ہوا کہ کے پی کے  کی حکومت بھی پوپلزئی کے ساتھ کھڑی ہو گئی اور مرکز سے بغاوت کرتے ہوئے صوبائی سطح پہ سرکاری طور پہ عید منائی گئی۔
وزیر اطلاعات و صحت کے پی کے شوکت یوسفزئی صاحب کاپوپلزئی کے لئے روئیت ہلال کی چئیرمین شپ کا مطالبہ, وزیر اعلی کے پی کے کا عید منانا اور آج پھر وزیر صاحب کا یہ بیان کہ عید وزیر اعظم سے مشاورت کے بعد منائی گئی اور اعلان کفارہ یہ اس سادہ قوم کے ساتھ بھیانک مذاق نہیں تو کیا ہے؟؟
ویسے کفارے غلطیوں کے لئے ہوتے ہیں مستیوں کے لئے نہیں۔اس قوم کی کافی تہذیبی و روایتی خوشیاں عرس,میلے پہلے ہی عام علماء کے غلط فیصلوں کی نذر ہو گئی ہیں خدارا عید جیسے اسلامی تہواروں کی خوشی تو اس قوم کو کھل کر منانے دیں اور رنگ میں بھنگ نہ ڈالیں.
رمضان المبارک یا عید الفطر آئندہ قمری کیلنڈر کے مطابق ہو گی یا چاند دیکھ کر ہی ہوگی یہ بحث ابھی نہ ختم ہونے والی ہے۔
ویسے دونوں علماء نے فواد چوہدری کو تو آڑے ہاتھوں لیا تھا مگر آپس میں اتنی بڑی غلطی کر کے بھی دونوں طرف خاموشی کیوں؟؟نہ کسی کی دنیا خراب ہوئی اور نہ آخرت۔ صرف خراب ہوئی تو ہماری اور آ پ کی عید۔۔
ویسے بھی ہم ورلڈ کپ میں مشغول ہیں ہمیں اس سے کیا کہ عید چار جون کو ہو یا پانچ جون کو۔
ہمارا مشورہ ہے کہ جن کو بلاوجہ چاند نظر آ جاتا ہے اگر ایک بار ان کو کوئی تارے دکھا دیتا تو یہ ہر سال ایسے اعلانات سے پرہیز برتتے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

فواد چوہدری کا مؤ قف درست ہے یا ہمارے دونوں علماء کا فیصلہ قوم خود کر لے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply