مسئلہ چاند کا اور بیاں اپنا۔۔۔۔انعام رانا

ہر سال ہمارے ملک میں چاند کا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ مسئلہ عموماً مسجد قاسم جان کے اعلان سے شروع ہوتا ہے اور پھر بجائے عید منانے کے باقی ملک کے محب  وطن مذہبی کیا غیر مذہبی بھی ہائے ہائے دو عیدیں ہو گئیں کا ورد شروع کر دیتے ہیں۔

شرعی مسائل کا علم نہیں، گو مرشدی طفیل ہاشمی نے تعلیم فرمایا کہ احناف میں اختلاف مطالع نہیں ہوتا سو چندا کہیں بھی نظر آئے عید کر لیتے ہیں، البتہ سائنسی طور پہ یقیناً عید کا اک پیشگی قمری کیلنڈر ممکن ہے۔ یوکے میں دیکھا کہ احمدی دوست اور شیعہ دوست عموماً ایک ایڈوانس کیلنڈر کے تحت ہی عید کرتے ہیں۔ ترکی میں بھی شاید موجود ہے۔ ہمارے ہاں فواد چوہدری نے اس جانب قدم اٹھایا ہے جو یقیناً قابل تحسین ہے۔ مسئلہ مگر ہمارے ہاں “آنکھ سے روئیت” پہ اصرار کا ہے۔
نجانے کیوں ہم نے روئیت ہلال یا اک دن عید کو ملکی سلامتی اور سورینٹی کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ ایک ملک میں ایک عید ہونا قطعاً اس ملک کے اتحاد کی علامت نہیں ہے۔ ہم یوکے میں دو دن عید مناتے ہیں کبھی اس بنا پہ کوئی خوامخواہ کا مسئلہ نہیں  بنا سوائے اسکے کہ کس کو مبارک پہلے دن دینی اور کس کو  دوسرے دن۔ گو اکثریت روزہ لیٹ اور عید جلدی پہ ہی یقین رکھتی ہے۔ ہنسی سب سے زیادہ ان دوستوں پہ آتی ہے جو اک جانب تو ریاست کی غیر ضروری مداخلت پہ شور کرتے ہیں اور آج ریاست کو یہ طعنے دے رہے ہیں کہ وہ پشتونوں کو باقی ملک کے ساتھ عید منانے پہ “مجبور” نہ کر سکی جو ریاست کے کمزور ہونے یا پشتونوں کے “لر بر “ تصور پہ ایمان لے آنے کی برہان قاطع ہے۔ صدقے میں تواڈی دانشوریاں دے، اخے موقع نہیں جان دینا۔
بھائی اک آسان سا حل ہے، یہ جو مولویوں کی روٹیاں لگائی ہیں روئیت ہلال کے نام پہ بند کرو، قمری کیلنڈر جاری کرو، اور سرکاری طور پہ اس کے مطابق عید کی چھٹیوں (جو وفاقی حکومت کا اصل مسئلہ ہے اس تمام قضیے میں) کا اعلان اس کیلنڈر کے مطابق کر دو۔ اب علاقائی طور پہ کون پہلے دن عید منائے اور کون دوسرے دن، یہ اسکا درد سر ہے۔
اختلاف عید یا روئیت ہلال سے نہ تو قوم کے اتحاد پر اثر پڑتا ہے اور نہ  ہی ریاست کے اقتدار اعلی پر، البتہ فضول مباحث اور جبر سے ضرور پڑتا ہے۔ اس قوم کے حقیقی مسائل ہی اتنے زیادہ ہیں کہ فروری مسائل میں وقت کا ضیاع فضول ترین حرکت ہے۔
ویسے بھی عید تو اپنا اپنا چاند دیکھ کر ہی ہوتی ہے۔

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *