پاکستانیوں سے ہمدردی کیوں؟ ۔۔۔سید فاضل حسین پرویز

ادارہ مکالمہ اس مضمون کو فقط اس لیے شائع کر رہا ہے تاکہ کچھ “بھارتی مسلمان دوستوں” کے خیالات سے آگاہی ہو۔ کوئی پاکستانی دوست جواب دینا چاہیں تو مکالمہ حاضر ہے۔ 

ہندوستان کی جانب سے اس بات کے تیقن کے باوجود کہ پڑوسی ملک سے جنگ نہیں ہوگی‘ جنگ کا خوف ذہنوں پر طاری ہے۔ ہندوستانی فوجی کیمپ پر ایک اور حملہ کیا گیا جو اگرچہ کہ ناکام رہا مگر مشتعل کرنے کے لئے کافی ہے۔ لگتا ہے کہ کچھ عناصر اپنے مفادات کے لئے ہند و پاک کے درمیان نفرت ‘ دشمنی کی خلیج وسیع کرنے کا تہیہ کرچکے ہیں۔ ہندوستانی فوج کے سرجیکل آپریشن کی تمام ہندوستانیون نے سیاسی اور نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہوکر ستائش کی ہے اور حکومت اور فوج کے اس اقدام کی حمایت کرنے والوں میں ہم بھی شامل ہیں۔

یہ مودی حکومت یا وزیر اعظم مودی کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ انہوں نے ایک ایسے وقت پورے ملک کی عوام کی حمایت حاصل کی جبکہ ملک کی بعض ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ جس کے لئے سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے اور انتخابی جلسوں اور ریالیوں میں اپوزیشن قائدین مسٹر مودی اور ان کی حکومت کو حدف تنقید بنارہے تھے۔ایک ایسے وقت جبکہ مرکزی حکومت کی ڈھائی سالہ کارکردگی پر سوال اٹھائے جارہے تھے‘ وزیر اعظم کے مسلسل بیرونی دوروں پر تنقید کی جارہی تھی‘ مقبوضہ کمشیر میں ہندوستانی فوج کے سرجیکل آپریشن نے سب کے منہ پر تالا لگا دیا۔ جو زبانیں تنقید کررہی تھیں‘ اب وہی اب تعریف کے پل باندھ رہی ہیں۔

ہندوستان و پاکستان کے درمیان جنگ ہوگی یا نہیں؟ کیا حالات اس قدر کشیدہ ہوجائیں گے کہ دونوں ممالک اپنی نیوکلیئر طاقت کے لئے مجبور ہوجائیں گے؟ کیا پاکستان کا وجود مٹ جائے گا؟ کیا پاکستان ہندوستان پر حاوی ہوسکے گا؟ ایسے بہت سارے سوالات ذہنوں میں ابھرتے ہیں۔جنگ ہو یا نہ ہو ‘ چھوٹے موٹے واقعات تو روزمرہ کے معاملات میں شامل ہیں۔1947ء سے لے کر آج تک ان گنت جھڑپیں ہوچکی ہیں۔ بے شمار ہلاکتیں دونوں جانب سے ہوچکی ہیں۔یہ اور بات ہے کہ اب تک صرف 4 جنگوں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ 48‘ 65‘ اور 99 میں جنگیں لڑی گئیں تو اس کے لئے ذمہ دار پاکستان ہی رہا کیونکہ اسی نے پہل کی تھی۔ 1971ء کی جنگ بنگلہ دیش کی علیحدگی کا سبب بنی اور اس میں تو پاکستان کو شکست فاش ہوئی تھی اور 90 ہزار پاکستانی سپاہیوں اور شہریوں نے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ یہ تعداد دوسری جنگ عظیم کے بعد دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ ایک پاکستانی صحافی و ادیب کے الفاظ میں پاکستان اپنے نصف بحریہ ‘ ایک چوتھائی فضائیہ اور ایک تہائی زمینی فوج سے محروم ہوگیا تھا۔

پاکستان ہمارا ایک ایسا پڑوسی ملک ہے جس سے ہم چاہتے ہوئے ہمدردی کا اظہار نہیں کرسکتے ۔ ہاں کوئی غیر مسلم اگر پاکستان کی حمایت میں بات کرتا ہے تو اسے سیکولر سمجھا جاتا ہے۔ ہندوستانی مسلمان کے لئے پاکستان کے حق میں بات کرنا اپنے آپ کو مسائل میں الجھانے کے لئے کافی ہے حتیٰ کہ پاکستانی کھلاڑیوں کے اچھے کھیل کی تعریف کی جائے تو اسے دیش سے غداری یا فرقہ پرستی سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے۔ کوئی سیاستداں کسی پاکستانی فنکار‘ دانشور‘ کھلاڑی کو مدعو کرکے اسے تہنیت پیش کرتا ہے تو اس کی واہ واہ کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر وجپائی سے لے کر نریندر مودی نے پاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانے میں پیشرفت کی۔ یہ واجپائی ہی تھے جنہوں نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے ہند وپاک کے سفارتی تعلقات بحال کئے جس کے بعد بچھڑے ہوئے خاندان برسوں کے بعد ایک دوسرے سے ملنے لگے۔ واجپائی اور نواز شریف کی دوستی بھی مثالی رہی۔ وہی تاریخ نریندر مودی نے دہرائی۔ اپنے تقریب حلف برداری میں نواز شریف کو مدعو کیا‘ خود اچانک لاہور پہنچ گئے اور اپنے ہم منصب کو سالگرہ کی مبارکباد دی۔ ساری دنیا نے خراج تحسین پیش کیا۔ اب اچانک حالات کروٹ بدل چکے ہیں۔

ایک طرف پاکستان کی علماء کے بھیس میں جہلاء کی اشتعال انگیزی کشمیریوں کی ہمدردی کی آڑ میں جذبات کی سوداگری‘ دوسری طرف تخریب کاروں کی سرگرمیاں ہندوستان کواپنے پڑوسی کے خلاف کاروائی کے لئے مجبور کرتی رہی ہیں۔ جب کبھی ہند پاک سرحدوں پر کشیدگی پیدا ہوتی ہے‘ ایک طرف اپنے وطن کے لئے مر مٹنے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے ساتھ ہی ساتھ پڑوسی ملک کی عوام سے بھی ہمدردی کی لہر پیدا ہوتی ہے۔ یہ ہمدردی انسانی بنیادوں پر ہوتی ہے اور اس کا اظہار نہ تو دیش سے غداری ہے نہ تو پڑوسی ملک سے یگانگت کا اظہار ہے۔ یہ ہمدردی کے جذبات محض اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ پاکستان کا وجود ایک اسلامی مملکت کے طور پر عمل میں آیا۔ نظام مصطفویؐ رائج کرنے کے عزائم کے ساتھ مسلمانوں کی اکثریت کے ساتھ اس ملک کی بنیاد پڑی۔ایک نئے مستقل کی آس کے ساتھ لاکھوں مسلمانوں نے ہجرت کی۔ شاید مدینہ کے انصار کی خوش اخلاقی‘ جذبہ ایثار ان کے تصور میں تھا جنہوں نے مکہ سے ہجرت کرنے والوں کے لئے اپنی آغوش وا کردی۔

ہندوستان سے پاکستان ہجرت کرنے والے 70 برس سے مہاجر ہیں۔ دوسرے درجہ کے شہری اگر پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا کی خبروں پر یقین کیا جائے تو مہاجرین کے حالات بدترین ہیں۔ ایک دور وہ بھی گزرا جب اردو بولنے والے مہاجرین کی زبانیں کاٹ دی گئیں حالانکہ اردو پاکستان کی سرکاری زبان ہے۔ مساوات‘ اسلام کی خصوصیات میں سے ہے۔ کلمہ توحید کے پرچم تلے سب مسلمان ایک ہیں۔ کسی کو کسی پر فضیلت نہیں مگر پاکستان میں مسلکی ‘ علاقی اور لسانی تعصب ہر دور میں عروج پر رہا ۔ پاکستانی عوام سے اس لئے بھی ہمدردی ہوتی ہے کہ اپنی قیام سے لے کر آج تک اہل کوفہ کی طرح انہیں کبھی بھی کوئی اچھا حکمران نہیں ملا۔ ان کے پہلے گورنر جنرل جنہیں قائد اعظم اور بانی پاکستان کی حیثیت یاد کیا جاتا ہے‘ محمد علی جناح قیام پاکستان کے صرف 11 مہینوں بعد انتقال کرگئے۔ اس کے بعد گورنر جنرل غلام محمد ہوں یا منصب صدارت پر فائز ہونے والے ایوب خان‘ یحییٰ خان‘ بھٹو‘ آصف زرداری یا وزرائے اعظم بے نظیر بھٹو اور نواز شریف یہ سب اپنی بدعنوانی ‘ کرپشن کے لئے پاکستانی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ اپنے ملک کی عوام کا خون چوس چوس کر ملک و بیرونی ممالک میں اپنے اربوں روپیوں کے محلات تعمیر کرنے والے ان قائدین نے عوامی محاسبہ سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو چھیڑا اور اپنے ملک کے عوام کو اپنے پڑوسی ملک ہندوستان سے جنگ کے خطرات سے خوفزدہ کیا۔ پاکستان کے عوام کی اکثریت یقیناًسادہ لوح ہے۔ تبھی تو وہ عیار و مکار ‘ مردہ ضمیر‘ ملت فروش نام نہاد مذہبی علماء کے استحصال کا شکار ہوتی رہتی ہے۔ وہ ہندوستان سے جہاد کا عہد کرتے ہیں‘ ان کی سادگی پر کبھی دل خون کے آنسو روتا ہے تو کبھی ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ان کی اسی سادہ لوحی ‘ حماقت کا خمیزہ ہندوستان کے 26 کروڑ مسلمانوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔

ہندوستانی مسلمان اگر ذرا سی ہمدردی پاکستانی عوام سے رکھتا ہے تو محض اس لئے کہ 70 برس پہلے جن لوگوں نے یہاں سے ہجرت کی اب بھی ان کے خاندان کے بیشتر ارکان یہاں موجود ہیں۔ اسی لئے جب کبھی سرحدوں پر تناؤ ہوتا ہے تو دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے۔ اس ڈر سے کہ کہیں ہمارے اپنے ہتھیاروں کی زد میں آنے والے ہمارے اپنے تو نہیں! جہاں تک اپنے وطن سے محبت کا تعلق ہے جب وقت آجاتا ہے تو ہم ہندوستانی مسلمان بھی اپنے وطن کے لئے جانثار کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے سامنے دشمن ملک کی وردی میں کوئی ہمارا اپنا ہے یا نہیں۔

پاکستانی عوام سے اس لئے ہمدردی پیدا ہوتی ہے کہ یہ معصوم اور سادہ لوح ان عیاروں اور مکاروں کی سازشوں کو نہیں سمجھ پاتے جو کشمیر کو ایک مسئلہ بناکر پیش کرتے ہیں۔ میرا یہ دعویٰ ہے کہ جس دن پاکستان کشمیر کاراگ الاپنا چھوڑدے‘ اس دن سے کشمیر کے حالات ‘ اس کی تقدیر بدل جائے گی۔ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ کشمیری عوام کی اکثریت خود مختاری چاہتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ کچھ پاکستان میں شمولیت بھی چاہتے ہیں تاہم ایسی خود مختاری جس میں خارجی معاملات اور کرنسی ہندوستان کی ہوقابل ترجیح ہے۔

پاکستانی عوام جانے کیوں سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان ہوجاتے ہیں۔ پاکستان کا قیام اگر عمل میں آیا تو ہند و پاک کے شاطر سیاستدانوں کے سیاسی مفادات کی خاطر اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔آج بھی سیاستداں اپنے مفاد اور اقتدار کی بقاء کے لئے سرحدوں پر تناو چاہتے ہیں اور عوام کو تناو کا شکار بناتے ہیں۔

کاش دونوں ممالک کے عوام سنجیدگی سے اس پر غور کریں اور اپنے عقل و شعور کی کسوٹی پر حالات کا جائزہ لیں۔ جذباتی نہ بنیں۔ خاص طور پر پاکستانی عوام کو چاہئے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں۔ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ان کی آبادی 18 کروڑ ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی آبادی ان سے دوگنی ہے اور ہندوستان آبادی اور علاقہ کے اعتبار سے بہت بڑا ملک ہے۔ اس کے وسائل زیادہ ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک اس کے ساتھ ہیں جبکہ پاکستان اس وقت عالمی برادری میں اپنے آپ کو یکا و تنہا محسوس کررہا ہے۔ آج ہر شعبہ حیات میں پاکستانیوں کا بائیکاٹ ہورہا ہے۔

پاکستانی کھلاڑی ہوں یا فنکار نہ تو انہیں کہیں مدعو کیا جارہا ہے نہ ہی کوئی پاکستان جانا چاہتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا تذلیل ہوسکتی ہے کہ پاکستان اپنے کھیل کے مقابلے تک اپنی سرزمین پر نہیں کرسکتا۔ اسے دوسرے ممالک کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ پاکستان کی ذلت و رسوائی اور اسے بدترین بحران سے دوچار کرنے کے لئے ذمہ دار کون ہیں؟ دہشت گرد عناصر‘ جاہل مذہبی سوداگر اور مفاد پرست سیاستداں…!!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”پاکستانیوں سے ہمدردی کیوں؟ ۔۔۔سید فاضل حسین پرویز

  1. جو علاقے اس وقت پاکستان میں شامل ہیں حقیقت یہ ہے کہ تحریک پاکستان ان علاقوں میں اس زور و شور سے نہیں چلی. ہندو مسلم تضاد دراصل ان علاقوں میں زیادہ تھا جہاں مسلمان اقلیت میں تھے اور انہی علاقوں کے مسلمان اس تحریک میں آگے آگے تھے. قیام پاکستان سے قبل ان علاقوں میں اتنے زبردست فساد ہوئے کہ انگریز بھی گھبرا گئے اور ان کو یقین ہو گیا کہ یہ دونوں قومیں ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں لہٰذا ملک کی تقسیم ناگزیر ہو گئی. دراصل ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ سوالات اپنے بزرگوں سے پوچھنا چاہئیں کہ وہ کیوں ہندو اکثریت کے ساتھ سمجھوتہ نہ کر سکے اور نتیجے کے طور پر برصغیر کے مسلمان تقسیم ہو گئے.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *