• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • خیبر پختونخواہ اور عمران خان کا یکساں نظامِ تعلیم ۔۔۔ عامر کاکازئی

خیبر پختونخواہ اور عمران خان کا یکساں نظامِ تعلیم ۔۔۔ عامر کاکازئی

حال ہی میں ہماری خیبر پختون خوا کی حکومت نے یکساں نظامِ تعلیم رائج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بادی النظر میں تو خان کے سب پاسدران یہ سن کر اچھل کود شروع کر دیں گے، مگر زرا ٹھہریے، پہلے سن تو لیں کہ ہمارے صوبے میں تعلیم کے ساتھ کیا ظلم ہونے جا رہا ہے؟

خیبر پختونخوا کی حکومت نے نجی سکول والوں پر یہ پابندی عائد کر دی ہے کہ وہ لازماً پختون خواہ کا متروک کورس، جو بورڈ کا منظور شدہ ہو وہی پڑھائیں گے۔ بجاۓ اس کے کہ یہ کرتے کہ اپنے سرکاری اسکولوں کا سلیبس اپ گریڈ کر کے کورسز کو نجی اسکولوں کے برابر لاتے، انہوں نے سیلیبس کو ہی ڈی گریڈ کر دیا۔

اسی طرح ایک آدھ دن پہلے، جبکہ سارے نجی سکولوں کا تعلیمی سیشن تقریباً نصف ہو چکا ہے، ایک دم یہ فیصلہ بھی کر لیا گیا کہ اب بورڈ پانچوی کلاس اور مڈل کا بھی امتحان لے گا۔ یہ امتحان فروری میں لیا جاۓ گا۔ اب کیا یہ ممکن ہے کہ نجی سکول والے صرف تین مہینے میں پورے سال کا کورس ختم کر دیں؟ اور یہ کس طرح ممکن ہے کہ ٹیچر جس نے ابھی یہ کتابیں خود بھی نہیں پڑھیں، وہ یہ کورس اپنے طالب علموں کو تین مہینے میں مکمل کروا دے؟

خیبر پختونخوا کے بورڈ کے سارے مضامین بشمول ریاضی، اردو میں ہیں، ایک بچے کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ چار سال یا اس سے زیادہ، ریاضی اور دوسرے مضامین انگلش میں پڑھیں ہوں اور وہ اچانک جا کر امتحان اردو میں دے دے؟

اس کا ایک سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ ایسے طالب علموں کا تناسب بہت زیادہ ہو جاۓ گا  جو پانچویں کا امتحان پاس نہیں کر سکیں گے اور اس بنا پر انہیں اسکول سے ہی نکال دیا جاۓ گا یا وہ کلاس ریپیٹ کریں گے۔ اس کا دوسرا یہ نقصان یہ ہو گا کہ ہمارے صوبے کے بچے دوسرے صوبوں کے بچوں کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکیں گے، کسی بھی فیلڈ میں۔

ہکساں نظامِ تعلیم کا مطلب ہے کہ دنیا کا بہترین نظامِ تعلیم اپنائیں، ہر درجے پر۔ اس کو اپنانے کا ایک بہترین طریقہ یہ بھی تھا کہ اپنے متروک سلیبس کو نجی اسکولوں کے آکسفرڈ کے جدید سلیبس کے ساتھ اپ گریڈ کیا جاتا اور اگلے تعلیمی سال سے سکولوں سے نافذ کیا جاتا۔تعلیمی سال کو انٹرنیشنل سٹینڈد کے مطابق اسکولوں کو اپ گریڈ کر کے 12 th سٹینڈرد تک لے جایا جاتا۔ مگر جہاں عمران خان ہو اور وہاں کوئ ہلچل نہ ہو، یہ کس طرح ممکن ہے۔ وہ تو سیدھا کام بھی الٹا لٹک کر کرنے کے عادی ہیں۔

خامہ فرسا نے اسی سلسلے میں پشاور کے ایک سرکاری گرلز اسکول کا بھی وزٹ کیا۔ بلڈنگ کی بُری حالت اور ٹوٹے پھوٹے فرنچر کے علاوہ پینے کے پانی تک کا انتظام نہیں تھا۔ ایک کلاس روم میں گیا، جہاں ایک ٹیچر ایک چھوٹے سے کمرے میں تقریباً ایک سو بیس بچیوں کو پڑھا رہی تھی۔ اس کمرے میں نہ بجلی تھی، نہ کوئ اور سہولیات۔ سٹاف کی کمی کی وجہ سے وہ ٹیچر پابند تھی کہ ایک سو بیس سٹوڈنڈس کو تمام سبجیکٹس پڑھاۓ۔ ایک دوسری میں کلاس گیا، جہاں ایک ٹیچر اسی پچیوں کو پڑھا رہی تھی۔ ٹیچر کی تنخواہ صرف اٹھارہ ہزار تھی۔ اب اپ خود فیصلہ کریں کیا کوئ ٹیچر، اسی سے سو بچوں کو انصاف کے ساتھ پڑھا سکتی ہے؟

ایک خبر، کارگاہِ تعلیم سے یہ بھی ملی ہے کہ بورڈ کی کتابیں چھاپنے کے لیے ایک منہ چڑھے مصاحب کو مقرر کیا گیا ہے۔ اب صرف دو سال ہیں، کچھ کمانے کے لیے۔ اسی لیے یہ حرکت اتنی عجلت میں کی گئ ہے۔

پچھلے چار سال سے یہ حکومت اپنے ترقیاتی بجٹ کا بمشکل تیس فیصد خرچ کرتی چلی آرہی ہے۔ ستر فیصد پیسہ وفاق کو واپس چلا جاتا ہے۔ کیا وہ پیسہ جو واپس چلا جاتا ہے، سکولوں کی حالت بہتر بنانے پر خرچ نہیں کرسکتی؟ یہ پروپیگنڈہ صرف کاغذوں کی حد تک ہے کہ یہ صوبہ سب سے زیادہ تعلیم پر اپنے بجٹ کا حصہ خرچ کرتا ہے۔

یہاں یہ واضع کر دوں کہ متوسط طبقہ حکومت کے ُبرے، خستہ حال سکولوں اور متروک سلیبس کی وجہ سے اپنے بچوں کو نجی سکولوں میں پڑھانے پر مجبور ہے۔ اب کیا ہماری تبدیلی کی حکومت ہم سے ہمارے بچوں کا مستقبل بھی چھینے کا ارادہ رکھتی ہے؟ اگر کچھ بہتری نہیں لا سکتے تو کم از کم جو موجود ہے وہ تو ہم سے نہ چھینیے۔ پہلے مذہبی دہشتگردوں نے مذہب کے نام پر خودکش حملے کر کے ہمارے بچے مارے اور اب لگتا ہے کہ طا لبان خان، پختون خواہ کے بچوں کا مستقبل تاریک کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

‎ہمارا عمران خان کے لیے مشورہ ہے کہ اگر آپ نے تبدیلی کے نام پر ووٹ لیے، تو نظر بھی آنا چاہیے کہ تبدیلی آئ ہے، نا کہ آپ دوسروں پر تنقیدد کریں اور اپ کے اپنے علاقے تنزلی کا شکار ہوں۔ اسی طرح اپ کو اپنی پرفارمنس اس قابل بنانی چاہیے کہ جس کی دوسرے تقلید کریں۔ یہ بھی سوچیے کہ اگر آپ کے اور دیگر پارٹیوں کے کام میں کوئی فرق نہیں تو آپ کو ’تبدیلی‘ کے دعوے سے کنارہ کش ہو جانا چاہئے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *