• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • نئی عالمی طاقتوں کی گروہ بندی،پاکستان کا امریکہ کو انتباہ …. طاہر یاسین طاہر

نئی عالمی طاقتوں کی گروہ بندی،پاکستان کا امریکہ کو انتباہ …. طاہر یاسین طاہر

امریکہ ایک تسلیم شدہ عالمی طاقت ہے ، مگر طاقت کی یہ رسی جسے امریکہ نے مضبوطی سے پکڑا ہواتھا  اس پر سے اس کی گرفت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ طاقت کو اپنی طرف منتقل کرنے کے لیے امریکہ اور اس کے منصوبہ سازوں نے کئی کھیل کھیلے۔ عالمی جنگوں میں امریکہ کا کردار بڑا اہم رہا۔ بالخصوص دوسری عالمی جنگ میں ، جس کے دوروان میں امریکہ نے جاپان پر ایٹمی حملہ کر کے دنیا پر اپنی وحشت ناکی ثابت کر دی۔

دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر کئی نئے ملک دنیا کے نقشے پرابھرے جس کے باعث عالمی سطح پر نئی گروہ بندیاں ہوئیں اور دو بڑے بلاک دنیا پر حکمرانی کرنے لگے۔ روسی اور امریکی بلاک۔ اس دوران میں سوشلزم اور کیپیٹل ازم کے نظریات ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لیے کسی بھی حد تک چلے گئے۔

اسلام ازم الگ سے اپنی برتری کے لیے کوشاں ہے مگر دنیا پر اپنے نظریات کی حکمرانی کرنے کے لیے جن جدید سائنسی فتوحات کی ضرورت ہوتی ہے، اسلامی دنیا ابھی اس سے دور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ اسلام کا نظریہ درست نہیں بلکہ میرا مقصود نظریات کی اس جنگ میں دنیا پر حکمرانی کے ان رویوں اور طریقوں کا اظہار ہے جو جدید دنیا کا ہتھیار ہیں۔

امریکی اور روسی بلاک کے درمیان جب اپنے اپنے نظریات کی آڑ میں دنیا پر قبضے کی جنگ شروع تھی،جسے سرد جنگ کا نام دیا گیا تو دنیا کے کئی قابل ذکر ممالک اس عالمی قبضہ گیری کا کسی نہ کسی طرح حصہ تھے۔ پاکستان امریکی بلاک میں تھا اور بھارت روسی بلاک میں۔ امریکہ کا جاسوسی جہاز روس کی جاسوسی کے لیے پشاور ایئر بیس سے اڑا اور ماسکو نے اسے مار گرایا، ساتھ ہی پشاور کے گرد سرخ دائرہ بھی لگا دیا۔ پاک بھارت جنگوں میں روس اور اسرائیل کی کھلی حمایت بھارت کو حاصل رہی۔ جبکہ امریکہ پاکستان کو چالاکی سے ٹالتا رہا۔ اسرائیل تو بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان پر فضائی حملوں کے لیے بھی تیار تھا مگر پاکستان کی جانب سے سخت تر جواب کی دھمکی کے باعث دونوں ایسا نہ کر سکے۔

روسی فوجوں نے جب افغانستان پر چڑھائی کی تو امریکہ روس سرد جنگ اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ پاکستان اس جنگ میں امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی تھا۔ کھیل کو مگر ایسے انداز میں کھیلا گیا کہ دنیا ششدر ہے۔ امریکی منصوبہ سازوں نے عرب اسلامی دنیا اور پاکستان کو یہ باور کرایا کہ افغانستان پر روسی حملہ دراصل اسلام اور اسلامی روایت پر حملہ ہے۔ ملحدین کا خدا پرستوں پر حملہ ہے۔ حالانکہ افغانستان کبھی بھی اسلام یا اسلامی تعلیمات کا مرکز نہیں رہا ، مگر یہ کہ یہاں مسلمان بستے ہیں۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ روسی فوجیں گرم پانیوں تک رسائی چاہتی ہیں، منصوبہ یہی تھا کہ ان فوجوں کو افغانستان میں ہی روکے رکھا جائے، مقبول عوامی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا ایک فوجی آمر ضیا الحق تختہ الٹ چکا تھا او وہ اپنے فہم اسلام کو پورے معاشرے پر نافذ کرنا چاہتا تھا۔ مذہبی جماعتیں ضیاالحق کے ساتھ تھیں۔ اسلام اور اسلامی قوانین کے نفاذکے نام پر پاکستان میں نئے معاشرتی اور مذہبی رویوں کا بیج بویا گیا۔ افغانوں کی مزاحمت کو جہاد کا نام دیا گیا اور پوری دنیا بالخصوص سعودی عرب، انڈونیشیا، مصر وغیرہ سے جنونی نوجوانوں کے مذہبی جذبات کو ابھارا گیا اور انھیں پاکستان میں جمع کر کے افغانستان میں امریکی مفاد پر قربان کر دیا گیا۔ جو روسی بارود کا نشانہ بنے وہ تو دنیا میں نہ رہے، جو بچ گئے وہ اپنی ہی الگ دنیا بسانے کی تمنا میں ساری دنیا سے بندوق کی زبان میں بات کرنے لگے،اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا آج القاعدہ،النصرہ،طالبان،الشباب،اور داعش سمیت ان کی کئی ایک ذیلیتنظیموں اور گروہوں کو بھگت رہی ہے۔

افغان جنگ میں ہمارا کردار یہ رہا کہ ہم نے طاقت کا توازن خراب کرنے میں دانستہ کردار ادا کیا۔ ترقی پذیر ممالک کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے۔ معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے انھیں عالمی اداروں اور بڑے ممالک کی امداد کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ دفاع کے لیے بھی ان کا انحصار بڑے ممالک پہ ہوتا ہے۔ یوں عالمی ادارے اور بڑے ممالک اپنے مفادات کے تحت ترقی پذیر ممالک کو اپنے استعمال میں لاتے ہیں۔ افغانوں کا قبائلی مزاج،بدلے کی آگ، جدید اسلحے اور ڈالروں کی چمک نے جدید جہادی رویوں کو پروان چڑھایا۔ روسی اس جنگ میں امریکی منصوبہ بندی کے سامنے نڈھال ہو گئے، معیشت برباد ہوگئ۔  مسلم ریاستیں جو روسی قبضہ میں تھیں وہاں سے علیحدگی کی آگ نے زور پکڑا۔ کابل مسلسل سلگنے لگا اور روس بالآخر یوں واپس ہوا کہ ندامت کے ساتھ اپنے ٹکڑے بھی کرا بیٹھا۔

روسی واپسی کے ساتھ ہی امریکہ نے بھی ’’جدید جہادیوں ‘‘ کے سر سے دست شفقت اٹھا لیا اور یوں روسی فوجوں کے خلاف ’’جہاد‘‘ کرنے والے ایک دوسرے کے خلاف جہاد کرنے لگے۔ روس نہ رہا تو امریکہ دنیا کی واحد عالمی طاقت بن گیا اور نیو ورلڈ آررڈر کے نام سے اپنے مفادات کا شکنجہ دنیا پر تیزی سے کسنے لگا۔

اگرچہ روس عالمی سطح پر امریکہ کے مقابلے کی طاقت نہ رہا مگر خطے میں چین تیز رفتاری کے ساتھ روسی خلا کو پورا کرنے میں لگا رہا اور آج چین دنیا کی ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر ذکر کیا جا رہا ہے۔عالمی سطح پر بنتے بگڑتے طاقت کے اس کھیل میں روس نے بھی ہمت نہ ہاری اور ایک بار پھر روس خطے کی قابل ِ ذکر اور موثر طاقت کے طور پر ابھر کر امریکہ کے سامنے ہے۔ شام میں امریکی مفادت کو روس بری طرح کچل رہا ہے۔ نئے عالمی کھیل میں روس خطےمیں امریکہ کا کردار کم سے کم کرنا چاہتا ہے جبکہ امریکہ چین کے مقابلے میں بھارت کی پشت پر ہے۔

روس اور بھارت کے مراسم دہائیوں سے دوستانہ ہیں۔ تازہ تبدیلی مگر اس امر کا اشارہ ہے کہ کھیل کی بساط پلٹ رہی ہے اور کم از کم خطے میں طاقت کا ایک توازن چین اور روس کی شکل میں قائم ہوتا نظر آرہا ہے۔ وہی روس جو پاکستان کی طرف سے دیئے گئے زخم چاٹ رہا تھا اس کا فوجی دستہ پاکستان میں فوجی مشقیں کر رہا ہے۔ وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی عروج پہ ہے اور بھارت کی درخواست کے باوجود روس نے فوجی مشقوں میں تاخیر نہ کی۔

چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پہلے ہی دوستانہ اور قابل اعتبار ہیں۔بھارت نے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی تو چین نے بھارتی ریاستوں کا پانی عملاً بند کر دیا۔عالمی طاقتوں کی نئی درجہ بندی میں امریکہ،چین اور روس مقابلے میں ہیں ۔

امریکہ کے دورے پر گئے ہوئے وزیرِ اعظم نواز شریف کے خصوصی ایلچی مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ’’ کشمیر کے مسئلے پر اگر پاکستان کی نہیں سنی گئی تو اس کا جھکاؤ روس اور چین کی جانب ہو جائے گا۔ انھوں نے یہ بات واشنگٹن میں امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل کے ایک پروگرام کہی۔ مشاہد حسین سید کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘امریکہ اب عالمی طاقت نہیں ہے۔ اس کی طاقت کم ہو رہی ہے۔ اس کے بارے میں بھول جائیں۔ انھوں نے کہا کہ روس پہلی بار پاکستان کو ہتھیار فروخت کرنے پر راضی ہو گیا ہے جبکہ چین اس کا انتہائی قریبی دوست ہے اور امریکہ کو اس بدلتے ہوئے علاقائی توازن کو سمجھنا ہوگا‘‘۔

اس امر میں کلام نہیں کہ امریکہ نے جس تیزی کے ساتھ دنیا پر قبضہ کرنے کی دوڑ شروع کی وہ اس میں ناکام ہوا۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ نے مشرق وسطیٰ میں حالات کو اپنے مرہون رکھنے اور اپنے مفادات کے لیے انتہا پسندانہ قوتوں پر انحصار کیا،جس کا خمیازہ آج پوری دنیا بھگت رہی ہے، امریکی معیشت بھی کمزور ہو رہی ہےاور امریکہ کے اندر سے امریکہ کی اس پالیسی کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

پاکستان کے ماسکو کے ساتھ تعلقات خطے میں امریکی مفادات کے لیے ایک دھچکا ہیں۔پاکستان نے پہلی بار امریکہ کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان اس کی دوستی کو خدا حافظ بھی کہہ سکتا ہے۔ یہ رویہ خطے میں تبدیل ہوتی سیاسی،معاشی،عسکری اور تزویراتی طاقت کا مظہر ہے۔آنے والے سالوں میں پاکستان، چین، روس اور ایران کا ایک نیا سیاسی و علاقائی بلاک بنتا نظر آہا ہے جو مشرق وسطیٰ میں اپنی نوعیت کا طاقت ور اور عالمی سیاست پر اثر انداز ہونے والا بلاک ہو گا۔ ملکوں کے تعلقات مفادات پہ ہوتےہیں نہ کہ جذبات پہ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *