وہ جو مایا تھی۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

یہ کہانی دیوان صاحب کی تیسری کتاب ”پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ“۔۔ میں شامل ہے۔یاد رہے کہ دیوان صاحب ہوم ڈیپارٹمنٹ میں اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔امریکہ میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت چلنے والے ایک بین الاقوامی پروگرام میں نیویارک کی پولیس اور جیل ایڈمنسٹریشن سے متعلق خصوصی تربیت کے بعد کچھ عرصے کے لیے سندھ کی جیلوں کے  آئی جی بھی رہے۔کراچی کی ضلعی انتظامیہ سے وابستگی کی بنیاد پر جرائم کی دنیا کے ہر بڑے کردار سے براہ راست سے قانونی اور مشاہداتی رابطہ رہا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مصنف کی تیسری کتاب
فلم ٹرمینل کا پوسٹر
فلم ٹرمینل کا پوسٹر
بل بورڈ
شاہراہ کے بل بورڈز
شاہراہ کے بل بورڈز
علی واصف جیسے لوگ

یہ جو ایرانی اور پختون لوگ ہیں ان کے ہاں اگر کسی لڑکی کا نام صدیقہ، افسانہ، زرمینہ یا رخشندہ ہو تو یہ اُسے صدیقے، افسانے، زرمینے یا رخشندے کہہ کر پکارتے ہیں جو بولنے میں زیادہ لچکیلا اور سننے میں بہت لبھاؤنا لگتا ہے۔
اسی رعایت سے جس بی بی کی یہ کہانی ہے اس کا نام اگر فریضہ ہوتا اور وہ اگر آپ کے حلقہء دام ِفریب میں بھی ہوتی تو مجھے یقین ہے کہ آپ بھی ان کی تقلید میں اسے فریضے کی بجائے مفروضے پکارتے اور وہ اس سے شاید خوش بھی ہوتی۔

وہ کون تھی اسے وہ کہاں اور کیوں کر ملی؟ یہ ایک ایسا معمہ ہے جو جیتے جی نہ اس کی سمجھ میں کبھی آیا نہ مفروضے نے کبھی اس کی وضاحت کرنا لازم سمجھا۔

پینتالیس برس کے علی واصف کو جو ایک سکہ بند بیوروکریٹ تھا اسے لگا کہ کم بخت   اس ایک لڑکی نے اس کی ساری زندگی کو ٹرانزٹ لاؤنج کا ایک مسافر بنا دیا۔ بالکل وکٹر ناوروسکی جیسا۔ آپ نے اگر سن 2004 ء والی انگریزی فلم “دی ٹرمینل “دیکھی ہو، تو آپ اس دکھ کو زیادہ بہتر سمجھ سکتے ہیں۔فلم کے اداکار ٹام ہینکس اور کیتھرئین زیٹا جونز تھے۔ اس فلم میں ہوتا یوں ہے کہ ایک فضائی مسافر وکٹر ناوروسکی جب امریکہ کے جان ایف کینیڈی ائیر پورٹ پر اترتا ہے، تو اس کا مشرقی یورپ میں واقع ملک کراکوزیا،خانہ جنگی کے باعث اپنی جغرافیائی شناخت سے محروم ہوجاتا ہے۔ اس وجہ سے اس کا پاسپورٹ امریکی امریگیشن حکام کے لیے قابل قبول نہیں رہتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ مسافر اب و اپس اپنے وطن بھی لوٹ نہیں سکتا اس لیے کہ وطن کی آزادانہ شناخت ختم ہوچکی ہوتی ہے اور بیرونی دنیا کے ہوائی جہاز اب اسے وہاں لے جا نہیں سکتے۔ یہ فلم درحقیقت مہران کریمی نامی ایک نوجوان کی سچی کہانی پر مبنی تھی جو ایران سے بے دخل کیے جانے کی وجہ سے ،پیرس کے چارلس ڈی گال ائیرپورٹ پر آن اترا تھا اور وہ بھی بغیر سفری دستاویزات کے۔ اسے اٹھارہ سال تک ایئر پورٹ کے ٹرانزٹ لاؤنج میں رہنا پڑا تھا.۔

ہماری کہانی کے ہیرو علی واصف کو بھی لگا کہ وہ اس لڑکی مایا کے پیار میں بغیر کسی سفری دستاویز کے سہارے کے ایک ایسے ائیر پورٹ پر اتر گیا ہے جہاں فرائضِ منصبی کی ادائیگی میں مصروف حکام اس کی کسی شناخت کو تسلیم نہیں کرتے۔
ان تمام باتوں کے حوالے سے آج وہ یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا چند لوگوں سے پیار محض ایک مفروضہ ہوتا ہے۔ دور دراز کا ایک واہمہَ کبھی کبھار یوں ہوتا ہے کہ چند لوگ اور ان سے پیوستہ واقعات زندگی کی کسی برق رفتار ساعت میں ایک ساتھ یوں وقوع پذیر ہوتے ہیں، جیسے کسی بڑے ہائی وے پر نئے شہر میں داخل ہوتے وقت یا اس شہر کو چھوڑتے وقت سڑک کے کنارے نصب شدہ بڑے بڑے بل بورڈز دکھائی دینے لگتے ہیں۔ وہ رنگ برنگی توجہ کو فوری جکڑلینے والی ترغیبات کی مانند جو لاشعوری طور پر آپ کی مسافت کا حصہ بن جانتے ہیں اور بعد میں آپ کی یادوں سے جڑ کر رہ جاتے ہیں مگر سفر کے اگلے پڑاؤمیں وہ آپ کو کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ سفر کی اصل مسافت سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا مگر وہ مسافر کے راستے میں ایک اجتناب اور رکھ رکھاؤ سے حائل ہوکر کچھ دیر کے لیے اس کی توجہ کا مرکز ضرور بن جاتے ہیں۔
ابتدائی ایام میں جب اسے مایا کے ٹیکسٹ میسجز ملنا شروع ہوئے توعلی واصف کو تین خواتین پر شبہ رہا۔ تینوں کو اس نے ایک کتاب میلے میں دیکھا تھا۔ وہ سوچتا رہا کہ تواتر سے اسے پیغام بھیجنے والی ہستی ان تینوں میں سے یقیناًکوئی ایک ہے۔
پہلی بی بی جس کی طرف علی واصف کا دھیان گیا وہ اسے اس ایک مشہور ادبی میلے میں کتابوں کی ایک دکان پر ملی تھی۔وہاں وہ کچھ دل شکستہ اور دل بہ گریہ و دل جلا پہنچا تھا کہنے کو تو وہ بھی ایک مصنف ہے مگر اس ہجوم بازیگران ِحرف و سخن میں اسے اپنی حیثیت بس مجید امجد کی نظم”آٹوگراف” والے شاعر کی سی لگی کہ ع
میں اجنبی، میں بے نشاں
میں پا با گِل
نہ رفعت مقام ہے، نہ شہرت دوام ہے
یہ لوح دل، یہ لوح دل
نہ اس پہ کوئی نقش ہے نہ اس پر کوئی نام ہے

اسی اسٹال پر اس نے تصوف پر کوئی کتاب اٹھائی، ارادہ تھا کہ وہ یہ کتاب خرید لے۔ عین اسی اثنا میں ایک اور حسین طلب گار نے بھی اس ہی کتاب کا مطالبہ، دکان دار سے کردیا۔وہ کچھ دیر کتاب کو بھول  کر کتاب کی اس خریدار کے حسن دل نشین کے جلووں میں کھوگیا۔ کشادہ سا بوٹ نیک (Boat-Neck) والا نارنجی ٹیونک جو ایک طرف سے کاندھے پر سے یوں ڈھلک گیا تھا کہ اس کی قیمتی برا کی ریشمی سیاہ سٹریپ جو اس کے کاندھے میں کچھ اس طرح کس کر کھب گئی تھی اس پر سے علی واصف کی نظر نہ ہٹ پائی۔ وہ راہ سلوک بھول کر اس سیاہ ریشمی خط استوا کو دیکھتا رہا جسکے ہر دونوں جانب چکا چوند کردینے والے دودھیا اجالے تھے۔ایسے خط ِتقسیم ،اتنی آسانی سے یہاں کہاں دکھائی دیتے ہیں۔
۔ مشکل یہ تھی کہ جو کتاب علی واصف نے دین پر خریدنے کے لیے اٹھائی تھی اس کتاب کو مصنف نے راہ سلوک پر چلنے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے لکھا تھا۔ مصنف اسے لگا کہ شعوری طور شاید یافت کے درجے پر تھا جب کہ مدرسۂ دیوبند، بنانے والے مولانا قاسم نانوتوی ؒکہا کرتے تھے کہ ” راہء سلوک میں نایافت کا احساس ہی اصل یافت ہے”۔ اس کتاب کی وہاں اس وقت ایک ہی کاپی دستیاب تھی۔
اس دلربا خاتون نے کچھ دیر کے لیے کتاب اس سے مستعار لی اور کتاب، مصنف کا اور پبلشر کا نام وغیر ایک چھوٹی سی ڈائری پر لکھ کر یہ اعلان   کیا کہ وہ عنقریب برطانیہ جارہی ہے وہ اسے وہاں سے خرید لے گی۔
علی واصف کو تب یہ پتہ چلا کہ خدا کچھ لوگوں کو باآسانی ہر جگہ دستیاب ہے۔بہت عرصہ پہلے بابا بلھّے شاہ نے کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جے رّب ملدا نہاتیاں،دھوتیاں نوں اگر اللہ نہانے دھونے سے مل جاتا
تے ملدا ڈڈّواں مچھیاں نوں تو مل جاتا مینڈکوں اور مچھلیوں کو
جے رّب ملدا، جنگل،بیلے وچ جو رب ملتا جنگلوں بیابانوں میں
تے ملدا،گاواں وچھیاں نوں تو مل جاتا،گائے، بچھڑوں کو
جے رب ملدا مندراں مسیتاں وچ جو رب ملتا،مندروں،مسجدوں میں
تے ملدا چم چڑکیاں نوں تو مل جاتا چمگادڑوں اور چڑیوں کو
بلّھے شاہ رّب اونانوں نو ملدا بلھے شاہ رب ان کو ملتا ہے
تے نیتاں جنہاں دیاں سچیاں نے جن کی نیتیں سچ ہوتی ہیں

یا پھر نازؔ خیالوی نے کہا تھا کہ ع

حیراں ہوں میرے دل میں سمائے ہو کس طرح
ویسے تو دو جہاں میں، سماتے نہیں ہو تم

سچ جانیے اس بی بی کی یہ شان استغنا دیکھ کر اسے لگا کہ نہ تو وہ بلھے شاہ کے معیار دسترس پر پورا اترتا ہے نہ اس کے دل شکستہ میں وہ وجودِ لم یزل و بے کراں یوں سمایا ہے جیسا کہ اس کو بسانے کا فرض اس پر لاگو ہوتا ہے۔اپنی اس کم مائیگی پر وہ پہلے بھی زیادہ ٹوٹ گیا۔
اس نے راہ و رسم بڑھانے کے لیے اسے اپنا تعارفی کارڈ دے دیا کہ وہ اگر مناسب سمجھے تو اسے اسی مصنف کی مزید کتب کی دستیابی کا حوالہ بذریعہ سیل فون یا ای میل دے دے وہ آن لائن منگوالے گا۔ کارڈ پر اس نے ایک اُچٹتی سی نظر ڈالی اور اسے اپنی ہتھیلی میں تھام کر آگے بڑھ گئی۔علی واصف کو ایک دانستہ سا اندیشہ یہ بھی تھا کہ اس کا یہ کارڈ وہ نظر بچا کر اس ڈسٹ بن میں ڈال دے گی جو اب اہل طعام کی فیاضی سے کاغذ کے گلاسوں، پلیٹوں اور خالی بوتلوں اور ضائع شدہ خوراک سے چھلک رہا تھا اور یوں یہ تعارف کی سعئی ناکام بھی ہوئی تو وہ خود کو اس مغل شہزادی زیب النساء  کی طرح تسلی دے لے گا، جس نے ایک مرتبہ مراحل ِ آرائش کے وقت اپنی کنیز کو وہ قیمتی آئینہ لانے کو کہا جو کہیں اس کی خواب گاہ میں پڑا، اس شہزادی کے سابقہ عکس کو خود ہی وارفتگی سے چوم رہا تھا۔

سویدا جیسے لوگ
اداکار جان ابراہم جو سویدا کا من پسند مرد تھا
امیرہ جیسے لوگ
باندھنی ساڑھی

لاتے وقت وہ آئینہ،کنیز کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گر کر چکنا چور ہوگیا تو کنیز نے مالکن کو جواب میں مصرع موزوں کرتے ہوئے کہا کہ

ع از قضا آید چوں آئینہ شکست (قضا آئی تو آئینہ چکنا چور ہوگیا)

جسکے جواب میں زیب النساء نے شعر مکمل کرتے ہوئے کہا کہ

ع خوب شد اسباب خود بینی شکست (بہتر ہوا کہ خود بینی کے اسباب بھی بکھر گئے)۔

اسی طرح جب وہ اس کا کارڈ  نظر بچا کر اس گاربیج کین میں پھینک دے گی۔ یوں جو کچھ رزق خاک نشیناں ہے وہ رزق خاک ہوجائے گا۔ ہوا یوں کہ  علی واصف کی توقع کے برعکس، اس نے کارڈ احتیاط سے پرس میں رکھا اور کہیں غائب ہوگئی۔
کوئی دو ہفتے بعد اس کی برقی میل آئی اور چلنے لگے چاہتوں کے جیسے یہ سلسلے۔تقریباً ہر روز ہی وہ کوئی نہ کوئی میل اپنی موجودگی کا حساس دلانے کے لیے بھیج دیتی تھی۔اپنا نام وہ سویدا بتاتی تھی۔ جب بھی وہ تصوف پر میلے سے خریدی ہوئی وہ کتاب کھول کر بیٹھا کرتا، اسے سوید ا پہلے اور خدا بعد میں یاد آتا تھا۔ یوں  ع حسن انسان سے نمٹ لوں تو وہاں تک دیکھوں والا ہی معاملہ رہا۔ بہت ابتدا میں ہی وہ یہ وضاحت کر بیٹھی تھی کہ وہ اس کے پیمانہء چاہت پر پورا نہیں اترتا۔ اسے بھارتی اداکار جان ابراہام جیسے مرد پسند ہیں۔ پیکر مردانگی، بل فائٹنگ کے رنگ میں چھوڑے گئے سانڈ جیسے تنومند، زور آور خان جی، گھور کر پھنکارتے ہوئے اور برجست مرد۔۔علی واصف اسے عاشق کے لیڈ رول Lead -Role میں بالکل پسند نہیں۔ اسے یہ اعتراف کرنے میں کوئی باک نہیں کہ وہ خود کو اس  سے ذہنی طور پر ہراساں محسوس کرتی ہے

دوسری خاتون امیرہ،جس سے اسی ادبی میلے میں میں دوران تعارف ایک دل چسپ مکالمہ ہوا وہ ایک باوردی جرنیل کی محبوبہ اور ایک درجہ دوم کے اداکار اور پینٹر کی سابقہ شریک حیات تھی جو جرنیل کے جسم و جاں کے عذاب دھوتے ہوئے اپنے سابقہ شوہر کو Gay ہونے کا الزام دیتی تھی۔یہ خاتون جو بڑی سروقد اور عمر عزیز سے ایک پیہم کامیاب جنگ میں مصروف تھی،بہت ہی دل کش اور جامہ زیب تھی۔ پینتیس سے چالیس برس کی ہونے کے باوجود، اس میں جیمز بانڈ کے جاسوسی ناولوں کے درمیانی حصے جیسی چمٹ جانے والی دل چسپ جاذبیت تھی۔ چٹکیلے رنگوں کی ایک ادا سے پہنی گئی ساڑھیاں اور ان پر بغیر آستین کے بلاؤز کی بناوٹ دیکھ کر ہی یقین آجاتا کہ انہیں ممبئی کی ملد نٹ راج مارکیٹ کے کسی مشاق درزی نے اس کے اصل خطوط کی بے حجاب پیمائش کو مد نظر رکھ کر سیا ہے کہ کہیں سے کوئی سلوٹ ہی نہ پڑتی تھی۔
فوجی حکومت کے نصب کردہ، رامش و رنگ کے رسیا یہ جرنیل صاحب ایک طاقتور سول ادارے کے حاضر سروس سربراہ ۔ اپنی صوابدید میں بااختیار اور اپنے دائرہ اثر میں کار آمد تھے۔
امیرہ میں   ہر وہ خوبی تھی جو دوسروں کے سہارے کامیاب ہونے والی خواتین میں ہوتی ہے ۔
بے مقصد، کانوں کو بھلی لگنے والی بے تکان گفتگو، دیدہ زیب لباس و آرائش، محفل میں غیر محسوس طریقے پر ایسے گروپ میں شامل ہوجانا، جہاں معاملات زندگی اپنی برق رفتاری سے فیصلہ کن مراحل میں داخل ہورہے ہوں۔ وہاں سے کام کی بات بالکل اس طرح اچک لینا جیسا ایک زمانے میں شیاطین جنّات کیا کرتے تھے پھر بعد میں سورۃ الصفات میں اللہ سبحانہ تعالی نے ان پر کڑی پابندی عائد کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ :
ہم نے نیچے کے آسمان کو ستاروں سے مزیّن کیا ہے۰
اور اسے ہر سرکش شیطان سے محفوظ بنادیا ہے۰
وہ عالمِ بالا کی باتیں نہیں سن سکتے اور ان پر ہر طرف سے آگ کے انگارے برسائے جاتے ہیں ۰
انہیں ان معاملات سے دور رکھنے کے لیے عذاب مسلسل کو ان پر غالب کردیا گیا ہے۰
مگر جو کوئی شیطان اگر ان معاملات کی ٹوہ لینے پہنچ جاتا ہے تو اس کی تباہی کے لیے اس کے تعاقب میں ایک شہاب ثاقب اس کی جانب دوڑ پڑتا ہے۰
اپنی اس سعیء کامیاب کو جب وہ کسی لمحہء وصل میں ایک سلیقے سے بغیر پی سی ون کے کسی پروجیکٹ، کسی اسکیم کیس پروگرام کے طور پر جرنیل صاحب کی خدمت میں پیش کرتی تو وہ اس کا نام کسی نہ کسی ایسے بیرونی وفد کے دورے میں شامل کرادیتے جو سماجی بہبود، تعلیم کھاتے، ماحولیات، حقوقِ نسواں یا اموات الاطفال کے سلسلے میں کہیں شریک ہونے جارہا ہوتا۔مارشل لاء کا دورِ زرین تھا۔ ڈالر لکڑی کے بکسوں میں بند ہوکر آتے تھے۔نہ آمد کا کوئی حساب تھا نہ تقسیم کا کوئی احتساب۔
امیرہ کو انہوں نے ہی سجھاونی دی کہ ایک سابقہ ماتحت جو اب خیر سے بریگیڈیر ہے اور فوجی سپلائی ک اور سیکورٹی ایجنسی کے ذریعے اربوں کماتا ہے۔ خود غائب ہے مگر حاضر افراد کا روزی کے فرشتوں جیسا خیال رکھتا ہے۔

عسکری باربرداری کے خچر

وہ انہیں بتا رہا تھا کہ افغانستان میں روس سے جاری جنگ میں خچروں کی شدید ضرورت اس لیے پیش آرہی ہے کہ دشوار گزار پہاڑی پگڈنڈیوں پر ہتھیاروں اور مجاہدین کی ترسیل اور آمد و رفت کے لیے ان سے بہتر کوئی اور ذریعہ ء سفر اور وسیلہ ترسیل نہیں۔ وہ بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھولے تو مال و مال ہوجائے گی۔
امیرہ کو وہ ان دنوں ضرور باہر بھجوادیا کرتے تھے جب جرنیل صاحب کا دل اپنی زمینوں پر گائے کا تازہ مکھن، مدھانی میں رڑکی ہوئی لسی، سرسوں کا ہریالا ساگ مقامی دیہاتی عورتوں اور سرکاری اداروں کی مدد سے تیار کی گئی اپنی لہلہاتی کھیتی کی کاشت سے پیسے پیسے کاحساب وصول کرنے کو کرتا ۔علی واصف کے جگری دوست راحیل بخاری جس کے وہ کالج کے زمانے کے دوست اور دور دراز کے رشتہ دار بھی تھے وہ جب ان کے گاؤں کی عورتوں کو جنہیں وہ لوکل چینل کا پروگرام کہتا تھا ان پروگراموں کے بارے میں چھیڑتا تو وہ اسے اپنی مغرور مونچھوں کو لہراتے ہوئے کہتے تھے کہ” بڑی ضیافتوں میں جہاں شرمپ کاکٹیل اور مختلف ایپی ٹائزرز  (Appetizers)رکھے جاتے ہیں وہاں آم اور لیموں کا اچار بھی رکھا جاتا ہے۔صرف مین کورس پر ہی تو گزارا نہیں ہوتا۔ ” آم اور لیموں کا اچار وہ مقامی دیہاتی خواتین کو کہا کرتے تھے جو ان کی زمینوں پرگندم کی کٹائی اور روئی کی چنائی میں کام کے لیے آجایا کرتی تھیں۔ بڑی ضیافت سے ان کی مراد شاید ان کا طاقتور اور محفوظ زندگی تھی۔
جب تک مارشل لاء نافذ نہ ہوا تھا جرنیل صاحب گھر کی دال یعنی اپنی ذاتی بیگم کو مرغی سمجھ کر تناول کرتے تھے مگر جب ان پر خوش بختی کا ہما منڈلانے لگا تو راحیل نے ہی انہیں مشورہ دیا کہ امیرہ، دستیاب ہے۔جرنیل صاحب نے جب ذرا پس و پیش کی کہ” اس طرح کے خارج از ازدواج (Extra-Marital Affairs) جنسی معاملات سے کوئی الجھن تو نہیں ہوگی؟!” تو اوکاڑہ کا وہ ناہنجار مہاجر زمین دار جس نے خود بھی تین عدد بیگمات کو طلاق کی بھینٹ چڑھادیا تھا کہنے لگا کہ” بالکل ا یسا ہی سوال امریکہ کے ایک صدر نے اپنے والد بزرگوار سے بھی کیا تھا۔” انہیں اپنے بہنوئی اور چھوٹے بھائی کی رفاقت میں ملنے وا لی بارود کی طرح ایک بھک سے اڑادینے والی اداکارہ مارلن منرو بہت اچھی لگی تھی اس اداکارہ کو اپنے جان لیوا خطوط پر ایسا ناز تھا کہ وہ ان کے حوالے سے کشش ثقل کے قوانین کو بھی چیلنج کرتی تھی۔بیٹے نے اپنے گرگ باراں دیدہ باپ سے پوچھا کہ ” وہ اپنی شریک حیات کی موجودگی میں کیا اس طرح کی جنسی موشگافیوں سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں؟” تو باپ نے جواب دیا کہ ع
گر نہ زندگی حسینوں کہ درمیاں گزرے
تمہیں کہو کہ کیسے گزرے کہاں گزرے
اپنے عہدے کے بھاری بھرکم تقاضوں اور اپنی شریک حیات کے خوف سے گھگھیاتے ہوئے پوچھا کہ ” اگران کی اس جنسی بے راہ روی کا علم ان کی اہلیہ کو ہوجائے تو؟”” پھر تم امریکہ کے صدر نے بننے کے اہل نہیں ہو۔” باپ نے دو ٹوک جواب دے کر معاملہ ختم کردیا۔
یوں امیرہ جرنیل صاحب کی زندگی میں ایک ایسے سلیقے سے داخل ہوگئی.
امیرہ کی بے شمار خوبیوں میں ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ اپنی نام و نمود کی کوئی خاص شوقین نہ تھی۔وہ آنکھوں میں کاجل بن گھل مل کررہنے کا آرٹ ایک خوب صورت سلیقے سے نبھانا جانتی تھی۔اسی وجہ سے وہ وفود میں شامل دیگر ممبران کی نسبت بیرونی شخصیات سے زیادہ تعلقات بھی پیدا کرلیتی تھی اور کامیاب رہتی تھی۔ اپنی سادہ اور اثر  انگریزی، پر کشش شخصیت، شیریں گفتاری اور مقتدر حلقوں میں رسائی کے ساتھ ساتھ جب کبھی وہ دوروں پر جارہی ہوتی تو جرنیل صاحب کے فون کی وجہ وزارت خارجہ کے سول افسران لرزہ براندام رہتے جو اس کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی اس بات کا اہتمام کرادیتے تھے کہ وہاں متعین سفیر یا کونسل جنرل صاحب اس کی شان میں کوئی نہ کوئی پاور پارٹی(Power Party) کا بندوبست ضرور رکریں جس میں وہ محفل کا مور بن کر خوب خوب اٹھلاتی تھی۔

کوسٹا رکا کے سہہ قطاری روڈ

ایک دفعہ کی بات ہے کہ امیرہ جس ملک میں گئی وہاں پر متعین سفیر صاحب نے جو وزارت خارجہ سے اپنے پیشہ ورانہ تعلقات پر کچھ زیادہ ہی نازاں رہا کرتے تھے امیرہ کی موجودگی کو در خور اعتناء نہ جانا۔ایرپورٹ آمد سے قیام اور واپسی تک اسے کوئی اہمیت نہ دی بجز سفارت خانے کی ایک معمولی پرانی کار کے کوئی سہولت تک نہ بہم پہنچائی۔ امیرہ کی شکایت تو اس بے اعتنائی کے حوالے سے محض سر سری سی تھی مگر جرنیل صاحب نے اس سویلین سفارت کار کی اس، خود سری، لاتعلقی کی جسارت ناپاک کو دل پر لے لیا اور سبق سکھانے کی ٹھان لی۔
اس حوالے سے کی گئی کاروائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ جرنیل صاحب نے اپنے ہی کسی ہم منصب کی اعانت سے پورے سفارت خانے کا خصوصی آڈٹ کرادیا۔ سفارت خانے کے باقی معاملات میں تو کوئی ایسی گڑ بڑ دکھائی نہ دی البتہ سفیر صاحب نے جو اپنا ٹی۔ اے۔ ڈی۔ اے بل (سفری اخراجات کا گوشوارہ) دیا تھا اس میں حساب کتاب  کے موجب پورے ایک سو بارہ روپے کا گھپلا تھا۔ ان کے خلاف تادیبی کاروائی کا سلسلہ چل نکلا، ایک اور مقتدر شخصیت بھی اس کے خلاف کچھ پرانے گلے شکوے رکھتی تھی اور ان کا صدر مملکت سے بڑا قریبی تعلق تھا نتیجہ یہ ہوا کہ جب ان کے نکالے جانے کی سمری صدر کو پیش کی گئی تو صدر صاحب نے اس دستاویز پر اپنے قلم کی سبز روشنائی سے درج کیا کہ” It’s a matter of great shame that such a big officer is involved in such petty -minded corruption “(بڑی شرم کے بات ہے کہ اتنا بڑا افسر ہو نے کے باوجود صاحب موصوف اتنے ادنی لیول کی بے ایمانی کے مرتکب ہوئے ہیں)۔
امیرہ کو اس تادیبی کاروائی سے وزارت خارجہ لرز گئی اور فوراً بعد ہی خود انہیں کی وساطت سے حاصل کی گئی ایک دعوت میں وہ انہیں کی سفارش پر دیہاتوں میں صاف پانی کی سپلائی کی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں لاطینی امریکہ کے ملک کوسٹا ریکا پہنچ گئی۔ جو بذات خود ایک چھوٹا سا ملک ہے۔
امیرہ نے واپس آن کر جرنیل صاحب کو جب اپنی ٹور رپورٹ، لمحات وصل کی جان لیوا وحشتوں کے درمیان سنائی تو جرنیل صاحب سے کچھ شکوے بھی کیے کہ ” انہوں نے اس کے ساتھ کیا نفسیاتی کھلواڑ کیا کہ اسے ایسی لو پروفائل کانفرنس میں بھیج دیا گیا جہاں زیادہ تر میونسپلٹیوں کے افسران آئے ہوئے تھے اس کا بھلا دیہاتوں کے صاف پانی سے کیا واسطہ؟!۔ دوسرے وہاں کوسٹا ریکا میں سر ے سے فوج ہی موجود نہیں ہے۔تیسرے وہاں خچر بھی دستیاب نہ ہوئے۔ چوتھے یہ کہ وہاں ٹریفک کا معاملہ ایسا ہے کہ ہر سڑک پر تین لین ہوتی ہیں ایک آنے کے لیے دوسری جانے کے لیے اور تیسرے تیز رفتاری کے لیے۔جینے مرنے کے سارے وعدے وہیں تیسری لین میں پورے ہوتے ہیں ہماری طرح نکاح کے وقت نہیں “۔
اس بات کے فوراً بعد امیرہ کو لگا بستر میں سائبریا کی یخ بستہ ہواؤں کی ایک لہر آگئی ہے۔ وہ اس مقام استراحت و حرارت میں سردی کی اس ناگہانی لہر کا کئی دن تک سوچتی ہی رہی امیرہ کو گمان گذرا کہ جرنیل صاحب کو اس سارے تذکرے میں خچروں کو درمیان میں شامل کیا جانا کچھ زیادہ ہی برا لگا ہے اور وہ کچھ دن تک امیرہ سے منہ  بھی بسورے رہے مگر چاہت میں ایسی چھوٹی موٹی ناراضگیاں تو ہمیشہ ہوتی رہتی ہیں۔امیرہ اب کی دفعہ کچھ غلطی پر تھی۔ برا منانے والی بات یہ نہ تھی کہ شہوت و لذت بھرے اس بستر میں خچر گھس آئے تھے بلکہ  جرنیل صاحب کو جس بات نے مبتلائے رنج و بلا کیا وہ کوسٹا ریکا کی امیرہ کی ٹریفک کے حوالے سے یہ نسوانی روانی میں کہی گئی یہ بات تھی کہ زندگی اور موت کے اکثر فیصلے اسی درمیانی لین میں ہوتے ہیں اس لیے کہ دورانِ سفر، برق رفتاری دراصل ڈکٹیٹر شپ کی طرح ہوتی ہے جب کہ جمہوریت اور شوریٰ ایک محفوظ اور منزل تک پہنچنے کے لیے محفوظ سفر کی علامت ہے۔
جب سے مارشل لاء لگا تھا اور جرنیل صاحب اپنی کرسی ء اختیار پر متمکن ہو کر کچھ زیادہ ہی حساس اور زود رنج ہوگئے تھے۔ اکثر باتوں کو سیاق اسباق سے جدا کر کے حالت وجدانی میں پرکھنے کی کوشش کرتے تھے، کبھی کبھار ایسا ہوتا کہ ایسی ہی کوئی بات اپنا اصل تناسب سے محروم ہوکر طبع نازک پر معمول سے زیادہ گراں گزر جاتی تھی۔ اس نازک مزاجی میں وہ تنہا نہ تھے۔ امریکہ کے پہلے صدرجارج واشنگٹن پر بھی الزام تھا کہ وہ کوئی ایسا سرکاری خط نہ پڑھتا تھا جس پر اسے بطور صدر مخاطب نہ کیا گیا ہو۔ اقتدار ہو اور نخرہ نہ ہو تو طاقت کا کیا مزہ۔

امیرہ کی جمہوریت والی بات سن کر جرنیل صاحب نے سوچا یہ جو امیرہ ہے وہ اس کی اتنی دل داری اور ناز برداری کرتے ہیں مگر اس کے باوجود وہ ایک ایسی بلّی ہے جو موقع  ملنے پر میاؤں کرنے سے باز نہیں آتی۔ اس کے باوجود جب وہ اگلی صبح صدر صاحب سے ملاقات کے لیے گئے جو اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے اپنی کچن کیبنٹKitchen -Cabinet کو جمع کیے بیٹھے تھے تو انہوں نے ہی صدر صاحب کو مشورہ دیا کہ مارشل لاء کی سختی کو بدستور برقرار رکھتے ہوئے وہ کچھ جمہوریت اور شوریٰ کا داشتاؤں والا ماڈل اپنا لیں۔ عورتیں تو طوائف صرف جسم فروشی کرکے کہلاتی ہیں مگر مردوں کا یہ رنڈی پن کئی کئی طریقے اور مزاج کا ہوتا ہے۔ بس اسے کوئی برا نہیں سمجھتا۔ مارشل لگنے کی وجہ سے یہ سیاست دان تھانے داروں اور تحصیلداروں کے ہاتھوں بہت ذلت اٹھا چکے ہیں۔ ان میں سے کئی ایک کی سیاسی وابستگیاں بھی اب غریب کی بیوہ کی جوانی کی طرح باآسانی دستیاب ہیں۔ یہ سیاست دان حضرات بہت عرصے سے بے روزگار ہیں ان کو بھی بہلنے کے لیے مجلس شوریٰ کے نام پر ایک لیول پلیئنگ فیلڈ Level Playing Fieldمل جائے گی۔ چین کے قدیم دانشور کہا کرتے تھے کہ ‘ چوہوں سے گھر کے راشن کو محفو ظ رکھنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ بچا کچھا کھانا گھر سے باہر پھینک دیا کریں تاکہ وہ گھر کے ذخیرہء خوراک پر حملہ آور نہ ہوں ‘۔صدر صاحب جنہیں اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے اس بات کا بخوبی علم تھا کہ ان کے قریبی رفقائے کار رات کو کس کے دامن ِ دل نشین میں گوشہ عافیت ڈھونڈتے ہیں انہوں نے جب جرنیل صاحب کو پوچھا کہ حکمت اور طرز حکمرانی کے یہ آداب بستر استراحت پر انہیں کس نے سکھائے تو انہوں نے ایک ڈھٹائی سے امیرہ کا نام لے دیا۔
شب کوصدر صاحب سے ملنے جب ان کے من پسند ایک افسر جنہیں انہوں نے خفیہ ایجنسی میں تعینات کرایا ہوا تھا ان افسر سے جرنیل صاحب نے اپنی مقبولیت اور ان اچانک انتخابات کے حوالے سے مشورہ مانگا تو اس فرشتہء خاص نے کچھ جھینپتے ہوئے عرض کیا کہ اس کے پاس صدر کی مقبولیت کا خصوصی ثبوت ہے۔بہت اصرار پر اس نے بتایا کہ ” اس کے دو جونیئر افسران کسی لیڈ (Lead)کے حوالے سے ایک مفرور مجرم کے بارے میں معلومات حاصل کرنے ایک سستی سی طوائف کے قحبہ خانے پر پہنچے تھے جس کے بستر کے عین اوپر ٹمٹاتے سبز بلب کے نیچے صدر صاحب کی پورٹریٹ لگی تھی۔”
اس بات پر صدر صاحب سیخ پا ہوگئے کہ ” میری تصویر اور وہ  بھی ایک ٹھکیائی کے کوٹھے کے بستر کے عین اوپر۔”
خفیہ ایجنسی کے افسر عالی مقام تو اس غصے کی وجہ سے حواس باختہ ہوکر کہنے لگا کہ سر میں آج ہی ان کو بلا کر کہتا ہوں کہ وہ واپس اسی جگہ جائیں اور اپنی نگرانی میں تصویر ہٹوادیں۔۔ جس پر صدر صاحب ایک شرارتی مسکراہٹ اپنی سرمہ بھری آنکھوں میں چھلکا کر کہنے لگے ” No. Let the old eyes enjoy”(نہیں نہیں بوڑھی آنکھوں کو کچھ مزہ لینے دو)
صدر صاحب ہی کے حکم سے امیرہ کو ارجنٹائن اور برازیل بھیجا گیا۔ ارجنٹائن میں ان دنوں جنرل رافیل وڈیلا کی فوجی حکومت برسر اقتدار تھی اور اس کے عوام ہر مظالم اور کاربار حکومت پر ان کی آہنی اور جابرانہ گرفت مغربی دنیا کے میڈیا میں باعث تنقید بنی ہوئی تھی۔ افغان جنگ کی وجہ سے صدر صاحب کو مغربی میڈیا کا خوف نہ تھا۔انہیں اس بات کا بڑا شعور تھا کہ یہ بظاہر آزاد خیال میڈیا در اصل ان بڑی تجارتی کارپوریشنوں اور ان ممالک کے اسٹیبلشمنٹ کی رکھیل ہے۔وہ کبھی بھی ملک میں ان کے طرز حکمرانی کو ہدفِ تنقید نہیں بنائے گا۔

فرانسییسی مصور کلائن اپنی برہنہ ماڈل
مایا جیسے لوگ
مایا جیسے لوگ
مایا جیسے لوگ
مایا جیسے لوگ

امیرہ یوں پہلے تو ایک خفیہ ایجنسی کے پولیٹکل سیل کے بالباس سادہ افسران کے جلو میں ارجنٹائن پہنچ گئی اور وہیں سے ایک کانفرنس میں جو اسٹریٹ چلڈرن کی باعزت اور محفوظ بحالی کے بارے میں تھی اس میں شرکت کرنے والے وفد میں شامل ہوکر برازیل چلی گئی۔وہاں خچربر آمد کے لیے با آسانی موجود تھے۔
اس بات کو کچھ سال ہوتے تھے۔ امیرہ اب بھی سینتیس برس کی ہونے کے باوجود جوان دکھائی دیتی تھی اور دار الحکومت کے مقتدر حلقوں میں ایک حد تک رسائی رکھتی تھی۔ جرنیل صاحب نئے حکمرانوں کے بہت قریب تھے۔
علی واصف اسے اچھا لگا اور وہ فون پر پیغامات اور اس کی کراچی آمد پر مل بھی لیا کرتے تھے۔امیرہ دیگر معاملات تو اوروں سے نپٹاتی تھی مگر اس سے وہ قومی اور بین الاقوامی سماجی ایشوز پر بہت گفتگو کرتی تھی۔ علی واصف کو گمان ہوتا تھا کہ وہ اس کے علمی خیالات چرا کر انہیں اپنی ذاتی ترقی کی خاطر استعمال کرتی ہے.اس کی اس عادت کی سے وہ بہت ذہنی طور پر ہراساں رہتا تھا اس نے کئی دفعہ جتلایا بھی کہ دو ہاتھیوں کی لڑائی میں وہ خود کو روندی جانے والی گھاس سمجھتا ہے۔ امیرہ اسے سمجھاتی بھی رہی کہ وہ اسی پر اکتفا کرے۔اس سے آگے کم از کم وہ ایک علاقہ ممنوعہ ہے علی واصف نے اس ذہین خاتون کو ایک خفیف اشارے سے بتایا بھی کہ فرانس میں ایک مصورYves Klein ہوا کرتا تھا وہ اپنی عریاں ماڈلز بطور برش اپنے نیلے رنگوں میں لتھڑ کر انہیں کینوس پر لوٹنے کے لیے کہتا تھا۔ اس کی یہ تصاویر ANT سیریز کے نام سے پہچانی جاتی ہیں۔کسی نے اسے ایک دفعہ فرمائش کی کہ وہ اپنی پینٹنگز تو اپنے پاس ہی رکھے مگر کچھ استعمال شدہ برش اسے بھجوادے۔نہ اس پینٹر نے طلب گار کی فرمائش پوری کی نہ امیرہ نے اس حسن طلب کو در خور اعتنا جانا۔ وہ اسے سمجھاتی رہی کہ سرکاری اور پرائیویٹ دونوں قسم کی ملازمتوں میں سہولتیں مقام اور عہدے کی مناسبت سے ملا کرتی ہیں۔لہذا ع عشق کو عشق سمجھ مشغلہء دل نہ بنا۔۔۔

تیسری خاتون کا نام مایا تھا۔ جو اسے بہت بعد میں خود ہی اس نے بتایا۔ ابتدا میں اس کا ایک پیغام اسے اپنے سیل فون پر موصول ہوا کہ وہ اس کے حسن تحریر اور کردار نگاری کی دیوانی ہے۔ اس کی کہانیاں بہت جاندار اور اپنے ساتھ بہا کر لے جانے والی ہوتی ہیں۔ یہ کسی مصنف کے لیے بہت حوصلہ دلانے والی تعریف ہوسکتی ہے۔جب اس نے پوچھا کہ “وہ اس سے کب اور کہاں ملی؟” تو اس نے بھی اسی کتاب میلے کا ذکر کیا۔ وہ ایک گروپ میں شامل تھی جس میں وہ شریک گفتگو تھا۔ وہ چپ چاپ سب سے بچ کر اسے بہت دیر تک دیکھتی رہی۔ا یسا کم ہی ہوتا ہے کہ اسے اتنی جلدی   کوئی اچھا لگے اور وہ اسے بہت اچھا لگا۔” وہ کیا کرتی ہے؟” اس کے جواب میں اس نے بتایا کہ ” وہ ایک این جی او سے وابستہ ہے جو شمالی علاقہ جات میں اپنی خدمات سر انجام دیتی ہے۔”
علی واصف نے اسے بہت ٹالا۔ یہ تک کہہ دیا کہ وہ  unaccompanied Baggage سنبھالنے کے معاملے میں کوئی دل چسپی نہیں رکھتاہے۔ اس کے اس حسن اجنتاب کا مایا نے کچھ برا بھی مانا۔ اس کو پختہ یقین تھا کہ وہ بھی دیگر دونوں خواتین یعنی سویدا اور امیرہ کی طرح اسے ایک کنارے رکھ کر بھول جائے گی مگر ایسا نہ ہوا۔
وہ اسے فون بھی باقاعدگی سے کرتی تھی اور اس سے بہت پیار بھی۔
پہلے تو مایا کو اس سے فون پر بات کرنے میں خاصا تامّل ہوا۔ کئی مرتبہ علی واصف کے فون کرنے پر اس نے فون کاٹ بھی دیا مگر جب شارٹ میسج سروس یعنی ایس ایم ایس کے ذریعے علی واصف نے اسے دھمکی دی کہ وہ اب یہ سلسلہ منقطع کردے گا کیوں کہ اسے شک ہے کہ اس کا مخاطب علیہ ممکن ہے کسی خفیہ ادارے کا کوئی مرد کارندہ ہو جو اس کے بارے میں ثبوت جمع کرکے اس کا پروفائل بنارہا ہو تو اس نے اپنی نسوانیت کا ثبوت دینے کے لیے اسے فون کیا۔

گردوارہ ہری مندر سروار
تبو کی فلم کا پوسٹر

فون پر مایا کی آواز اس کی شخصیت کا مکمل پرتو لگی۔ دھیمی، نرم، ریشمی اور الفاظوں کی ادائیگی میں ایک ایسا وقفہ جس میں ہر لفظ کی ادائیگی سے پہلے سوچنے کا عمل ایک ٹھہراؤ سے جاری محسوس ہوتا تھا۔
وہ سوچتا تھا کہ عورت کے پیار کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ آپ پر پیسے خرچ کرے۔ عورت کی دنیا آسائش، زیبائش اور Possessions کی دنیا ہے۔ مایا اس لحاظ سے اس پر پیسے بھی خرچتی تھی۔ اس کے دفتر کے پتے پر ہر دوسرے تیسرے دن اس کوئی نہ کوئی تحفہ بھی بھیجتی تھی۔ کورئیر سروس کو اس کی خصوصی ہدایات تھیں کہ نہ تو ان تحائف کا مقام ترسیل بتایاجائے۔ نہ ہی ارسال کنندہ کا نام۔ اسے یہ تحائف قبول کرکے بہت الجھن ہوتی تھی۔ اس نے جواب میں اسے کچھ بھیجنے کی کوشش کی مگر اس کے بہت اصرار پر صرف وہ اس کی ایک کتاب قبول کرنے پر راضی ہوئی۔ اس نے بہت ٹالا کہ وہ بتادے کہ یہ کتاب کہاں دستیاب ہوگی۔ وہ خود ہی اسے خرید لے گی۔
مایا نے لاکھ احتیاط کو مدنظر رکھ کر اسے اپنی ایک تصویر بھیجی۔یہ ان دنوں کی تصویر تھی جب وہ امرتسر گئی تھی۔ یہ تصویر اس نے وہاں گولڈن ٹمپل کے باہرتالاب کے کنارے بیٹھ کر کھنچوائی تھی۔ اس مقدس تالاب جسے سکھ یاتری سروار یعنی تالاب کہتے ہیں۔اس میں پانی ہندووں کے مقدس دریا گنگا سے آن کر اسے بھر دیتا ہے۔سکھّوں کے چوتھے گرو رام داس جی نے اس تالاب کی تعمیر کا آغاز کیا تھا مگر اس کی تعمیر ان کے جانشین گرو ارجن داس نے مکمل کی اور اس میں اشنان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ع

رام داس ، سر وار نہاتے
سب لاتھے(دھو ڈالے) پاپ کماتے
اس کی یہ تصویر بڑی عجیب تھی۔ اس کے پس منظر میں دمکتا ہوا گولڈن ٹمپل تھا جسے سکھ مذہب کے ماننے والے احتراماً گردورا ہری مندر(یعنی بھگوان کا مندر) کہتے ہیں۔آبی رنگت کے لباس میں مایا نے زعفرانی سنہری رنگ کا اسکارف اپنے سر کو ڈھانپنے کے لیے کچھ اس طرح سے باندھا تھا کہ وہ مندر کی روپہلی دمکتی رنگت ہی کا حصہ بن گیا تھا۔ پہلے پہل تو اسے لگا کہ تصویر کھینچتے وقت شاید فوٹو گرافر کا کیمرہ بری طرح سے ہل گیا ہے جس سے عمارت کا کچھ حصہ ادھر اُدھر ہوگیا ہے۔کچھ اس میں چمتکار اس کے انداز نشست کا بھی تھا جس کا عکس پانی میں پڑ کر اسی عکسی بگاڑ کا حصہ بن گیا تھا مگر جب اس نے اس تصویر کو کچھ بڑا کر کے فوٹو شاپ کے مختلف آپشنز کو استعمال کرکے درست کیا تو وہ صاف دکھائی دینے لگی۔اسے لگا کہ وہاں اداکارہ تّبو بیٹھی ہے۔۔بالکل فلم وراثت والی اور چینی کم والی تّبو۔۔۔خوب صورت اپنے آپ میں گم دنیا سے بے نیاز تّبو۔
مایا کو اس نے اپنی جو تصویر بھیجی وہ اس کی کتاب کا اندرونی فلیپ پر موجود تھی۔ مایا نے اسے بتایا کہ اس نے تصویر کسی فوٹوگرافر کو دے کر اس کا باقاعدہ پرنٹ نکلواکر اسے اپنے کمرے کی دیوارپر آویزاں کرلیا ہے کچھ رفقائے کار جنہیں اس کے کمرے میں آنے کی اجازت ہے وہ اس نئے عکسی اضافے کے بارے میں جب بھی پوچھتی ہیں وہ شرما کر چپ ہوجاتی ہے۔

سوتی ساڑھیاں  جو مایا کو بہت پسند تھیں
باندھنی ساڑھی
بچھوا
پازیب
کردھانی یا تگڈی
چکمہ قبیلے کے افراد
چکمہ قبیلے کے افراد
چکمہ قبیلے کے افراد

وہ ایک جہاں گرد عورت ہے کئی ممالک میں اپنی ملازمت کے سلسلے میں خدمات انجام دے چکی ہے۔عورتوں اور مردوں سے ملنا اور ان کے معاملات کو سمجھنا اور برتنا اسے خوب آتا ہے۔ اس کی زندگی میں جب وہ بائیس برس کی ایک نوجوان لڑکی تھی ایک مرد ساجن شاہ آیا تھا جس سے اس کے تعلقات بہت گہرے تھے۔دو سال تک وہ میرپور خاص کے علاقے میں ایک ہی گھر میں ساتھ رہے تھے۔اپنے گھر والوں کی مخالفت کے با وجود اس نے ساجن شاہ سے کو اپنے اتنا قریب آنے دیا کہ بغیر شادی کے ایک بیٹی مومل بھی ہوئی مگر جب وہ چھاچھرو میں کسی پراجیکٹ سروے پرتھے۔ مومل کو ایک چھانرو میں اس کی کولہی ملازمہ بھاگ متی کی غفلت کی وجہ سے سانپ نے ڈس لیا اور وہ اللہ کو پیاری ہوگئی۔ ساجن شاہ جب ان کے ادارے کے کسی کام سے کراچی گیا تو وہاں اچانک فائرنگ ہوئی اور وہ گولی لگنے سے فوت ہوگیا۔ اس کے بعد اسے کوئی مرد اچھا نہ لگا۔گو اس کا حسن دیکھ کر کئی مرد اس کی جانب تواتر سے راغب ہوتے رہے۔
یہ سب اظہار اس کے آزاد منش اور بے پرواہ بلکہ   خاصی حد تک بوہیمین Bohemian ہونے کی جانب یہ ایک واضح اشارہ تھا جسے علی واصف نے اسے بڑی احتیاط سے، اسے جتائے بغیر نوٹ کرلیا.
فون پرگفتگو کے ابتدائی دنوں میں وہ ساجن شاہ کی بہت تعریف کرتی تھی۔مذہبی وہ پہلے بھی نہ تھی مگر ساجن شاہ کی رفاقت میں تو وہ بالکل ہی مذہب سے بے گانہ ہوگئی۔وہ ایک پکا دہریہ تھا جس کاخیال تھا کہ مذہب طاقتورانسانوں نے کمزور انسانوں پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے ایجاد کیا ہے۔وصل اور رفاقتوں کے لمحات میں جب مرد اپنی محبوبہ اور منکوحہ سے ہر قسم کی گفتگو کرتے ہیں۔ ساجن شاہ نے بتایا کہ اس کے ساتھ ان کے شہر نواب شاہ کے کسی مولوی صاحب نے برا فعل کیا تھا جس کی وجہ سے اسے مذہب سے وابستہ ہر شے سے نفرت ہوگئی ہے۔
ساجن شاہ بقول اس کے بہت حسین، تندرست اور آزاد خیال تھا۔دیہاتی پس منظر رکھنے کے باوجود اسے مایا کے دوسرے مردوں کے ساتھ کام کرنے اور بے تکلفانہ میل جول پر کبھی کوئی اعتراض نہ ہوا۔ایسے مرد دنیا میں بہت کم ہوتے ہیں۔ وہ اسے بہت مس کرتی ہے۔
گھر میں چھوٹے چھوٹے بلاؤز والی کاٹن کی چٹختے ہوئے رنگوں کی ساڑھیاں پہننا اس نے اسی کی فرمائش پر شروع کیا تھا۔ پہلے اسے ساڑھی باندھنا نہیں آتی تھی۔ وہ جب کسی کام کے سلسلے میں جے پور گئی تو پورے دو دن ایک ہندوستانی لڑکی سے اس نے ساڑھی باندھنا سیکھا اور راجھستانی جیولری بھی اس نے خریدی۔ یہ جیولری چاندی کی کردھانی(جسے کمر پر باندھتے ہیں)،پازیب، بچھوے(جنہیں پیر کی انگلیوں میں پہنا جاتا ہے) وغیرہ اور اس قبیل کے زیورات تھے۔ وہیں سے اس نے چنیا چولی، لہنگے، باندھنی ساڑھیاں خرید لیں۔ ہندوستان میں ملنے والی ساری رقم اس نے انہیں اشیا پر اڑادی مگر ساجن شاہ کو یہ سب کچھ بہت اچھا لگا۔ جب بھی وہ کمرے میں ہوتی ہے۔ وہ ایک باندھنی ساڑھی گردن سے نیچے اور گھٹنوں تک بنگلہ دیش کی چکمہ قبیلے کی عورتوں کی مانند لپیٹ لیتی ہے۔ساجن شاہ کو یہ بھی بہت اچھا لگتا تھا۔علی واصف نے اسے درست کیا کہ چکمہ قبیلے کی عورتوں کا لباس دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے ایک پر نہیں۔جیسا کہ وہ ساجن شاہ کی فرمائش پر پہنتی رہی ہے۔ ان کی عورتوں کو اوپر کا لباس کھادی اور نیچے کا پنونن کہلاتا ہے۔

اطالوی شراب کا گفٹ ہیمپر

مایا اس کی بات سن کر کچھ دیر کو چپ ہوگئی اور کہنے لگی کہ ” اسے علی واصف کی معلومات سے خوف آتا ہے۔کوئی اور موقعے پر وہ اس کی اگر کوئی غلطی درست کرتا تو اسے بہت اچھا لگتا مگر آج وہ اس کی اس درستی سے کچھ ڈس۔ اورینٹ ہوگئی ہے۔” یہ کہہ کر اس نے فون بند کردیا اور کئی دن تک اسے کوئی ایس ایم ایس بھی نہ بھیجا۔
علی واصف کو لگا کہ اس تعلق میں ساجن شاہ کا آسیب بہت دنوں تک منڈلاتا رہے گا اور دوسرا اگر مایا نے اس تعلق کو خیر باد کہہ ہی دیا ہے ،تو اچھا ہے۔ وہ ایک سایہ تھی۔ جو اسے صرف دور سے دکھائی دیتا رہا۔ وہ صرف وہی کچھ کھوسکتا ہے جسے وہ پاچکا ہو۔ جسے پایا ہی نہیں اسے کھونا کیسا؟۔۔
چند دن پہلے علی واصف کسی سرکاری دورے سے جرمنی سے واپس لوٹ رہا تھا۔ دوبئی ایرپورٹ پر کراچی آنے کے لیے اس کا قیام ساڑھے تین گھنٹے کا تھا۔ وہ وقت گزاری کے لیے اور اپنے باس کے لیے سگار خریدنے کے لیے ڈیوٹی فری شاپ میں گیا تو اسے ساتھ ہی رکھے شراب کے ایک ریک کے ساتھ نیلی کاٹن کی کوٹا ڈوریاساڑھی اور بغیر آستین کے بلاؤز جس کی پشت پر پراندے سے لدی پھندی چوٹی لہرا رہی تھی ایک خاتون نظر آئی جو ریڈ وائن خرید رہی تھی۔عدنان کو لگا کہ جس طرح غورسے وہ لیبل پڑھ رہی ہے۔ اسے سرخ شراب کے بارے میں کچھ زیادہ علم نہیں۔ اس نے مداخلت کی اور کہا کہ ” وہ ٹسکن ٹراٹوریا کا باسکٹ گفٹ سیٹ خرید لے۔ یہ اٹلی کی بنی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ یہ گفٹ باسکٹ بھی ہے۔ ” اپنی پشت سے آئی ہوئی یہ تجویز سن کر وہ ایک لحظہ پلٹی اور تب دونوں کو نگاہیں ملیں۔ علی واصف کو لگا کہ یہ خاتون تو بالکل مایا جیسی ہے وہ کچھ دیر تک تو ایک اجنبیت بھرے تذبذب میں رہا مگر خاتون کی آنکھیں اور چہرہ ایک دم اسے دیکھ کر دمک اٹھے۔ آشنائی کے کئی ستارے ایک ساتھ جگمگائے ۔ کچھ ہی دیر میں ان ستاروں کو اس بی بی نے احتیاط کے دبیز بادلوں میں سمیٹ کر چھپالیا۔ بات چیت کا سلسلہ چل نکلا اور خاتون نے اس کی تجویز پر عمل بھی کیا۔علی واصف سے اس نے پوچھا بھی کہ اسے شرابوں کا اس قدر علم کیوں ہے۔ ایسا لگتا ہے وہ بلا نوش ہے؟
وہ کہنے لگا کہ ” انڈہ بھلے سے مرغی دے مگر دنیا کی کوئی مرغی اس کا آملیٹ بنانے میں مقابلہ نہیں کرسکتی۔ ”

وہ یہ جواب سن کر کھلا کھلا کر ہنس پڑی۔اس نے جب تعارف کرایا تو خاتون نے اسے اپنا نام سدرہ علی بتایا۔ وہ ہندوستان سے لوٹ رہی تھی۔ اس کا لاہور میں ایک چھوٹا سا  بوتیک ہے۔اس کی دعوت پر وہ کافی شاپ میں بھی چلی آئی۔علی واصف نے کافی شاپ تک آتے ہوئے نوٹ کیا کہ سدرہ کا قد بوٹا سا ہے کچھ ٹھمکتا ہوا۔ یہی کوئی پانچ اور بمشکل پانچ انچ۔ اس نے اپنی ساڑھی کے نیچے کولہا پوری چپل پہنے تھے ورنہ اگر ہیل پہنی ہوتی تو شاید یہ قد کچھ لمبا دکھائی دے سکتا تھا۔


جب اس نے اپنے لیے موکا کافی کا آرڈر دیا تو علی واصف  نے غور کیا کہ اس کے بازو بڑے سڈول اور چکنے ہیں۔ کلائی سے شانے تک کہیں سے کمبخت کوئی جوڑ ہی نہیں دکھائی دے رہا تھا۔علی واصف نے جب ان پر بھر پور نگاہ ڈالی تو سدرہ نے اس کی یہ دید بانی نوٹ کرلی۔ اس لمحے کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے،علی واصف نے جب یہ کہا کہ “ہاتھیوں کے شکار اور ہاتھی دانت کی فروخت پر تو پابندی ہے اس نے یہ حسین گورے بازو کہاں سے لیے؟ ” تو وہ ہنس دی اور پوچھنے لگی کہ ” وہ اجنبی خواتین سے اتنی جلدی کیسے بے تکلف ہوجاتا ہے؟! ” اس کی بات سن کر علی واصف کہنے لگا “عجیب بات ہے وہ اسے نہ شراب خریدتے وقت نہ اس وقت، دم ِگفتگو اجنبی بالکل نہیں لگ رہی۔”سدرہ نے یہ بات سن کر اپنی بڑی بڑی آنکھوں کو حیرت سے کچھ زیادہ ہی وا کیا اور کہنے لگی Oh you are such a sweet talker.”(تم باتیں بہت میٹھی میٹھی کرتے ہو)۔ علی واصف نے محسوس کیا کہ سدرہ جب آپ کی جانب دیکھتی تھی تو ایسا لگتا تھا کہ اس کی نگاہوں نے آپ کو بازووں سے تھام لیا ہے اور وہ کسی انجانی دھن پر دھیمے دھیمے والٹز کررہی ہیں۔ اس کی اجلی سانولی جلد بھی بڑی بے داغ تھی۔ اس کی پیشانی روشن تھی سیاہ آب دارآنکھوں میں دھیمے دھیمے چراغ جلتے تھے۔ایسا لگتا تھا کہ کسی ہل اسٹیشن پر گرمیوں کی بارش نے سر شام دھند کی ایک چادر تان لی ہے جس کے اس پار کئی لاکھ چراغ جھلملارہے ہیں۔ ان آنکھوں میں اس نے ایک احتیاط سے کاجل لگایا تھا۔ بعد میں جب وہ
ملنے لگے تو اسے سدرہ نے جس کا اصل نام مایا ہی تھا، بتایا کہ وہ یہ کاجل خود کنول کے پتوں، ببول کے کوئلوں اور گائے کے تازہ مکھن سے بناتی ہے۔
۔ ان دونوں کی ایر پورٹ کی اس ملاقات میں اس نے گلے میں پولکی، موتیوں اور زمرد کا راجھستانی نیک لیس پہنا ہوا تھا جو عین اس کے گلے میں لہراتا ہوا اس کے سینے پر وہاں رک جاتا تھا جہاں اس کی برا میں قید اڑجانے کے لیے بے تاب دو تندرست مرغابیاں اپنے پر جوڑ کر ایک لکیر بناتی تھیں۔ گہرے جامنی رنگ کا یہ بلاؤز اور اس پر اودی عنابی اور پیلی باندھنی ساڑھی اسے بہت بھلی لگی۔
ا س کے استفسار پر جب علی واصف نے اسے بتایا کہ ” وہ ایک بیورکریٹ ہے” تو وہ فوراً کہنے لگی کہ ” اسے بیوروکریٹ اچھے نہیں لگتے گو اس کا اپنا بڑا بھائی بھی اسلام آباد میں کسی ادارے کا سربراہ ہے۔ وہ خودغرض، موقع  پرست، کم علم اور روکھے ہوتے ہیں۔”اپنے اس تجزیے کے دوران اس نے اپنی بڑی سیاہ آنکھوں کو علی واصف کے چہرے پر ہی مرکوز رکھا۔ جب علی واصف اس کی بات سن کر کچھ کبیدہ خاطر ہوا تو وہ دل رکھنے کے لیے کہنے لگی کہ ” ہوسکتا ہے آپ ان سے کچھ مختلف ہوں کیوں کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔” جس پر علی واصف نے کہا کہ ” کھاتے وقت تو کسی نہ کسی طرح برابر ہوجاتی ہیں “تو وہ کہنے لگی” وہ باتیں اچھی کرتا ہے۔”
دونوں کی واپسی کی فلائیٹ ایک ہی تھی۔ پہلے یہ فلائیٹ کراچی جارہی تھی اور بعد میں لاہور۔ چیک ان کاوئنڑ تک سدرہ کی وہ شراب کی بوتلیں باسکٹ سمیت علی واصف نے ہی اٹھائیں اور درخواست کرنے پر انہیں سیٹ ساتھ نہ ملی۔سدرہ کے ساتھ ایک بڑی بی اور علی واصف کے ساتھ ایک دس سال کا ایک بچہ اپنی والدہ کی رفاقت میں بیٹھا تھا۔ اس نے جب ائیر ہوسٹس سے درخواست کی تو کم از کم تین تبدیلیوں کے بعد انہیں ایک سیٹ ساتھ مل پائیَ۔علی واصف نے جب اسے کہا کہ اس کی شکل اس کی ایک دوست مایا سے بہت ملتی ہے تو وہ مسکراکر کہنے لگی کہ” لڑکیوں کو گھیرنے کے لیے یہ مردوں کی فیورٹ لائن ہے۔ “دورا نِ پرواز ہی سدرہ نے اسے بتایا کہ وہ ایک مطلقہ ہے اور اس کی ایک تین سال کی بیٹی ہے جس کا نام ملیحہ ہے۔ علی واصف نے اسے بھی اپنے بارے میں سب کچھ بتادیا۔جب اس نے سدرہ کو دوستی کی پیشکش کی اور اس کا فون نمبر مانگا تو وہ کہنے لگی کہ وہ شادی شدہ مردوں کو دوست نہیں بناتی۔ اس میں بلاوجہ کی مخاصمت ہوجاتی ہے۔ ان کی بیویاں، خواتین دوستوں کو برداشت نہیں کرتیں۔ وہ چاہے تو اپنا فون نمبر اسے دے سکتا ہے۔شاید وہ اسے کبھی کراچی آن کر کال کرے مگر وہ کچھ زیادہ توقعات وابستہ نہ رکھے۔
کراچی جب وہ اپنے دفتر میں بیٹھا تھا تو اس کے سیل فون پر مایا کا دوسرے دن فون آگیا۔ وہ بتا رہی تھی کہ وہ ان دنوں سنگاپور کی ایک کمپنی سے وابستہ ہوکر شمالی علاقہ جات بالخصوص گلگت، اسکردو اور ہنزہ میں سماجی سروے کے کاموں میں مصروف ہے۔
مایا کا نام، اس کی ملازمتی مصروفیت اور اس کی جائے قیام، ان سب باتوں کے اصل ہونے پر علی واصف کو ابتدا سے ہی کچھ شبہ تھا۔اسے یقین تھا کہ یہ سب فیک(Fake) ہے. اس نے جب اس سیل فون کمپنی سے کسی رعائیتی پیکج کی بات کی جس کا نیٹ ورک وہ اورمایا دونوں استعمال کرتے تھے تو وہاں موجود کلرک نے بتایا کہ یہ پیکج کی سہولت صرف ان نمبروں کے لیے ہے جو اسی شہر میں حاصل کیے گئے ہوں تو اسے مہربان کلرک نے بتایا کہ یہ ۹۲۲نمبر سے استعمال ہونے والا نمبر جو مایا کے فون کے ابتدائی نمبر تھے کراچی ہی سے جاری شدہ سم کا نمبر ہے تو عدنان کے دل میں خیال آیا کہ وہ یہ نمبر اپنے کسی ایسے دوست کو اس کی اصل تفصیلات جاننے کے لیے دے دے جو کسی خفیہ ادارے میں کام کرتا ہو۔وہ سب کچھ بتا دے گا کہ یہ فون کس کے استعمال میں ہے، اس کا نام اور پتہ کیا ہے اور یہ فون ان دنوں کہاں سے استعمال ہورہا ہے؟! وہ اس بات پر کئی دن تک غور کرتا رہا مگر اسے مایا سے کیا ہوا ایک وعدہ یاد آگیا کہ وہ اس پیار کی سچائی پر یقین رکھتے ہوئے کوئی ایسی جلد بازی اور بے اعتباری کا مظاہرہ نہ کرے جس سے اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے۔ وہ مکمل طور پر اس سے وابستہ ہے۔ وہ ان دنوں کچھ معاملات کو اپنے انداز سے درست کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ وہ ایک ایسی ملازمت کی بھی تلاش میں جس کی وجہ سے وہ واپس سندھ لوٹ آئے اور یوں ان کا ملنا سہل ہوجائے گا۔
اب اس کے فون تواتر سے آنے لگے تھے۔دن میں کئی بار۔وہ ایک ایسا رویہ اپنائے ہوئے تھی جس میں وہ اس کی ہر عادت کے بارے میں معلومات جمع کرسکتی ہو۔اس نے کیا پہنا ہے۔ دفتر میں کیا ہوا۔ وہ جب کہیں دورے پر ہوتا تو وہ آغاز ِ سفر سے اختتام سفر تک کئی دفعہ فون کرتی تھی۔وہ کہا کرتی تھی کہ “جب وہ دور کے سفر سے واپس گھر آجاتا ہے تو اسے یک گونہ اطمینان سا ہوجاتا ہے۔”اپنے بارے میں وہ کچھ نہیں بتاتی تھی۔جس ادارے کا نام اس نے اپنی ملازمت کے سلسلے میں لیا وہ واقعی شمالی علاقہ جات میں مصروف کار تھا۔
وہ بتاتی تھی کہ مانسہر ہ کے شہرمیں ان کی کمپنی نے اپنا ہیڈ کوارٹر ایک ریسٹ ہاؤس لے کر بنالیا تھا۔یہ ریسٹ ہاؤس اسلم خان پلازہ اور ڈسٹرکٹ کاؤنسل بلڈنگ کے نزدیک مفتی آباد کے علاقے میں ایک چھوٹی سی پہاڑی پر واقع تھا۔
انہیں دنوں مایا کی یہ ضد بڑھ گئی کہ وہ کب تک اپنی ملازمت کی یہ سرکاری بیساکھیاں تھامے رہے گا۔ کیوں نہ وہ اپنے وسیع تجربے کی بنیاد پر کسی بین الاقوامی ادارے سے وابستہ ہوجائے وہ بھی پھر اسی ادارے کو جوائین کرلے گی یوں ان کا ساتھ گہرا اور دیرپا رہے گا۔
اس نے جب مایا کو بتایا کہ جب اس نے ملازمت کا سلسلہ شروع کیا تھا وہ اس بات سے بخوبی واقف تھا کہ اس میں وہ مالی آسودگی اسے کبھی بھی میسر نہ ہوپائے گی جو وہ اگر اپنے والد صاحب کے اناج کے تھوک کے بیوپار کو سنبھال لے تو اسے باآسانی مل پائے گی۔ لہٰذا اس نے اس ملازمت کا فیصلہ تین وعدوں سے کیا جو اس نے اپنی مرحومہ والدہ صاحبہ سے کیے تھے۔ ایک تو یہ کہ وہ کوئی ایسا کام نہیں کرے گا جس سے اسلام کو نقصان پہنچے۔دوسرا کوئی وہ ایسا کام بھی نہیں کرے گا جس سے پاکستان کو کوئی نقصان پہنچے اور تیسرا یہ کہ اس کے کسی فعل سے دیدہ و ددانستہ کسی غریب کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دے گا۔مایا نے اس کی بات غور سے سنی اور دیر تک ہنستی رہی جس کا اسے بہت دکھ بھی ہوا۔اسے یہ سب باتیں بعید از عقل اور دنیاداری کے بنیادی تقاضوں سے ذرا پرے پرے لگیں۔
اس دوران مایا نے خود کئی اداروں کو اپنا سی وی بھجوادیا۔ اس طرح کی این جی اوز کا اپنا ایک نیٹ ورک ہوتا ہے۔ایک بین الاقوامی ادارے کا سندھ میں بہت بڑا صحت کے حوالے سے پروگرام چل رہا تھا۔مایا کو چونکہ ساجن شاہ کے ساتھ رہ کر سندھی لکھنا، پڑھنا اور بولنا بہت اچھی طرح آگیا تھا اور پروگرام کا مرکز زیریں سندھ کے علاقے تھے لہٰذا اسے ایک اچھے مشاہرے پر انہوں نے اپنی پروگرام کوآرڈینٹر رکھ لیا۔ پروگرام کے لیے اسے حیدرآباد میں ایک چھوٹا بنگلہ جیل کے پاس ایک کالونی میں لے کر دے دیا گیا۔ وہ بہت خوش تھی۔ وہاں سبھی لوگ اس کے دیکھے بھالے تھے۔ اس کی یہ نئی ملازمت سال نو کے آغاز سے شروع ہونے والی تھی۔
مایا دراصل، مانسہرہ میں اپنی ایک رفیق کار کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ سے کچھ ڈر سی گئی تھی۔ اس ادارے کی ہدایت تھی کہ کوئی خاتون کبھی کسی کے گھر میں سروے کے سلسلے میں اکیلی نہ جائے۔وہ لڑکی یہ غلطی کر بیٹھی کہ کسی کہ گھر میں سر شام اکیلی ہی جا گھسی جہاں دو مردوں نے پوری رات اس کا بلد کار کیا(مایا کو ہندی الفاظ اپنی انگریزی اور اردو کی گفتگو میں استعمال کرنے کا بہت شوق تھا۔ اسے کئی زبانیں آتی تھیں پشتو، سرائیکی، پنجابی، مارواڑی اور تھری)۔بعد میں یہ معاملہ ان کی پنچائیت میں چلا گیا۔ لڑکی چونکہ بھاولپور کی تھی لہذا کمپنی نے اسے اپنی بدنامی کے خوف سے خاموشی سے چولستان کے پاس اپنے کسی پراجیکٹ پر میں آنسو پونچھنے کے لیے معاوضہ دے کر بھیج دیا اور بات آئی گئی ہوگئی۔یہ این جی اوز لاکھوں کروڑوں ڈالر کے کھیل کھلواڑ میں لگی ہوتی ہیں۔ علاقے والوں میں یہ اپنا مقام قبولیت نہیں کھونا چاہتیں۔اس طرح کے جرائم کی کیوں کر پردہ پوشی کرنی ہے اور ایسے واقعات سے کیسے نمٹنا ہے۔ وہ بخوبی جانتی ہیں۔
انہیں دنوں علی واصف کو کسی کام کے سلسلے میں اسلام آباد جانا پڑگیا۔مایا اس کے دورے کا سن کر حسب عادت بہت پریشان ہوئی۔اسے چیتاؤنی دی کہ وہ لمحہ بہ لمحہ اسے اپنے سفر اور قیام کے بارے میں اطلاع دیتا رہے۔ وہ خود ان دنوں نتھیا گلی کے پاس گلیات کے کسی علاقے میں اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے سلسلے میں مقیم ہے۔اسے دکھ ہوا کہ اپنا تو ہرپر وگرام وہ پوشیدہ رکھتی ہے مگر اس کے بارے میں ہر وقت معلومات اکھٹی کرنے کے درپے رہتی ہے۔
وہ شام کو جب اسلام آباد پہنچا تو اتفاق سے جس وزارت سے اسے کاغذات درکار تھے وہ اسے ایئر پورٹ پر لینے آنے والی گاڑی کے ڈرائیور کے ہاتھ ہی اس کے دوست افسر نے بھجوادیے جو وزیر صاحب کے ساتھ کسی دورے پر نکل گیا تھا۔ علی واصف کو چند دن بعد کسی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے نیپال جانا تھا۔اس نے مایا کو ساری روداد بتائی اور یہ بھی کہا کہ وہ سوچ رہا ہے کہ رات کو ہی کراچی لوٹ جائے مگر وہ کہنے لگی “وہ نتھیا گلی آجائے وہ ایک بڑے ہوٹل کے پاس کسی ریسٹ ہاؤس میں اس کی منتظر ہوگی۔وہ صبح ساڑھے نو بجے تک نتھیا گلی پہنچ جائے۔”
علی واصف کو یہ ریسٹ ہاؤس جس کا نام پائن فورٹریس تھا تلاش کرنے میں دقت پیش آئی۔

بین المزاہب کا نیک لیس

یہ وہاں موجود بنگلوں سے ہٹ کر ایک پہاڑی کی اوٹ میں واقع تھا۔ وہاں کوئی اس طرح کے بنگلے سے واقف ہی نہ تھا۔بالآخر مایا نے اپنا ڈرائیور کار سمیت بھجوادیا جو اس کی رہنمائی کرتا ہوا اسے مختلف تنگ سی پگڈنڈیوں سے گھماتا پھراتا ریسٹ ہاؤس تک لے آیا۔ ایسا لگتا تھا اس کے معمار کو زمین کا ایک ہموار ٹکڑا بمشکل کہیں سے ہاتھ آیا اور اس نے اس بات کی دوبدا ا(ہندی زبان میں فکر، یہ لفظ بھی مایا اکثر استعمال کرتی تھی) کیے بغیر کہ یہاں ایک پہاڑی کا سر ا بالکل ختم ہوجاتا ہے اور نیچے ایک گہری وادی ہے جس کے دامن میں کئی چھوٹے چھوٹے گاؤں آباد ہیں اس نے وہیں اپنی یہ پرانی انگلش بنگلہ نما کاٹیج بنالی اور اس کا پیار سے پائن فورٹریس نام رکھ دیا۔علی واصف بہت دیر تک بنگلے کے دروازے پر کھڑا یہ سوچتا رہا کہ اس گھر کی بناوٹ اور اس کے لیے جگہ کے انتخاب کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کسی بھیگی رات میں مئے کدے سے نکلا ہوا کوئی شرابی اپنے گھر کی دہلیز پر آن کر جھول رہا ہو اور یہ فیصلہ نہ کرپارہا کو وہ اندر داخل ہو کہ نہ ہو۔ ڈرائیور کے ہارن بجانے پر ایک ملازم اندر سے برآمد ہوا اور اسے ایک راہدری سے گزار کر عمارت کے عقب میں ایک لان کی طرف لے گیا۔
لان میں مایا چائے کی میز سجائے بیٹھی تھی۔جامنی مخلمیں ٹاپ،سیاہ جینز اور بے دھیانی سے گلے میں ڈالی ہوئی نارنجی رنگ کی پشمینہ شال، کاندھے پر اسکول گرل کی طرح سے لہراتی ہوئی دو چوٹیاں جن میں رنگ برنگے دو چھوٹے سے پراندے ڈالے ہوئے تھے۔عنابی رنگ کی بہتی ہوئی چمکیلی لپ اسٹک اور گلے میں سونے کا ایک ایسا انٹر فیتھ پینڈینٹ(Inter-Faith Pendant)جس پر ہندو، مسلمان، سکھ، بدھ مت اور یہودی مذاہب کے مقدس نشانات بنے ہوئے تھے۔یہ پینڈینٹ اس کی دھوپ میں دمکتی ہوئی جلد پر ایک شان سے پڑا جھول رہا تھا۔گلے کا یہ ہار گو سدرہ علی کے ہار سے بہت مختلف تھا مگر علی واصف کو لگا کہ اس کے گلے میں لہراتا ہو یہ ہار بھی ا س کے سینے پر وہیں رک گیا تھا جہاں اس کی برا میں قید اڑجانے کے لیے بے تاب دو تندرست مرغابیاں اپنے پر جوڑ کر ایک لکیر بنا رہی تھیں۔
اسے دیکھتے ہی علی واصف کو لگا کہ اس کے سامنے وہ ہی دوبئی ایر پورٹ والی سدرہ علی بیٹھی ہے۔وہ مبہوت ہوکر اسے دیکھتا چلا گیا۔مایا نے بھی اس کی یہ بات نوٹ کرلی اور ہاتھ ملانے کے لیے کھڑی ہوگئی۔جب علی واصف کی دید بانی میں کوئی وقفہ ہی نہ ہوا تو وہ پوچھنے لگی وہ اتنے غور سے کیا تک رہا ہے کیا اس نے پہلے کبھی کسی حسین خاتون کو اتنے قریب سے نہیں دیکھا تو علی واصف نے جب اسے کہا کہ ” اس کی شکل اس کی ایک دوست سدرہ علی سے بہت ملتی ہے” تو وہ مسکراکر کہنے لگی کہ” لڑکیوں کو گھیرنے کے لیے یہ مردوں کی فیورٹ لائن ہے۔ ” علی واصف کو لگا کہ اسے پہاڑوں کے پرے سے کہیں سدرہ علی کی آواز کی باز گشت سنائی دی۔ابھی وہ اس جملے کے حصار سے خود کو آزاد کرنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ مایا نے اسے اپنے اس جملے سے بوکھلا سا دیا کہ اس نے کبھی تذکرہ نہیں کیا کہ ” اس کی ایک دوست سدرہ علی بھی ہے۔”
وہ بتانے لگا ” دراصل اسے دوست کہنا تو مناسب نہ ہوگا۔ وہ اسے دوبئی ایر پورٹ پر کچھ دیر کے لیے اچانک ملی تھی۔کچھ دیر انہوں نے باتیں کیں وہ پھر ساتھ ہی ایک فلائیٹ سے پاکستان لوٹے اور وہ پھر لاہور روانہ ہوگئی۔”

مکیسکو کا سومبرر ہیٹ

وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی اور کہنے لگی ” یہ آتے جاتے راستوں کی دوستیاں بہت جان لیوا ہوتی ہیں۔ان کا ایک شریک کار مصری ڈاکٹر حسین حمادی ہوتا تھا۔ وہ شادی شدہ اور تین بچوں کا باپ تھا کسی وجہ سے اس کی فلائیٹ چارلس ڈیگال ائیر پورٹ پر تبدیل ہوگئی اور اسے مصر براستہ مراکش آنا پڑ گیا۔ دوران سفر اس کے ساتھ والی سیٹ پر مراکش کی کوئی طالبہ یسرا بیٹھی تھی۔ دوران سفر ہی دونوں کے تعلقات اتنے بڑھ گئے کے وہ وہیں رباط میں اتر گیا اور جب مصر میں دومیات اپنے گھر پہنچا تو یسرا حسین اس کی بیوی بنی ساتھ تھی۔پہلی بیوی جو اس کی کزن تھی اسے قبول کرنے پر رضامند نہ ہوئی نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلا۔ ” I hope you two did’nt go that far?!(مجھے امید ہے تمہارے تعلقات اس نہج تک تو نہیں پہنچے ہوں گے۔)”
چائے وغیرہ کے لوازمات سے فارغ ہوکر مایا نے اس سے پوچھا کہ وہ پسند کرے تو وہ لنچ کے لیے یہاں سے سینڈوچ اور کچھ دیگر مشروبات ایک باسکٹ میں بند کرکے اوپر کسی پہاڑی کی چوٹی پر جاسکتے ہیں۔علی واصف کو اس پر کوئی اعتراض نہ تھا بس اس نے اتنا کہا کہ کسی اونچی پہاڑی پر چڑھنے سے بہتر ہے وہ یہیں کہیں پکنک اسپاٹ پاس پڑوس میں ڈھونڈھ لیں۔اسے پانچ بجے تک اسلام آباد ائیر پورٹ کراچی واپسی کے لیے جانا ہوگا۔
مایا نے ملازم کے ذریعے اندر جاکر ایک پکنک باسکٹ بھجوائی اور خود جب برآمد ہوئی تو سر پر ایک ادا سے اس نےSombrero یعنی میکسکن ہیٹ جمایا ہوا تھا۔
علی واصف کو اس نے بتایا کہ وہ یہاں جب فلیڈ ورک کر رہی ہوتی ہے تو اس کا لباس عام طور ر شلوار قمیص اور ایک لمبی سی چادر ہوتا ہے۔یہاں کے مرد اس قابل نہیں کہ انہیں وہ اپنے حسن کے جلوے دکھائے۔وہ بہت رف اور جرائم کے ارتکاب پر جلدآمادہ ہوجانے والے ہیں اور پھر کمپنی کی پالیسی بھی کچھ ایسی ہے کہ وہ خواتین کے ساتھ ہونے والے جرائم میں مصالحت پسندانہ رویہ اپناتی ہے۔ کیوں کہ وہ ان علاقوں میں اپنی گڈ ول Good-Will خراب کرنا نہیں چاہتی۔ وہ جب اپنے فیلڈ ورک میں مصروف ہوتی ہے تو نہ کوئی جیولری پہنتی ہے نہ کوئی میک اپ کرتی ہے۔آج کا یہ سارااہتمام اس کے لیے ہے۔علی واصف کو یہ بات سن کر کچھ خوشی محسوس ہوئی۔علی واصف کو وہ عورت ہمیشہ سے اچھی لگتی تھی جو اس کے لیے بنے سنورے۔
پائن فورٹریس سے باہر نکلتے ہی مایا نے ایک چھوٹی سی پگڈنڈی دھونڈ لی جو بل کھاتی ہوئی نیچے ایک گھاٹی میں اتر جاتی تھی۔نیچے وادی میں کچھ کمسن چرواہے اپنی گائے بکریاں چر ارہے تھے۔یہاں ایک چھوٹا سا ٹیلہ تھا جس کے ساتھ چیڑ کے کچھ بلند قامت درختوں کا ایک جھنڈ تھا۔ انہیں درختوں کے درمیان مایا نے ایک ہموار سی جگہ دیکھ کر اپنی باسکٹ رکھ دی اور اسے کھول کر اس میں ایک چادر نکالی اور اسے بچھا کر دو بڑے پتھروں بیٹھ گئی باسکٹ میں دوتین فلاسک بھی موجود تھیں جن میں سے ایک میں سرخ شراب تھی۔علی واصف چونکہ شراب نہیں پیتا تھا لہذا اس کے لیے وہ ایک تھرماس میں چائے بنا کر لائی تھی۔
علی واصف نے نے جب بغور مایا کو دیکھا تو اسے لگا کہ سدرہ علی کی طرح اس کی نگاہیں بھی آپ کو آہستگی سے تھام کر والٹز کرتی ہیں۔ آشنائی کے یہ لمحات بہت جان لیوا تھے۔ وہ بہت آہستگی سے اس کی گود میں لیٹ گئی اور اپنا بازو اوپر کیا تو اس کے ڈھیلے لمبی آستین والے ٹاپ کی ایک آستین گر کر نیچے شانے تک آگئی۔
علی واصف نے غور کیا کہ اس کے بازو بھی سدرہ علی کی طرح بڑے سڈول اور چکنے ہیں۔ کلائی سے شانے تک کہیں سے کمبخت کوئی جوڑ ہی نہیں دکھائی دے رہا تھا۔اس نے جب ان پر بھر پور نگاہ ڈالی تو مایا اس کا ہاتھ تھام کر اپنے سینے پر ڈولتے انٹر فیتھ پینڈینٹ تک لے گئی۔ اس لمحے کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے، علی واصف نے جب یہ کہا کہ “ہاتھیوں کے شکار اور ہاتھی دانت کی فروخت پر تو پابندی ہے اس نے یہ حسین گورے بازو کہاں سے لیے؟! ” تو وہ ہنس دی اور کہنے لگی کہ ” اسے یہ علم نہ تھا کہ علی واصف بھی اس کی طرح جنگلی حیات کے تحفظ کا حامی ہے۔”

علی واصف نے مایا سے کہا کہ وہ اس سے تین سوال پوچھنا چاہتا ہے جو اس تعلق کے حوالے سے روز اول سے ہی اس کا پیچھا نہیں چھوڑرہے۔
پہلا یہ کہ وہ اس سے کب اور کہاں ملی تھی؟ دوسرا وہ اس سے کیا چاہتی ہے؟! اور تیسرا یہ کہ وہ خود کون ہے؟!!

مایا اٹھ بیٹھی اور اس کے سینے پر سر رکھ کر کہنے لگی:”یہ سب راز کھل جائیں گے تو پھر اس تعلق میں باقی کیا رہ جائے گا؟”
“سچائی اور پختگی” علی واصف نے جیسے ہی یہ کہا اسے لگا کہ مایا کے ہونٹ اس کے یہ الفاظ، اپنے کانوں کی بجائے اپنی سانسوں میں سمیٹ چکے ہیں۔یہ بوسہ اچانک مگر دیرپا تھا۔ خود فراموشی کا ایک دریا ہر طرف رواں تھا۔ جس میں وہ دونوں بہہ رہے تھے۔ہونٹ اور بات جب چل نکلیں تو آسانی سے کہاں رکتے ہیں۔جانے وہ کون سا لمحہ تھا کہ علی واصف نے سامنے دیکھا۔
عین اسی لمحے ایک چرواہا لڑکا جس کی عمر بمشکل دس گیارہ سال ہوگی۔درختوں کے جھنڈ کے پیچھے نمایاں ہوگیا جسے دیکھ کر علی واصف نے گھبراکر اسے چھوڑ دیا۔
مایا ہنس کر کہنے لگی ” حکومت کا اتنا بڑا افسر بس بچے سے ڈر گیا؟ “ساتھ ہی اس نے بسکٹ کا ایک چھوٹا سا پیکٹ اس کی بانہوں میں لیٹے لیٹے اس   تنبیہہ کے ساتھ بچے کی طرف اچھال دیا کہ وہ اور کسی کو نہ بھیجے وہ چلا  گیا تو مایا کہنے لگی ” تین چار بچے جلد ہی اور آئیں گے۔جنہیں وہ یہ بسکٹس کے باقی ماندہ پیکٹس د ے دی گی۔ ”
علی واصف نے کہا ” اور یہ بچہ نیچے جاکر گاؤں والوں کو بتائے کہ وہاں ایک نوجوان جوڑا کن حرکتوں میں مصرو ف ہے تو؟ “۔۔۔
” توبہ تمہارا ذہن کتنا سرکاری ہے۔ بالکل سپاہی اللہ دتہ کی طرح سوچتا ہے۔پھر یہ ہوگا کہ تمہارے اندازے کے مطابق یا تو گاؤں والے ڈنڈے اور پتھر لے کر ہم دونوں کو سنگسار کرنے پہنچ جائیں گے یا پولیس اپنی موبائیل لے کر آجائے گی۔ہمیں زنا کے کیس میں گرفتار کرلے گی۔ ” مایا نے ہنستے ہوئے اس پر طنز کیا۔
” شاید ” علی واصف کھسیانا ہوکر کہنے لگا۔
” یہ جو تفریحی مقامات ہوتے ہیں نا! وہاں کے لوگوں کے ضابطہء اخلاق اور جذبہء رواداری بہت ہی کمرشل اور مصلحت پسندانہ ہوتا ہے اور ان مقامات کی پولیس کے سامنے جب تک کوئی بڑا جرم نہ آئے تو وہ ہمیشہ مک مکاؤ اور جلے تو جلاؤ گوری۔ پریت کا الاؤ گور ی والی پالیسی پر عمل کرتی ہے۔ شاید انہیں مجھے گرفتار کرتے ہوئے کچھ زیادہ ہی فکر مند ہونا پڑے گا۔ ” مایا نے یہ سب کچھ اس انداز سے بیان کیا کہ علی واصف کو بیک وقت اس میں حالات کی واقفیت، ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی اور حدود سود و زیاں سے بڑھ کر سب کچھ کر گزرنے کے عمل کا شائبہ گزرا۔ اسے چھیڑنے کے لیے علی واصف نے جب ایک بھیانک تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ” اس ملک کی پولیس ایسی ظالم ہے کہ اس نے اس وقت کی وزیر اعظم کے بھائی کو اس کے گھر کے سامنے گولیاں مارکر ہلاک کردیا تھا۔ ”
مایا نے اس کی بات سن کر ایک بے اعتمادی اور بے لطفی سے اسے دیکھا اور سامان سمیٹ کر کہنے لگی :
” تمہارے تحفظ کی خاطر ریسٹ ہاؤس میرے کمرے میں چلتے ہیں مجھے نہیں لگتا کہ اب تم یہاں اطمینان سے بیٹھ پاؤ گے۔ ”
ریسٹ ہاؤس میں پہنچ کر اس نے علی واصف کو اپنے کمرے کے سامنے والے لاؤنج میں کچھ دیر بیٹھنے کو کہا۔اسے وہاں میز پر پڑے کسی رسالے کے دل چسپ مضمون کی ورق گردانی کے دوران پندرہ بیس منٹ گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا۔ جب دروازے کی اوٹ سے مایا نے اسے کمرے میں بلایا تو اس نے دیکھا کہ مایا نے سوکھے شیمپو کیے ہوئے بالوں کو کمرے میں آنے کے بعد چھوٹے سے پراندوں میں الجھی ہوئی دو چوٹیوں میں گوندھ لیا تھا۔ مایا نے اپنی باندھنی کی بڑی سی ساڑھی کو لا سینزا La Senza Lingerieکے ضروری زیر جامہ لوازمات کے ساتھ چنری کی بغیر آستین کی چولی کے ساتھ پہن لیا ہے اس کی خاطر ایک تو وہ بنگلہ دیش کی چکمہ قبیلے کی عورتوں کے اوپر کے لباس کھادی کی جگہ چنری چولی پہن رہی ہے ۔شاید گاؤں کی عورتیں لا سینزا کی حشر سامانیوں سے اتنی واقف نہ ہوں۔ساجن شاہ کو اتنا اہتمام کبھی بھی اچھا نہ لگتا مگر علی واصف چونکہ شہر وفا میں نووارد ہے اس لیے وہ بھی رک رک کے چل رہی ہے ابھی۔جس پر علی واصف نے اس غزل کا دوسرا شعر بھی پڑھ ڈالا کہ ع
گو کہ پہلا سا،اجتناب نہیں
پھر بھی،کم کم سپردگی ہے ابھی
کمرے کا دروازہ بند ہوجانے کے بعد علی واصف کو لگا کہ مایا کی مہربانیوں میں کوئی انکار، کوئی ہچکچاہٹ نہ تھی۔حسن آفرینی اور سپردگی کے جو معیار اس دن مقر ر ہوئے علی واصف کو مایا کے اٹھارہ ماہ سولہ دنوں کے اس معاشقے میں اس سے کبھی کم کی نوازش کا سامنا نہ ہوا۔ان کی پہلی ملاقات میں اگر تجرباتی نودریافت کا تجسس اور معنی آفرینی تھی تو بعد کی تمام ملاقاتیں رفاقت بھری آشنائی کا وحشتوں سے امڈتا ہوا سمندر لگتیں تھیں جن میں ڈوب کر علی واصف کو کبھی ڈر نہ لگا۔
علی واصف نے جب اس سے اپنے کیے ہوئے تین سوال دہرائے تو مایا نہ اس کے تیسرے سوال کہ ” و ہ کون ہے؟! “کا جواب کچھ یوں دیا۔

ایبٹس فورڈ کینیڈا
تھرپارکر کا ناچ
تھرپارکر سندھ کا جھونپڑا جسے چھانرو کہتے ہیں

روس سے جنگ کے دوران سکھوں نے جن کی تعداد ان دنوں وہاں دو لاکھ کے قریب تھی، افغانستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ان کی اکثریت تجارت پیشہ تھی۔1994ء میں جب افغانستان میں مجاہدین نے زور پکڑنا شروع کیا اور طالبان کا اثر ورسوخ پھیلنے لگا تو مایا کے والد ترلوک سنگھ نے فیصلہ کیا اب وقت آگیا ہے کہ وہ افغانستان جہاں وہ ڈیڑھ صدی سے آباد تھے،چھوڑ دیں۔پاکستان میں سکھوں کے لیے ہمیشہ سے بہت ہمدردی کے جذبات پائے جاتے تھے۔ کئی سکھ خاندان پہلے ہی پشاور اور اس کے گرد و نواح میں کامیاب کاروبار کررہے تھے۔ مایا تب سترہ برس کی تھی اور اس کا بھائی راج پال سنگھ انیس برس کا۔یہ سب بھی پشاور آگئے۔
دوتین سال یہاں قیام کے دوران ترلو ک سنگھ جی کو کچھ بہت آسودگی نہ محسوس ہوئی تو انہوں نے یہ ملک بھی چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا۔ مایا نے اپنی کچھ تعلیم یہاں پر اور باقی ماندہ تعلیم ماسٹرز کی ڈگری کے ساتھ سندھ کی کسی یونی ورسٹی سے بشریات Anthropology)) میں حاصل کی۔راج پال امریکہ چلا گیا اور کچھ دنوں بعد اس کے والدین بھی سب کچھ سمیٹ کر کینیڈا میں ایبٹس فورڈ ۔برٹش کولمبیاکے خوبصورت قصبے میں گھر بنالیا، واشنگٹن کی ریاست وہاں سے کوئی دس منٹ کی مسافت پر تھی جس کی وجہ سے راج پال کو وہاں ان سے ملنے میں کوئی دشواری نہ ہوتی تھی۔
مایا نے پاکستان سے جانا کیوں نہ پسند کیا؟ اس کی وہ خود تین بڑی وجوہات بتاتی تھی ایک تو اسے جو پہلی ملازمت ملی وہ تھر پارکر کے قصبے میں تھی۔ وہ صحت کے ایک پروگرام کے سلسلے میں سروے کے کام میں مصروف رہتی تھی۔چونکہ سندھ میں یونی ورسٹی میں زیر تعلیم رہنے کی وجہ سے اسے سندھی بہت اچھی طرح بولنا،لکھنا اورپڑھنا آگئی تھی اس وجہ سے اسے یہاں کوئی دشواری نہ ہوتی تھی۔ دوسرے طبیعتاً آزاد خیال اور سادگی پسند ہونے کی وجہ سے اسے یہاں کے بلوچ، سماٹ(سندھ کے غیر بلوچ باشندے) وہاں کے ہندو، میگھواڑ، بھیل اور کولہی گھرانوں میں اس کا خوب آنا جانا ہوگیا اسے ان کا کلچر بہت اچھا لگتا تھا۔ان کے لباس، رہن سہن اور زیورات اور رسم و رواج وہ سبھی سے بہت اچھی طرح واقف ہوگئی۔ بالخصوص بھیل اور کولہی عورتیں جو پھیرے لے لے کر ڈھولکی کی تھاپ پر کبوتری ناچ کرتی ہیں۔ وہ بھی اسے بہت اچھا ناچنا آگیا تھا۔
تیسری وجہ جس کی وجہ سے پاکستان چھوڑنے سے وہ باز رہی اس کا سبب یہ بنا کہ اسی ادارے میں انہیں دنوں ساجن شاہ بھی بھرتی ہوکر آگیا۔ اسے بھی یہ سب کچھ بہت اچھا لگتا تھا۔ ذوق، شوق مشترک ہوں اور ملاقات بے رکاوٹ تو دلوں کے ملنے میں بہت دیر نہیں لگتی تھی۔یوں وہ بہت قریب آگئے اور چونکہ دونوں ہی بے حد آزاد خیال اور مذہب سے بے گانہ تھے لہذا رہنے بھی ساتھ لگے۔شادی کو وہ ایک غیر ضروری ادارہ سمجھتے تھے۔ مایا تو علی واصف کو بھی کہتی تھی کہ ایک کاغذ اور چند دستخطوں کا نام شادی نہیں۔اکثر شادیاں غور سے مشاہدہ کرو تو محض ایک گزر بسر کرنے کا معاہدہ ہیں۔سندھی میں جسے روح ریحان یعنی ارواح کا ملاپ کہا جاتا ہے یہ شادیاں ویسی نہیں ہوتیں۔
اسی دوران اس کے ادارے کا پریشر بڑھ گیا کہ وہ یہاں سے اپنا کام سمیٹے اور شمالی علاقہ جات میں اسی طرح کے پروگرام میں چلی جائے۔زلزلے کے بعد وہاں ان کی تنظیم کی مصروفیت اور دائرہ کار میں بہت وسعت آگئی ہے۔ساجن شاہ کو اس خیال سے ہول آتا تھا کہ وہ اپنی سوہنی سندھ دھرتی چھوڑ کر وہاں پہاڑوں میں جابسے۔اس بات پر اس کا ادارے کے صوبائی سربراہ سے کئی دفعہ جھگڑا بھی ہوا مگر مایا کی مداخلت پر بات آئی گئی ہوگئی۔ ایک دفعہ معاملہ البتہ حد سے زیادہ تجاوز کرگیا۔ ساجن شاہ کو شک تھا کہ ادارے کا سربراہ جوزف میگؤئل، مایا میں ضرورت سے زیادہ دل چسپی لیتا تھا۔ اکثر دوروں پر اسے ہی ساتھ لے جاتا تھا۔گو اسے مایا کے پیار کے حوالے سے کوئی خوف نہ تھا مگر دیہاتی پس منظر رکھنے کی وجہ سے وہ لاکھ آزاد خیال ہونے کے باوجود بھی عام مردوں کی طرح کاایک حاسد مرد تھا۔
جوزف ایک درمیانہ قد کا، فلپائن سے تعلق رکھنے والا ادھیڑ عمر کا مرد تھا اس کا باپ کوئی امریکی سیاہ فام فوجی اور ماں فلپائن کے قصبے منڈانو کی تھی۔ وہ کوشش کر کے مایا کو ان پروگراموں میں ڈال دیتا تھا جس سے براہ راست اس کا کوئی تعلق نہ ہوتا۔ خود بھی کسی نہ کسی بہانے سے پھر اس کے ساتھ ہوجاتا۔ اس بات پر ساجن شاہ کا ایک دن جوزف میگوئیل سے جھگڑا بھی ہوا اور بات ہاتھا پائی تک جاپہنچی۔ بڑی مشکل سے بیچ بچاؤ ہو پایا۔
ساجن شاہ نے مایا کو کسی بھی ایسے پروگرام سے متعلق دورے پر جانے سے روک دیا جو براہ راست اس کے مرکزی کنٹریکٹ سے جدا ہو۔ ساجن شاہ بددل ہوگیا۔ اسی دوران مایا کی بیٹی مومل کی موت سانپ کاٹنے سے واقع ہوگئی اور ساجن شاہ نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ ملازمت چھوڑ کر کسی سندھی نیوز ٹی وی چینل میں پروڈیوسر بن جائے گا۔جب وہ کراچی اپنے انٹرویو کے سلسلے میں گیا تھا وہیں کسی مقام پر فائرنگ ہوئی اور وہ جان سے ہاتھ دھوبیٹھا۔
مایا پہلے اپنی بیٹی اور پھر مرد کی پے درپے اموات اور اپنے خاندان کے یوں اجڑنے سے تین ماہ تک حواس باختہ رہی۔ ادارے نے بھی اس سے بہت نرم رویہ رکھا۔ وہ کسی کام کے بارے میں اس سے باز پرس نہ کرتے تھے۔مایا دو ماہ تک تو اپنے والدین اور ایک ماہ ادھر ادھر اپنی دوستوں کے پاس سندھ اور صوبہ پختون خواہ میں اپنا غم غلط کرنے کے لئے گھومتی رہی۔ دل چاہتا تو وہ اکثر بالا کوٹ، مظفر آباد اور مانسہر ہ چلی جاتی تھی۔ وہاں تقریباً آٹھ بڑی این جی اووز ماحولیاتی، جی۔آئی۔ ایس، بائیو انجینئرنگ، اور اسی قبیل کے دوسرے آباد کاری کے منصوبوں سے جڑی تھیں۔
جب اس کا مزاج کچھ بحال ہوا اور جوزف میگؤئل کی ساتھ وہ کشمیر کے علاقے باغ میں تھی تو اس نے مایا کو سندھ چھوڑ کر دوبارہ انہیں علاقوں میں کام کرنے کی پیشکش کی اس ادارے میں تنخواہ بھی پہلے سے ڈبل تھی اور اس کے انچارج سب کے سب غیر ملکی تھے۔ وہ خود بھی یہاں شفٹ ہونے والا تھا۔مایا کے علاوہ چھ اور لڑکیاں بھی ان کے ساتھ ملازم تھیں۔
مایا نے جب ذرا پش وپیش کی تو جوزف میگؤئل نے ایک شام اسے ایک عجب کہانی سنائی۔وہ کہنے لگا۔
چیکوسلواکیہ میں اس کی طرح کی ایک سر پھری امریکی اسکالر تھی جو وہاں کے خانہ بدوشوں پر تحقیق کررہی تھی۔اس زمانے میں چیکوسلواکیہ، روس کے حلقہء اثر میں تھا۔ وہاں اسے ایک مقامی میڈیکل ڈاکٹر سے بہت جی جان سے عشق ہوگیا۔ اسی چیک ڈاکٹر کی ضد تھی کہ وہ دونوں سب چھوڑ چھاڑ کر امریکہ نکل جائیں۔اس کے لیے بہتر زندگی کے مواقع یہاں بہت کم ہیں۔امریکی اسکالر بھی اس کی ضد سے قدرے متفق تھی۔
بہت سوچ بچار کے بعد انہوں نے وہاں سے اسے فرار کرانے کا ایک منصوبہ بنایا اور امریکی خاتون نے اپنے سفارت خانے سے رابطہ کیا اور ا ان کی مدد مانگی۔ اس کے عاشق کو پراگ (چیکوسلواکیہ) سے فرار کرانے کے لیے اسے ایک ہوادار تابوت میں لٹادیا گیا۔ سفارت خانے کی کار میں قریبی ملک جرمنی پہنچا دیا گیا۔ دونوں وہاں سے امریکہ چلے گئے اور شادی کرکے وہیں ڈاکٹر نے ملازمت بھی حاصل کرلی جب کہ خاتون بھی کسی یونی ورسٹی میں بشریات کی پروفیسر لگ گئیں۔
اس بات کو چند سال ہوتے تھے کہ ایک دن پروفیسر صاحبہ کو حکومت نے پراگ میں سفیر لگائے جانے کی پیشکش کی۔انہوں نے جب اس پیشکش کا ذکر اپنے شوہر سے کیا تو اس نے اس تجویزکو یکسر مسترد کردیا۔ وہ اپنے بھیانک ماضی کی طرف لوٹنا نہ چاہتا تھا۔ پروفیسر صاحبہ نے جب اس کے تحفظات کا ذکر انہیں سفارت کی پیشکش کرنے والے سے کیا تو وہ ایک بے اعتباری سے مسکراکر چپ ہوگیا۔
بات ایسا لگا کہ تقریباً آئی گئی ہوگئی ہے۔ دو ماہ بعد ایک رات بڑی زور کی بارش ہورہی تھی۔ پروفیسر صاحبہ کا گھر ایک چھوٹی سی پہاڑی پر واقع تھا۔ ان کے شوہر رات گئے جب اپنی کار میں ہسپتال سے گھر لوٹ رہے تھے پہاڑی ڈھوان پر ان کی کار کو اوپر سے نیچے آتے ہوئے ایک ٹرک نے ایسی ٹکر ماری کہ کار لڑھکتی ہوئی نیچے کھائی میں جاگری اور ڈاکٹر صاحب جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔دو دن بعد ان کی تجہیز و تکفین پر پروفیسر صاحبہ کو صدر صاحب کی طرف سے پھولوں کا گلدستہ بھی موصول ہوا اور ٹھیک پندرہ دن بعد جب ان کے شعبے کے سربراہ سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہیں وہی پیشکش دوبارہ اس وضاحت سے کی گئی کہ ان کے شوہر کو اعتراض تھا جب وہی  اس دنیا میں نہ رہا تو اب ان کے پراگ میں سفیر لگنے میں کوئی رکاوٹ بظاہر دکھائی نہیں دیتی۔ پروفیسر صاحبہ نے ایک ماہ کے اندر چیکوسلواکیہ میں سفیر کا عہدہ سنبھال لیا۔
جوزف میگؤئل کی ساتھ کشمیر کے علاقے باغ میں سنی ہوئی اس کہانی نے مومل کی موت سے لے کر ساجن شاہ کی فائرنگ میں ہلاکت کا پورا منظر نامہ اسے مکمل ادراک سے اس ایک رات میں سمجھادیا۔ وہ خاموشی سے مانسہر ہ میں اس کی نائب بن کر رہنے لگی۔ روشن خیال عورت کا بدن روشندان کی طرح ہوتا ہے۔ بند ہوتا ہے تو گھٹن ہوتی ہے۔جوزف کے ساتھ سونا، رونا،نہانا، دھونا،کھانا،پینا،گانا، گھومنا سب ملازمت کا حصہ تھا۔اس نے تصادم کی بجائے مفاہمت کی راہ اپنائی اور اسے سبق سکھانے کے لیے مناسب وقت کا انتظار کرنے لگی۔
دو ماہ بعد جب اس سارے منصوبے کے برآعظمی پروگرام ڈائیریکٹر جائزہ مشن پر آئے تو مایا نے انہیں جوزف کی جنسی ہراسگی، قتل و غارت گری اور اخلاقی بے راہ روی کا تمام احوال سب کچھ ایک راز داری سے بتادیا اور ایک ماہ کے اندر جوزف میگؤئل کو پہلے منیلا بلالیا گیا اور بعد میں ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔
علی واصف کا پہلا سوال کہ وہ اس سے پہلی بار کب اور کہاں ملی تھی؟!
مایا نے اس کے کاندھے پر سر رکھ کر اس کی آنکھوں میں بے باکی سے جھانکتے ہوئے بتایا کہ ایک لیکچر کے دوران۔ اساتذہ کی تربیت کے حوالے سے وہ کسی لیکچر میں بطور اسپیکر آیا تھا جہاں وہ بھی اپنی یونی ورسٹی کے زمانے کی ایک دوست جو اب کراچی کے کسی پرائیویٹ اسکول میں استانی تھی۔ اس کے ساتھ آئی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب وہ ساجن شاہ کی موت کا صدمہ بھلانے کے لیے یوں ہی اکثر کراچی آجاتی تھی۔ کسی نہ کسی شام کو وہ اس برج پر جاکر کھڑی ہوجاتی تھی جہاں رپورٹوں کی روشنی میں ساجن شاہ کو گولیاں لگی تھیں۔ پل پر آتے جاتے ٹریفک کو دیکھ کر وہ یہ سوچتی کہ ایسی ہی کسی گاڑی میں بیٹھ کر اسے اس پل پر انتظار کرنے کا کہہ کر ساجن شاہ کہیں تھوڑی دیر کے لیے چلا گیا ہے۔

لیکچر دو گھنٹے کا تھا مگر علی واصف کی تقریر کھنچ کر ساڑھے چار گھنٹے تک محیط ہوگئی۔ وہ اس تمام عرصے میں اسے نظریں جمائے سنتی رہی۔کھانے کا وقفہ ہوا تو اس نے اپنی دوست رفیقہ کو کہا کہ وہ علی واصف کا آٹوگراف اس کے ای۔میل ایڈریس، سیل فون نمبر کے ساتھ مانگ لے۔جب وہ اس کی ڈائری پر اپنی تفصیلات درج کررہا تھا، مایا اسے بغور دیکھتی رہی۔ ویسے تو پورے لیکچر کے دوران اسے دیکھتی،سنتی اور اپنی جگہ پر بیٹھی پگھلتی رہی مگر دورانِ تحریر اسے علی واصف کے ہاتھ بہت اچھے لگے۔ ان میں اس کی گفتگو کی مانند بہت خود اعتمادی تھی۔ اس نے تقریب کے اختتام پر رفیقہ کو جتلادیا تھا کہ وہ علی واصف کے عشق میں مبتلا ہوچکی ہے۔وہ کوشش کرے گی کہ جلد ہی اس روگ سے نجات حاصل کرلے۔یہ مردوں سے عشق بہت برا ہوتا ہے۔کم بخت آنسووں سے رلاتا ہے اور انہیں آپ کے جذبات کی شدت کا کچھ پتہ بھی نہیں ہوتا۔ وہ پورا سال اپنے اس ارادے سے جنگ کرتی رہی کہ وہ اس سے عشق نہ کرے۔ یہ تمام عرصہ اس کے لیے کرب و طرب کا ایک عجیب ملغوبہ تھا۔اس دوران اس نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے علی واصف کے کوائف بڑی خاموشی سے اکھٹے کیے۔
علی واصف نے اس کو بانہوں میں سمیٹ کر پوچھا “وہ کیا کوائف تھے جو اس نے اس دوران جمع کیے؟!”
مایا کہنے لگی یہی کہ اس کو پہلی بیوی سے طلاق ہوچکی ہے۔جس سے اس کا بیٹا غفران، امریکہ میں اپنی والدہ کے ساتھ رہتا ہے۔ اس کی دوسری بیوی زویا کراچی کی ایک مشہور آرکیٹیکٹ ہے۔ جس سے اس کی ایک آٹھ سال کی بیٹی تانیا ہے۔ پچھلے دنوں جب وہ ڈی۔ آئی۔ جی۔ جیل خانہ جات تھا تو وہاں اس کی کسی طاقتور گروپ سے ناراضگی ہوگئی اور اسے اس کے عہدے سے ہٹادیا گیا۔وہ تقریباً ایک سال ہوگیا بدستور او۔ ایس۔ ڈی چلا آرہا ہے۔ جب تک موجودہ چیف منسٹر صاحب اپنے عہدے پر براجمان ہیں اس کا امکان بہت کم ہے کہ وہ اسے اپنی سرکار میں کوئی عہدہ دیں گے۔ وہ بہت منتقم المزاج ہیں۔ وہ مناسب سمجھے تو اپنی قابلیت اور تجربے کو بروئے کار لاکر مشا ورت) (Consultancy اور رپورٹ رائیٹنگ کا کام کرسکتا ہے جس میں وہ اس کی بھرپور مدد کرے گی۔اس کام میں اسے ہر مرتبہ ایک خطیر رقم مل جایا کرے گی جس سے کم از کم کچن کا خرچہ آرام سے چل جائے گا اور سیر کا موقعہ بھی ملا کرے گا۔ سب سے بڑھ کر دونوں کو رفاقت کے بے خوف لمحات میسر ہوں گے اور کسی کو کوئی اعتراض اور شک بھی نہ ہوپائے گا۔علی واصف نے اسے کہا کہ اس منصوبے کو کس طرح عملی جامہ پہنانا ہے مایا اس کی تفصیلات بھیجے۔
اس کے دوسرے سوال کہ ” وہ اس سے کیا چاہتی ہے؟!” کا جواب یہ ہے کہ وہ اس سے کچھ نہیں چاہتی بس وہ اس سے پیار کرتی ہے یہی احساس اسے زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے اس نے ساجن شاہ کی موت کے بعد ارادہ کیا تھا کہ وہ کسی کا بچہ مصنوعی عمل تولید (Artificial Insemination) کے ذریعے پیدا کرے گی۔ وہ ملا ہے تو شاید وہ اس کی رضامندی سے اس منصوبے کو زیادہ رومانٹک انداز میں پایہ ء تکمیل تک پہنچا پائے گی۔اسے اپنا بچہ پیدا کرنے کے منصوبے پر عمل کرنے کی کوئی جلدی نہیں۔ وہ خواہشمند ہے کہ اسے جلدی سے برٹش کولمبیا یونی ورسٹی آف وین کوور میں پی ایچ ڈی کے لیے داخلہ مل جائے۔وہ اپنے بچے کو پیٹ میں لیے وہاں چلی جائے گی۔ اپنا بچہ وہ وہاں پیدا کرے گی تاکہ اس کی قومیت کا کوئی مسئلہ نہ ہو۔وہ مناسب سمجھے تو اس کا نام وہ اپنے امیگریشن کے کاغذات میں اپنے عاشق یا Conjugal Partner کے کرالے گی۔ اس کی ان کے قوانین میں گنجائش ہے۔

مایا نے اس سے پوچھا کہ ” اس کی بطور ڈی۔ آئی۔ جی۔ جیل خانہ جات کس سے کیا ناراضگی ہوگئی تھی۔؟!”
علی واصف کہنے لگا” کوئی خاص نہیں۔ شہر میں ایک گمنام سے گروپ کے افراد جو مختلف قسم کی قاتلانہ کاروایوں میں مصروف تھے پکڑے گے۔دیگر جرائم پیشہ افراد کی نسبت یہ سب نوجوان اور بڑے بے رحم تھے۔ان کا نشانہ ہر طرح کے افراد بنتے تھے۔ ان میں زبان، پیشے، کسی خاص مذہبی فرقے یا سیاسی وابستگی کی کوئی قید نہ تھی۔ان سب اصرار تھا کہ انہیں سب کو ایک ہی بیرک میں قید رکھا جائے۔ان کے ملاقاتیوں اور دیگر اشیا کی تلاشی بھی نہ لی جائے۔
یہ اطلاعات جب اوپر پہنچیں تو فیصلہ کیا گیا کہ انہیں سب کو سندھ کی مختلف جیلوں میں کراچی سے دور دراز علاقوں میں بھیج دیا جائے۔ یہی بات ان کی ناراضگی کا باعث بنی۔اس فیصلے کا اصل محرک وہ علی واصف کو گردانتے تھے۔ اسے کئی بار قتل کی دھمکیاں بھی ملیں مگر جیل میں کچھ بااثر قیدی جو جرائم کی دنیا میں بڑا نام رکھتے تھے ان کے سمجھانے بجھانے سے ان کے رویے میں نرمی آئی اور انہوں نے شاید مال خرچ کرکے یا اثر ورسوخ ڈلواکر اسے ہٹوادیا۔اسے صرف اتنا کہا گیا کہ اس عہدے پر پہلے بھی فوج یا پولیس کے افسر تعینات ہوتے رہے ہیں اب بھی اسے ہٹا کر ایسا ہی کیا جائے گا۔”
یہ سب کچھ سن کر مایا نے صرف ایک زور دار ” ہوں “کی اور جسمانی رفاقتوں کا سلسلہ وہیں سے جوڑ دیا جہاں سے منقطع ہوا تھا۔
ملازمت کے حساب سے پنتالیس برس کے علی واصف کا یہ عرصہ بڑی گمنامی اور کرب کا تھا مگر مایا کی رفاقت اور اس کی کوششوں سے ملنے والے مشاورتی کام سے اسے خاصی آمدنی رہتی تھی۔مایا بہت دل چسپ ساتھی تھی۔بہت آزاد خیال، بڑی بے باک، بہت لاپرواہ مگر بہت محبتیلی۔ اس کا مطالعہ وسیع، ذوق عمدہ، حس مذاح بہت سجیلی،کاٹ دار اورپرلطف تھی ۔زندگی کی گوناگوں دل چسپیوں سے اس کا لگاؤ والہانہ تھا وہ اس کی معمولی معمولی باتوں کا بھی بہت خیال رکھتی تھی۔ جسمانی لذتوں سے بڑی تفصیل سے آشنا بھی تھی اور ان کو ایک سلیقے اور انہماک سے برتنا بھی خوب جانتی تھی۔ جب وہ دوروں پر ساتھ ہوتے تو وہ اس کے ساتھ ہی قیام کرتی تھی۔وہ ہر لحاظ سے بطور دوست ایک بھرپور عورت تھی جس میں مشرق اور مغرب کے رویے،سمندر کے نمکین اور میٹھے دھاروں کی مانند ساتھ ساتھ بہتے تھے۔ ایسی عورتیں بہت کم یاب ہیں۔
علی واصف کو حیرت ہوتی کہ وہ دو دو تین سیل فون کیوں استعمال کرتی ہے۔ اس کے پاس مختلف ناموں کی سموں کا بھی ایک وافر ذخیرہ تھا۔ بعض دفعہ جب اس کے فون آتے تو وہ کمرے سے باہر جا کر یا علی واصف سے دور ہٹ بات کرتی تھی۔علی واصف کو اس کی یہ حرکت بہت ناگوار گزرتی اور وہ اعتراض کرتا تو وہ ہنس کر کہا کرتی” مصر کے فرعون کہا کرتے تھے کہ بلی کے نو جنم ہوتے ہیں سو میر ی بھی نو زندگانیاں ہیں تم تو آئے کہاں سے گھنشام۔ تم تو میرے نویں جنم کا پہلا پیار ہو۔” علی واصف کو یہ جواب کچھ زیادہ پسند نہ آتا مگر اسے مایا سے بے توجہی کی کوئی شکایت کبھی نہ ہوئی لہٰذا وہ اسے اس کی شخصیت کا ایک لازمہ سمجھ کر نظر انداز کردیتا تھا۔
اپنے انہیں دوروں میں موسم سرما کی ایک برفانی رات میں وہ کالاڈھاکہ کے ضلعی ہیڈکوارٹر میں تھے۔ زلزلے میں آئی تباہی کے حوالے سے مایا کو یہاں ایک سروے کرنا تھا۔مایا نے سارا دن تو لوگوں سے ملتے ملاتے وقت، ڈھیلا ڈھالا سا ایک بلوچی چولا، سوسی کی لمبی گھیر دار شلوار اور بڑے سے دوپٹے کے ساتھ پہنا تھا مگر جب علی واصف علاقے کے ایڈمنسٹریٹر کے بنگلے سے جہاں رات کے کھانے پر کچھ اور بھی افسران مدعو تھے لوٹا اور کمرے کے دروازے پر دستک دی تو مایا کو کمرے کا دروازہ کھولنے میں پورے دس منٹ لگے جب درواز کھولا گیا تو وہ سرخ گلابی اور پیلے رنگ کی پیچ ورک والی چنیا چولی (گھاگھرا چولی) سلک کے ویسے ہی میچنگ پرنٹ والے دوپٹے کے ساتھ پہنی ہوئی تھی۔ کچھ دیر بعد جب اس نے وڈکا کا ایک گلاس گلے میں انڈیل لیا تو علی واصف نے مایا کو کہا کہ ” وہ اس کو ایک راز بتانا چاہتا ہے۔ “کمرے میں آتشدان میں شعلے اچھل اچھل کر اپنی حدت اور ولولہ انگیز بے تابی کا مظاہرہ کررہے تھے۔
“وہ کیا؟”! مایا اس کی بانہوں میں سماتے ہوئے قالین پر بیٹھے بیٹھے کہنے لگی.۔
“ممکن ہے اس کی پوسٹنگ بطور ہوم سیکرٹری یا صوبے کی آئی بی سربراہ کے طور پر ہوجائے۔ اس نے ایک تگڑی سفارش ڈھونڈ لی ہے۔” علی واصف نے کچھ اترا کر کہا۔

“ایسا ممکن تو نہیں۔ اسے جو دوستوں نے بتایا ہے وہ یہ ہے کہ علی واصف کو ابھی اپنا ایک آدھ سال کشٹ اور کاٹنا ہے۔ اس گروپ نے جس نے اسے اس کے عہدے سے ہٹوایا تھا وہ اس کی اتنی طاقتور پوسٹنگ کبھی بھی برداشت نہیں کرے گا۔ ان کی ادھر ادھر جیلوں میں منتقلی کی وجہ سے ان کے کئی منصوبے ادھورے رہ گئے۔ اسے شاید یہ معلوم نہیں کہ جسے وہ ایک چھوٹا سا گمنام گروپ سمجھتا رہا ہے۔ وہ دہشت گردوں کے ایک بہت بڑے گروپ کے ایما پر یہ ٹارگیٹ کلنگز (Target Killings)کررہا تھا۔ ان کا مقصد ملک میں ہر طرف انتشار پھیلانا ہے۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں مایوسی، بے یقینی اور افراتفری کی ایک ایسی فضا پھیل جائے جہاں اداروں کو ناکارہ، بے حس اور ملک کو ایک ناکام ریاست سمجھا جانے لگے۔ اس کا یہ ملک اب کھیل کا ایک ایسا میدان بن گیا ہے جس میں دہشت گردی کا ورلڈ کپ ایک طویل عرصے تک کھیلا جاتا رہے گا۔ اس کھیل کے فروغ میں مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیمیں اپناکردار بہت خاموشی،چالاکی اور نامحسوس طریقے سے ادا کررہی ہیں۔”
مایا نے اس کے ارمانوں پر اپنے گلاس میں ووڈکا ڈالتے ہوئے اپنی بات سے مایوسی کی برف کی ایک ہلکی سی تہہ جمادی جس کا علی واصف کو کچھ افسوس بھی ہوا مگر وہ اسے نظر انداز کرکے بجلی کی کیتلی میں کھولتے ہوئے پانی سے اس کے لیے سیاہ کافی اور شہد انڈیلتے ہوئے کہنے لگی۔”بہتر ہوگا وہ اب سرکاری ملازمت سے جان چھڑالے یہ سب لوگ اس کا کام پسند کرنے لگے ہیں۔ اس نے اس کا پروفائل ایک کینیڈین سماجی ادارے کو بھجوادیا ہے جو اسے جلد ہی شاید رابطہ کرکے ملازمت دے دیں گے۔ جب مایا کے بچے کے حوالے سے اس کی بطور باپ قومیت وہیں کی ہوجائے گی تو اس کی تنخواہ بھی روپے کی بجائے ڈالروں میں ادا ہوگی۔اس حوالے سے وہ ایک بات اور بھی کہنا چاہتی ہے کہ اس نے پچھلے ماہ سے مانع حمل اشیا کا استعمال ترک کردیا ہے یہ سب کچھ اس نے اپنی ڈاکٹر کے مشورے سے کیا ہے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے استعمال سے اس کی کمر اور پیٹ میں اکثر درد رہا کرتا تھا۔اس کا بھائی راج پال بھی اگلے ہفتے واشنگٹن سے آرہا ہے۔اس کی پی ایچ ڈی کی منظوری بھی آگئی ہے وہ ایک سے تین ماہ کے اندر وین کور چلی جائے گی۔”

فار پیولین فلم کا پوسٹر
کبیر بیدی

علی واصف کو یہ سب سن کر بھی دکھ ہوا اور اسے مایا پر غصہ بھی آیا کہ وہ اہم مشترکہ فیصلوں میں اسے کیوں یکسر نظر انداز کرتی ہے۔وہ بہت خاموش تھا۔اسے لگا کہ مایا نے یہ سب کچھ بصد خاموشی اور ایک گہری سازش کے تحت کیا ہے پر اس رات مایا کی وحشت، سپردگی، اورامڈتے سمندروں جیسے جوش و خروش کے آگے علی واصف نے خود کو ایک کشتی کی مانند محسوس کیا جس کا ملاح کسی اپنے چپوؤں سے محروم ہوگیا ہو۔ شاید سب کچھ اسی رات ہوا۔

محبت اور سپردگی کے اس سیل رواں میں جب وقفہ ہوا اور اس نے اپنا سگریٹ سلگایا تو علی واصف کو کئی دفعہ یہ خیال آیا کہ مایا کو اس گروپ کے بارے میں اتنا سب کچھ کیسے معلوم تھا۔دوران وصل جب احتیاط کے سب بند مایا کے لطف بے کراں کے سامنے ٹوٹ کر بکھرے تو علی واصف کو بہت پہلے دیکھی گئی ایک فلم ” The Far Pavallion ” کا ایک مکالمہ بھی بہت یاد آیا کہ ” Men are indeed careless about their seeds”(مرد اپنے نطفے کے بارے میں بڑے لاپرواہ ہوتے ہیں)۔
مایا کا بھائی راج پال، سکھ تو تھا پر بالکل اداکار کبیر بیدی جیسا،شام کو ادارے کی جانب سے ایک پارٹی تھی۔ مایا نے اسے بھی مدعو کیا۔ وہ راج پال کو دیکھتا ہی چلا گیا۔ وہ ایک پیکر مردانگی اور وجاہت تھا۔ مایا اگر بن سنور جاتی تو خود بھی لاکھوں میں ایک نہ سہی، پندرہ بیس خواتین سے بھلی لگتی تھی۔باقاعدہ ورزش، مناسب خوراک اور خود اعتمادی کی وجہ سے وہ لباس بھی ایسا زیب تن کرتی تھی کہ نظروں میں کھب جاتی تھی۔راج پال کی مگر بات ہی کچھ اور تھی۔ مایا حسن اور دل فریبی میں اس کا پاسنگ نہیں تھی۔ راج پال سے اس کی گفتگو بہت رسمی سی رہی۔ وہ کتھئی کارڈراے کے کوٹ۔ ہلکی گلابی قمیص اور ریت کی رنگت کی پتلون میں اپنی پونی ٹیل سمیت وہاں محفل میں موجود خواتین کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ واپسی پر مایا نے علی واصف کو ایک آئی۔فون دیا جس کا شیشہ بقول اس کے ایر پورٹ پر راج پال کے ہاتھ سے فون کے چھوٹ کر گرنے سے ٹوٹ گیا تھا۔ یہ فون ر اج پال کے بیان کے مطابق اس کے ایک ٹرالی کے پہیئے سے یوں الجھا کہ اس پر رکھا ایک خاتون کا رول آن بیگ بھی اس کی اسکرین پر آن کر گرا اوریوں اس کااسکرین کئی جگہ سے چٹخ گیا۔ وہ اپنے کسی ماتحت کو بھیج کر الیکٹرانک مارکیٹ سے یہ شیشہ بدلوادے۔ امریکہ میں تو اس طرح کے چمتکار نہیں ہوتے اور فون بالکل نیا ہے۔یوں بھی وہ اپنی تعیناتی کے سلسلے میں سیکریٹریٹ کے پھیرے تو بڑی باقاعدگی سے لگا تا رہتا ہے اور یہ مارکیٹ اس جگہ سے قریب ہے۔ یہ بات درست تھی۔ مایا کو اس کے معمولات زندگی کا  خوبی علم تھا۔

فلم لاسٹ ایمپرر کا پوسٹر

علی واصف کو خود بھی اپنے فون کے اندر نیا میموری کارڈ لگوانا تھا،لہذا وہ اپنے اور مایا کے کام سے مارکیٹ خود ہی چلا گیا۔ وہاں اسے ایک خفیہ ادارے کا ایک افسر مل گیا ۔ایک زمانے میں وہ اس کا قریبی دوست تھا۔ وہ کوئی ریکی مشن پر آیا تھا۔فون کا شیشہ بدل کر جب اسے آن کیا گیا تو وہ افسر کرنل عامر اس کے ساتھ ہی کھڑا تھا۔ دکاندار اس کا یعنی عامر کاپرانا واقف تھا۔ فون کے آن ہوتے ہی جب نمبر دیکھے گئے تو وہ ایک عجیب انداز سے فیڈ کیے گئے تھے۔ ان میں کسی کا نام نہ تھا۔ صرف انگریزی کے حرف تہجی کے آگے نمبر ڈالے ہوئے تھے۔جیسے ایکس ون سے ایکس نائن ، بی ون سے بی الیون سی ون سے سی پندرہ صرف ایک نام درج تھا۔ رجنی کور جس کے سامنے بریکٹ میں (M) لکھا تھا۔ اس کے آگے مایا کا سیل فون نمبر تھا۔ علی واصف اس نمبر سے تو اپنے ہاتھ کی پشت کی طرح واقف تھا۔ ان نمبروں کو کوڈنگ دیکھ کر وہ کچھ چونک سے گئے۔کرنل عامر نے اسے درخواست کی کہ وہ اجازت دے تو مرمت کے لیے لائے گئے راج پال کے آئی فون والے یہ سارے نمبر ایک علیحدہ سم پر اپنے ادارے کے لیے منتقل کروالے۔علی واصف کو بھلا کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔
وہ بہرحال اس فون کے حوالے سے مایا کا اصل نام جان گیا تھا۔ فون میں اس کے نمبر کے سامنے اس کے اپنے نام علی واصف کی جگہ سن 1987 میں ریلیز ہونے والی اطالوی فل ڈائریکٹر برنارڈو بٹروچلی کی فلم The Last Emperor لکھا تھا۔ یہ دراصل چین کے آخری بادشاہ پی اوئی کی داستان تھی جو اس کی سوانح حیات کو سامنے رکھ کر فلم بند کی گئی۔فلم کو نو اکیڈیمی ایوارڈز بھی ملے تھے۔ فلم کا آخری سین بہت دکھ بھرا تھا۔ پی اوئی قید سے رہائی کے بعد اپنے محل کے اس تخت کے پاس کھڑا ہوا دکھایا گیا ہے جہاں ایک بچہ اسے تخت کے پاس سے دور ہٹ کر کھڑے ہونے کو کہتا ہے۔پی اوئی اسے باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہی اس تخت پر بیٹھنے والا آخری بادشاہ اور سن آف ہیون (The Son of the Heaven)تھا۔جب وہ تخت پر بیٹھتا ہے تو اسے وہاں اپنا پالتو جھینگر دکھائی دیتا ہے جو اسے ساٹھ سال بعد بھی پہچان کر اس کے قریب آجاتا ہے۔ وہیں تخت پر بیٹھے بیٹھے پی اوئی بچے کی نظروں کے سامنے سے اوجھل ہوجاتا ہے۔
اگلے دن مایا نے اس کو کہا کہ وہ سامان لے آئے وہ کچھ دنوں کے لیے بشام اور پتن جارہے ہیں۔ راج پال بھی ہمراہ ہوگا۔وہ چار بجے اسلام آباد فلائی کرجائیں گے۔وہاں راج پال کی یونی ورسٹی کی ایک پرانی دوست سمیرہ رعنا بھی ان کو مل جائے گی۔پروگرام بہت اچانک اور سمیرہ کی تجویز پر بنا ہے۔عام طور پر اسلام آباد کی اس فلائیٹ پر ٹکٹ حاصل کرنا دشوار ہوتا ہے۔اسلام آباد آوک جاوک میں بہت سے بندگانِ سرکار ہمہ وقت پا بہ رکاب رہتے ہیں۔ مایا کے پاس مگر دو گھنٹے میں ہی ٹکٹ پہنچ گئے۔علی واصف کو ہمیشہ سے اس بات کا اندازہ تھا کہ مایا کو دفتر سے چھٹی لینی ہو۔ اخراجات کا معاملہ ہو کہ اندرون ملک یا بیرون ملک سفر کا کوئی پروگرام بنانا ہو۔ دور دراز کے سفر کے لیے جیپ اور ڈرائیور کی ضرورت ہو۔۔کبھی بھی کوئی دشواری پیش نہ آتی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ فارسی کی وہ کہاوت کہ ” ہر ملک ، ملکِ ما است۔ کہ ملکِ خدا ما است ” (ہر ملک، میرا ملک ہے اور اللہ کی ساری مملکت ہی میرا ملک ہے) خاص طور پر مایا کے لیے ہی بنی ہے۔

بشام پہنچ کر راج پال کو اس کے فون پر کئی گونگی کالیں (Miss Calls) موصول ہوتی تھیں. وہ ایک نظر اپنے فون پر ڈالتا تھا اس کے بعد ان سے دور جاکر اپنی جیب سے ایک کارڈ نکالتا تھا اور مایا سے لیے گئے فون سے دوبارہ اس نمبر پر کال کرتا تھا۔ مختصر سی گفتگو۔ بس ہاں، نہ پر مشتمل، نہ اس سے زیادہ نہ کم۔ جب وہ فون مایا کو واپس لوٹاتا تو مایا فوراً اس نمبر کو ڈھا دیتی تھی۔مایا نے اسے یعنی علی واصف کو اپنا کوئی دوسرا فون نمبر کبھی نہیں دیا۔ ایک دفعہ علی واصف نے اسے جتلایا کہ ” کسی وجہ سے اگر اس کے پہلے والے فون نمبر پر کال نہ موصول ہو تو وہ کم از کم اسے باقاعدگی سے زیر استعمال اپنا دوسرا فون نمبر دے دے۔ جس کے اندر وہ ہر وقت کوئی نہ کوئی رعایتی پیکج ہر وقت ٹھونستی رہتی تھی۔ “جس کے جواب میں مایا نے اس کے مطالبے پر اسے دیر تک دیکھا اور پھر اس کی بانہوں میں سمٹ کر زبان چوس کر حلق سے کھینچتے ہوئے کہنے لگی۔”مایا جس دن اپنے دی لاسٹ ایم پررر (The last emperor)کا فون پہلی گھنٹی بجنے پر نہ اٹھائے تو وہ جان لے کہ یا تو مایا، فی الفور فون لینے سے مجبور ہے یا مایا مرچکی ہے۔”
علی واصف کو مایا کی یہ باتیں بہت من بھاؤنی لگتی تھیں۔مثلاً اگر وہ کسی شب دیر تک گھر سے باہر ہوتا یا بتائے گئے وقت سے اسے کسی دورے سے واپسی پر دیر ہوجاتی تو مایا کہتی تھی۔ ” جلدی سے گھر جاؤ۔ بیگم زویا اور تانیا کے ساتھ کھانا کھاؤ۔زویا کو بہت سا پیار کرو اور سوجاؤ۔ گھر سے باہر مت رہو۔ دیکھو سب کا کوئی نہ کوئی ہے۔ میرے صرف آپ ہو۔ آپ کو کچھ ہوا تو میں اپنے آپ کو کبھی بھی معاف نہیں کر پاؤں گی۔”علی واصف کو اکثر حیرت ہوتی تھی کہ مایا نے کبھی زویا سے کسی حسد کا کوئی اظہار نہ کیا۔
ایک دن ان کا فون پر اس کی من بھاؤنی باتوں کے حوالے سے بہت دل چسپ مکالمہ ہوا جو زیادہ تر انگریزی زبان میں تھا۔مایا نے اسے اٹھلا کر فون پر پوچھا کہ ” Will you ever let me down in this love”(ّ کیا تم مجھے اس پیار میں کبھی اپنی نگاہوں سے گرنے دو گے)
علی واصف نے بھی اسی شوخی سے جواب دیا ” No i will hold you like your bra strap and never let you drop down”(نہیں میں تمہیں تمہاری چولی کی ڈوریوں کی طرح تھام کر رکھوں گا اور کبھی بھی گرنے نہیں دوں گا)۔
ہمیشہ کی بزلہ سنج مایا نے کھلکھلا کر ہنستے ہوئے جواب دیا ” Except when i am changing”(ہاں مگر جب میں لباس تبدیل کروں تو)
بشام میں ایک رات جب سمیرہ رعنا، راج پال کے کمرے میں اور مایا اس کی بانہوں میں کسمسارہی تھی علی واصف نے پوچھا کہ اس کا اصل نام کیا رجنی کور ہے تو مایا نے کسی توقف کے بغیر زور کا قہقہہ لگا کر بتایا کہ ” وہ اور راج پال جڑواں بھائی بہن ہیں۔But I am genetic garbage. He is drop -dead handsome”(میں تو مگر جنیاتی ملبہ ہوں۔وہ تو جان لیوا حد تک وجہیہ ہے)۔ وہ اس سے پیدائش کے معاملے میں دس منٹ بڑا ہے۔در اصل رجنی کور میری نانی کا نام تھا جو بلا کی حسین تھی۔وہ اصلی قازق تھی۔ جب اس کی دوسری اولاد یعنی میری ماں پیدا ہوئی تو چھ ماہ بعد وہ گرمی کی ایک شب چھت پر بیٹھی غسل کررہی تھی کہ اسے جن اٹھا کر لے گئے۔”
“جن یا کوئی افغان سردار؟ ” علی واصف نے پوچھا۔
“مسلمان تو جنوں کے وجود پر اپنی مقدس کتاب کے حوالے سے یقین رکھتے ہیں کیا وہ ان کے وجود سے منکر ہے۔ اگر اسے کوئی افغان سردار لے جاتا تو ہمارے نانا کے وہاں اتنے تعلقات تھے کہ وہ اس کا کھوج لگا کر اسے کوہ نو شاک(ہندو کش پہاڑی سلسلے کی دوسری بڑی چوٹی) کے کسی غار سے بھی ڈھونڈلاتے۔” مایا نے اسے ایک خود اعتمادی سے جواب دیا۔
وہ بشام اور پتن پورے پانچ دن اور چھ راتیں رہے۔ راج پال کو واپس لوٹنا تھا۔مایا نے علی واصف کو کہا کہ وہ دونوں بھائی بہن کراچی جارہے ہیں۔علی واصف البتہ یہاں سے پشاور اور وہیں سے اورک زئی ایجنسی کے علاقے مامو زئی،گھجلو اور تاجکا میں مدرسوں کا سروے مکمل کرکے رپورٹ بنالے۔ وہ پورے تین دن بعد دوبارہ اس کے پاس پشاور آجائے گی جہاں سے وہ میاں دم چلے جائیں گے اور وہیں کچھ دن آرام کریں گے۔اسے کوہاٹ سے جب وہ آگے کالیا کے مقام پر پہنچے گا، وہاں کچھ لوگ مل جائیں گے جو اسے کام میں بہت مدد کریں گے۔وہ ان کا حضرت میر انور شاہ کے مزار جو لیرا تراہ میں واقع ہے اس کے پاس انتظار کرے۔

کالا-ڈھاکہ-کے-پی-کے-1.
کالا-ڈھاکہ-کے-پی-کے-
کالا ڈھاکہ کے پی کے
کچھ۔ر۔راجھستان کے رباری
کچھ۔ر۔راجھستان کے رباری
کچھ۔ر۔راجھستان کے رباری
کرانتی گرو یونیورسٹی کچھ راجھستان
کوہ نوشاق
میڈیا کا مالک کون

مایا ، راج پال کو کراچی چھوڑنے چلی گئی۔ اگلی صبح سے بشام میں بہت تیز برسات ہورہی تھی۔ گہرے سیاہ بادلوں کی وجہ سے علی واصف کے لیے سفر کرنا ممکن نہ تھا۔ دوپہر کو اس نے مایا کو فون کیا تو جواب نہیں آرہا تھا۔ سر شام اسے مایا کے فون سے راج پال کے بہ یک وقت دو تین پیغام ملے کہ مایا کی طبیعت اسلام آباد کی ایک دعوت میں بہت خراب ہوگئی تھی وہ رات کی فلائیٹ سے کراچی آگئے وہ ہسپتال میں داخل ہے، بے ہوش ہے، پہلے تو گمان تھا کہ یہ صرف فوڈ پوائزنگ کا کیس ہے مگر بعد میں یہ بھی پتہ چل گیا کہ مایا حاملہ ہے، اس کی طبیعت مومل کے وقت میں بھی بہت خراب تھی یہ ٹرائی میسٹر (حمل کے پہلے تین ماہ) اس پر بہت بھاری ہوتے ہیں۔میری والدہ اس کے ساتھ پہلے بھی آن کر رہی تھیں مگر اب وہ ضد کر رہی ہیں کہ میں کچھ دن وہیں ٹھہر جاؤں اور تمہیں اور مایا کو ساتھ لے کر کینیڈا واپس آؤں۔ مایا کی طبیعت ذرا بحال ہو تو وہ خودکچھ بتانے کی پوزیشن میں ہوگی۔ایسی باتیں عورتوں کے منھ سے سننے کا اپنا لطف ہے۔راج پال نے تمام معاملہ میں ایک شرارت کا پہلو ڈھونڈ کر اس کو پیغام بھیجا۔
رات گئے اسے کرنل عامر کا فون بھی ملا کہ اس کے بریگیڈئیر صاحب، علی واصف سے ملنا چاہتے ہیں۔یہ سارا ایک نیٹ ورک ہے جو انہوں نے فون نمبروں سے پتہ چلا آیا ہے۔اس میں جو رجنی کور ہے اس کے فون سے علی واصف کو بہت فون آتے رہے ہیں۔وہ فون اب آبزرویشن پر ہے۔باقی باتیں اس کے آنے پر ہوں گی ” May be we run you against them”(ممکن ہے ہم ان کے خلاف تمہاری مدد لیں)۔
اعلی الصبحٰ مایا کا فون اسے آگیا۔وہ اپنے حاملہ ہونے پربہت خوش تھی مگر راج پال سے شدید ناراض بھی۔اس نے اتنی بڑی خوش خبری علی واصف کو اس کی کلیئرنس کے بغیر کیوں دی۔وہ پروگرام کے مطابق تو شاید نہ آپائے ہسپتال والے اسے کچھ دن آرام کا کہہ رہے ہیں مگر علی واصف اپنا کام ختم کرکے فوراً اس کے پاس کراچی آجائے۔ وہ یا تو ہسپتال میں ہوگی یا ادارے کے ریسٹ ہاؤس واقع فیز زسیون میں۔ اگلے دن وہ ٹھیک ساڑھے گیارہ بجے حضرت انور شاہ کے مزار واقع کالیا پہنچ گیا جو اورک زئی ایجنسی کا ایک اہم مقام تھا۔اسے یہ حیرت تو ضرور ہوئی کہ اس کے ایک دن سے تاخیر سے پہنچنے کی اطلاع میزبانوں کو کیوں کر ملی اور اس کا میزبان مولوی زین العابدین اپنی جیپ میں اس کا منتظر کیسے تھا۔پیچھے ایک پک اپ میں بہت سے گارڈز اپنے اسلحہ کے ساتھ موجود تھے۔ مولوی زین العابدین نے اپنے چہرے سے وہ پگڑی کا سرا اس وقت کھولا جب وہ کالیا سے بہت دور جاچکے تھے۔آخری مقام جو علی واصف کو یاد تھا
وہ سمانا کا تھا۔اس کے بعد جب اس نے اپنا چہر کھولا تو علی واصف کو لگا کہ یہ مولوی زین العابدین تو وہی شخص تھا جس نے جیل میں اسے سب کے سامنے دھمکیاں دیں تھیں۔ اسی دوران علی واصف کو لگا کہ کسی نے بہت زور سے اس کے بازو میں کوئی سوئی گھونپی ہے اور وہ بتدریج اپنی مدافعت اور ہوش و حواس سے محروم ہوگیا۔
معاملہ عجیب تھا اس کے اغوا پر کوئی شور نہ مچا۔ حتی کے زویا کو نہ کوئی فون تاوان کے سلسلے میں موصول ہوا نہ کسی اور نے حکومت سے رابطہ کیا البتہ اس کی رہائی کے بدلے میں ہوم سیکرٹری صاحب سے فون پر دس عدد سندھ کی مختلف جیلوں میں بند خطرناک قیدیوں کو رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔جس کو یکسر نظر انداز کردیا گیا۔
علی واصف کو اغوا کے ٹھیک سولہ دن بعد قتل کردیا گیا۔ اس کی لاش ادارے کی جیپ میں بشام کے ایک ہوٹل کے پاس سے ذرا راستے سے ہٹ کر نیچے ایک پگڈنڈی پر ملی۔وہ بھی اتفاقاً
۔ ہوا یوں کہ گاؤں کے دو آدمی اپنی اسکوٹر پرصبح کو کہیں سے آرہے تھے۔بارش کی وجہ سے پھسلن تھی۔ ان کی اسکوٹر کیچڑ اور بارش کی وجہ سے پھسل کر جب نیچے کی طرف لڑھکی تو جھاڑیوں کی اوٹ میں کھڑی جیپ سے ٹکر اکر نیچے کھائی میں لڑھکنے سے بچ گئی دونوں افراد کو معمولی چوٹیں آئیں۔ انہوں نے جیپ کے اندر جھانکا تو ایک تابوت میں علی واصف کی لاش بند تھی۔ اس کے جسم پر پولیس کے مطابق تشدد کا کوئی نشان نہ تھا۔ صحت اور کپڑوں سے بھی پتہ چلتا تھا کہ اسے کچھ تکلیف جسمانی طور پر نہیں دی گئی۔چہرے پر ہلکا سا تبسم بھی تھا جس سے یہ شائبہ ہوتا تھا کہ جب اسے پیچھے سے سر میں گولی ماری گئی تو وہ لاعلم تھا۔
پولیس جب لاش کا موقعہ معا ئنہ کررہی تھی۔راج پال اپنے موساد ہینڈلر کے ساتھ واشنگٹن کے ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھا ناشتہ کررہا تھا اورعین اسی وقت مایا یونی ورسٹی آف برٹش کولمبیا کے وین کوور کیمپس میں اپنی تھیسیز کے سلسلے میں اپنی جوائنٹ پی ایچ ڈی اور کو۔ ٹیوٹیل کے سلسلے میں پروگرام انچارج سے اس نکتے پر بحث کررہی تھی کہ وہ اپنی فلیڈ اسٹڈیز بھج (ہندوستانی گجرات) کے رباریوں پر کرے گی اور اس پروگرام کے تحت اسے دی کرانتی گرو شیاما جی کرشنا کچھ یونیورسٹی سے بھی مشترکہ پروگرام کی آفر ہے۔وہاں بھی کچھ سال پہلے زلزلہ آیا تھا۔ ویسا نہ سہی جیسا علی واصف کی زندگی میں مایا کی آمد سے آیا۔مایا علی واصف کو اپنے تابوت میں اگر محو استراحت دیکھتی تو اس کی مسکراہٹ پر اپنے پسندیدہ گلوکار کی آواز کی نقل اتارتے ہوئے گنگنا کر ضرور کہتی۔۔ع
یہ میری چپ ہے اسے موت نہ سمجھو یارو
ساز ماتم کے ہٹا دو کہ  میں زندہ ہوں ابھی
مایا کی آواز اچھی تھی۔ سر اور لے کا بھی اسے کچھ کچھ گیان تھا۔ اسے جگجیت اور چترا کی گائیکی بھی بہت پسند تھی۔اور یہ اس کی پسندیدہ غزلوں میں سے ایک تھی ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *