قومی تاریخ کا نیا موڑ۔۔۔اسلم اعوان

چند ماہ قبل مملکت کے بندوبستی نظام میں ضم کئے گئے قبائلی اضلاع پر خیبرپختون خوا کی صوبائی انتظامیہ ابھی اپنی گرفت مضبوط نہیں کر پائی تھی کہ دم توڑتی قبائلیت کی راکھ سے سماجی انصاف،انسانی حقوق اورجمہوری آزادیوں کےدلفریب نعروں سے مزّین تحریکیں زور پکڑنے لگیں،جنہیں مینیج کر کے مرکزی سیاسی دھارے سے مربوط رکھنے کا کوئی میکنزم ہمارے پاس موجود نہیں تھا،تاہم اس مرحلہ پہ ہمار ا قومی ردعمل وہی تھا جو کسی بھی ہنگامی صورت حال سے دوچار قوم کا بنتا ہے! ملک گیر سیاسی جماعتیں ان تحریکوں کی ماہیت اور مقاصد کو پرکھے بغیر بلاوجہ انہیں اخلاقی حمایت پیش کرنے کو بیقرارنظر آئیں اور مغربی میڈیا بہار عرب کی مانند ان تحریکوں کو سیاسی آزادیوں کے ہوائی گھوڑے پہ سوار کر کے تصادم کے مقام تک پہنچانے میں سرگرداں ہے،ادھرخبط عظمت میں مبتلاءبعض صحافی ایسی سرگرمیوں کا خام مواد بننے والے شوریدہ سر سیاسی کارکنوں کی ہر متنازعہ پُکارکوجواز کے لبادے پہنانے کی خاطر تاریخی حقائق کو مسخ کر نے سے بھی گریز نہیں کرتے مگر افسوس کہ ریاست بجائے خود بھی فرسودہ طور طریقوں کی   اسیربن کے اصلاح احوال کےلئے عقل اجتماعی کو بروکار لانے سے ہچکچا رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ منتخب صوبائی حکومت ضم شدہ قبائلی اضلاع کی انتظامی عنان سمبھالنے کے بعد وہاں سماجی  نظم و ضبط قائم کرنے کےلئے درکار قانونی اقدامات اٹھانے میں تاخیرکیوں کر رہی ہے؟وہ پُرجوش قبائلی دانشور،قلم کار اورعلاقائی جماعتوں کی کہنہ مشق قیادت جو انضمام کے لئے بیتاب تھی اب فاٹا میں ابھرنے والی نئی صورت حال سے آنکھیں چار کرنے سے کیوں گھبراتی ہے؟کیا ان خالص سیاسی مسائل کو سلجھانے کی آخری ذمہ داری سیکیورٹی فورسیز پہ عائد ہوتی ہے؟ہرگز نہیں! یقیناً ان پیچیدہ مسائل کا مستقل حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ ان مسائل کی کنجی سیاسی مہارت میں پوشیدہ ہو گی،دراصل ذہنی ہم آہنگی ہی سے ہمیں ایک دوسرے کی ہمدردی کا شعور ملتا ہے اور جب ہم سے محبت کی جائے تو زندگی کے دکھوں کا ازالہ ہو جاتا ہے۔علی ہذالقیاس!فاٹا انضمام کے بعد پیدا ہونے والے مسائل کو کوئی ایک ادارہ نہیں بلکہ ملک کی مجموعی انتظامی اتھارٹی،پارلیمنٹ،ملک گیر و علاقائی جماعتیں اور اہل دانش کی اجتماعی صلاحیتوں سے حل کرنا پڑے گا،حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیکر فاٹاکے عوام میں پائے جانے والی مصنوعی بے چینی کا بروقت تدارک کرے کیونکہ فاٹا انضمام کے بعد ہم قومی تاریخ کے ایسے نئے مرحلہ میں داخل ہوگئے ہیں ،جہاں امید کے نئے امکانات کے ساتھ نئے خطرات بھی ہمارا استقبال کرسکتے ہیں۔یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ جنگ دہشتگردی میں ہزاروں جانیں گنوانے اور ناقابل برداشت سیاسی،سماجی اور معاشی نقصانات اٹھانے کے بعد ہمیں تزویری اہمیت کے حامل فاٹا کے وسیع و عریض خطہ کو مملکت کا حصہ بنانے میں کامیابی ملی جو فی الحقیقت بنگلہ دیش کھو دینے کے دکھ کا  مداوا بن سکتی تھی مگرافسوس کہ گراں قدر قربانیوں کے ثمرات کو سنبھالنے کےلئے ہم کوئی موثر منصوبہ بندی نہیں کرسکے۔پہلے تو فاٹا میں کوئی جامع متبادل نظام استوار کئے بغیر صدیوں کے تجربات پہ محیط ایف سی آرکی بساط اچانک لپیٹ کے کئی نادیدہ مسائل کی راہ ہموار کربیٹھے،دوسرا اس تغیر کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے مسائل کا کچھ اندازہ تو سب کو تھا لیکن یہاں اتنی تیزی سے صورت حال میں تبدیلیاں آئیں گی، اس کا ادراک کسی کو نہیں تھا۔بظاہر یوں لگتا ہے کہ اب ہم صرف ریاستی طاقت کے وسیلے فاٹا میں رونما ہونے والی سماجی،سیاسی اور انتظامی تبدیلیوں کو ریگولیٹ نہیں کر سکیں گے  بلکہ انہیں نمٹانے کےلئے اجتماعی کاوش کی ضرورت پڑے گی۔وزیراعظم عمران خان کی جنوبی وزیرستان آمد کے موقع  پہ کالعدم تنظیموں کی طرف سے دھمکی آمیز خطوط کے ذریعے قبائلی اضلاع میں پولیس کو باوردی گشت کرنے سے منع کرنے کے بعد نئے اضلاع میں پولیس کی تعیناتی کا عمل مزید سست پڑ گیا اور اب ڈسٹرک شمالی کے علاقہ بویا میں خڑ کمر چیک پوسٹ کے قریب پی ٹی ایم کے مشتعل کارکنوں اورسیکورٹی فورسیز کے درمیان جھڑپ میں تیرہ سے زیادہ افراد کی ہلاکت نے فاٹا انضمام کےلئے اپنائی گئی  حکمت عملی کی کلی کھول دی۔یہ خونی واقعہ صرف حکومت کےلئے ہی پریشان کن نہیں ہو گا بلکہ پی ٹی ایم کی اس ناپختہ سیاسی تحریک کےلئے بھی خطرناک موڑ ثابت ہو گا جو ابھی تک اپنے مقاصد واہداف اور منزل کا تعین نہیں کرسکی،قبائل نوجوانوں کی اس پُرجوش تحریک کا کوئی واضح نصب العین ہے نہ مستقبل کا کوئی ایجنڈا چنانچہ کٹی پتنگ کی طرح ہوا کے دوش پہ بہنے والی ایسی جذباتی تحریکیں زیادہ خطرناک ہوتی ہیں جو کسی بھی وقت کوئی بھی راہ اختیار کر سکتی ہیں۔اگر ہم قبائلی اضلاع میں ابھرنے والی سیاسی وسماجی تبدیلیوں کو ان کے فطری تناظر میں رکھ کر  دیکھنے کی کوشش کرتے تو مسائل کوسمجھنے میں مددملتی۔ایک ایسا سماج جہاں بغیر کسی پیشگی تیاری کے اجتماعی زندگی نے ناگہاں کروٹ بدل کے روایتی انتظامی اتھارٹی کو منہدم اورایک ایسے پرشکوہ سماج کے سوشل فیبرک کو توڑ ڈالا  جس میں ایک زندہ دل قبائلی اپنی اَنا کو گزند پہنچائے بغیر باآسانی انفرادی و اجتماعی تنازعات نمٹا لیا کرتا تھا لیکن گزشتہ اٹھارہ سالوں میں جنگ دہشت گردی کی مہیب لہروں نے جرگہ سسٹم اور ان جہاں دیدہ مشران پہ مشتمل اس سماجی لیڈرشپ کو پامال کردیا جو اپنی مضبوط روایات کی بدولت لوگوں کے ذاتی و اجتماعی تنازعات احسن انداز سے نمٹا لیا کرتی تھی۔خرابی کی  ابتداءیہاں سے ہوئی کہ فاٹا انضمام بارے قانون سازی کرنے والے پارلیمنٹیرین نے پرانے قوانین ختم کرتے وقت سیفٹی وال کے طور پہ کوئی متبادل قانونی راستہ بنایا نہ آئین کے آرٹیکل 270 کے تحت سابقہ قوانین کے تسلسل کی گنجائش رکھی،اگر ہمارے قانون ساز فاٹا ریفارمز بل میں صرف اتنا شامل کر دیتے کہ جب تک مجاز فورم کوئی متبادل قانونی نظام تشکیل دے نہیں لیتا اس وقت تک فاٹا اضلاع میں ایف سی آر کے تحت ٹرائل کورٹس کام کرتے رہےں گے تو آج ہم اس قانونی اور سیاسی خلا میں پھنسے نظر نہ آتے۔ایف سی آر ختم کرنے کے بعد حکومت نے وہاں سیشن کورٹس تو بنا دیئے لیکن انہیں فعال بنانے میں وقت درکار ہو گا،ابھی تو حکومت عدالتوں کو قبائلی اضلاع کی اصل حدود میں لے جانے کی ہمت نہیں کر رہی،قبائلی ڈسٹرکٹ کےلئے بنائی گئی تمام عدالتیں پشاور،کوہاٹ،بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بیٹھی ہیں، پچھلے ایک سال کے دوران فاٹا اضلاع میں ڈی پی اوز کے دفاتر بنے نہ تھانوں کے متحرک ہونے کی نوبت آئی،ان بارہ ماہ میں پولیس نے بمشکل ہی کوئی ایف آئی آر درج کی ہوگی۔خدشہ ہے،انضمام کے بعد قبائلی اضلاع میں پیدا ہونے والا قانونی خلاءبدنظمی اور انتشار پہ منتج نہ ہو یا نئے قبائلی اضلاع سے اٹھنے والی مزاحمتی تحریکیں پورے صوبہ کو لپیٹ میں نہ لے لیں۔حکومت فاٹا انضمام کے عمل میں اگرچہ بروقت کوئی مناسب طریقہ تو نہ اپنا سکی لیکن اب بھی وقت ہے حکومت انضمام سے قبل قبائلیوں سے کئے گئے تین میں سے دو وعدے پورے کر دے تو صورت حال میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔سرتاج عزیز کمیٹی نے قبائلی عمائدین سے تین وعدے کئے تھے،پہلا یہ کہ ادغام کی صورت میں حکومت عمائدین کی مشاورت سے فاٹا اضلاع میں رواج ایکٹ نافذ کر کے قبایلی روایات اور جرگہ سسٹم کو تحفظ دے گی،دوسرا،انضمام کے عمل کو پانچ سالوں میں پایا تکمیل تک پہنچایا جائے گا اور تیسرا،قبائلی اضلاع کی ترقی کے ہموار دھارے میں شامل کرنے کےلئے یہاں بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر پہ دس سالوں میں گیارہ سو ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔بدقسمتی سے تاحال تینوں میں سے کوئی ایک وعدہ بھی ایفا نہیں ہوسکا،پانچ سالوں پہ محیط انضمام کا سوال تو اب ختم ہو گیا لیکن حکومت نے تاحال رواج ایکٹ نافذ کیا نہ ترقیاتی پیکج کو عملی صورت دی،حتی کہ حکمراں اشرافیہ ابھی تک فاٹا کے بندوبستی اضلاع کو نیشنل ایوارڈ سے تین فیصد دینے پہ متفق نہیں ہوسکی۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *