گرمی سے بچاؤ کی تدابیر۔۔۔شاہد محمود ایڈووکیٹ

1- کام کاج دھوپ تیز ہونے سے پہلے ختم کرنے کی ترتیب بنا لیجئے یا دھوپ ختم ہونے کے بعد کام کاج نبٹانے کی کوشش کیجئے۔

2- ہلکی نرم زود ہضم غذا کھائیں۔ وقفے وقفے سے پانی خاص طور پر سکنجبین، فالسے کا شربت، املی آلو بخارا کا شربت گھر پر بنا کر پیتے رہیں۔

3- کھلے، ڈھیلے ڈھالے ہلکے رنگ کے سوتی کپڑے پہنیں اور سوتی بنیان ضرور استعمال کیجئے تا کہ بدن براہ راست تپش سے محفوظ رہے۔

4- گھر سے باہر نکلتے ہوئے سر پر سفید سوتی کپڑا پانی سے گیلا کر کے رکھ لیجئے۔ چھتری کا استعمال کیجئے۔ سبز رنگ کے شیشوں والی عینک، ہیٹ، ٹوپی کو بھی مہیا ہو سکے دھوپ میں باہر نکلتے وقت ضرور استعمال کیجئے۔ ایک چھوٹی سپرے بوتل میں پانی بھر کر ساتھ رکھیں جب ضرورت محسوس ہو منہ پر ہاتھوں پر پانی سپرے کر لیجئے۔

5- گھر سے باہر نکلتے ہوئے پینے کے پانی کی بوتل اور کچھ کھانے کو گھر سے ہی ساتھ رکھ لیجئے۔ مکمل کوشش کیجئے کہ کسی صورت باہر سے کچھ کھانا پینا نہ پڑے تا کہ بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔

6- گاڑی میں باہر جائیں تو بچوں کو کبھی گاڑی میں نہ چھوڑیں وہ بہت جلد گرمی سے متاثر ہوتے ہیں۔

7- گھر میں موسمی پھلوں تربوز، لوکاٹ، خربوزہ، آڑو وغیرہ کا استعمال کھانے کی نسبت زیادہ کیجئے اور سلاد میں قدرتی پھلوں کے سرکے میں بھگوئی پیاز اور کھیروں، ککڑیوں وغیرہ کا استعمال بھی گرمی کی شدت سے بچنے اور ہاضمہ و صحت ٹھیک رکھنے میں معاون ہے۔

8- گرمی کے موسم میں ورزش نہیں کرنی چاہیئے یا گھر پر سایہ دار، ہوا دار، کھلی جگہ پر ٹھنڈے وقت ہلکی ورزش کر۔لیں۔

9- کسی صورت گرم پانی سے نہ نہائیں۔ بعض لوگوں کے گھر بارہ مہینے گیزر چلتا رہتا ہے اور گرم پانی سے نہاتے ہیں جو کہ گرم موسم میں سخت مضر ہے۔

10- چائے، کافی، سگریٹ اور کیفین والے مشروبات کا استعمال بند کر دیں۔ کا مشروبات کی جگہ پھلوں کا تازہ جوس یا سکنجبین استعمال کریں۔

11- جو کے ستو اور شکر کا شربت بنا کر پینا بدن کو ٹھنڈک کے ساتھ طاقت بھی دیتا ہے۔

12- جو کا دلیہ گرمیوں میں ٹھنڈی لیکن بدن کی توانائی بحال رکھنے والی بہترین غذا ہے۔ ناشتے میں اس کا استعمال بہت مفید ہے۔

13- ایک گلاس پانی میں مٹھی بھر کھجوریں گٹھلیاں نکال کر بھگو کر فرج میں رکھ دیجئے آٹھ گھنٹے بعد بلینڈر میں بلینڈ کر کے ٹھنڈک و توانائی بخش مشروب “نبیذ” بنا کر مزے سے پئیں۔

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *