بے یقین منصف۔۔۔۔حیا شاہ

ساری بات یقین کی ہے ، اعتقاد کی ہے ،، رتی بھر اللہ کے خوف کی ہے ، جس نے رب کے ڈر سے قیام کیا ،، بلاشبہ اس کا اجر رب کریم کے پاس ہے۔ ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ :فلاں کی نماز قائم نہیں ہوئی۔  فلاں نے دکھاوے کی پڑھی؟ نیت کے اخلاص کاہمیں نھیں رب کو پتا ہوتا ہے ، ہم نماز تو پڑھتے ھیں لیکن برے کام بھی کرتے ھیں، اس کا مطلب ھمیں اپنے رب پہ یقین نہیں۔ ھم بس رٹا لگاتےھیں، قرآن پڑھتے ھیں لوگوں کو بتاتے ھیں کہ فلاں فلاں آیت ھم نے پڑھی ھوئی ھے۔

قرآن بھی پڑھتا ھوں نماز روزہ بھی رکھتا ھوں ،، لیکن یہ جویقین ہے نا اس میں کجی ھوتی ھے، دو شاگردوں کی مثال لے لیجئے : ایک وہ جو رٹا لگالیتا ھے ، ایک وہ جو دل لگا کر پڑھتا ھے ، پاس دونوں ہی ھوتے ھیں، لیکن سمجھ میں کس کے آیا ؟ اچیو کس نے کیا؟ اس نے جس نے دل سے پڑھا تھا اور سمجھا تھا، اس نے نھیں جس نے محض رٹا لگایا تھا، ھمارے ھاں دو قسم کے لوگ ھیں ، ایک وہ جو دل سے پڑھتے، ایک وہ جو رٹا لگاتے ھیں ، رسم پوری کرتے ھیں، لوگوں کی بھیڑ میں بھی ان کی نماز ھوجاتی ہے ، ٹی وی کے آگے بھی ھوجاتی ، گانا سنتے بھی ھوجاتی ، کیوں کہ ان کے لئے نماز صرف رسم پوری کرنا ھے ، لیکن دل سے جو نماز پڑھتاہے، دل میں جس کے خوف ھوتا ،ہے جو لوگ اللہ رب العالمین سے راتوں کو ڈر ڈر کر اٹھ بیٹھتے اور روتے ھوئے دعا کرتےہیں :اے میرے مالک ھم پر رحم فرما، ھمیں سیدھے راستے پر چلا ، ھمیں گمراھوں میں سے مت کر، ھم پر رحم کر کرم کر، ھماری توبہ قبول فرما، : ان کے آنسو بہتے ھیں، ان کے دل نرم ھوجاتے ھیں جیسے گیلی مٹی ، بارش ھونے کے بعد خوشبو دیتی ھے ، ایسے ہی ان کے دل بھی رب کی یاد میں محبت سے خوشبو دیتے ھیں ، وہ سکون محسوس کرتے ھیں، ایسے لوگ کبھی جھوٹ بولیں گے ، نہ ہی غلط کاری ،ہو بھی جائے تو فوراً توبہ کرتے ھیں، معافی مانگتے ھیں، لیکن جن کے دل ایسے کسی بھی احساس سے عاری ھوں ، وہ بس رٹا لگائیں گے ، ان کے لئے جھوٹ بولنا غلط کاری کرنا ،عام سی بات ھوتی ھے۔

ایسے بہت سے لوگ میرے مشاہدے میں ھیں، ،، افسو س ھے ان کو احساس بھی نھیں ھوتا ، ٹوکنےپرلڑ مرنے کو تیار ھوجاتے ھیں، دوسروں کو جج ایسے لوگ کرتے ھیں، جو خود عمل میں زیرو ھوتے ھیں۔ دوسروں پہ سوال سے پہلے، اپنے جواب کی تیاری کر لیجیے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *