دعوت ۔۔۔ معاذ بن محمود

“اماں۔۔ بلاوا آیا ہے۔ سرکار کی چٹھی آئی ہے۔ تجھے بلاتے ہیں۔ کہتے ہیں پولیس شہداء کی یاد میں تقریب ہے۔”

پرویز بخت کہتا تھا بلاوا آیا ہے۔ سرکاری دعوت کا بلاوا۔ پوچھا دعوت کس چیز کی؟ کہنے لگا اماں تو سوال بہت پوچھتی ہے۔ میں نے کہا تو جواب بھی تو کم دیتا ہے۔ الجھ گیا۔ کچھ بڑبڑاتے ہوئے باہر نکل گیا۔ واپس آیا تو میں نے سوالیہ نگاہیں جما ڈالیں۔ جھنجھلا کر کہنے لگا اماں شہیدوں کے لواحقین کو بلایا ہے۔ تجھے بھی جانا ہوگا۔ تو عمران کی ماں جو ہے۔ آج کے جوان غصہ بہت جلدی کرتے ہیں۔ ایک میرا عمران ہے۔ میں جتنے سوال پوچھ لوں ایک ایک کا جواب دیتا ہے۔ ایک یہ کل موہا پرویز بخت ہے۔ ماں کی عمر کی مجھ بڑھیا سے الجھتا ہے۔ عمران آئے گا تو اس کی شکایت لگاؤں گی۔

لیکن شہید؟ کون سا شہید؟ پرویز بخت کو تو بکواس کرنے کی عادت ہے۔ عمران شریف یقیناً اسی سرکاری تقریب میں ڈیوٹی پر مامور ہوگا۔ اس نے موقع دیکھتے اپنی بوڑھی ماں کو بلا لیا ہوگا کہ کچھ اچھا کھا لے گی۔ بہت وقت ہوا اپنے مانی کو دیکھے۔ کھانا تو اب یاد ہی نہیں رہتا۔ اکیلے کھاتے مجھ بڑھیا کو وحشت ہوتی ہے۔ عمران آئے گا تو اسے آلو بھرے پراٹھے بنا کر دوں گی۔ پھر وہ مجھے اپنے ہاتھوں سے کھلائے گا۔ ماں ہوں۔ اتنا حق تو بنتا ہے ناں میرا۔

بڑا ہی فرمانبردار جوان ہے۔ جانے سے پہلے بتا کر گیا تھا کہ بڑی جگہ ڈیوٹی ہے۔ کہتا تھا اماں اس ڈیوٹی کے پیسے زیادہ ملیں گے۔ پھر تیری نئی عینک لا کر دوں گا۔ یہ ڈوری سے جڑی عینک تجھ پہ بالکل نہیں جچتی۔ میں ہنس دی تھی۔ مانی کو کہا بھی تھا کہ تو عینک چھوڑ بس جلدی سے آجانا۔ ہم ساتھ کھانا کھائیں گے۔ دیر بھی ہوجائے تو کوئی بات نہیں۔ تو کھا لینا کچھ۔ واپس آئے گا تو میں تیرے ساتھ ہی کھاؤں گی۔

پرویز بخت بے غیرت تو سیدھے منہ بات نہیں کرتا۔ میں جانتی ہوں اس تقریب میں میرا مانی ضرور آیا ہوگا۔ بس کہیں مصروف ہوگا۔

مجھے بہت بھوک لگی ہے مگر کھانے کا دل نہیں۔ آج تو بس سوہنے پروردگار سے دعا ہے کہ مانی مل جائے اور کئی دن بعد ہم اکٹھے کھانا کھا لیں۔ شاید آج دل کی یہ چھوٹی سی خواہش پوری ہوجائے۔ میں مانی کو ڈھونڈ رہی ہوں مگر مجھے صاف دکھائی بھی نہیں دے رہا۔

میری عینک پچھلے دنوں وضو کرتے گر کر ٹوٹ گئی تھی۔ اب مجھے بہت کم نظر آتا ہے۔ بس ہیولے کو دیکھ کر کوشش کرتی ہوں پہچان لوں۔ آج مانی ملے گا تو کہوں گی اسے کہ میری نئی عینک بنوا دے۔ مجھے معلوم ہے وہ میری بات کبھی نہیں ٹالے گا۔ اکلوتا پوت جو ٹھہرا۔

میری ٹانگیں اب جواب دیتی جا رہی ہیں۔ شاید لاٹھی کے ذریعے گزارا ہوجائے۔ مانی سے ملوں گی تو اسے لاٹھی لانے کا کہوں گی۔ اگلی تنخواہ تک تو لے ہی آئے گا۔ آج تو ایسے ہی خود کو گھسیٹ کر جیسے تیسے پہنچ ہی گئی۔ تقریب کے مقام پر پہنچتے بہت دیر ہو نہ ہوجائے بس یہی سوچ کر جلدی نکل گئی تھی۔ آرام آرام سے چلتی رکتی چلتی رکتی۔ دو اڑھائی گھنٹے تک پہنچ ہی گئی۔ اب میں اپنے مانی سے ملوں گی۔ بڑی چاہ ہے اپنے جوان کو دیکھنے کی آج۔ لگتا ہے جانے کتبے ہی سال بیت گئے ہوں مانی سے ملے؟ کتنے سال؟ نہیں یاد۔

بہت ہی بڑی تقریب ہے۔ باہر کھڑے پولیس والے اندر جانے سے روک رہے تھے۔ پرویز بخت نے دعوت نامے کی کاپی دی تھی۔ بس وہی دکھا کر
مشکل سے اندر داخل ہو پائی۔ یہاں اچھے اچھے کپڑے پہنے بڑے بڑے صاحب لوگ موجود ہیں۔ کرسیاں خالی ہیں مگر  مجھے ان پھٹے بدبودار کپڑوں میں سب کے بیچ کون بیٹھنے دے گا بھلا۔

عمران کہاں ہے؟ نظر نہیں آرہا۔ ایک تو ٹوٹی ہوئی عینک۔ ٹھیک سے دکھائی بھی نہیں دیتا۔ میرا مانی کہاں ہے؟ شاید باہر صاحب لوگوں کی حفاظت کر رہا ہوگا۔

“اماں یہاں کھڑی ہوجا” کسی نے مجھے ہاتھ سے دھکیل کر ایک جانب کھڑا کر دیا ہے۔ پر یہ موا پرویز بخت یہاں کیا کر رہا ہے؟ اسے ضرور معلوم ہوگا مانی کہاں کھڑا ہے۔

“اے پرویز۔۔۔ بات سن۔۔۔ پرویز۔۔۔ او پرویز۔۔۔”

(سٹیج سے اعلان ہوتا ہے)
“اور اب ہم شہید عمران شہید کے لواحقین کو بلانا چاہیں گے کہ آکر تعزیتی شیلڈ اور امدادی مدد وصول کریں”

یہ پرویز ان سے ہاتھ ملا کر کیا لفافہ اور یہ انعامی کاغذ کیوں لے رہا ہے؟ چلو مجھے کیا۔۔ کی ہوگی کوئی ہیرا پھیری کسی کے ساتھ۔ صدا کا دو نمبر لفنگا ہے یہ۔ میرا عمران کہاں ہے۔ بیٹا تو نے میرے عمران کو دیکھا کہیں؟

“اماں، کہڑا عمران۔۔ کھانا کھل گیا اے اماں ایتھے سیڈ (سائیڈ) تے بیہہ تو روٹی کھا”

کھانا تو میں کھا لوں گی۔ مگر میرا مانی۔۔۔

“اماں مانی وانی ایتھے کوئی نئی۔۔۔ کسے ہور دنیا وچ ہوسی۔۔۔ تو روٹی کھا۔۔ اے لے۔۔۔ ایتھے سیڈ تے بہہ جا۔۔ تے ہور کج چاہئے ہووے تے مینوں دسیں”

کھانا امیروں والا تھا۔ مگر مجھے مانی کے بغیر بد ذائقہ لگا۔ مانی شاید یہاں نہیں۔ گھر جانا بہتر ہے۔ ورنہ اندھیرا ہوجائے گا۔ اس ٹوٹی عینک سے جتنا نظر آتا ہے وہ بھی نہیں دیکھ پاؤں گی۔

راستے میں مجھے نالے کے پاس ایک خالی لفافہ پڑا نظر آیا۔ ساتھ ہی انعامی کاغذ پڑا تھا۔ دونوں پر مانی کا نام لکھا ہوا تھا۔ اب مجھے چلنا چاہئے۔ اندھیرا بڑھ رہا ہے۔

جانے مانی کب واپس آکر میری عینک ٹھیک کروائے گا!

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *