داستان زیست ۔۔۔محمد خان چوہدری/قسط5

تعارف:

محمد خان چوہدری کا تعلق چکوال کے ، بجنگ آمد کے  مصنف کرنل محمدخان کے قبیلہ سے ہے، جن کی چھاپ تحریر پر نمایاں ہے، میجر ضمیر جعفری بھی اسی علاقے سے ہیں انکی شفقت بھی میسر رہی، فوج میں تو بھرتی نہ ہو سکے لیکن کامرس میں پوسٹ گریجوایشن کر کے پہلی ملازمت فوج کے رفاعی ادارے میں کی، پھر اِنکم ٹیکس کی وکالت کی، لیکن داستان نویسی میں چکوال کی ثقافت حاوی ہے، مکالمہ  پر  ان کی دو درجن کہانیاں چھپ چکیں ہیں  ، آج کل داستان زیست قسط وار بیان کر رہے ہیں۔

گزشتہ قسط:

ہمیں  پہلی دفعہ وہ باس نہیں  بلکہ راجہ صاحب محمود آباد لگے ،ہمارے پاس انکے فرمان کا کوئی  جواب نہ تھا۔
بس رندھی آواز میں یہ کہہ پائے ، سر آپ دعا کریں۔۔۔
وہ بھی اپنی کیفیت سے جس میں ایک بزرگ کے پند و نصائح برستے ہیں ، نکل آئے۔
چہرے پر بڑی دبیز مسکراہٹ پھیل گئی، ایک آنکھ دبا کے بولے !
تمہاری فرحی اچھی دوست بن سکتی ہے ، وہ تمہیں بہت پسند کرتی ہے اور ۔۔۔۔۔
She is not pregnant ! She is hot and horny ۔۔۔۔۔
دھپ سے کار کا دروازہ بند کیا ، سلف مارا اور شُوں کر کے چرچراتے ٹائروں سے باس صاحب یہ جا اور وہ جا۔

پانچویں  قسط:
رات بھر باس بلکہ مُرشد کے فرمودات ذہن میں اُدھم مچاتے رہے، کبھی انٹرویو کے ممکنہ سوالوں کے جواب موزوں کرتے، ان کو انگلش میں ڈھالتے ، سوتے جاگتے کی کیفیت میں فرحی نمودار ہو جاتی، اُس سے خالد شاہ کی بیان کردہ کہانی کے اسرار رموز اور مُرشد کے فرمان کہ وہ پریگننٹ نہیں ہے پر بحث کے دلائل مرتب کرتے، نجانے کب سو گئے۔۔
صبح ہونے کی اطلاع ڈور بیل کی مسلسل ٹرٹراہٹ سے ہوئی۔۔
آنکھیں ملتے اٹھ گئے ، گیٹ کھولا تو جُزوقتی ملازم بشیر مسیح ہاتھ میں دُودھ کا ڈول اٹھائے پریشان کھڑا تھا، کہنے لگا،
صاحب میں تو گھبرا گیا ، اللہ خیر کرے، آج گیٹ بند ، اتنی بار گھنٹی بجائی ، آپ کیا جاگے نہیں  تھے۔۔!

لالکرتی

حسب روایت تو اسے چند نستعلیق گالیاں سننے کو ملتیں، جس سے وہ بھی خوش اور چاک و چوبند ہو جاتا، لیکن ہم نے مسکرانے پر اکتفا کرتے اسے کہا، ہم شاور لیتے ہیں، تم جوتے پالش کر کے ، گاڑی کا تیل شیل چیک کرنا اور ناشتہ بنا کے رکھو، آج اسلام آباد جانا ہے،
بشیر ہمیں اپنے کزن جو لالکرتی میں واقع کالج آف سگنل کے کمانڈنٹ تھے ان کے ہاں سے ملا تھا ، اسکی والدہ مائی  رحمت کرنل صاحب کے ہاں سرونٹ کوارٹر میں رہتی اور گھر میں کام کرتی تھی، ویسے تو اردلی، کُک ڈرائیور سب تھے،لیکن مائی  رحمت تو سب کی ہیڈ تھی، اس زمانے میں کسی کرسچن  کا کچن میں کام کرنا کجا ،انکے برتن بھی لوگ علیحدہ  رکھتے تھے، بھائی  جان اس ذہنی آلودگی کے خلاف تھے، یوں یہ ماں بیٹا انکے بنگلہ میں بلا روک ٹوک سب کام کرتے۔۔

بشیر لالکرتی بازار میں ایک کلینک پر بھی کام کرتا  تھا ، جہاں صبح ایک لیڈی ڈاکٹر بیٹھتی جو بقول بشیر اسقاط حمل کے آپریشن کرتی تھی، بشیر اسکے ساتھ کام کرتا ویسے، شام کو ایک ڈاکٹر صاحب بیٹھتے جو یورالوجسٹ تھے، اور بشیر کی روایت کے مطابق وہ مردانہ غدود کے آپریشن کرتے تھے ، لیکن انکا اپنا سٹاف تھا۔۔۔بشیر صبح سویرے ہمارے پاس آتا ، ناشتہ بنانے ، صفائی  کرنے، برتن دھونے، کپڑے دھوبی کو دینے سمیت سارا کام  نپٹا کر  کلینک چلا جاتا، اسے ڈرائیونگ بھی آتی تھی، لیکن کلینک پر چار پانچ گھنٹے ڈیوٹی کی پندرہ سو تنخواہ ملتی ، پانچ سو  ہم دیتے ، ماں کے ساتھ رہتا ، وہ خوش مزاج اور خوش رہنے والا بندہ تھا، بہت خیال رکھنے والا،باتھ روم سے ، برش، شیو اور نہا کے نکلے تو بیڈ پر ملبوسات تیار پڑے تھے، تیار ہوئے ناشتہ کرتے بشیر سے گپ ہوتی رہی، مذاق میں پوچھا کہ اگر کسی کنواری لڑکی کا ابارشن کرانا ہو تو تمہاری ڈاکٹر کتنی فیس لے گی۔۔۔
ہونق سا منہ بنا کے مجھے گھورنے لگا، تو ہم نے کہا یار مذاق کر رہا ہوں۔۔
اس نے کہا ، صاحب بہت ماہر لیڈی ڈاکٹر ہے، ٹیسٹ کا خرچہ سو روپے ہے، باقی دوائیں ملا کر پندرہ سو لیتی ہے۔
سر جی ، بڑی راز رکھنے والی ہے، بڑے گھروں کی لڑکیاں آتی ہیں لیکن مجال ہے کوئی  بات باہر نکلے۔
اچھا ۔۔۔ ! ہم نے کہا کار سٹارٹ کرو، تالے کھول کے رکھ لو، چابیاں مجھے دو اور جاتے ہوئے سارے سوئچ  بند کر کے جانا، دودھ فریج میں رکھنا ہے، کار میں بیٹھتے ہوئے  اس سے کہا، بشیر دعا کرنا میرا انٹرویو اچھا ہو !
چھاتی پے تثلیث اور ماتھے پر  صلیب بناتے منہ میں کیا پڑھا، سنائی  نہیں  دیا پر اسکی آنکھوں میں خلوص کے آنسو تھے۔۔۔

سیکرٹیریٹ
سٹیٹ بنک بلڈنگ
فیصل مسجد

اسلام آباد کافی حد تک بن چکا تھا، سیکٹر فائیو میں سیکرٹیریٹ کے چند بلاک مکمل ہو چکے تھے، سٹیٹ بنک بلڈنگ میں وقتی طور اسمبلی حال قائم کر دیا گیا تھا، رہائشی سیکٹر ، سکس ، سیون اور ایٹ آباد ہو چکے ، سرکاری کوارٹر افسران اور دیگر سرکاری ملازمین کو الاٹ ہو گئے، مین سوک سنٹر ، آبپارہ مارکیٹ، سپُر مارکیٹ اور جناح سپُر کے ساتھ ہر سیکٹر کے کلاس تھری شاپنگ سینٹر میں کاروبار چلنے لگا، ایمبیسی روڈ کے بڑے گھروں میں سفارت خانے منتقل ہو گئے تھے۔پرائیویٹ گھر زیادہ تر سرکاری افسران اور سفارت کاروں نے کرائے پر لئے، فیصل مسجد زیر تعمیر تھی۔
اسی طرح ایوان صدر، اور اسمبلی بلڈنگ بھی بن رہے تھے۔

ہم جیسے پنڈی میں مقیم شوقین لوگوں کے لئے اسلام آباد جانا یونیورسٹی کیمپس جانے جیسا تھا۔
اسلام آباد کے مکین بھی لگتا تھا ہاسٹل میں رہتے ہیں، کیونکہ یہاں روایتی محلے نہیں بنے تھے، کہ پورا خاندان محلے میں آباد ہو، یہاں رہنے والے سب کسی اور آبائی  شہر سے آئے، اس لئے  یہاں پرانے شہروں والی کوئی  برادری نہیں  تھی۔۔مطلب یہاں دشمنی ہی جب نہیں  تھی تو دوستی بھی ناپید تھی۔لوگ ایک دوسرے سے گریڈ کے حساب سے سلام دعا کرتے ۔

ہم دس بجے آبپارہ مارکیٹ سے ملحق آئی  اینڈ سنٹر کی ایک عمارت میں قائم پی آئی  اے کے دفتر پہنچ گئے،اس دفتر کے اکاؤنٹس آفیسر ہمارے ہم جماعت دوست تھے، انکی وساطت سے سفارت خانے سے رابطہ ہوا تھا۔اپنی کار وہاں چھوڑی، انکی مزدا 1300 میں ایمبسی روڈ پے متعلقہ سفارت خانے پہنچے،انکی تو گارڈز تک جان پہچان تھی، ریسپشن پر  پہلے سے اطلاع تھی، تھوڑی دیر میں سفیر صاحب کی لیڈی سیکرٹری خود آ کے ہمیں سفیر صاحب کے دفتر کے وزیٹر روم میں لے گئی، واللہ ہم نروس ہو گئے۔۔۔۔
ہمارے پرانے ادارے میں کوئی  خاتون نہ تھی ،نہ ہونے کا تصور تھا ، یہاں ریسپشن پر  بھی ماڈ سکاڈ لڑکی تھی۔۔
سفیر صاحب اپنے دفتر سے باہر آئے ، عربی میں خوش آمدید کہا، بیٹھتے ہوئے ہمارے پیشرو کو بھی طلب کر لیا۔۔حیران کن امر یہ ہے کہ ہم نے زندگی میں ملازمت کے لئے صرف دو بار انٹرویو دیا،
دونوں بار نہ کوئی  بائیو ڈیٹا مانگا گیا اور نہ ہی کوئی  ڈگری دکھانے کا کہا گیا۔
بس ہم نے اپنے موجودہ ادارے کا تعارف کرایا، پنجاب یونیورسٹی کے ہیلی کالج کا ذکر کیا،ہم سے کوئی  سوال پوچھا ہی نہیں  گیا، بس ہمارے پیشرو جو طارق کے سابقہ کے ساتھ محمدخان تھے انہوں نے بتایا کہ شروع میں تنخواہ تین ہزار پانچ سو کے برابر ریال میں ہو گی، تین ماہ بعد دس فیصد بڑھے گی، ریال کی قیمت میں اضافے کی شرح سے بڑھتی رہے گی۔سالانہ اضافہ سلطنت کے فارن آفس میں انکریمنٹ کے ساتھ ہو گا۔
ہز ایکسیلنسی نے دو ریفرنس پوچھے ہم نے پنڈی کے لاگ ایریا کمانڈر اور ملٹری کالج آف سگنل کے کمانڈنٹ کے نام بتائے ، فون نمبر بتانے کی کوشش کی ، انہوں نے مسکرا کہ انگلش میں فرمایا،،
You can join us tomorrow…
سفیر صاحب نے بیل بجائی  تو ان کا سفید وردی میں ملبوس بیرا چائے، بسکٹ ،کیک اور یونائیٹڈ بیکری کی چکن پیٹیز  لایا اور ٹیبل سجا دی، ہم نے چائے پیتے عرض کیا، ایکسیلینسی تین دن کی مہلت عطا کریں، مجھے استعفی دینے اور چارج چھوڑنے کے لئے اتنا ٹائم چاہیے۔
سفیر صاحب نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
لیڈی سیکرٹری کو طلب کیا، اور اس  بار حکم دیا کہ مجھ سے کوائف لے کر  تقرری کا لیٹر ٹائپ کرے، فرسٹ سیکرٹری سے  سائن کروا کے ، سفارت خانے کی مہر لگا کر  مجھے دے ، اس کے ساتھ سفیر صاحب اٹھ کے کھڑے ہوئے۔۔۔سب کو سلام کیا اور اپنے دفتر میں چلے گئے، ہم لیڈی سیکرٹری کے آفس میں آئے، لیٹر لینے کی ذمہ د اری دوست نے لی۔
ہم نے میڈیم کا شکریہ ادا کیا، اور ہنستے ہوئے کہا،، چکن پیٹز سنبھال رکھیے گا، وہ بولی۔۔۔بڑے سمارٹ ہو، تین دن بعد جب آنا تو خالی ہاتھ مت آنا، بیکری سے پیٹز اور مٹھائی  لیتے آنا ، مل کے کھائیں گے۔
جاری ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *