غلام ابنِ غلام۔۔۔۔نور الامین

کندہ ہیں یہ الفاظ میری لوح جبین پر

میں نسل غلاماں ہوں فقط ابن غلام
(محمد نورالامین)

باوا آدم کی اولاد یعنی حضرت انسان نے اس دنیا میں آنکھ کھولتے ہی  جو پہلی شعوری حرکت کی ہو گی، وہ لازماً غیر شعوری طور پر تسلط جمانے کی کوشش رہی ہو گی۔ کیونکہ یہ چیز بنی نوع انسان کی گھٹی میں کچھ ایسے شامل ہے، کہ اللہ تعالی نے اپنے نائب کی تخلیق کے لیے ہوا، پانی، مٹی اور آگ کو یکجا کر کے جب انسان بننے کا حکم دیا تو سارے اجزاء فوری آپس میں سیر و شکر ہو گئے۔ اس لیے   کہ حکم الہی تھا، لیکن اس لیے بھی کہ فطرت کے عین مطابق سبھی فوراً ایک دوسرے کی جگہ گھیرنے کے چکر میں آگے بڑھے اور پھنس گئے اس شکل میں جو موجود ہے۔ انسان کی جبلت میں یہ چیز آج بھی بدرجہ اتم ویسے ہی موجود ہے۔ اور ہر وقت دنیا کے کسی بھی کونے میں جھانک کر دیکھ لیں، ہر جگہ ولی عہد(مراد اللہ تعالی کا نائب) اسی کام میں جتے دکھائی دیں گے۔
لیکن ایسا بھی نہیں کہ باوا جی کی اولاد میں صرف قبضہ گروپ، طاقتور، آقا، حاکم اور بادشاہ  ہی شامل نہیں، بلکہ ایک ایسی مخلوق بھی ہے جو دوسروں کو خلاء فراہم کرتی ہے۔ وہ ہے محکوم، غلام،مقبوض،کمزور، فقیر اور دیگر۔ ارتقائے انسانیت سے دور جدید تک مذکورہ بالا مخلوق کے دونوں طبقات بالا دست اور زیر دست شانہ بشانہ چلتے ہوئے وجود کائنات میں رنگ بھرتے رہے ہیں۔ دور قدیم میں غلامی کی مختلف اقسام ہوتی تھیں، اور موقع محل دیکھ کر ان کا استعمال بھی کیا جاتا۔ ایسا ہی منظر نامہ دور حاضر میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ دستیاب تاریخ تو یہ کہتی ہے کہ 1760 قبل مسیح میں انسانوں کی غلامی کا سراغ موجودہ عراق سے ملتا ہے۔ لیکن جگنی بابا کا یہ ماننا ہے کہ اگر تاریخ انسانیت اس سے پہلے کی ہے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان اپنی جبلت سے باز رہا ہو۔ ہاں یہ عین حقیقت سے قریب تر گمان ہو سکتا ہے، کہ یہ طور طریقے اس دور میں انسانی فطرت کا حصہ بنے ہوں جب وہ قدرتی لباس اور ماحول میں رہا کرتا تھا۔ اور جنگلی حیات وسیع و عریض قطع زمین پر جابجا موجود تھی۔ یہ بات تو طے ہے کہ جانوروں میں قدرتی طور پر نر کو مادہ پر، طاقتور کو کمزور پر، اور ظالم کو معصوم پر حق ملکیت حاصل ہے۔ ماحول کا اثر ہو یا پھر تبدیلی کو قبول کرنے کی قدرتی صلاحیت کا، لیکن یہی چیزیں انسانی زندگی میں چپکے سے در آئیں، اور پھر اس کا مستقل حصہ بن گئیں۔ بہر حال جگنی بابا کی بات سے اختلاف کی سکت تو کم از کم میں اپنے اندر نہیں رکھتا، کیونکہ میں موخر الذکر قبیلے سے تعلق رکھتا ہوں۔ ہاں تاریخ چونکہ ساری کی ساری انگریز نے تحریر کی ہے، لہذا ٹمپرنگ کا عنصر خارج از امکان نہیں ہے۔ مگر اس پر انحصار کیے بغیر چارہ بھی کوئی نہیں۔ تاریخ میں لکھا ہے کہ 1763ء میں سپر پاور انگلینڈ(تاج برطانیہ) نے انسانی خرید و فروخت  کے خلاف پہلی بار قانون بنایا، تاریخ  اس بات کی بھی شاہد ہے کہ جب 1492 میں امریکہ بہادر پیدا ہوئے تو حکومتی سطح پر ہی سیاہ فاموں کو وہاں زبردستی لے جایا گیا۔ دوسری طرف قرآن پاک میں حضرت یوسف، و موسیِٰ علیہ السلام کے دور میں بھی حکومتی سرپرستی میں انسان کو سر بازار بکتے دکھایا گیا ہے، جو بہر حال زیادہ قابل اعتماد ذریعہ ہے۔  لیکن یہ طے ہے کہ ذاتی کام سے لے کر ملکی مفادات تک انسانوں کی خرید و فروخت ہر دور میں ہوتی رہی ہے۔ جو آج بھی جاری ہے۔ البتہ وقت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کی ظاہری شکل و صورت تبدیل ہوتی رہی ہے۔
اس کشمکش میں اسلام کا ظہور ہوا، اور ثانی الذکر طبقے کو بھی سکون کا سانس نصیب ہوا۔ لیکن بعد ازاں سلطنت عثمانیہ اور مغلیہ سلطنت کی حدود میں یہی کاروبار پر خار بام عروج پر پہنچا۔ بظاہر احکامات الہی کی آڑ میں اندرون خانہ جو غلاموں اور لونڈیوں سے حرم سرا کھچا کھچ بھرے گئے، وہ اسی نظام کا ایک تسلسل نکلا۔ اس کے بعد جنگ عظیم کے دوران بندوق کی نوک پر ایشیائی نوجوانوں کو اس کا ایندھن بنایا گیا تو یہ بھی غلامی کی ہی ایک مثال تھی۔ برصغیر پاک و ہند اور اب پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، چین اور دیگر چند ایک ممالک کی بد قسمتی یہ رہی کہ یہاں محکوم، غلام، کمزور، زیر دست، اور خلاء فراہم کرنے والے انسان بکثرت پائے جاتے ہیں۔ نتیجتاً ہمیشہ باہر سے آنے والے حملہ آوروں نے یہاں مدتوں نہ صرف قیام کیا، بلکہ نوع انسانی کے بدترین مظالم بھی یہاں کے باشندوں پر ڈھائے۔ تیمور خاندان ہو، یا غوری، علوی، سوری، بلبن، غزنوی، خلجی، تغلق،یا پھر جدید دور میں فرنگی، پرتگالی، برطانوی یا امریکی، ہماری نسلوں نے انہیں خوش آمدید کہا۔ جگہ دی، صلاح مشورے سے نوازا اور پھر سعادت مندی سے غلامی کا چغہ پہن کر ساتھ ہو لیے۔ جگنی بابا پورے فلسفی ہیں، کہتے ہیں کہ آقا اور حاکم غلاموں اور محکوموں کی جو صلاحیت پنپنے نہیں دیتے وہ سوچنے اور فیصلہ کرنے کی ہے۔ غلام کو کرنا صرف وہ ہوتا ہے جو آقا کی زبان سے حکم صادر ہو، ہاں زیادہ وفادار ہو تو آنکھوں کے اشارے اور وقت کی ضرورت کے حساب سے بھی خدمات انجام دے سکتا ہے۔ لیکن نصاب کی طرح روزمرہ زندگی بھی یکسانیت سے بھر پور ہو تو وہ عادت بن جاتی ہے۔ تو غلامی کے نصاب پڑھ کر جو اطوار با امر مجبوری  اس خطے کے لوگوں نے اپنائے وہ کب کی عادت بن چکی ہے۔

اب صورتحال یہ کہ مذکورہ بالا حاکمین میں سے اکثر دار فانی سے کوچ کر گئے، دیگر ظاہری طور پر تو یہاں سے جا چکے لیکن حقیقت میں سبھی کے نقش تاحال خطے کے صبح و شام میں یونہی موجود ہیں۔ ہم مغلوں کے تعمیر کردہ قلعوں، مزاروں، درباروں، عشقیہ داستانوں، خونیں جنگوں، ادب نوازی، درباری خوشامدوں پر  کی گئی نوازشوں کے سحر سے اب تک نہیں نکل پائے۔ ہمارا نصاب تعلیم، تہذیب، معاشرتی رویے، لٹریچر اور مذہبی رسم و رواج میں آج بھی وہی رنگ جھلکتا ہے۔ ہاں اس کی وجہ تسمیہ محبت ہو یا نفرت، مجبوری ہو یا اعزاز، روایت پسندی ہو یا عقیدت، اس کا اثر ہمارے حال اور مستقبل پر اچھا ہو یا برا، لیکن بہر طور ہم ماضی کی قید سے پوری طرح نکل پائے، نہ ہی جدت اپنانے میں کامیاب ہوئے۔ دوسری طرف خود سے کچھ سوچنے سمجھنے اور کرنے کے بجائے مغرب کی چکا چوند ہماری محدود نظر کو خیرہ کیے دیتی ہے۔ ماضی کے دائرے سے نکل کر ہم ڈائریکٹ انگلش تہذیب میں چھلانگ لگانے کے درپے ہیں۔ یعنی وہ خطہ اراضی جسے دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شامل رہنے کا اعزاز حاصل رہا، جہاں کا تمدن دنیا بھر کے لیے آئیڈیل مانا جاتا رہا، دنیا بھر کے اناج کا نصف سے زیادہ جہاں پیدا ہوتا ہے، دنیا کے بہترین موسم جس کی پہچان ہیں، جس خطے کے ساحل، سمندر، پہاڑ، ندیاں، دریا، وادیاں، میدان اور صحرا ہر لحاظ سے بہترین قرار دئیے جاتے ہیں۔ وہاں کے باسیوں کو نسلی غلام کہلوانے کا اتنا شوق ہے کہ وہ آج بھی اپنی دھرتی پر پسینہ بہانے کے بجائے دیار غیر میں ترقی کے خواب دیکھتے ہیں۔ غرض یہ کہ صدیوں کی غلامی نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا کہ ہم اپنی تہذیب، اپنا کلچر، اپنا معاشرہ، اپنا لٹریچر اور اپنے حاکم کے بارے میں خود سے فیصلہ کر سکیں۔ گو کہ انگریز یہاں کے آخری غیر ملکی حکمران تھے، لیکن انہوں نے جو تہذیب و تمدن ہمیں ترکے میں دیا وہ بھی دو طبقوں کی شکل میں معاشرے کا اہم جزو بن چکا۔ ایک طبقہ جو ہمیشہ سے محکوم تھا اور ہے، دوسرا جس نے حاکم کے اشارہ ابرو کو سمجھتے ہوئے خدمات انجام دیں، اور جاتے وقت انہیں وفاداری کے صلے میں لعاب کی گھٹی مل گئی، وہ حاکم بن بیٹھے۔ لیکن حقیقت میں وہ طبقہ بھی نسلی اعتبار سے غلام ، محکوم اور زیر دست ہی رہا، اور آقاوں کی خوشنودی کے لیے اب تک حجتیں کرنے میں مشغول ہے۔ بلکہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے محکوم طبقے کو بھی بدستور غلامی کے اس دائرے میں کھینچنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے، جہاں خود موجود ہے۔ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے کم و بیش ایک سو سال قبل کہا تھا وہ آج بھی سچائی کا منبع دکھائی دیتا ہے۔ کہ
کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضا مند۔۔
اور تاویل مسائل کو بناتے ہیں بہانہ۔۔۔۔۔۔۔۔

بلا شبہ خطہ ہذا میں بلا تخصیص حاکم طبقہ بجائے محکوموں کے حالات بہتر بنانے اور انہیں دنیا کے ہم پلہ بنانے کے انہیں شب و روز مغرب کے فضائل کی تسبیح پڑھانے میں مصروف ہے۔ یہ حقیقت خوب آشکار ہے کہ برصغیر پاک وہند ہمیشہ سے غیر ملکیوں کا اکھاڑہ رہا ہے۔ بلکہ اکثر پہلوان بھی اسی دھرتی کے سپوت تھے اور باہر سے آنے والوں نے صرف داو کھیلا۔ اسی طرح 21 ویں صدی کی دنیا میں بھی اس خطے کا ہر ملک بیرونی شہہ زوروں کی طاقت ماپنے کا آلہ بنا ہوا ہے۔ انسانیت کی بھلائی کے لیے آپس میں بات کرنے، معاملات کو دلیل سے حل کرنے، وسائل کی مفاد عامہ کے لیے فراہمی اور عزت نفس بحال کرنے کی بجائے ہر کسی نے گھر سے باہر ایک باپ رکھا ہوا ہے۔ لیکن اس سب میں زیادہ قصور اس گھٹی کا ہے، جو ہمیں غلامی کی طرف مائل رکھتی ہے۔پاکستان ہو، یا انڈیا، ایران ہو، یا سعودی عرب،بنگلہ دیش ہو یا افغانستان، ہمارے ہاں لیڈر وہ ہیں جو گھریلو مسائل تک حل نہیں کر سکتے، اس نیک کام کے لیے بھی  بیرونی مداخلت کے انتظار میں رہتے ہیں۔ اور عوام وہ ہیں جو جوتے کھا کر بھی دریا اسی پل سے پار کرتے ہیں، جہاں جوتے مارے جاتے ہیں۔ روز رواں تک کی صورت حال کچھ یوں ہے کہ تقسیم کے بعد سے  پاکستان اور بھارت اس خطے کے دو بڑے چوہدری ہیں، جنہیں اپنی چودھراہٹ ہر قیمت پر قائم رکھنی ہے، چاہے وہ بیرونی دنیا کی غلامی کی صورت ہی کیوں نہ ہو۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت آزادی اور تقسیم کے فلسفے کو باطل ثابت کرنے کے لیے ہمیں غلامی کی ان اتھاہ گہرائیوں میں پھینک دیا گیا ہے، جہاں سے واپسی میں ابھی وقت لگے گا۔ کیونکہ جسم غلامی کا طوق پہن لیں تو اسے مجبوری کہا جا سکتا ہے، لیکن روح اور سوچ کو کسی کا غلام بنا لینے سے قوموں کی حالت ہم سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوتی۔ ہم غلام ابن غلام تھے، ہیں، اور جب تک اس لفظ سے جڑی ذلت، شرمندگی اور احساس تذلیل ہمارے  محسوسات پر اثر انداز نہیں ہو ں گی،اس سے جڑے رہیں گے۔ کیونکہ اس لقب کو خود سے دور کرنے کے لیے جس انا، خود داری، توقیر اور غیرت مندی کی ضرورت ہے ہمارے غدود ابھی تک وہ مادہ پیدا کرنے میں ناکام ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *