مولانا گھمن ,محترمہ سمیعہ اور صحافتی رویے۔۔۔۔۔نوفل ربانی

کراچی سے واپسی پر ایک طویل سفر کرکے مولانا گھمن کے مرکز سرگودھا گیا اور مولانا احمد یار لاہوری صاحب کو بھی سرگودھا مرکز بلالیا۔ محترمہ بنت زین العابدین کے خطوط پر مبنی آئی بی سی اردو کی ایک ڈرامائی تحریر میں درج تمام تر الزامات پر مولانا گھمن سے خالص تھانیداری ماحول میں بات ہوئی میرے لئے مولانا یا انکی سابقہ اہلیہکی ذات کسی قسم کی اہمیت نہیں رکھتی. لیکن مولانا کا ادارہ اور محترمہ کا خاندانی پس منظر اور اپنے اکابر بہت اہمیت کے حامل ہیں۔

مولانا کے ادارے میں 85 کے قریب علماء جو مختلف مدارس اور علاقوں سے آئے ہوئے ہیں تخصص کرتے ہیں .شعبہ کتب کے طلباء الگ ہیں اساتذہ اور عملہ کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود ہے . ان سب کی موجودگی میں مولانا کا وہ روپ جو ریحانی افسانے میں موجود ہے وہ تو ممکن نہیں. مولانا نے اس مضمون میں لگنے والے تمام تر اعتراضات کو جھوٹا لغو اور بے بنیاد قرار دیا.

مدرسہ البنات سے متعلق مکمل معلومات لیں پورے سال میں ایک سبق بھی کوئی مرد بشمول مولانا کے نہیں پڑھاتا اور 5 مدرسین کی بیویاں وہاں معلمات ہیں اور گائوں کا ماحول ہے۔ اس میں کسی مدرسے کا ” آنٹی شمیم ” کا کوارٹر بننا ناممکن ہے – اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا اور نہ ہی شریعت نے مکلف بنایا ہے۔ اگر کسی کے پاس کسی بھی حوالے سے کوئی ثبوت یا دلیل ہے تو وہ رائے قائم کرنے میں آزاد ہے۔

وہاں سے نکلنے کے بعد میں نے محترمہ بنت زین العابدین کے بیٹے زین الصالحین صاحب سے ٹیلیفون پر فیصل آباد حاضر ہونے کی اجازت چاہی تو انہوں نے فون پر ہی بات کرنے پر اصرار فرمایا تو میں نے مفتی ریحان سے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم انکو نہیں جانتے۔ میں نے پوچھا کہ وہ آئی بی سی والا مضمون آپ نے لکھوایا انہوں نے کہا کہ اس مضمون میں کچھ باتیں درست نہیں ہیں جبکہ کچھ باتیں سچی ہیں۔ میں نے پوچھا کیا آپ عدالتی انصاف چاہتے ہیں یا آپکو اسکی ضرورت ہے تو انہوں نے کہا نہیں!! اب یہاں تک بات ان دونوں سے متعلق مکمل ہوئی

 ویب سائٹ آئی بی سی اردو کے روح رواں جناب سبوح سید صاحب جو کہ ایبٹ آباد کی گل مکئی ہیں اور سوات کی ملالہ کا کردار ادا کر رہے ہیں جسطرح ملالہ نے گل مکئی کے نام سے ڈائری لکھی اور اسلام وپاکستان کاامیج خراب کیابالکل اسی طرح آئی سی بی کی ٹیم نے ادارہ جاتی طور پر مولانا گھمن کے کندھے پر بندوق رکھ کر بغض دیوبند میں اکابر کیخلاف گند اچھالا۔ میرا مسئلہ گھمن یا سمیع نہیں ،میرا زاویہ نظر یہ ہے کہ اس کیس کچھ لوگوں کو فیس بک پر علماء اور مولویوں کے خلاف خبث باطن پھیلانے کا موقع ملا۔ آئی سی بی اردو کے سبوح سیدغامدی سکول آف تھاٹ کے ہیں انکی وال اکابر دیوبند کے خلاف باتوں سے بھر پور ہوتی ہے، مدارس سے انکو خاص ” اجتماعی چڑ ” ہے۔ غامدی فہم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مدارس ہیں اور مدارس اکابر کی دعائے نیم شبی کی برکات کا مظہر ہیں مدارس اسلام کے قلعے ہیں تو جب بھی مدارس کی آنکھ میں انکو تیلا نظر آتا ہے تو وہ اسکو شہتیر بنانے میں چاروں قل پڑھ کر چڑھ دوڑتے ہیں۔

 آپ تھوڑا سا پیچھے چلیں تو دیکھیں غامدیت کو جب لوہے کے چنے چبوائے جارہے تھے ان کے بڑے بڑے سورما چت پڑے ہوئے تھے۔ عمار خان ناصر سمیت بڑے بڑے برج الٹ گئے تھے غامدیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی گئی تھی ایبٹ آباد کی گل مکئی نے آئی بی سی کی ٹیم بٹھائی اور غامدیت پر ہونے والی علمی تنقید کا رخ موڑنے کے لئے مولانا الیاس گھمن اور محترمہ سمیعہ کا قضیہ چھیڑ دیا۔ مگر یہ کوشش ناکام ہوئی تو لائیو وڈیو میں صفائیوں پہ اتر آئے۔ 175 کمنٹ جس میں تقریباً نصف سے زائد .مولوی عبدالوھاب ثم ہمدرد حسینی والآن اصغر علی کے ہیں. فرماتے ہیں کہ خبر دینا انکا حق اور آئی بی سی کا حق ہے تو خبر دینا آپکا حق ہے لیکن خبر بنانا تو آپکا حق نہیں ؟ اگر خبر آپکا حق تو تجزیہ ہمارا حق ہے.

دو تین سال پرانا قضیہ اٹھانا اور پھر اس میں مولانا پیر عزیزالرحمان ہزاروی صاحب اور مولانا عبدالحفیظ مکی صاحب کو بھی گھسیٹنا اکابر دشمنی اور اس آڑ میں علماء ومدارس پر اپنی فکری کو انڈیلنا مقصد تھا ۔دلیل یہ ہے کہ زین الصالحین صاحب نے مجھ سمیت بہت سے احباب سے یہ فرمایا کہ آئی بی سی کو صرف فتوے سے متعلق آگاہ کیا تھا باقی کی سٹوری انکی اپنی بنائی ہوئی ہے.

جو دیوبندیت مدارس اور مولوی بم دھماکوں. گولیوں . پھانسیوں. جیلوں فور شیڈول . آپریشنوں . ڈمہ ڈولہ. لال مسجد. ڈرون حملوں ان گنت شہادتوں. پابندیوں.ایکشن منصوبوں کو خاطر میں نہیں لاتے وہ آپکی ان شرلیوں کو کیا سمجھے گی تھوکی ہوئی نسوار بھی نہیں۔  اپنی صلاحیتیں کسی تعمیری کام میں لگاو یہ پتھر تو پرویز مشرف سے بھی نہیں اٹھا تھا اس نے بھی چوم کر رکھ دیا تھا کہ یہ بہت بھاری ہے

آخری بات بیٹا زین الصالحین کے لئے!!پیارے بیٹے آپ نے خط لکھا کہ اکابر اپنی سرپرستی کی وضاحت کریں   بیٹا!!! آپکی مبینہ مظلوم والدہ محترمہ نے ضرور آپکو یہ تربیت دی ہوگی کہ بڑوں سے کیسے بات کی جاتی ہے. کیا آپ نے اپنی والدہ کے الزامات کو ثابت کردیا ہے ؟؟؟ آپ عدالت میں بھی نہیں جانا چاہتے ثبوت بھی نہیں دیتے تو بیٹا پھر اکابر سے سوال کا بھی کوئی حق آپکو نہیں تسلی تو محلے کے امام سے مسئلہ پوچھ کر بھی ہوجاتی ہے اسکے لئے ملک بھر کے دارالافتاوں کے دروازے کھٹکھٹانے کی کیا ضرورت تھی. بیٹا یہ لوگ  آپکے ساتھ مخلص نہیں ہیں یہ اپنی روایت تہذیب وثقافت فقہ اور دین کے ساتھ مخلص نہیں ہر “آمر وقت” کے بوٹوں پر انکی جبین نیاز کا تقدس پامال ہے یہ آپکا استعمال کر رہے ہیں. ویب سائیٹس نے خود کی ایڈورٹائزنگ کی خاطر آپکی مبینہ داستان الم کو سولہ سنگھار کراکر بارہ مصالحوں کے ساتھ نشر کیا

بیٹا جب آپ ایک جید عالم دین کے حقیقی بیٹے اور ولی کامل کے نواسے تھے تو اس وقت آپکا ظاہر باشرع نہ تھا پھر جب آپ مولانا گھمن کے ربیب سوتیلے بیٹے بنے تو اس وقت آپ بالکل سنت موافق زلفیں اور ٹخنوں سے اوپر نصف ساق تک جناب کی شلوار شریف تھی اور غازہ خط بھی موافق شرع تھا سنا ہے کہ صوم وصلواۃ کے بھی پابند تھے اب جب یہ تعلق ختم ہوا تو آپ دوبارہ مردودی کٹ ” بابو ” بن گئے۔ خیر یہ تو ایک ضمنیبات آگئی تو عرض کردی ورنہ آپکو اب بھی اپنے سے بڑھ کر ایماندار اور دیندار اور اچھا مسلمان سمجھتا ہوں۔ آپکا جھگڑا مولانا گھمن سے ہے اسی پر ” بریکیں ” لگائیں اگر اکابرین پر کوئی ایسی ویسی بات کریں گے تو پھر کچھ کچھ تو ہوگا کچھ کچھ سے مراد کہ پھر مجھے ایک بہت بڑے شیخ کے چشم وچراغ کی منتیں کرنی پڑیں گی کہ مجھے وہ تمام ڈیٹا دیں اور پھر!!!

میری مجبوری یہ ہے کہ میں پٹھان ہوں کسی کے گھریلو مسائل کا تذکرہ عوامی مجالس میں کرنا بے عزتی سمجھتا ہوں خدا را خیال فرمائیں گھمن گھمن کی تسبیح فرمائیں اکابر کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہ فرمائیں۔ یہ بھی نوٹ کرلیں کہجب آپ اپنی مشہوری کی خاطر کسی قضیہ کے فریقین کے ضمن میں اکابر کو گالیاں پڑوانے کی بھونڈی کوشش کریں گے تو پپو بچو!!!! شیشے کے گھر میں بیٹھ کر جب پتھر مارو گے تو جوابی کنکر سے آپکی عمارت بھی زمین بوس ہوگی ۔کسی کی پگڑی اچھالوگے تو آپ نے کوئی خود نہیں پہن رکھا ۔جب انکے لواحقین کو کرب دو گے تو پھر آپکے بہن بھائی بیوی بچے بھی آپکو پڑنے والی جوابی گالی دیکھ کر رنجیدہ ہونگے

اپنے کو عقل کل سمجھنا چھوڑ دو ایک بات بھول گیا تھا ایڈٹ کرکے لکھ رہا ہوں میں نے گھمن صاحب سے پوچھا کہ آپ اپنا موقف کیوں نہیں دے رہے تو انہوں نے کہا کہ “ایک دفعہ یہ لوگ تمام غلاظت انڈیل دیں پھر میں قانونی چارہ جوئی یا کسی بھی فورم کو استعمال کرنے کا حق رکھتا ہوں اور چند دنوں تک موقف دوں گا مجھے انتظار ہے کہ وفاق مجھے طلب کرے”۔

نوفل ربانی نے یہ تحریر اس موقف کے ساتھ دی ہے کہ تمام سائیٹس یکطرفہ موقف دے رہیں ہیں اور گھمن صاحب کے خلاف جانبدار ہیں۔ مکالمہ مکمل طور غیر جانبدار سائیٹ ہے اسی لیے یہ موقف شائع کیا جا رہا ہے۔ اگر سبوخ سید، کوئی فرد یا ادارہ جواب دینا چاہے تو مکالمہ حاضر ہے۔ مضمون نگار کے خیالات سے مکالمہ مکمل برات کا اظہار کرتا ہے۔ 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *