ہماری بھنڈیوں والی افطاریاں ۔۔۔ اے وسیم خٹک

 

وہ خوش قسمت لوگ ہوتے ہیں جو رمضان المبارک کا مہینہ اللہ کے گھر بیت اللہ میں گزارتے ہیں مگر ہر کسی کی نہ اتنی اوقات ہوتی ہے اور نہ ہی ہر کوئی اتنا خوش نصیب ہوتا ہے کہ اسے یہ سعادت نصیب ہو دوسری طرف وہ بھی خوش نصیب تصور ہوتا ہے جو رمضان المبارک کا مہینہ اپنے گھر میں اپنے خاندان کے ساتھ گزارتا ہے ۔ یہ خوش نصیبی بھی کم کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے کیونکہ اکثر ملازمت پیشہ لوگ ملازمتوں کے سلسلے میں ملک سے باہر یا ملک کے اندر رہ کر بھی مسافروں کی زندگیاں بسر کرتے ہیں اور جوں ہی رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ آتا ہے انہیں پریشانی لاحق ہوجاتی ہے کہ روزے میں کیا کیا جائے گا۔ چونکہ زیادہ تر ہوٹل بند ہوجاتے ہیں پھر ایسے وقت میں انہیں گھر کی یاد آتی ہے اور اہ بھر کر کہتے ہیں کہ کاش رمضان کے مہینے میں گھر میں روزے رکھے جاتے تو کیا ہی اچھا ہوتا۔ ہم نے اکثر رمضان کے مہینے میں بہت سے روزے گھر سے باہر رکھے ہیں ۔واقعی میں بہت سخت کیفیت ہوتی ہے مگر چونکہ مجبوری ہوتی ہے اس لئے کچھ کیا بھی نہیں جاسکتا ۔ جوں ہی رمضان آتا ہے گھر والے چھٹیوں کی بات کرتے ہیں کہ چھٹیاں ہونگی کہ نہیں یہ صرف میرا نہیں ہر ملازمت پیشہ شخص سے سوال کیا جاتا ہے ۔جن کا جواب ہمیشہ ناں میں ہی ہوتا ہے کہ عید کے لئے ہی چھٹیاں ہونگی جبکہ صحافیوں سیکورٹی فورسز اور پولیس سمیت کچھ دیگر اداروں کی وہ چھٹیاں بھی نہیں ہوتیں ۔ ہم جب صحافت میں تھے تو چھٹیوں کا تصور ہی نہیں کیا۔ شادی کے لئے بھی چار ہی چھٹیاں ملیں تھیں ۔ مگر جب سے ٹیچنگ کے شعبے میں آئیں آخری عشرے میں کچھ روزے گھر میں نصیب ہونے لگے ہیں۔

اس سال بھی ہم رمضان شروع ہونے کے لئے پریشان تھے کہ کیاکیا جائے گا۔ کیونکہ پشاور کی بجائے جگہ صوابی تھی ۔ جہاں ہم نے رمضان المبارک کامہینہ گزارنا تھا۔ شہر چونکہ چھوٹا تھا ۔ تو پریشانی بڑھ گئی تھی کہ ہوٹلز تو بند ہونگے خود سے پکانے کی سعی کر نہیں سکتے تھے کیونکہ دوسرے دوست اس میں دلچسپی نہیں لے رہے تھے کہ رمضان میں خود پکایا جائے ۔ ایک طرف ڈیوٹی پھر گرمی تو ٹینشن بڑھتی ہی جارہی تھی ۔ متبادل طریقے سوچنے لگے ۔ کچھ دوست دوسرے ہاسٹل میں رہائش پذیر تھے ۔ سوچا افطاری اور سحری کے لئے اُن کے پاس جایا جائے مگر روزانہ دو دفعہ جانا ناممکنات میں شامل تھا کیونکہ وہ فاصلے میں تھے ۔ دوسرے آپشن پر سوچنا شروع کیا تو ہمارے صوابی وومین یونیورسٹی کے رجسٹرار محمد بلال کا ذہن چل گیا کہ کیوں نا مالک مکان سے کہا جائے کہ paying guest کے طور پر یہ مہینہ ہمیں ٹریٹ کیا جائے ۔ ہم انہیں افطاری اور سحری کا معاوضہ دے دیں گے وہ جو پکائے ہمیں بھی وہ دیا کرے ۔ مرغن غذاوں کے ہم تینوں فہد صاحب جو کہ یونیورسٹی میں میرے ساتھ لیکچرر ہیں اور اوکاڑہ سے تعلق رکھتے ہیں دوسرے بلال صاحب ہوگئے جبکہ تیسرے کے بارے میں آپ سوچیں وہ اُن دونوں کے سوا کون ہوسکتا ہے ۔ میں نے تائید نہیں کی کیوں کہ مجھے پتہ ہے کہ روزوں میں خواتین کے کام بڑھ جاتے ہیں۔ اور پھر ہم تین ایکسٹرا لوگ ایک خاندان پر بوجھ بن جائیں کم ازکم مجھے یہ معاوضے پر بھی گوارہ نہیں تھا ۔ مگر جمہوریت کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے جو ہماری عوام ہمیشہ ٹیکتی ہے ۔ سو مالک مکان کو بلایا گیا جو اس دور میں نہایت شریف النفس شخصیت ہیں ۔ کیونکہ وہ اور اسکا خاندان اس دور میں میڈیا سے دور ہیں ۔ سادہ زندگی گزارنا۔ کام سے کام رکھنا۔ سوداسلف کے لئے بازار جانا اور مسجد جانے کے علاوہ دوسرا کام نہ ہو اور ٹچ موبائیل سے دور کا واسطہ نہ ہو تو وہ جنتی نہیں ہوگا تو کیا ہوگا۔ نام کی طرح فقیر النفس شخصیت فقیر محمد کو جب یہ بات کی وہ خوشی سے پھولے نہیں سمایا کہ یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہوگی مگر شرط یہ ہوگی کہ پیسوں کی بات نہیں ہوگی ۔ ہم نے بھی دو ٹوک کہہ دیا پھر بات ہی ختم ہے ۔ یہ بڑی بات ہے کہ اپ افطاری اور سحری میں ہمارے لئے تکلیف کروگے ۔ جس کا اجر اللہ اپ کو اپ کی بیوی اور بچوں کو اللہ دے گا ۔ کیونکہ کسی کا روزہ افطار کرانے کی کتنی فضیلت آئی ہے ۔ اس کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں ۔ فقیر محمد مشکل سے مان گئے اور ہمارا مسئلہ فیثاغورث جیسا اور کے ٹو پہاڑ کی طرح بڑا مسئلہ حل ہوگیا۔ اور یوں ہماری سحری اور افطاری کی ذمہ داری فقیر محمد کے سپرد ہوگئی جو کہ ہمارے لئے اللہ کا انعام تھا کہ زندگی میں پہلی دفعہ ملازمت کے دوران گھر کے کھانے روزوں میں مل رہے تھے ۔ اور یوں افطاری اور سحری وقت پر ملنے لگی ۔ جس کا ہم جتنا بھی شکریہ ادا کریں اللہ کا کم ہے اور صوابی کی فقیر محمد کی فیملی کا اُس کے لئے میرے پاس پاس الفاظ نہیں مگر ایک بات اور بھی میں اپنی زندگی میں یہ افطاریاں اور سحریاں کبھی بھی نہیں بھول سکتا جس میں خلوص محبت کے ساتھ ساتھ افطاری اور سحری میں لازمی بھنڈی کی ڈش نہیں بھول سکتا ۔ کیونکہ یہ ساری افطاریاں ہماری بھنڈی کے ڈش سے ہوئیں ہیں حیرت اس بات کی ہے کہ ہر دن مختلف طریقے سے بھنڈیاں پکتی کچھ اور بھی ساتھ ہوتا مگر بھنڈیاں لازمی ہوا کرتی تھیں ۔ جس کی ہمیں ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ یہ فقیر محمد اس کے بچوں یا بیوی کی پسندیدہ ڈش ہے جو چوبیس روزوں میں متواتر پکتی رہی۔ اور وہ اس سے بور نہیں ہوئے جبکہ ہمیں بھی اس کی عادت کرادی ۔ جب افطاری کا سامان آتا ہم ایک دوسرے کی جانب دیکھ کر مسکرا دیتے کیونکہ ڈش میں بھنڈیا ں لازمی جز بن گئی تھی ۔عید کی چھٹیوں کے لئے گزشتہ روز گھر آئے تو ڈش میں بھنڈیاں نہیں تھیں ۔ تو دسترخوان خالی خالی لگا اور یہ حال صرف میرا نہیں بلکہ فہد اور بلال صاحب کا بھی ہے انہیں بھی دسترخوان خالی خالی لگے۔ اور افطاری میں بھنڈیوں کو مس کرنے لگے ۔۔

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *