اک قانون اور سہی۔۔۔شیراز چوہان سوز

پاکستان کی پارلیمنٹ نے غیرت کے نام پر ہونے والے قتل اور ریپ سے متعلق بل متفقہ طور پر منظور کر لیے ہیں، یہ دونوں بل پارلیمنٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے پیش کیے تھے ! اس بل میں غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے مقدمات کو ناقابل تصفیہ قرار دے دیا ہے! یعنی صلح کی درخواست کسی صورت قبول نہیں ہوگی اور ریاست مجرم کو کم از کم سزا عمر قید دے گی واضح رہے کہ بل کیمطابق فیصلہ زیادہ سے زیادہ 90 دن میں ہوجانا چاہیے.

ہمارے ہاں غیرت کے نام پر قتل ہونے والوں کی تعداد بے بہا ہے مجھے فیمنسٹ نہ سمجھا جائے بطور عام سے اخبار کا عام سا سب ایڈیٹر ہونے کے واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ غیرت کے نام پر مرنے والوں کی تعداد کا تناسب اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اوسطاً مہینے میں 15 سے بیس خبریں غیرت کے نام پر مرنے والوں کی صرف جنوبی پنجاب سے آتی ہیں علاوہ ازیں صورتحال ڈھکی چھپی نہیں کم از کم جو اخبار پڑھتا ہے اسے معلوم ہے، ہمارے ہاں مشہور ہو جانے والے مقدمات کا انصاف شاید ملے تو ملے وگرنہ غیرت کے نام پر مرنے والوں کی حیثیت ان کی وقعت سنگل کالم خبر مع تصویر سے زیادہ بالکل بھی نہیں ہے۔

اور جس کے ظلم ہو جائے زنا بالجبر کا شکار ہو جائے اس کی تو بات ہی مت کیجئے کیونکہ وہاں بھی غیرت ہی آگے آتی ہے اور ظالم دندناتا پھرتا ہے ہمیں یہ ڈر ہوتا ہے کہ ابھی صرف ایک محلے کو ایک کالونی کو معلوم ہوا ہے بعد ازاں پورے شہر پورے صوبے کو معلوم ہو جائے گا میں سوچتا ہوں کہ یہ لوگ عجب سوچ رکھتے ہیں کیونکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جہاں زانی ایک محلے میں ایک کالونی میں اپنی درندگی کا مظاہرہ کرتا ہے وہیں وہ اب ہر جا کرے گا کیونکہ وہ جانتا ہے غیرت بہت کتی شے ہے یہ ظالم کو مزید ظلم کرنے پر مجبور کرتی ہے یہ سوچنے سمجھنے کی سب طاقتیں چھین کر اپنا غلام کر لیتی ہے اور غلام کبھی غیرت مند نہیں ہوتے وہ بس غلام ہوتے ہیں۔

کچھ ماہ قبل ایک مظلومہ نے نجی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ “میں انصاف کیلئے کھڑی ہوئی ، بدنامی کا بار بھی اٹھانا پڑا ، ہمت نہیں ہاری مگر آج مجھے تھانے کچہریوں کے چکر کاٹتے ہوئے احساس ہو رہا ہے کہ خود کو آگ لگا کر جلا لینے والیوں کا فیصلہ کتنا صحیح تھا” بعد ازاں اس کے انہی الفاظ میں سے کچھ الفاظ بطور سرخی میں اپنے ہی ہاتھوں سے لکھ رہا تھا۔

خیر اب جب یہ بل پاس ہو ہی گیا ہے تو امید کرتا ہوں کہ تبدیلی آئے گی کچھ بہتری آئے گی، جہاں مظلومہ سالہا سال انصاف کیلئے بلکتی تھی اب 90 دن کے بعد ہی فیصلہ کر لے گی اسے آگے جینا ہے یا نہیں!!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *