• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • بیانیہ کسے کہتے ہیں ؟ کیا ہمارا ریاستی بیانیہ درست ہے ؟۔۔۔فرمان اسلم

بیانیہ کسے کہتے ہیں ؟ کیا ہمارا ریاستی بیانیہ درست ہے ؟۔۔۔فرمان اسلم

انگریزی زبان میں بیانیہ کوNarrativeکہتے ہیں۔جبکہ بیان Narrationکہلاتا ہے۔ بسا اوقات بیان کو ہم Statement کے معنی میں بھی لیتے ہیں اور Narrationکو بیانیہ کا نام بھی دیتے ہیں۔ بیانیہ اور بیان(Narration and Narrative)آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ یعنی بغیر بیان کے بیانیے پر کوئی ڈسکورس، گفتگو، مکالمہ یا مباحثہ قائم ہوہی نہیں سکتا۔
ویسے تو بیانیہ کے متعدد مفاہیم بیان کیے گئے ہیں۔باربرا ہرنسٹائن اسمتھ(Barbara Herrnstein Smith) بیانیہ فقط ایک واقعہ کی ظہور پذیری کو مانتی ہے جبکہ نویل کیرول (Noel Carroll) کے نزدیک کم از کم دو واقعات کا ہونا بیانیہ کے لیے ضروری ہے۔اس کا کہنا ہے :

“Narrative discourse is comprised of more than one event and/or state of affairs that are connected and are wont a unified object and perspicuously ordered in time”.

’’یعنی بیانیائی پیش کش کم از کم ایک سے زیادہ واقعات پر مشتمل ہوتا ہے اور منسلکہ واقعات کا ایک مشترکہ موضوع ہوتا ہے ساتھ متذکرہ واقعات ایک زمانی تنظیم کے مبہم طور پر تابع ہوتے ہیں”
بقول Roland Barth:”بیانیہ ہر عہد اور سماج اور ہر جگہ موجود ہے۔ انفرادی اور اجتماعی طور پر ہر شخص کا حوالہ بیانیہ ہی ہے۔ “بیانیہ ہے اسی لیے میں ہوں “۔ بیانیہ کی حیثیت بین الاقوامی، ماورائے ثقافت اور ما ورائے تاریخ ہے۔یہ بس موجود ہے جس طرح زندگی موجود ہے۔”

یا Thomas King کے مطابق :”The truth of about story is all that we have۔” اگر سب کچھ بیانیہ ہے اور یہ ہمہ گیر اور ہمہ وقت ہے تو بیانیہ پر گفتگو کیوں ہو؟ بس ہے تو ہے! اور اگر ایسا ہے تو اچھے اور برے بیانیے کے درمیان، کارآمد اور بے کار بیانیے کے مابین، عمیق اور سطحی بیانیے کے مابین تفریق کی کیا ضرورت ہے؟ فی زمانہ بیانیہ بذات خود بیانیاتی تصور سے تجاوز کر گیا ہے اور دیگر تصورات کی حدود میں داخل ہو گیا ہے۔ حالیہ پی ٹی ایم اور فوج میں گشیدگی کے بعد ایک اردو اخبار نے سرخی جمائی : “پی ٹی ایم کے فساد نے پانچ جانیں لے لیں ” یعنی بیانیہ کا تعلق کسی واقعے یا مجموعۂ واقعات سے نہیں بلکہ “موقف” سے ہے۔ “بیانیہ” بہ معنی “موقف” کا استعمال انگریزی و اردو ذرائع ابلاغ میں بہ زبان فصیح “کثرت” سے نہیں بلکہ دھڑلّے سے ہو رہا ہے۔ پاکستانی اخباروں میں اکثر اس طرح کی سرخیاں نظر آ رہی ہیں ” شمالی وزیرستان! پی ٹی ایم کا حملہ 5فوجی جوان زخمی 3دہشت گرد ہلاک ” یا ایک انگریزی اخبار نے لکھا ” waziristan check post assaulted’ five soldiers hurt ”
کسی نے کسی کو کہا کہ کچھ ہوا”۔

صرف مذکورہ جملہ بیانیہ کی تعریف نہیں ہوسکتی۔ کسی کو بھی Barbara Harrenstein Smith سے اختلاف ہوسکتا ہے۔ مذکورہ جملہ بیانیہ کی تمہید تو ہوسکتی ہے تعریف نہیں۔ اگر صرف ظہور پذیری ہی ضمانت ہے تو ایسی صورت میں میڈیا کی خبریں، تاریخ کے سپاٹ واقعات، وقائع نویسی، ڈائری کے منتشر اوراق اور اس قماش کی تمام پیش کش بیانیہ میں شمار ہوں گی۔ ماقبل اس کے کہ گفتگو اس بات پر ہو کہ “بیانیہ کیا ہے”، یہ لازمی ہے کہ گفتگو کا محور و مرکز یہ ہو کہ “بیانیہ کیا نہیں ہے”۔
“بیانیہ کیا نہیں ہے” پر گفتگو شروع کرنے سے پہلے مختصراً ایک کسوٹی، ایک پیمانے کا تعین لازمی ہے جن پر پرکھ یا پیمائش کر کے یہ طے کیا جاسکے کہ مخصوص متن (Text) یا پیش کش (discourse) بیانیہ نہیں۔ میں صرف دو ماہرینِ بیانیات سے استفادہ کروں گا، Rimon Kennan اور Nayne D۔ Bowman جن کے نام ہیں۔

مذکورہ دونوں ماہرین کے نزدیک بیانیے میں دو خصوصیات کا ہونا لازمی ہے۔ Temporality یعنی زمانیت۔ بہ الفاظ دیگر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ واقعات کی ظہور پذیری ہی زمانیت کی ضمانت ہے کیوں کہ واقعات ہمیشہ وقت آئندہ کی جانب گامزن رہتے ہیں (Event, by its nature, always moves forward)۔ پیش روؤں نے بیانیے کی زمانیت (Temporality) کو زمانیت محض (Mere Temporality) نہ کہہ کر دوچند زمانیت (Double Temporality) کہا ہے۔ اجمال کی تفصیل یا ابہام کی توضیح آپ جو سمجھ لیں، یہ ہے کہ واقعات کی ترتیب اپنی اصل خصوصیت میں آئندہ کی طرف گامزن رہتا ہے تاہم جب پیش کش کی شکل میں سامنے آتا ہے تو یہ زمانی ترتیب درہم برہم بھی ہوسکتی ہے اور اکثر ہوتی ہے کیوں کہ Flashback یعنی جست ماضی یا پس جستی اور Fast Forward یعنی جست مستقبل یا پیش جستی کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے۔ لب لباب یہ کہ واقعات کی اصل ترتیب اور بیانیہ میں پیش کردہ ترتیب ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں – پاکستان میں 1971 کی جنگ کے دوران کے واقعات کو کچھ اس طرح سے بیان کیا جارہاتھا ۔
25 مارچ 1971 ملک دشمن عناصر کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کا آغاز۔۔ مٹھی بھر شرپسندوں نے پاکستان سے محبت رکھنے والی بنگالی عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے
7 دسمبر 1971مشرقی محاذ پر ٹائیگر نیازی کا بزدل دشمن کو دندان شکن جواب ۔۔بہادر افواج کی کومیلا, راجشاہی, چٹاگانگ, پبنہ, اور دیناج پور سیکٹر سے بھارتی بارڈر کی طرف پیش قدمی جاری۔
16 دسمبر مشرقی محاذ پر صرف جنگ بندی ہوئی ہے ہتھیار نہیں ڈالے۔۔ مغربی محاذ پر جنگ جاری رہے گی۔
یہاں پہ واقعات کی اصل ترتیب اور بیانیہ میں پیش کردہ ترتیب واضح طور پر ایک دوسرے کے برعکس ہیں۔

بیانیہ کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ بیان (Narration) یعنی ترسیل کا ذریعہ،بیانیہ اور بیان (Narrative and Narration) لازم و ملزوم ہیں۔ بات ظاہر ہے بغیر بیان کے بیانیے پر کوئی ڈسکورس، کوئی گفتگو، کوئی مکالمہ، کوئی مباحثہ قائم ہوہی نہیں سکتا۔ مثلاً پی ٹی ایم کے معاملے میں جو بیانیہ بیان کیا جارہا ہے اس کے پس پشت کوئی نہ کوئی بیان (narration ) تو ہے ۔ تو ہمیں بیانیے کو بیان کرنے والی قوتوں اور ان کے پیچھے کارفرما عوامل کو تلاش کرنا چاہیے ۔

پاکستان میں بیانیے کے لحاظ سے دلچسپ بات یہ کہ یہاں (present)حال کا بیانیہ ماضی کے بیانیے کی نفی خود کردیتا ہے – کیوں ؟ ستر کی دہائی میں مشرقی پاکستان میں ہونے والی سیاسی ناانصافیوں ‘معاشی پسماندگی اور ظلم سے متعلق جب مغربی پاکستان میں لکھا جارہا تھا اس وقت کے دانشوروں ‘ سیاست دانوں اور صحافیوں کو غدار یا ایجنٹ کہا گیا ۔ لیکن چالیس برس بعد آج خود ہمارے سیاست دان ‘ ہمارے جرنیل ‘ دانشور اور میڈیا اس بیانیے کی نفی کرنے میں لگے ہوئے ہیں – کیوں ؟ روس کے خلاف افغانستان کی جنگ میں لڑنے والے کل کے مجاہدین’ آج دہشت گرد بنادئیے گئے ۔۔آخر کیوں ؟

حیف صد حیف ۔ آج پھر ہم اپنے پرانے بیانیے کو دہرانے جارہے ہیں حالیہ پی ٹی ایم پر ہمارا قومی و ریاستی بیانیہ ماضی کے بیانیے کا ایک پرتو ہے ۔ جسے ہمارا میڈیا پوری طرح نظر انداز کررہا ہے ۔ حالانکہ باشعور قوموں کا یہ وطیرہ ہرگز نہیں ہوتا ۔پی ٹی ایم کے مطالبات ؟ کیا ہیں۔ان کا بیانیہ کیا ہے ؟؟ کیا اپنے آئینی حقوق کا مطالبہ کرنا بھی غداری ہے ؟ اگر انہوں نے کسی قسم کی تخریب کاری کی کوشش کی ہے تو انہیں عدالتی کٹہرے میں لایا جائے ۔ کیا بندوق سے معاملات کو حل کیا جاسکتاہے؟
آج وقت آن پڑا ہے کہ ہر قومی و ریاستی فورم پر بیانیے کو زیرِ بحث لانا چاہیے اور اسے تبدیل کرنے پر زور دینا چاہیے۔تدریسی نصاب اس کے لیے اندھے کو بینائی والا کام کر سکتے ہیں۔ ہمیں بیانیے کو تبدیل کرنے سے پہلے اُن افراد اور طاقتوں کی نشان دہی بھی کرنی چاہیے جو بیانیے کو بطور ایک ڈھال استعمال کرتے آ رہے ہیں اور اب پھر کمر بستہ ہو کے نکل پڑے ہیں اور کسی تبدیلی کے خواہاں نہیں۔
میرے خیال میں ہمیں سنجیدگی کے ساتھ یہ طے کرنا چاہیے کہ ریاست مخالف بیانیہ ہوتا کیا ہے، وہ حدود و قیود ہیں کیا جنہیں عبور کرنا کوئی ریاست گوارہ نہیں کرتی؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ جس بیانئے کو ہم ریاست مخالف سمجھتے ہوں، وہ ریاست کے چند غلط فیصلوں پر پرخلوص تنقید ہو۔ جن حدود و قیود کو عبور کرنا ہم ریاست دشمنی سمجھتے ہوں، درحقیقت وہ ایک تشویش کا اظہار ہو؟
پاکستان کی آبادی بیس کروڑ سے زیادہ ہے۔ تو ان بیس کروڑسے زائد پاکستانیوں میں نہ تو ہر شخص کسی غیر ملکی فنڈز پر چلنے والی این جی او کا کارکن ہے اور نہ ہی مخصوص آقاوں کے چندے پر چلنے والی تنظیموں کا کارکن ۔ جب آپ انتہائی فخر سے بار بار باور کرواتے ہیں کہ ہم ایک آزاد مملکت کے آزاد شہری ہیں تو اِس آزادی کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے خدشات کا اظہا رکرنے والے کو، کوئی سوال اُٹھانے والے کو اور اپنے تحفظات کا اظہار کرنے والے کو کسی این جی او یا کسی تنظیم کا رکن یا ہمدرد قرار دے کر اُسے زبردستی ریاست کے مقابل کھڑا مت کریں۔
فوج ریاست کا حصہ ہے، فوج ریاست نہیں ہے۔ سیاہ چین گلیشئرز سے لے کر تھر کے صحراوں تک اپنی ڈیوٹی دینے والا فوجی ہر پاکستانی کے سر کا تاج ہے لیکن اِسی فوج کی سابق یا حاضر قیادت کے کسی اقدام پر اگر سوال اُٹھایا جاتا ہے تو نہ ہی یہ ریاست دشمنی ہے اور نہ فوج دشمنی۔
بلند دعویٰ جمہوریت کے پردے میں
فروغِ محبس و زندہ ہیں،تازیانے ہیں
بنام امن ہیں جنگ و جدل کے منصوبے
بہ شور عدل، تفاوت کے کارخانے ہیں
دلوں میں خوف کے پہرے،لبوں پہ قفل سکوت
سروں پہ گرم سلاخوں کے شامیانے ہیں
مگر مٹے ہیں کہیں جبر اور تشدد سے
وہ فلسفے جلا دیں گے دماغوں کو
کوئی سپاہ ستم پیشہ چور کر نہ سکی
بشر کی جاگی ہوئی روح کے ایاغوں کو
قدم قدم پہ لہو نذر دے رہی ہے حیات
سپاہی سے الجھتے ہوئے چراغوں کو

مری صدا کو دبانا تو خیر ممکن ہے
مگر حیات کی للکار کون روکے گا؟
فصیلِ آتش و آہن بہت بلند سہی
بدلتے وقت کی رفتار کون روکے گا؟
نئے خیالات کی پرواز روکنے والو
نئے عوام کی تلوار کون روکے گا؟۔۔ نامعلوم

(یہ بھی ایک بیانیہ ہے )

مآخذ

Narrative Closure _ N Carrol
On Narrative_ Barbara Herrnstein Smith
۔ تکلم ‘ بیانیہ اور افسانہ۔ اعجاز عبید
بیانیہ کیسے کہتے ہیں ؟ قاسم یعقوب
بیانیہ : تعریف و توضیح ۔ ریاض احمد کھٹو
ریاست مخالف بیانیہ کیا ہوتا ہے ؟
پی ٹی ایم کا موقف پاکستانی میڈیا سے غائب کیوں ہے ؟ بی بی سی رپورٹ
پی ٹی ایم کا حملہ اور ماضی کی مسنگ نیوز ۔عدیل عزیز

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *