گھمن گھیرہ ۔۔۔محمد سلیم

ہمارے علاقے کی ہی بات ہےکہ دھوم دھام سے ہوئی ایک شادی کی نوبت چند ماہ کے بعد ہی طلاق تک جا پہنچی۔ وجہ کچھ اور نہیں لڑکی کی بڑھتی ہوئی نفسیاتی الجھن، ذہنی دباؤ اور تناؤ تھا جسے لڑکی کی ماں نے بہت ہی پوچھ گچھ کے بعد جانا کہ لڑکا خود ہی کسی مرد کے ساتھ شادی کیئے جانے والا تھا مگر سہرا بندھا دیکھنے کے شوق میں لڑکے والوں نے ایک پرائی لڑکی کی زندگی برباد کی تھی۔

لڑکے والے رج کے کمینے نکلے، جہیز وغیرہ پر قبضہ کے ساتھ الزام تراشیاں بھی بہت سی کر دیں۔ معاملہ پنچایت تک گیا تو لڑکے والوں کی طرف سے ان کا ایک ڈی ایس پی قریبی رشتہ دار بھی پنچایت میں آن بیٹھا۔

بات تو ابھی چلنی ہی تھی کہ ڈی ایس پی نے “کم مکاؤ” بات کرتے ہوئے کہا؛ میں تمہاری لڑکی کو ہسپتال لے جا کر معائینہ کرواتا ہوں، اگر کنواری نکلی تو ہم مان لیں گے کہ قصور ہمارے لڑکے میں ہے اور ہم تمہاری شرطوں پر تمہیں طلاق دیدیں گے۔

کسی کے گھر کو آگ لگا کر تماشہ دیکھنا بہت ہی لطف کا کام ہوتا ہے، مول تب پڑتا ہے جب آگ اپنے گھر کو لگے۔ منبر و محراب سے سیدہ فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کی مثال دیکر چور کا ہاتھ کاٹ دینے والوں پر آج وقت پڑا ہے تو ان کی دی ہوئی تاویلیں دیکھنے لائق ہیں۔ جسے دیکھو حق کا نہیں، دوستی نبھانے پر تلا ہوا ہے۔

کسی کو اتنا لحاظ نہیں آیا کہ دیکھ لے مظلوم فریق بھی عام تام نہیں سادات گھرانے کی بیٹی ہے جس کے باپ کی توقیر کے سامنے ایسے گھمن پانی بھرا کریں۔ ان کی طرف سے موافقت میں لکھا ہوا ہر لفظ تصدیق طلب اور مخالفت میں لکھا ہوا ہر لفظ جھوٹ اور الزام قرار دیا جا رہا ہے۔

انسان کی حیوانیت کسی زمان یا مکان سے مشروط نہیں ہوتی۔ بیت اللہ کے طواف کے اندر روزانہ بیسیوں ایسے جانوروں کو پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے جو طواف رضائے حق کیلئے نہیں اپنی شیطانی حرکتوں کیلئے کرنے جاتے ہیں۔۔ حرم شریف کے اندر تک لوگ اپنے باطن کا گند ساتھ لے کر غیر شرعی ملاقاتیں کرنے کیلئے جاتے ہیں جو اتنا اچھوتا کام نہیں رہا۔ اندر کے لوگ جب لکھنے پر آمادہ ہو جائیں تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ مسجد اور مساجد سے جڑے حجروں میں کیا گل کھالئے جاتے ہیں۔

یہی شعلہ بیان اور شیر کی للکار مقرر چاہیں تو سپیکر پر ایک شرلی چھوڑ کر کسی بیگناہ کو زندہ جلوا دیں، آج بات اپنے اوپر آئی ہے تو بہانہ بازی میں چرب زبانی استعمال کر رہے ہیں اور ان کے کاسہ لیس تاویلیں گھڑ رہے ہیں۔ کیوں؟ آج ہی تو آپ نے دکھانا تھا کہ حد اگر عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے فرزند پر بھی لگی تو اسے بھی سزا مل کر ہی رہے گی، یہ گھمن اگر قصور وار ہے تو کس باغ کی مولی ہے؟

شخصیات کے لئے آسمان سے قلابے ملاتے دیکھنے کا ایک بار یوں اتفاق ہوا کہ جمتہ الوداع کی نماز کسی اور مسجد میں پڑھنے کے بعد قلعہ پر محفل نعت میں شرکت کیلئے چلے گئے۔ ابھی محفل چل ہی رہی تھی کہ دروازے سے سجادہ نشین آتے دکھائی دیئے۔ یکا یک ایک شعلہ بیان بابے نے اٹھ کر نعت خواں سے مائک چھین کر کان پھاڑ دینے والی آواز میں کچھ نعرے لگوا کر کہا: دنیا کہتی ہے عید چار دن کے بعد ہوگی، میں کہتا ہوں دنیا جھوٹ کہتی ہے۔ ہم نے سائیں کا دیدار کر لیا ہے ہماری آج ہی عید ہو گئی ہے۔ پھر یوں گویا ہوئے: دنیا والو، سن لو، میں یوں کہنا چاہتا ہوں کہ اس سال ایک نہیں دو دو عیدیں ہو رہی ہیں۔ ایک عید آج سائیں کو دیکھنے سے ہو گئی ہے اور ایک عید چار دن کے بعد ہوگی۔

شخصیت پرستی سے باہر آئیے۔ ایک گندے انڈے جو بچانے کیلیے سب کو بدنامی کی دلدل میں نا اتارئیے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”گھمن گھیرہ ۔۔۔محمد سلیم

  1. گندے انڈے کا ثبوت بھی تو ملے. .. اور عوام کے بیچ بیٹھ کر ایک دوسرے پہ گند اچھالنے سے بہتر ہے کہ ثبوت اور گواہوں کے ساتھ عدالت میں کیس کریں. اور فیصلہ عوام کے سامنے رکھیں.
    ایک اچھی بات کہ گھمن صاحبکی طرف سے محترمہ پہ کوءی لب کشاءی نہیں کی گءی….

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *