علم الحدیث میں راویان حدیث کا کردار اور علم درایت

علم الحدیث سے متعلق بحث بہت زور اور شور سے جاری ہے۔ راویانِ حدیث کا تعاقب تو صدیوں سے جاری ہے لیکن اس صدی میں امت حدیث کے معاملے میں زیادہ حساس ہو گئی ہے اس لیے راویانِ حدیث پر جرح اور تعدیل ہر علمی نکٹر کا موضوع بن چکا ہے۔ گو کہ اس میں سنجیدہ گفتگو کرنے والے اور دلچسپی رکھنے والے کم اور ہلڑ باز زیادہ شامل ہیں۔ پچھلے دنوں میں حضرت ابوہریرہ پر نقد کے سلسلے میں ایک طوفانِ بدتمیزی برپا تھا جس میں سنجیدہ گفتگو کرنے والے کم اور بھیڑ چال میں گالم گلوچ والے حضرات زیادہ موجود تھے۔ اس سلسلے میں بہت سے احباب کی بہترین تحاریر پڑھنے کو ملیں۔ بہت بہترین گفتگو بھی ہوئی جو سیکھنے کا ایک موقع بھی تھا۔
کچھ لوگ اصحابِ محمدﷺ کی عدالت پر بات کرنا درست نہیں جانتے اور جو جانتے ہیں وہ اداب کو ملحوظ نہیں رکھ پاتے۔ نجانے کیوں ہمارے علمی مجالس کا ماحول اتنا عجیب ہوگیا ہے۔ نبیﷺ کی محبت بے شک ہمارے ایمان کا تقاضہ ہے لیکن اس محبت کی آڑ میں کسی کی تضحیک اور گالم گلوچ ہمارے ایمان میں اضافی شق کے طور پر شامل ہوچکی ہے۔ میں دونوں طرف کے جذبات سے بخوبی واقف ہوں۔ وہ حضرات جو عشق رسول میں اصحابِ محمد پر نقد کو جائز سمجھتے ہیں اور وہ جو اسی عشق میں اصحابِ محمد پر نقد کو جائز نہیں سمجھتے، دونوں کو ایک بات ملحوظ خاطر رکھنی چاہیے کہ ہماری محبت کا اولین محور نبیﷺ ہیں۔ اس کے بعد ان کی نسبت سے ہم ہر شخص سے محبت کرتے ہیں۔ تو یہ نبیﷺ کی ذات عالی ہی ہیں جو ہماری محبتوں کا محور ہونا چاہیے۔ اگر اصحابِ محمدﷺ ہمارے لیے مکرم ہیں تو اس کی وجہ نبیﷺ کی نسبت اور صحبت ہے۔ اگر محمدﷺ نہ ہوتے تو کون ابوبکر اور کون عمر؟
اصحابِ محمدﷺ میں اگر کوئی اختلاف رائے کا معاملہ رہا ہے تو اسے ان تک رہنے دیا جانا چاہیے۔ اور اگر ان سے کچھ اجتہادی یا تاریخی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں انھیں بھی ان تک ہی رہنے دیا جانا چاہیے۔ مجھے نہیں علم کہ ہم آخر کس جذبے کے تحت میں اصحابِ محمد کے طبقات طے کرنے کے لیے راضی ہوجاتے ہیں۔ ان کی عدالت ان کے ساتھ، آپ کو اگر کسی حدیث کے متعلق تردد ہے تو صاحب اس حدیث کی چھان پھٹک اچھے سے کرلی جائے۔ لیکن آج کے حالات میں اب بیٹھ کر ان کے محرکات طے کرنا ایک نہایت غیر سنجیدہ اور حد سے بڑھا ہوا عمل معلوم ہوتا ہے۔ اور میری ہمیشہ یہ رائے رہی ہے کہ کسی بھی صحابی یا کسی بھی تابعی یا کسی بھی شخص کے طبقات یا محرکات طے کرنے یا اسے کسی بھی قسم کے تمغات پہنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب آپ اپنے بارے میں یہ پسند نہیں کرتے کہ کوئی آپ کے محرکات طے کرے، آپکو کذاب، گستاخِ رسول و صحابہ کہے، یہود کا ایجنٹ کہے اور دوسرے ایسے ہی القابات سے نوازے تو کس منہ سے آپ دوسروں کے لیے پسند کرلیتے ہیں اور دوسروں کو ایسے القابات سے نوازتے ہیں۔ کسی میں کوئی غلطی، کمی اور کوتاہی نظر آئے، خاص طور پر علم الحدیث میں جرح کی اجازت ہے تو یہ جرح بھی اس انداز میں کی جاتی تھی اورکی جانی چاہیے کہ بس بات حدیث کو قبول کرنے اور نہ کرنے تک محدود رہے۔ امام لیث بن سعد کا وہ مشہور خط جو امام مالک کے نام لکھا گیا، اس میں ابنِ شہاب زہری کے رویہ کے متعلق بیان تھا تو امام مالک نے جواب میں لکھنا شروع کیا کہ: مجھے بتایا گیا ہے جسے میں ثقہ سمجھتا ہوں۔ اور بالکل اسی طرح، کسی بھی حدیث پر عقلی اور علمی نقد کو سننے کو تیار نہ ہونا اور ہر دوسرے کو انکارِ حدیث کے طعنے دینا بھی حد سے بڑھا ہوا عمل ہے۔ آپ جب کسی کے ساتھ تضحیک کا معاملہ کر رہے ہیں، کسی بات کو اچھال رہے ہیں تو اصل میں آپ اس کے رجوع کے راستے مسدود اور بند کررہے ہیں۔ اگر آپ کسی کو غلطی میں دیکھ رہے ہیں تو کوشش کریں پہلے رابطہ کرکے اس شخص کی رائے اچھے سے معلوم کرلیں اور اس کے بعد اگر آپ کو معلوم ہو جائے تو پھر کچھ ایسے انداز میں لکھ دیجیے یا اسے ذاتی انباکس میں احسن انداز میں نپٹانے کی کوشش کریں۔
اس پہ محمد علی مرزا بھائی نے بڑی زبردست بات فرمائی ہے اور میں اس سے بہت حد تک متفق ہوں۔ وہ کہتے ہیں: منکرینِ حدیث پیدا ہی اس لیے ہوئے ہیں کہ ان لوگوں نے تمام ضعیف احادیث اور قصہ کہانیوں کو بھی عقائد کا حصہ بنا لیا ہے۔
میں نے بارہا قران کی آیات کو دوستوں کے سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے، ابلاغ دین کے آداب جو قران میں بیان ہیں اور جن کا مظاہرہ نبیﷺ نے فرمایا ہے ان کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے ۔ میں فرنود عالم بھائی کا جملہ مستعار لینا چاہوں گا: وہ لوگ جو دین کے معاملے میں حساس ہیں انھیں چاہیے کہ وہ لہجہ بھی پیغمبر اسلام سے مستعار لیں۔
ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ (سورۃ، النحل۔125)
(اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے راستے کی طرف بلاؤ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے راستے سے بھٹک گیا تمھارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے۔ اور جو راستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے۔
ہمارا رویہ احادیث کی طرف بہت جذباتی اور لگاؤ والا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ لیکن اس جذبے کو اتنا بڑھا ہوا نہیں ہونا چاہیے کہ حدیث میں موجود عقلی نقائص یا روای پر جرح نظر نہ آ سکے؟ ہم علمِ روایت میں کثیر کام کیا ہے جو قابلِ دادہے لیکن اسی کے مقابل ہم علم درایت پر کسی قسم کے صحت مند کام سے ہمیشہ نظریں چراتے رہے ہیں۔ میں نے اپنے علمی سفرکے دوران ایسے بہت سے واقعات دیکھے ہیں کہ لوگ احادیث کی توجیہہ کرنے کو ہر دم تیار نظر آتے ہیں لیکن اس میں موجود تعارض اور عقلی نقائص کو کسی طور دیکھنے کو تیار نہیں ہیں۔
مثال کے طور پر حضرت عائشہ کے نکاح والی احادیث کو دیکھ لیں اور اس سے متعلق سوال اٹھانے والوں کو نہ صرف منکرِ حدیث کہا گیا بلکہ ان سے بہت سخت رویہ اختیار کیا گیا۔ اور اس کی بہت سی توجیہات میں جو باتیں رکھی گئی وہ بھی بہت عجیب تھیں۔
تمام تر تاریخی ثبوتوں کے باوجود صرف اور صرف رواین کی سند پر ان نو سال کی عمر کو پرکھا جاتا رہا اور اس کے اخلاقی جواز گھڑے جاتے رہے۔ ڈاکٹر عدنان نے اس پر کافی ریسرچ کردی ہے، اور ہشام ابن عروہ پر بھی ان کی کافی جرح موجود ہے (ان کی عراقی احادیث سے متعلق) عربی میں ان کا دس گیارہ منٹ کا کلپ دیکھا جاسکتا ہے۔
آپ صرف اور صرف اس سارے واقعے میں ایک دو بنیادی چیزیں دیکھ لیں تو ان روایات سے متعلق بہت سی چیزیں شکوک کا شکار ہوجاتی ہیں۔ نبیﷺ کے ساتھ شادی کے وعدے یعنی منگنی کا وقت چھہ سال بتایا جاتا ہے۔اس سے پہلے حضرت عائشہ کی منگنی جریر بن معطم سے ہوچکی تھی۔ اندازہ کریں کہ اگر دوسری منگنی چھہ سال میں ہوئی تو پہلی منگنی کتنی عمر میں ہوئی ہوگی؟
اچھا پھر یہ رشتہ خولہ بنت حکیم لے کر آئی تھیں۔ انھوں نے دو رشتے پیش کیے تھے، ایک حضرت سودہ کا تھا اور دوسرا حضرت عائشہ کا تھا۔ حضرت سودہ کی عمر اس وقت قریب پچاس سال تھی اور دوسری طرف حضرت عائشہ کی عمر چھہ سال بتائی جاتی ہے۔ اور اندازہ کیجیے کہ کیا واقعی ہی گھر در کے معاملات کے لیے ایک چھہ سالہ بچی کو پیش کیا جائے گا؟ گھر کے بچوں کی عمروں کا اندازہ کریں تو حضرت عائشہ سے بڑے ہیں۔
ایسی احادیث جو انسان کے دل میں تشویش پیدا کریں تو اس کے لیے اصول خود نبیﷺ سے منقول ایک روایت میں موجود ہیں۔
اذا سمعتم الحدیث تعرفہ قلوبکم وتلین لہ اشعارکم وابشارکم وترون انہ منکم قریب فانا اولاکم بہ واذا سمعتم الحدیث عنی تنکرہ قلوبکم وتنفر منہ اشعارکم وابشارکم وترون انہ منکم بعید فانا ابعدکم منہ ۔(مسند احمد ابن حنبل، ۴/ ۵)
جب تم کوئی ایسی حدیث سنو جس سے تمھارے دل مانوس ہوں اور تمھارے بال و کھال اس سے متاثر ہوں اور تم اس کو اپنے سے قریب سمجھو تو میں اس کا تم سے زیادہ حق دار ہوں اور جب کوئی ایسی حدیث سنو جس کو تمھارے دل قبول نہ کریں اور تمھارے بال و کھال اس سے متواحش ہوں اور تم اس کو اپنے سے دور سمجھو تو میں تم سے بڑھ کر اس سے دور ہوں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا عمومی رویہ تھا کہ جب کوئی حدیث ظاہر میں انھیں درست معلوم نہ ہوتی تو اس پر تبصرہ فرما دیتیں۔ دوسرے صحابہ کا بھی ایسا رویہ تھا اور بعض اوقات ایک دوسرے سے متعلق کذب تک کے الفاظ استعمال ہوتے، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تو حضرت ابوہریرہ پر حدیث بیان کرنے پر انتہائی سختی سے پابندی لگا دی تھی۔ لیکن اس کا مقصد تضحیک کرنا نہیں بلکہ روایت کی طرف توجہ دلانا ہوتا تھا۔ اور آج ہماری حالت ہے کہ آج جب تک ہم ائمہ الرجال کی پیروی میں کسی روای پر کفر کا فتویٰ نہیں لگا دیتے اس وقت تک ہماری روٹی ہضم نہی ہوتی۔ مثال کے طور پر حضرت عمررضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ:ان المیت لیعذب ببکاء اہلہ علیہ۔ بے شک مردے کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے سزا دی جاتی ہے۔ح ضرت عائشہ نے سنا تو فرمایا: یرحم اللُّہ عمر لا واللّٰہ ما حدث رسول اللّٰہ ان اللّٰہ یعذب المومن ببکاء احد ولکن قال ان اللّٰہ یزید الکافر عذابا ببکاء اھلہ علیہ قال وقالت عائشۃ حسبکم القرآن: وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی۔ (مسلم ، رقم ۲۱۵۰)
اللہ تعالیٰ عمر پر رحم کرے، بخدا رسول اللہ نے یہ نہیں فرمایا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ مومن کو کسی کے رونے کی وجہ سے عذاب دیتے ہیں۔ آپ نے کافر کے بارے میں فرمایا ہوگا کہ اس کے پس ماندگان کے رونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے عذاب میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ تمھیں قرآن کی یہ آیت کافی ہے کہ کوئی جان دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: الطیرۃ فی المراۃ والدابۃ والدار۔نحوست عورت میں، سواری کے جانور میں اور گھر میں ہوتی ہے۔ تو حضرت عائشہ نے کہا: والذی انزل الفرقان علی ابی القاسم ما ھکذا کان یقول ولکن کان یقول کان اھل الجاھلیۃ یقولون الطیرۃ فی المراۃ والدابۃ والدار ثم قرات عائشۃ مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلاَ فِیْ اَنْفُسِکُمْ اِلاَّ فِیْ کِتَابٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَھَا۔ (مسند احمد، ۶/ ۲۴۰)
اللہ کی قسم، رسول اللہ نے ایسا نہیں فرمایا ۔ آپ نے تو اہلِ جاہلیت کے بارے میں فرمایا ہوگا کہ وہ یوں کہتے ہیں۔ پھر آپ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی: تمھیں زمین میں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے، وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی یعنی طے شدہ ہے، اس سے پہلے کہ ہم اس کو وجود میں لائیں۔ اور اسی طرح بعض اوقات ایک دوسرے کو تنبیہ والا معاملہ بھی ہوجایا کرتا تھا۔
حضرت ابو ہریرہ نے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے دوزخ میں داخل کر دیا کیونکہ اس نے اس کو باندھ رکھا تھا۔ نہ اس کو خود کھلاتی پلاتی تھی اور نہ اسے چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے۔ حضرت عائشہ نے یہ حدیث سن کر کہا: المومن اکرم عند اللّٰہ من ان یعذبہ فی جرء ھرۃ اما ان المراۃ من ذالک کانت کافرۃ۔ ابا ھریرۃ اذا حدثت عن رسول اللہ فانظر کیف تحدث ۔ ( مسند ابی داؤد الطیالسی: ص ۱۹۹)
اللہ کے ہاں مومن کا مرتبہ اس سے بلند تر ہے کہ وہ اس کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دے۔ یہ عورت، درحقیقت، کافر ہوگی۔ ابو ہریرہ، جب رسول اللہ سے کوئی حدیث نقل کرو تو سوچ سمجھ کر نقل کیا کرو۔

اسی طرح حضرت علی اور حضرت عمر کی سیرت سے بہت سی باتیں منقول ہیں جہاں کافی سخت الفاظ بھی استعمال کیے گئے ہیں۔ آپ اگر ذخیرہ احادیث کو اٹھا کر پرکھیں تو ایسی احادیث مل جاتی ہیں کہ انسان آنکھیں ملتا رہ جاتا ہے اور نبیﷺ سے ایسی ایسی باتیں منسوب کی گئی ہیں کہ کیا کہنے، ٹھیک ٹھاک انسان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔
نبیﷺ سے بہت سے احادیث غلط منسوب کردی گئیں کچھ تو فضائل مناقب اور خشیتِ الہی کے جذبے کے تحت اور کچھ بغض نبیﷺ میں شامل کردی گئیں۔ آخر یہ لوگ کہاں سے آ گئے؟ اور اتنے معتبر کیسے ہوگئے؟
اس کا جواب الکفایہ فی علم الروایہ کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جو ایک دوست نے بھلے وقتوں میں پڑھایا تھا وہ آپ کی نذر آخر میں کروں گا۔ اس سے اندازہ ہوگا کہ یہ لوگ کہاں گئے۔
بڑا اہم سوال ہےجسکا جواب دیا جانا ضروری ہے، مختار ثقفی اور عبداللہ ابنِ سبا نے جن لوگوں کی تربیت کی وہ لوگ آخر کہاں چلے گئے؟ صرف عبداللہ ابنِ سبا ہی جلاوطن ہوا تھا اور بعض روایات میں اسے جلا دیا گیا تھا لیکن وہ کھیپ جو وہ منافقین کی تیار کرگیا وہ آخر کہاں گئی؟
میں ایک دو احادیث آپ کے سامنے رکھنا چاہ رہا ہوں تاکہ اندازہ ہو کہ اصل میں لوگوں نے کس کس درجے میں نبیﷺ سے چیزیں منسوب کی ہیں:
ابی بن کعب (صحابی) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنے نسب کے متعلق زمانہ جاہلیت کی طرح فخر کا اظہار کیا تو ابی بن کعب نے اسے کہا: تو جا کر اپنے باپ کے عضوِ تناسل کو چبا۔ اور انھوں نے اس میں کسی اشارے کنائے سے کام نہ لیا۔ اس پر لوگوں نے ابی بن کعب کو بری نظر سے دیکھا تو ابی بن کعب نے ان سے کہا: میں جانتا ہوں کہ تم لوگ کیا سوچ رہے ہو۔ میں تمھیں بتاتا ہوں کہ رسول اللہ نےایسا کرنے کی ہدایت دی ہے کہ اگر تم سنو کہ کوئی اپنے نسب پر جاہلیت کی طرح فخر کر رہا ہے، تو اسے کہو کہ وہ جاکر اپنے باپ کے عضو تناسل کو چبائے، اور اس میں کسی اشارے کنائے سے کام نہ لو۔ الأدب المفرد [963/1 ]۔ اسی پر البانی نے مہرِ تصدیق ثبت کی ہے: عن أُبَيِّ بنِ كعبٍ أنه سمع رجلًا يقول : يا آلَ فلانٍ فقال له اعضُضْ بهَنِ أبيك ولم يكنْ فقال له : يا أبا المُنذرِ ما كنتَ فاحشًا فقال : إني سمعتُ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ يقول: من تعزَّى بعزَى الجاهليةِ فأَعِضُّوهُ بهَنِ أبيه ولا تكنُوا
الراوي : أبي بن كعب | المحدث : الألباني | المصدر : السلسلة الصحيحة
الصفحة أو الرقم: 1/538 | خلاصة حكم المحدث : إسناد رجاله ثقات فهو صحيح إن كان الحسن سمعه من عتي بن ضمرة فإنه كان مدلسا وقد عنعنه
صحیح بخاری جلد دوم، حدیث نمبر چار ، شرائط کے بیان میں ایک حدیث آئی ہے۔ یہ روایت بہت لمبی ہے، اس کے روای عبداللہ بن محمد، عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ بن زبیر، مسور بن مخرمہ اور مروان ہیں۔ اس میں حضرت ابوبکر سے بھی اسی قسم کی گالی منسوب ہے، اور ابن حجر عسقلانی نے اس کا باقاعدہ جواز پیش کیا ہے۔ میں اس روایت کے ترجمہ کے الفاظ یہاں لکھ رہا ہوں: حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے سن کر عروہ سے کہا کہ امصص ببظر اللات، لات بمعنی مخصوص بت کے بظر بمعنے عورت کی شرمگاہ کے حصہ کا گوشت، امصص بمعنے چوس اور یہ جملہ ایک بہت بری گالی کے طور پر کہا جاتا ہے، اور پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ کیا ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت سے بھاگ جائیں گے۔ اس ساری گفتگو کے دوران نبیﷺ بھی پاس موجود تھے۔اور اس پر ابن تیمیہ نے منہاج السنتہ النبویہ میں لکھا ہے: عن هذه الكلمة ولهذا قال من قال من العلماء إن هذا يدل على جواز التصريح باسم العورة للحاجة والمصلحة وليس من الفحش المنهى عنه كما في حديث أبي بن كعب عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من سمعتموه يتعزى بعزاء الجاهلية فأعضموه هن أبيه ولا تكنوا (منھاج السنۃ النبویہ)
شیخ اسلام ابن تیمیہؒ کی یہ بات مہر تصدیق ثبت کرتی ہے کہ وہ ان دونوں احادیث کو درست سمجھتے تھے۔ ایسی ہی توجیح بخاری کے شارح، ابن حجر عسقلانیؒ نے بھی فرمائی ہے۔
مجھے نہیں علم وہ لوگ جو نبیﷺ سے متعلق ایک لفظ نہیں سن سکتے، وہ اس گالی کو کیسے جواز بنا لیتے ہیں۔ میرے نبی ﷺتو کنواری لڑکی سے زیادہ حیا والے تھے۔ وہ تو سخت لہجے میں بات نہیں فرماتے تھے، اور ان کے ساتھی حضرت ابوبکر، صحابی تھے ان سے متعلق بھی ایسی بات کو قبول کرلینا کیسے ممکن ہے؟؟ ایک لمحے کے لیے سوچیے کیا نبیﷺ ایسی زبان استعمال کرسکتے ہیں؟ کیا وہ ان کی سیرۃ واقعی ہی ایسی تھی؟ کیا وہ اپنے اصحاب کی ایسی تربیت فرماتے تھے؟
اس تحریر کا مقصد اس بات کا احساس دلانا تھا کہ ہم گالم گلوچ، سخت زبان بعض اوقات عشق میں استعمال کر رہے ہوتے ہیں لیکن اس زبان سے نہ صرف علمی سفر کی راہیں بند ہوجاتی ہیں بلکہ بہت ساری چیزیں اسی کی نذر ہوجاتی ہیں اور نئی بات سیکھنے کا راستہ بند ہوجاتا ہے۔ نبیﷺ کی طرف ہمیشہ ہر وہ چیز منسوب کی جانی چاہیے جو بہترین اور روایت اور درایت پر پوری اترتی ہے۔ خدا جانتا ہے نہ چاہتے ہوئے بھی ان روایات کو بیان کر رہا ہوں۔
آپ عشق کیجیے، کھل کر کیجیے، محبت کا اظہار کیجیے، لیکن اس عشق میں وقار اور احترام لائیے ،نبیﷺ تو منافقین کو جانتے تھے حذیفہ بن یمان کو بتایا بھی پھر منع بھی فرما دیا۔ جب ابوجہل کو بیٹا مسلمان ہوکر آیا تو لوگوں کو اس کے والد کے متعلق باتیں کہنے سے منع کردیا۔
اور سب سے اہم بات، علم روایت کے ساتھ ساتھ علم درایت کو حدیث کے علم میں زندہ ہونا چاہیے۔یہ سب سے بڑی ضرورت ہے تاکہ نبیﷺ سے صرف اس چیز کو منسوب کیا جاسکے جو چیز صحت کے اعتبار سے بہترین ہے۔ ورنہ نبیﷺ کی وعید ہے من کذب علی متعمدا فلیتبوأ مقعدہ من النار۔۔۔ جو مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ انس رضی اللہ عنہ جو اصحاب مکثرین میں سے ہیں روایت حدیث میں اپنی احتیاط بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: انہ لیمنعنی ان احدثکم حدیثا کثیرا ان محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من تعمد علی کذبا فلیتبوأ مقعدہ من النار: مجھے تم سے بکثرت حدیثیں بیان کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان روکتا ہے کہ جس نے مجھ پر عمدا جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنالے۔ صحیح بخاری، ج 1، ص:21، صحیح مسلم، ج 1، ص:7
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد محترم جناب زبیر رضی اللہ عنہ سے عرض کرتے ہیں کہ: انی لا اسمعک تحدث عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کما یحدث فلاں و فلاں قال اما انی لم افارقہ ولکن سمعتہ یقول: من کذب علی فلیتبوأ مقعدہ من النار۔ (میں نہیں سنتا کہ آپ بھی اتنی کثرت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں بیان کرتے ہوں جیسا کہ فلان اور فلاں بیان کرتا ہے، وہ فرمانے لگے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا تو نہیں ہوا لیکن میں نے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جو مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے اس کا ٹھکانہ آگ ہے۔ صحیح بخاری، ج 1، ص:12
معروف تابعی عبدالرحمن بن ابی لیلی اپنا مشاہدہ بیان فرماتے ہیں کہ: ادرکت فی ھذا المسجد عشرین ومائۃ من الانصار وما منھم من یحدث بحدیث الا ود ان اخاہ کفاہ
میں نے اس مسجد میں ایک سو بیس (120) صحابہ کو پایا ہے ان میں سے کوئی ایک بھی حدیث بیان کرنے کو تیار نہ ہوتا بلکہ ہر ایک کی خواہش ہوتی تھی کہ کوئی دوسرا بھائی بیان کرے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ ہم نبیﷺ کے بارے میں روایات کے قبول کرنے میں اتنے ہی محتاط ہوجائے جتنے اصحاب محمدﷺ تھے۔ اور یہی نبیﷺ کی محبت کا اولین تقاضہ ہے کہ ان سے و ہ بات منسوب کی جائے جو ہر درجہ میں درست ہے اور ان سے کسی بھی غلط بات کو منسوب نہ ہونے دیا جائے۔
آخر میں الکفایہ فی علم الروایہ سے چند اقتباسات آپ کی نذر کرنا چاہتا ہوں۔ غور فرمائیے گا:
یحی بن سعید: حدیث کی تحقیق میں نیکوکار راویوں سےزیادہ کوئی چیز دھوکے کا باعث نہیں۔
ربیعہ بن عبدالرحمن: ہمارے کچھ بھائی ایسے بھی ہیں کہ ان کی دعا رد نہیں ہوتی لیکن دوسری طرف ان پر کسی عام گواہی میں بھی اعتماد نہیں کیا جاسکتا چہ جائیکہ احادیث میں۔
یحییٰ بن سعید القطان: کئی لوگ ایسے ہیں جن پر ایک لاکھ درہم کے معاملے میں اعتماد کیا جاسکتا ہے لیکن ایک حدیث کے معاملے میں نہیں۔
ابن ابی الزناد: میں مدینے میں ایک سو ایسے افراد سے ملا ہوں جو ہر اعتبار سے قابل اعتماد تھے البتہ ایک حدیث میں بھی ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔
مالک بن انس: ان ستونوں کے پاس میں نے 70 ایسے لوگوں کو دیکھا جن پر بیت المال کے معاملات میں مکمل اعتماد کیا جا سکتا تھا لیکن میں نے ان سے کوئی حدیث نہیں لی۔
واللہ اعلم
اقول قولی ہٰذا استغفر الله لی ولكم ولسائر المسلمين

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”علم الحدیث میں راویان حدیث کا کردار اور علم درایت

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *