• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا کردار اور مسئلہ کشمیر۔۔۔ اداریہ

دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا کردار اور مسئلہ کشمیر۔۔۔ اداریہ

“طاہر یاسین طاہر کے قلم سے”

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا کہنا ہے کہ بھارت اپنے زیر انتظام کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر حقائق کو مسخ کر رہا ہےعالمی برادری کو اس کی مذمت کرنی چاہیے۔رسالپور میں پاکستانی فضائیہ کے کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف نے مزیدنے کہا کہ ‘حال ہی میں ہم نے دیکھا کہبھارت کی جانب سے اس کے زیر انتظام کشمیر کے اندر اور لائن آف کنٹرول کے اطراف جعلسازی اور حقائق کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ عالمی برادری پاکستان کے خلافبھارت کی ان کوششوں کی مذمت کرے،۔انھوں نےیہ بھی کہا کہ بھارت کے اس کھیل کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو مسخ کرنا ہے۔انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ کشیدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ بھارت نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں بربریت کی انتہا کر دی ہے اور عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔پاک فوج کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف نے کہا کہ مسلح افواج اندرونی اوربیرونی چیلنجز کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ ‘مادر وطن کے دفاع کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے اور دشمنوں کے ناپاک عزائم کو کسی قیمت پر کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔آرمی چیف نے خبردار کیا کہ ‘کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، پاکستان کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہپاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور مساوات اور باہمی احترام کی بنیاد پر دیگر ممالک کے ساتھ دوستی کی پالیسی پر مصروف عمل ہے۔

واضح رہے کہ 29 ستمبر کو بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کنٹرول لائن کے اطراف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دہشت گردوں کے لانچ پیڈز پر سرجیکل سٹرائیکس کیں جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔پاکستان نے انڈیا کے سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے کو مسترد کیا ہے۔پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا واقعہ تھا جس کے نتیجے میں اس کے دو فوجی شہید ہوئے۔جبکہ پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی میں بھارت کے 16فوجی ہلاک جبکہ ایک بھارتی فوجی کو پاک فوج نے گرفتار کر لیا تھا۔ 18 ستمبر کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے اوڑی بریگیڈ ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے حملے میں 19 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ انڈیا نے اس کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے اسے عالمی سطح پر تنہا کرنے کی سفارتی کوششوں کا آغاز کیا تھا تاہم پاکستان نے اس الزام کو مسترد کردیا تھا۔

اس امر میں کلام نہیں کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شراکت اور قربانیاں بے مثال ہیں اور بے شک عالمی برادری پاکستان کے اس کردار کی معترف بھی ہے مگر حقیقت یہ بھی ہے ابھی اس طرح پاکستان کے کردار کی تعریفنہیں کی گئی جس کا پاکستان حق دار ہے۔یہی وجہ ہے کہ اڑی حملے کے بعد بھارت نے اعلانیہ پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔بھارت کا الزام یہ ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی پشت بان ریاست ہے جبکہ اس حوالے سے بھارت مختلف عالمی فورمز پر اپنے پاکستان مخالف خیالات کا اظہار بھی کرتا آ رہا ہے،عالمی برادری اپنے کچھ تحفظات کے باوجود (جو کہ لشکر طیبہ،حقانی نیٹ ورک اور جیش محمدکے حوالے سے ہیں،) البتہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کی معترف ہے۔ یہ امر واقعی ہے کہ اس جنگ میں پاکستان نے سول و سیکیورٹی شہریوں کی جانیں قربان ہیں جن کی تعداد ہزاروں میں ہے جبکہ لاکھوں زخمی بھی ہوئے۔پاکستانی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی اور نئے نئے دہشت گردانہ چیلنجز کا سامنا پاکستانی معاشرے کو کرنا پڑ رہا ہے۔حتیٰ کہ سکول کے بچوں کو بھی دہشت گردوں نے نہیں بخشا۔ ہمیں ماضی کے تلخ تجربوں سے مگر خود بھی سیکھنا ہو گا اور ان غلطیوں کا اعادہ بھی نہیں کرنا ہو گا جن کے باعث عالمی برادری ہمیں تشویشناک نگاہوں سے دیکھتی ہے۔دہشت گردی کے خلاف پاکستان فرنٹ لائن سٹیٹ ہے اور اس کا کردار غیر متزلزل اور عالم انسانیت کے لیے قابل تحسین ہے،کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں پوری دنیا کے انسانوں کے امن کے لیے دہشت گردوں کے سامنے دیوار بنا ہوا ہے۔جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے اس میں دوسری رائےنہیں کہ بھارت غاصب ہے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ یہاں سول حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ عالمی سطح پر بھارت کی جانب سے پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششوں کو نا کام بنئاے اور جارحانہ سفارت کاری کرے۔ سارے کام بندوق کی نوک دکھا کر نہیں کیئے جاتے،بلکہ سول ایک ادارہ وزارت خارجہ بھی ہوا کرتا ہے جس میں وزیر خارجہ کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔پاکستان کا عسکری دفاع مضبوط ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی و علاقائی سطح پر پاکستان کا سیاسی و سفارتی دفاع بھی مضبوط کیا جائے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *